وراثت میں لڑکی کا حق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام وہ واحد مذہب ہے جس میں عورت کو مذہبی ’سماجی‘ معاشرتی غرض ہر لحاظ سے تحفظ ’عزت و احترام دیا جاتا ہے۔ یہ وہ مذہب ہے جس میں عورت کے حقوق کی نہ صرف بات کی جاتی ہے بلکہ عملی نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا جب حضور ﷺ سے ملنے تشریف لاتیں تو آپ ﷺ تعظیم میں کھڑے ہو جاتے اور اپنی چادر مبارک بچھا دیتے۔ عورت پھر وہ ماں ہو‘ بیٹی ’بہن یا بیوی‘ چاہے جو بھی روپ ہو ہر روپ کا اپنا ایک تقدس ہے۔

مغرب میں آج جہاں عورت کے حقوق کی اور با اختیار بنانے کی بات ہو رہی ہے وہاں اسلام وہ مذہب ہے جس نے 1400 سال پہلے عورت کو عزت و احترام اور تحفظ دینے کی نہ صرف بات کی بلکہ ان کو مالی لحاظ سے مستحکم کرنے کا حکم دیا۔ جیسا کہ وراثت میں یعنی جائیداد میں حصہ۔ وراثت کی تقسیم اسلام کے اصولوں کے مطابق ہم پر فرض ہے بالکل اسی طرح جیسے نماز ’روزہ‘ حج اور زکٰوۃ فرض کیے گئے ہیں۔

لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اسلام نے جس قدر عورت کے حقوق کی بات کی ہے اتنی ہی اس کے حقوق کی پامالی کی جاتی ہے۔ ہم اسلام کی بات کرتے ہیں روزے ’نماز‘ حج اور زکوٰۃ کی ادائیگی تو کرتے ہیں لیکن جب جائیداد میں حصہ دینے کی بات آتی ہے تو اسلام اور اس کے احکامات کو یکسر بھول جاتے ہیں۔ اکثر گھرانوں میں لڑکیوں کی شادی نہیں کی جاتی صرف اس ڈر سے کہ ان کے حصے کی جائیداد گھر سے باہر چلی جائے گی۔ لہذا وہ ساری عمر ماں باپ کی دہلیز پر بوڑھی ہو جاتی ہیں یا پھر ان کی شادی قرآن پاک سے کر دی جاتی ہے جو کہ اسلام میں کسی بھی طرح جائز نہیں اور نہ ہی اسلام کسی بھی صورت میں اس کی اجازت دیتا ہے۔

اب کہا یہ جاتا ہے کہ لڑکی کو شادی پر جہیز دے دیا ہے اب اس کا وراثت میں حصہ نہیں بنتا۔ جہیز ایک غیر اسلامی رسم ہے جبکہ وراثت میں حق اللہ کا حکم اور مسلمانوں کا طریقہ ہے۔

وراثت کا جہیز سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ جہیز ایک تحفے کی حیثیت رکھتا ہے جو والدین اپنی مرضی اور حیثیت کے مطابق دیتے ہیں۔ وراثت میں حصہ اور جہیز دونوں کی الگ الگ حیثیت ہے اس لئے ان کو آپس میں زعم نہ کیا جائے۔

اب دیکھنے میں یہ بھی آتا ہے کہ بیٹی والدین کے انتقال کے بعد مروتاً ’جذبات میں آکر یا شرم میں جائیداد میں سے حصہ لینے سے انکار کر دیتی ہے۔ یا بھائی بولتے ہیں کہ بھائی چاہیے یا حصہ اب ظاہر ہے بہن بھائی کا پیار ہی مانگے گی تاکہ رشتہ و تعلق ختم نہ ہو اور اس کا میکہ آباد رہے لہذا اپنے حصے سے سکبدوش ہو جائے گی جو اس کا شرعی حق بنتا ہے۔ اسی طرح اسلام نے مرنے والے کی بیوی یعنی ماں کا حصہ رکھا ہے لیکن اولاد یہ کہتی ہے کہ آپ نے تو ہمارے ساتھ ہی رہنا ہے ہم ہیں نا آپ کا خیال رکھنے والے آپ کو کیا ضرورت ہے روپیے پیسے کی۔

اب ماں بے چاری کیا کرے وہ تو شوہر کی وفات کے بعد بیٹوں کی محتاج ہو جاتی ہے۔ لہذا اپنا حصہ نہیں لیتی۔ لیکن اسلام میں ایسے میں حکم ہے کہ ان کو وراثت میں حصہ ضرور دیا جائے‘ حصہ لینے کے بعد وہ جو چاہے کر سکتی ہیں۔ ان کو مجبور نہ کیا جائے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے اخراجات کے لئے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں یا اپنی ذاتی ضرورت کے لئے کسی دوسرے کی طرف نہ دیکھیں۔

جب ہم بات کرتے ہیں خدمت کی تو بیٹیاں اپنے والدین کا خیال کرتی ہیں خدمت کرتی ہیں بغیر کسی حرص اور لالچ کے لیکن جب جائیداد میں حصہ کی بات آتی ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ جائیداد گھر سے باہر چلی جائے گی داماد کی صورت میں۔ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو بھی تو کسی غیر کو سونپ رہے ہیں جب نازوں میں پلی بیٹی دے دی تو یہ جائیداد کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔ ہم ایسا کیوں نہیں سوچتے کہ اگر ہم اپنی بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ دے رہے ہیں تو یہ ان کو سسرال میں مستحکم کرے گا یہ جائیداد ’روپیہ‘ پیسہ ان کے مستقبل میں کام آ سکتا ہے اچھے برے وقت میں ان کا ساتھ دے سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بہنوں ’بیٹیوں کو اپنا وراثت میں حق لینے کے لئے عدالت کی دہلیز تک جانا پڑتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ بہن‘ بیٹیوں کا حق مار کر گناہ کے مرتکب نہ ہوں کیونکہ ان کو ان کا جائزحق اسلام کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق دینا فرض ہے جو اس فرض سے کوتاہی کرے گا وہ سزا کا مرتکب ٹھہرے گا اور دنیا اور آخرت دونوں جہاں میں اس کی پکڑ ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اتنے سخت اور خودکار قوانین بنائے کہ عورت کو وراثت میں حصہ مل سکے اور کوئی چاہتے ہوئے بھی اس کے حق کو سلب نہ کر سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply