ہم دوسروں کو اچھے کیوں لگتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہمیں اس بات کا علم ہونا کہ ہم دوسروں کو اچھے کیوں لگتے ہیں، خود شناسی کے حوالے سے بہت اعلی بات ہے۔ مگر مسلا یہ ہے کہ ہم اس بارے میں غور نہیں کرتے ہیں۔ جہاں پر اپنے بارے میں یہ جاننا کہ ہم میں کیا صلاحیتیں ہیں اور کیا بری عادات ہیں، کے ساتھ ساتھ یہ مشاہدہ کرنا بھی بہت ضروری ہے لوگ کس وجہ سے ہم کو پسند کرتے ہیں۔

اکثر یہ ہوتا ہے کہ ہمیں اپنی کچھ عادات، باتیں یا کام بہت اچھے لگتے ہیں مگر کیا آپ کا وہ سب کرنا دوسروں کو بھاتا ہے کہ نہیں؟ یہ دونوں مختلف باتیں ہیں۔ اسی فرق سے پھر ہماری زندگی میں اکثر اوقات تناؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ اکثر آپ نے دیکھا ہو گا کہ لوگ یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ کوئی مجھے نہیں سمجھتا، کوئی میری نہیں سنتا، میرا دنیا میں کوئی مخلص ساتھی نہیں ہے وغیرہ۔ تو جناب یہ سب باتیں تب درپیش ہوتیں ہیں جب ہم اس بات کو غور سے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ ضروری نہیں جو ہمیں اپنے اندر اچھا لگتا ہے وہی دوسرے لوگوں کو بھی پسند ہو۔ یہ وہ باریک سی بات ہے جسے سمجھنا بہت مفید ہے۔

جیسا کہ ہو سکتا کہ آپ کو اپنا سٹریٹ فارورڈ ہونا بھاتا ہو مگر کیا پاتا اوروں کو اس سے تکلیف ملتی ہو۔ آپ کا بولڈ ہونا اور اپنی مرضی کرنا آپ کی اپنی ذات کے لئے واقعی اچھا ہو مگر کیا پتہ باقی لوگوں کو اس سے اکتاہٹ ہوتی ہو۔ آپ کا دوسروں کے معاملات میں سچی دل سے دلچسپی لینا، درد محسوس کرنا یا آگے بڑھ بڑھ کر کام آنا واقعی بہت نیکی ہو مگر ہو سکتا لوگ آپ کی اس عادت سے بیزار بھی ہوتے ہوں۔ یا پھر آپ کا لوگوں کی تعریف کرنا یا حوصلہ بڑھانا آپ کے لئے بڑا عمدہ عمل ہو مگر لوگوں کو یہ سب مصنوعی لگتا ہو وغیرہ سینکڑوں ایسی باتیں ہیں جن پر دل سے سوچ سے ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں اپنی اچھی عادتوں اور عملوں کے حوالے سے یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ان سب کے کرنے میں ایک توازن ہو۔ حد سے بڑھا ہوا کچھ نہ ہو۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھیں کہ ضروری نہیں کہ ہم ہر کسی کی پسندیدہ شخصیت ہوں۔ ہم کسی کو کم اچھے لگتے ہوں گے، کسی کو زیادہ تو کسی کو بالکل بھی نہیں۔ مگر ہمیں کم از کم اتنا علم ضرور ہو کہ ان تینوں باتوں کے فرق کی وجہ کیا ہے۔

حرف آخر یہ کہ آپ نے اکثر دکانوں پر یہ جملہ لکھا ہوا ضرور پایا ہو گا کہ ”آپ بہت اچھے ہیں مگر ادھار اچھا نہیں“ ۔ اب آپ غور کریں کہ اس چھوٹے سے جملے میں خود شناسی کے حوالے سے کیا زبردست بات چھپی ہوئی ہے۔ آپ چاہے سر تا پا خوبیوں کا مجسہ ہوں مگر اس مخصوص دکان دار کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کو آپ کو پرکھنے کا ایک ہی فارمولا ہے ورنہ وہ یہی کہے گا کہ صاحب نقد بڑے شوق سے، ادھار اگلے چوک سے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply