میرا اسماعیل کون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی اہتمام سے تیار ہوا ہے بہت خوش ہے اور اچھا لگ رہا

ہے۔ آپ کی نظروں میں ستائش ہے جو سامنے والا باآسانی دیکھ بھی سکتا ہے لیکن آپ نے زبان سے تعریف نہیں کرنی۔

کسی نے نیا گھر لیا ہے، نفاست سے سجایا ہے اور آپ کے اچھے جملوں کا منتظر ہے لیکن آپ ہیں کہ منہ باندھے بیٹھے ہیں، آپ کو اس وقت اپنی ساری حسرتیں یاد آئیں گی۔ آپ مارے باندھے چند جملے کہیں گے لیکن کھل کے خوشی میں شریک نہیں ہونا۔

کسی نے بہت اچھا کھانا پکایا ہے۔ آپ نے سیر ہو کر کھایا ہے۔ لوگ کھل کے داد دے رہے ہیں، آپ کو دل سے پسند بھی آیا ہے لیکن آپ نے گویا زبان تالو سے چپکا لی ہے اور سراہا بھی تو یوں کہ ”وہ جو میری فلاں فلاں کزن ہے وہ بھی اس ترکیب سے بناتی ہے بہت اچھا بنتا ہے“ ۔ دراصل یہ مری ہوئی تعریف آپ کو اپنے پاس ہی رکھنی چاہیے تھی۔

کسی میں کوئی خوبی ہے، کوئی صلاحیت ہے، لوگ اسے سرہاتے ہیں، آپ دل ہی دل میں اس کی خوبی کے معترف بھی ہیں لیکن کبھی حوصلہ افزا کلمات منہ سے نہیں نکالتے کہ چھوڑو کہیں سر پہ ہی نہ چڑھ جائے۔

آپس میں کچھ مسئلہ ہوا ہے۔ غلطی آپ کی ہے لیکن آپ رشتے میں بڑے ہیں اس لیے معافی مانگنا تو بہت دور کی بات ہے نہ آپ اسے قبول کریں گے نہ رساؤ سے سلجھانے کے کوشش کریں گے بلکہ اپنے مرتبے کے بل پہ آپ کی کوشش ہوگی کہ سارا ملبہ دوسرے پہ گرا دیا جائے

کوئی دولت، طاقت یا مرتبے کی حیثیت سے آپ سے تھوڑا کم ہے، اس کے سامنے آپ کی گردن میں ہمیشہ سریہ رہیگا اور آپ اسے ہمیشہ دل میں کم تر گردانیں اور حقیر لہجہ اپنائیں گے

کس کے بچے مطیع اور فرماں دار ہیں، نیک ہیں اور اچھی جگہوں پہ پہنچ گئے ہیں آپ کہیں گے کہ اللہ جیسے چاہے جہاں پہنچا دے بندوں کی کیا استطاعت (چلو بھئی اللٰہ کا نام بھی لے لیا اور دوسرے کو بے عزت بھی کر دیا)

ٹیکنالوجی کی بدولت آج یہ مناظر سوشل میڈیا پہ بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کسی کو فرینڈ نہیں بنانا، کسی کو نظر انداز کرنا ہے۔ کوئی اپنی کامیابی کی خبر ڈالے تو پڑھ کے انجان بن جانا کہ اچھا یہ ہوا تھا اصل میں ہم تو زیادہ فیس بک یوز ہی نہیں کرتے۔ کچھ لوگ بیچارے یہ جانے بغیر کہ واٹس ایپ کے میسج پہ انفو دیکھ لی جائے تو پتا چل جاتا ہے کہ پیغام پہنچ گیا اور پڑھ بھی لیا گیا ہے کہتے ہیں ارے پتا ہی نہیں چلا کب آیا آپ کا مسیج۔

کوئی تصویر پسند آئی کوئی تحریر پسند آئی کسی کی بات نے دل پہ دستک دی اور کئی دن جکڑے رکھا لیکن اس کو اس بات کا پتا نہیں چلنے دینا، نہ کمنٹ کرنا ہے نہ لائیک کے بٹن کو شرف بخشنا ہے۔ پروفائل اور پیج پہ چپکے چپکے جھانکیں گے، پورا پورا کھنگالیں گے لیکن ملیں گے تو انجان بن جائیں گے ارے اب اتنا وقت کہاں کہ فیس بک پہ بیٹھیں۔ خود کو مصروف بھی ظاہر کر دیا اور آپ کو آپ کے نکمے پن کا احساس بھی دلا دیا یہ جانے بغیر کہ دوسرے لوگوں کی پبلک پوسٹ پہ ان کے تبصرے آپ باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔

تو دوستوں، یہ ہے ہماری انا، ہمارا حسد، ہمارا زعم جو الفاظ کی صورت باہر آتا ہے تو زہر میں ڈبوئے نشتر کے طرح لوگوں کو تکلیف دیتا ہے اور کبھی سرد مہر رویوں کا روپ لے کر دوسروں کو رنجیدہ کر دیتا ہے۔

یہ ہماری انا ہی ہے جو ہمیں سب سے پیاری ہے۔

سب سے مشکل قربانی اپنی انا اور نفس کی قربانی ہے۔ آپ کے کہے گئے یا لکھے گئے الفاظ ہی ہیں جو کبھی لوگوں کے دل میں گھر کر جاتے ہیں تو کبھی آپ کو دل سے اتار دیتے ہیں۔

اس عید قربان پہ اپنی انا کو بھی قربان کر دیں۔

لوگوں کی کھل کے تعریف کریں، اچھے کاموں میں حوصلہ افزائی کریں۔ کامیابیوں پہ کھل کے مبارکباد دیں۔ خوشی کے موقعوں پہ خوشی کا اظہار کریں اور تھوڑا سا وقت نکال کر لوگوں کے ساتھ اپنے رویئے اور الفاظ پہ غور و فکر کریں کہ انسان خود اپنا سب سے بڑا محاسب ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply