اُمتِ سیدِؐ لولاک سے خوف آتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پشاور کے کمرہ عدالت میں ہونے والے واقعہ اور اس پر مفتی کفایت اللہ کے بیان پر جاج برنارڈ شا کا فقرہ یاد آ گیا

Islam is the best the religion and Muslims are the worst followers

پڑھنے والے مجھے یقیناً اب تنقید کا نشانہ بنائیں گے ویسے بھی بہت سی مختلف تحریروں پر بہت سی تنقیدی آرا برداشت کر چکی ہوں تو ایک اور سہی۔ مقتول شخص گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھا یا نہیں اس کا فیصلہ کرنا ہمارا کام نہیں تھا جس کا تھا اس کے سامنے گناہ ثابت ہونے سے پہلے ہی مار دیا گیا خیر اگر جرم نا بھی ثابت ہوتا تو اس کا انجام یہی تھا کیوں کے ایک ”سچے اور پکے مسلمان“ نے اسے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرار دے دیا تھا اور اسی بات کو بنیاد بنا کر ہر مسلمان کو کسی کا بھی قتل کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے اور وہ بھی بغیر کسی ثبوت اور گواہی کے جب کہ اسلام میں تو ثبوت اورگواہی کی بڑی اہمیت ہے۔

جی تو آج جس ”مجاہد“ نے عظیم کارنامہ انجام دیا ہے اس کا کہنا تھا کہ سرکار دو علم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے خواب میں حکم دیا تھا اور اس بات پر مسلمانوں نے یقین کر لیا لیکن میں ذرا تذبذب کا شکار ہوں جہاں تک میرا مطالعہ ہے تو جو قرآن سرکار دوعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کیا گیا اس کی آیت تو بے بنیاد قتل پر کچھ اور ہی بیان کرتی ہے

من اجل ذلک کتبنا على بنی إسرائل انہ من قتل نفساً بغیر نفسٍ او فسادٍ فی الارض فکانما قتل الناس جمیعاً ومن احیاھا فکانما احیا الناس جمیعاً ولقد جاءتھم رسلنا بالبینات ثم إن کثیراً منھم بعد ذلک فی الارض لمسرفون

اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جو کوئی کسی کو قتل کرے، جبکہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لئے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا، اور جو شخص کسی کی جان بچا لے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ اور واقعہ یہ ہے کہ ہمارے پیغمبر ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے، مگر اس کے بعد بھی ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں ہی کرتے رہے ہیں ( 5 : 32 )

پھر اگر میں سرکار دوعالم کی تعلیمات پر روشنی ڈالوں تو بدترین دشمن قوم کا سفارت کار بھی اگر سفارت کاری کے لیے آئے تو انہیں بھی قتل نہیں کیا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کئی مواقع پر غیر مسلموں کے نمائندے آئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ہمیشہ خود بھی حسن سلوک فرمایا اور صحابہ کرام کو بھی یہی تعلیم دی۔ حتیٰ کہ نبوت کے جھوٹے دعوے دار مسیلمہ کذاب کے نمائندے آئے جنہوں نے صریحاً اعتراف ارتداد کیا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے حسن سلوک سے پیش آئے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

إنی کنت عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جالساً إذ دخل ہذا (عبد اللہ بن نواحة) ورجلٌ وافدین من عند مسیلمة۔ فقال لھما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : اتشھدان انی رسول اللہ؟ فقالا لھ: نشھد ان مسیلمة رسول اللہ، فقال: آمنت باللہ ورسلھ، لو کنت قاتلاً وافداً لقتلتکما۔

”میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا جب یہ شخص (عبد اللہ بن نواحہ) اور ایک اور آدمی مسیلمہ (کذاب) کی طرف سے سفارت کار بن کر آئے تو انہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ انہوں نے (اپنے کفر و ارتداد پر اصرار کرتے ہوئے ) کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے (معاذ اللہ) ۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (کمال برداشت اور تحمل کی مثال قائم فرماتے ہوئے ارشاد) فرمایا: میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ اگر میں سفارت کاروں کو قتل کرنے والا ہوتا تو تم دونوں کو قتل کر دیتا (مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا نہ کیا اور انہیں جان کی سلامتی دی۔“

(دارمی، السنن، 2 : 307، رقم: 2503
احمد بن حنبل، المسند، 1 : 404، رقم: 3837
نسائی، السنن الکبری، 5 : 205، رقم: 8475
ابو یعلی، المسند، 9 : 31، رقم: 5097
حاکم، المستدرک علی الصحیحین، 3 : 54، رقم: 4378 )
پھر جس شخص پر اب تک جرم بھی ثابت نہیں ہوا تھا اسے قتل کر دینا کہاں کا ثواب ہے

اور ہم کب تک ان خوابوں اور دعوؤں پر بغیر کسی ثبوت اور گواہی کے یقیں کر کے قاتلوں کاساتھ دیتے رہیں گے؟ اگر پاکستان میں اسلام یا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر قتل کے مقدمات کامطالعہ کیا جائے تو زیادہ تر قتل ذاتی دشمنی کی وجہ سے کیے گئے اور ہر بار ہم نے ان قاتلوں کو مجاہد اور عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے القابات سے نوازا لیکن ناجانے کب ہم یہ بات سمجھیں گے کہ قاتل کو کوئی بھی لقب دے دیا جائے وہ رہتا قاتل ہی ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply