سندھ میں رواں برس پانچ عورتیں کاری کر کے لاشیں دریا میں پھینکی گئیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ کے شمالی علاقہ جات تو ہمیشہ سے عورت کے لئے مقتل گاہ بنے ہوئے ہیں۔ جہاں آئے دن عورت جاہل معاشرے کی جہالت کا نشانہ بن کر قتل ہوتی آئی ہے۔ Honour killing جیسے واقعات کی روک تھام کے لئے قوانین نا ہونے کے برابر ہیں۔

سندھ میں کارو کاری کے تحت قتل ہونے والی عورت کا خون اس وقت رائیگاں ہو جاتا ہے خس وقت ایف آئی آر درج ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر بھائی اپنی بہن کو قتل کرتا ہے تو ان کا باپ پری پلان کے تحت مدعی بن جاتا ہے۔ یوں کچھ ماہ بعد وہ کیس سے دستبردار ہوجاتا ہے۔ اور قاتل کی آنکھ سے عدالت داغ دھو کر اسے آزاد کردیتی ہے۔ یوں وہ اس غلیظ معاشرے کا غیرت مند فرد بن کر انہی گلیوں میں ہار پہنے گھومتا ہے۔

سندھ میں عورتوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم سندھ سہائی ستھ کی چیرپرسن ڈاکٹر عائشہ حسن دھاریجو نے سکھر پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جو اعداد و شمار سامنے رکھے ہیں ان کے مطابق 2020 کے چھ ماہ میں سندھ میں 98 مرد اور عورتیں کارو کاری کے الزام میں قتل ہوئے۔ جن میں 61 عورتیں اور 37 مرد شامل ہیں۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق شمالی سندھ سے ہے۔ جس میں جیکب آباد میں 18 قتل کے ساتھ پہلے نمبر پر جبکہ گھوٹکی اور شکار پور اضلاع 17، 17 قتل کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ کشمور 14، حیدرآباد 5 باقی کا تعلق سندھ کے دوسرے اضلاع سے ہے۔ ڈاکٹر عائشہ حسن دھاریجو نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان 6 ماہ میں 5 عورتوں کو عزت کے نام پر قتل کر کے ان کی لاشیں دریا میں بہا دی گئیں جو آج تک نہیں ملی۔

دریا برد ہونے والی مقتول عورتوں ساجدہ چاچڑ اور باقی تین کا تعلق گھوٹکی سے جبکہ ایک شکارپور سے تھی۔ 5 مقتول عورتوں میں سے پولیس کسی کی بھی لاش برآمد نہیں کرسکی۔ زیادہ تر کارو کاری کے کیسز میں لاش گمنام جگہ پر بھی دفنا دی جاتی ہے۔ لیکن ان پانچھ خواتین کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں دریا میں پھینکا گیا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق عزت کے نام پر قتل کا گزشتہ برس سے ریشو زیادہ ہے۔ 2019 کے آخری چھ ماہ میں عزت کے نام پر 78 قتل ہوئے جن میں 50 عورتیں تھیں۔ جب کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں یہ ریشو زیادہ دیکھنے کو ملا ہے۔

جبکہ رواں برس لاک ڈاؤن میں حیدرآباد ڈویژن میں عورتوں پر تشدد کے 1000 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ لاک ڈاؤن میں گھریلو تشدد میں انتہا درجے کا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ مرد حضرات گھر میں محصور ہونے کی وجہ سے مشتعل ہوکر عورتوں کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔ وومین پروٹیکشن سیل کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق حیدرآباد ڈویزن کے 9 اضلاع میں چار ماہ کے دوران عورتوں پر تشدد، زیادتی اور بلیک میلنگ کے 1000 سے زائد کیس رپورٹ ہوئے۔ عورتوں پر مظالم میں حیدرآباد ریجن کا ضلعہ دادو پہلے، جامشورو دوسرے جبکہ حیدرآباد تیسرے نمبر پر رہا۔ فروری سے جولائی تک 2867 شکایات موصول ہوئیں۔ وومین پروٹیکشن سیل حیدرآباد کی انچارج ماروی اعوان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں ملا ہے۔

کارو کاری، گھریلو تشدد کے اکثر کیسز کا قبائلی جرگہ ہوجاتا ہے۔ اکثریت مجرموں کو سزا نہیں ملتی جس کی وجہ سے ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جس پر بروقت اور موثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply