عشق رسولؐ اور گستاخی کے الزام میں سزا کا نیا رجحان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم بچپن سے ہی نصابی کتب میں پڑھتے آئے ہیں کہ کیسے غازی علم دین شہید نے اس گستاخ پبلشر کو قتل کر دیا تھا جس نے ایک توہین آمیز کتاب شائع کی تھی۔ حکیم الامت علامہ اقبال جیسی جلیل القدر ہستی سے منسوب ہے کہ انہوں نے یہ سن کر فرمایا تھا ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا ہے۔ انگریز راج تھا، وہ ہندو، مسلم، سکھ اور مسیحی سب کو تقریباً ایک نظر سے دیکھتے تھے اور سب کے لیے قانون مشترکہ تھا۔ اس لیے مسلمانوں کے جذبات کی انہوں نے پروا نہیں کی تو علم دین نے پبلشر کو قتل کر دیا۔ آج تک نصاب سے منبر تک علم دین نامی جوان کی تعریف کی جاتی ہے۔

سلمان تاثیر کا معاملہ آتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ممتاز قادری نے ایک شعلہ بیان مقرر کا بیان سنا کہ سلمان تاثیر نے اسلام کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اس نے سلمان تاثیر کو قتل کر دیا۔ بعد میں شعلہ بیان مقرر نے عدالت میں حلف نامہ جمع کروایا کہ میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔

جب یہ معاملہ گرم تھا اس وقت تو مفتی تقی عثمانی خاموش رہے مگر کئی برس بعد سلمان تاثیر کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے فرمایا تھا کہ ’یہاں صورت حال جو تھی وہ ذرا مشکوک تھی، جیسا بیان کیا کہ آیا واقعتاً اس کی بات گستاخی رسول تک پہنچتی تھی یا نہیں پہنچتی تھی یہ بات واضح نہیں تھی اس حالت میں اس (ممتاز قادری) نے اس (سلمان تاثیر) کو قتل کیا۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جذبہ اس کا بڑا نیک تھا۔ جذبہ یہی تھا کہ نبی ﷺ کی شان میں گستاخی ہوئی ہے لہذا میں اس کا بدلہ لوں گا۔ جذبہ نیک تھا۔ اس نیک جذبے کی وجہ سے اس شخص کے حق میں بھی نیک گمان رکھنا چاہیے۔ اور اس نے جو کچھ کیا وہ نبی کریم ﷺ کی تعظیم اور تکریم کی نیت سے کیا اس واسطے اللہ تعالی کے ہاں امید ہے کہ وہ [غیر واضح لفظ: محظوظ؟ ] ہی ہو گا اللہ کی رحمت سے‘ ۔

یعنی غیر واضح بات یا افواہ پر بھی کوئی کسی کو قتل کر دے تو قاتل کے نیک جذبے کی وجہ سے اس کے متعلق نیک گمان رکھنا چاہیے۔ مقتول کے متعلق گمان بد ہی رکھنا پڑے گا خواہ وہ معصوم ہی کیوں نا ہو۔

لیکن اس معاملے میں ایک نیا رجحان پریشان کن ہے۔ قاتل اب میٹرک اور ایف اے کی عمر کے بچے ہیں۔ ہم وہ لوگ تھے جن کے دادوں نانوں نے غیر مسلم دیکھے تھے اور ان سے تعلق واسطے رکھے تھے۔ تعلیم ضیا کے دور میں پائی لیکن بزرگوں نے انسانی زندگی کا کرنا اور فکری مخالفین کا بھی احترام سکھایا تھا۔ اب وہ نسل آ رہی ہے جس نے صرف یہود و ہنود کی دشمنی کا سبق پڑھ رکھا ہے۔ اس کے بزرگ اور اساتذہ، ضیائی برین واشنگ کا شکار رہے ہیں۔ وہ جو بھی کریں کم ہے۔

سنہ 2017 میں چنیوٹ کے گاؤں عاصیاں میں ایک مسجد کے اندر سوئے ہوئے تبلیغی جماعت کے دو افراد کو گاؤں کے ایک حافظ اکرام نامی نوجوان نے پھاوڑے کے وار کر کے قتل کر دیا۔ وجہ نزاع یہ بیان کی گئی کہ تبلیغی جماعت کے ان افراد کی عقائد کے معاملے پر حافظ اکرام نامی مقامی شخص سے بحث چھڑ گئی تھی۔ حافظ اکرام نے اپنے مسلک کے مولوی صاحب سے جب تبلیغی جماعت کے ان عقائد کا ذکر کیا تو انہوں نے اسے گستاخی رسول قرار دیا۔ چنانچہ حافظ اکرام نے خدا رسول کے راستے میں دین کی تبلیغ کے لیے نکلے ہوئے ان بزرگوں کو گستاخی کا مجرم جان کر قتل کر دیا۔

جنوری 2018 میں شبقدر کے نجی کالج اسلامیہ کالج کے پرنسپل سریر خان کو بارہویں جماعت کے طالب علم فہیم سے چھٹیاں کرنے کی وجہ پوچھی جس پر طیش میں آ کر طالب علم نے فائرنگ کر کے پرنسپل کو قتل کر دیا۔ فہیم، اسلام آباد فیض آباد چوک میں توہین رسالت کے حوالے سے منعقدہ خادم حسین رضوی کے احتجاج میں شرکت کے لئے کے لئے گیا تھا جس کی وجہ سے وہ کالج سے تین دن تک غیر حاضر رہا۔ غیر حاضری پر کالج کے پرنسپل کی طرف ڈانٹ پڑنے پر ملزم نے طیش میں آ کر پرنسپل سریر پر توہین مذہب کا الزام لگاتے ہوئے پستول سے فائر کر کے ہلاک کر دیا۔

سنہ 2019 میں پروفیسر خالد حمید کو بہاولپور میں ان کے کالج کے بی اے  کے ایک طالب علم نے قتل کر دیا۔ اس طالب علم کا خیال تھا کہ پروفیسر خالد حمید کالج کی طرف سے نئے طلبا کے لیے جو ویلکم پارٹی ارینج کر رہے ہیں وہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے جس سے فحاشی کو فروغ ملتا ہے۔

اور اب 2020 میں عدالت کے اندر گستاخی کے ایک ملزم کو ایک نوجوان نے قتل کر دیا ہے۔ ملزم کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ وہ ذہنی مریض تھا۔ ذہنی مریض کے متعلق اسلامی نظام انصاف کی اس مضمون کے آخری حصے میں بات کرتے ہیں۔

ریاست اس اہم مسئلے سے نظریں چراتے ہوئے نصاب میں مزید انسان دشمنی کا زہر گھول رہی ہے۔ پنجاب حکومت کی حالیہ نصابی اور کتابی مہم دیکھ لیں۔ تو بس تیار رہیں کہ کسی وقت بھی ایک نوخیز سا لونڈا جیب سے ٹی ٹی نکالے گا اور آپ پر داغ دے گا کیونکہ آپ شیعہ، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، یا پھر ہندو، سکھ، مسیحی یا احمدی ہونے کی وجہ سے اسے اللہ رسول کے دشمن دکھائی دے رہے ہوں گے۔

ان بچوں سے نا گورنر بچے گا، نا وزیر کبیر اور نا ہی عالم فاضل۔ سب ہتھیلیوں پر سر رکھے پھرا کریں گے۔ گورنر سلمان تاثیر کو قتل کیا جا چکا ہے، سابق نواز شریف پر اس الزام میں جوتا چلایا جا چکا ہے اور وزیر احسن اقبال پر گولی۔

اب اگر نیک جذبہ دیکھتے ہوئے کسی بھی شخص کو یہ اجازت دی جائے کہ وہ دوسرے کو قتل کرنے لگے تو انجام کیا ہو گا؟ اہل حدیث، دیوبندی، سید مودودی کی تعلیمات کے پیروکار، بریلوی، شیعہ، سب ہی ”واجب القتل گستاخ“ قرار پانے لگیں گے۔ جو قتل و غارت ہو گی اس کا تصور تو کریں۔ ان سب اکابرین اور عوام نے اپنی اپنی جان بچانی ہے تو بہتر یہی ہے کہ بچوں کو یہ تعلیم دی جائے کہ انصاف کرنا اور سزا دینا صرف حکمرانوں اور عدلیہ کا کام ہے۔ ماورائے قانون قتل کرنے والوں کی تعریف اور توصیف کو نصاب سے نکالا جائے اور میڈیا کو بھی اس سلسلے میں گائیڈ لائن جاری کی جائے۔

اسلامی نظام انصاف میں ایک تصور مرفوع القلم کا ہے۔ مرفوع القلم سے مراد وہ لوگ ہیں جن سے قلم اٹھایا جاتا ہے یعنی وہ اللہ کے نزدیک معذور ہوتے ہیں۔ ان سے ان کے اعمال کی بازپرس کر کے انہیں سزا نہیں دی جا سکتی ہے۔ اس کی وضاحت حضرت عائشہؓ اور حضرت علیؓ سے روایت کردہ احادیث مبارکہ سے ہوتی ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے۔ مجنوں سے یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو جائے۔ بچہ پر سے یہاں تک کہ بڑا (بالغ) ہو جائے۔ سنن ابی داؤد، سنن نسائی۔ اسی مفہوم کی روایت حضرت علیؓ کی روایت سے بھی جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ میں بیان کی گئی ہے۔

سنن ابی داؤد میں ایک روایت مندرج ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے پاس ایک دیوانی عورت کو لایا گیا جس نے زنا کیا تھا۔ حضرت عمرؓ نے اس کے بارے میں لوگوں سے مشورہ طلب کیا اور حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے۔ اس عورت کے پاس سے حضرت علیؓ  گزرے تو فرمایا کہ اس عورت کا کیا معاملہ ہے لوگوں نے کہا کہ یہ عورت پاگل ہے اس نے زنا کیا تھا حضرت عمرؓ نے حکم دیا سنگسار کرنے کا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اسے واپس لے چلو پھر وہ حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور فرمایا کہ اے امیر المومنین کیا آپ کو معلوم نہیں کہ تین قسم کے افراد پر سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔ پاگل شخص سے یہاں تک کہ وہ صحیح تندرست ہو جائے، سونے والے شخص پر سے یہاں تک کہ وہ جاگ جائے۔ اور بچہ پر سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے (بالغ ہو جائے ) ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ کیوں نہیں پھر حضرت علیؓ نے فرمایا پھر تیرا کیا خیال ہے اس عورت کے بارے میں اسے سنگسار کر دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کچھ نہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ پھر اسے چھوڑ دیں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے اسے چھوڑ دیا اور تکبیر کہنے لگے (خوشی میں کہ ایک بڑی غلطی سے اللہ نے بچا لیا) ۔

جبکہ ہمارے نوجوانوں، بڑے بوڑھوں اور مفتی اعظم کہلانے والوں کا بھی یہ خیال ہے کہ خواہ کسی بچے پر گستاخی کا الزام لگے یا کسی پاگل پر، کسی استاد میں گستاخی نظر آنے لگے یا کسی حافظ قرآن یا تبلیغی بزرگ میں، اس کی تحقیق کیے بغیر اور معاملہ جانے بغیر اسے قتل کر دو تو قاتل غازی ہو گا اور اس کے ”نیک جذبے“ کی وجہ سے اس کے متعلق نیک گمان رکھنا چاہیے۔ اسلام کے نام پر قتل کرنے سے پہلے یہ تو جان لیں کہ اسلام اس بارے میں کیا حکم دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1297 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply