مسخ شدہ تاریخ، مسخ شدہ قوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ نویسی ہر دور میں مشکل کام رہا ہے اور رہے گا۔ اس کی وجہ مورخ کی وہ مجبوریاں یا لمٹیشنز ہیں کہ وہ جب بھی تاریخ لکھتا ہے تو اکثر اوقات ایسے واقعات کا تذکرہ کرتا ہے، جسے اس نے خود نہیں دیکھا۔ لہذا دوسروں کے فراہم کردہ معلومات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ایسے معلومات کی چھان بین کافی مشقت طلب کام ہے اور ہر کسی کے پاس معلومات کے حصول کے لیے ذرائع اور وسائل دستیاب نہیں ہوتے۔ ایک ہی دور میں گزرنے والے مورخین ایک ہی واقعہ کی تفصیل اورمحرکات مختلف بیان کرتے ہیں۔ اس کی وجہ مورخین کے پس منظر اور سمجھ بوجھ کے علاوہ کسی واقعہ سے تعلق، پسندیدگی جیسے دوسرے اور عوامل کار فرما ہیں۔ اس لیے ان الگ الگ تفصیلات یا توجیحات کا اگر باریک بینی سے مطالعہ نہ کیا جائے تو ماضی کے بہت سے واقعات کے اصل محرکات پر پردہ پڑ سکتا ہے۔

ماضی میں شاید ہی کوئی ایسے مورخ گزرے ہوں گے جنھوں نے واقعات کی تفصیل لکھتے وقت واقعات کی ہر زاویہ سے اور باریکی سے چھان بین کے بعد نتائج اخذ کیے ہوں۔ اس لیے جتنا مشکل تاریخ نویسی ہے، اس سے کہیں زیادہ تاریخ فہمی ہے۔ تاہم جدید سکالرز اب ماضی کے بہت سے واقعات کی دوبارہ چھان بین جدید تحقیقاتی طریقوں سے کرکے کسی حد تک حقیقت کو افسانے سے جدا کرنے قابل ہوئے ہیں۔ مزید برآں ماہرین آثار قدیمہ اورعلم بشریات کے تاریخ سے تعلق نے تاریخ کو سمجھنے کے لیے نئی جہتیں فراہم کیں ہیں۔

ان جہتوں کی وجہ سے جہاں تاریخ نویسی اور تاریخ فہمی پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے جا رہے ہیں، وہاں مختلف زاویہ سے واقعات کی چھان بین نے ماضی کے کافی حد تک قابل اعتبار پہلوؤں کے سامنے لانے کے دریچے کھول دیے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ماضی میں تاریخ کو جس حتمیت اور قطعیت کے ساتھ ایک جامد علم سمجھا جاتا تھا اب اس کی یہ نوعیت اور حیثیت نہیں رہی بلکہ یہ ایک فلوئیڈ یا سیال صورت اختیار کرچکی ہے۔ لہذا ایک وزر یا برتن کے چھوٹے سے ٹکڑے کی دریافت سے کسی قوم یا علاقے کی تاریخ بدل سکتی ہے۔

مثلاً انسانی تخلیقی مہارتوں کی ایک صنف پینٹنگ کی تاریخ کتنی پرانی ہے؟ چند سالوں پہلے تک تحریری تاریخ میں اس کے شواہد زیادہ پرانی نہیں ملے تھے۔ مگر افغانستان کے علاقہ بامیان کے غاروں میں دریافت ہونے والے آئل پینٹنگ نے تاریخ میں پہلی دفعہ یورپ میں آئل پینٹنگ کے استعمال کی تاریخ سے متعلق ہماری سمجھ ہی بدل ڈالی کیونکہ بامیان میں دریافت پینٹنگ کی تاریخ ساتویں صدی کی ہیں، جبکہ یورپ میں اس کی ابتداء تیرہویں صدی میں ہوئی۔

اسی طرح انڈونیشیا کے غاروں سے دریافت ہونے والے چوالیس ہزار سال پہلے کے مورل پینٹنگ نے ہماری معلومات اور انسانی تخلیقاتی صلاحیت کے ارتقاء کی سمجھ کے حوالے سے ہمارے لیے نئے دریچے وا کیے۔ لہذا ہر نئے آثار کی دریافت کے ساتھ ساتھ انسانی تاریخ بدل رہی ہے اوراس سے متعلقہ سمجھ بوجھ بذات خود ارتقا پذیر ہیں۔

ماہرین آثار قدیمہ اپنی نئی نئی دریافتوں سے تاریخ کے کئی پہلوؤں کو تہہ و بالا کرنے اورماضی کی سمجھ کو بہتر کرنے کے حوالے سے اپنے تحقیقات کے ذریعے نئے نئے نقطہ ہائے نظر فراہم کر رہے ہیں۔ مثلاً حسن صباح کی جنت کے قصہ کی چھان بین کے لیے وہ اپنے علم کے معین معیار کے مطابق ان علاقوں کا جہاں مشتبہ جنت تھا کے آثار کی چھان بین اور دریافت مواد کی بنیاد پر اس علاقے کے سائنسی بنیادوں پر تجزیہ و تحلیل کے بعد وضع قطع مرتب کرے گا، اور اس کہانی کے حقیقت یا افسانہ سے متعلق نتیجہ اخذ کرے گا۔

صرف یہی نہیں بلکہ ہرنئے دریافت ہونے والے نادرہ اور شاہد کے سامنے آنے سے پہلے سے موجود مفروضہ کی تصدیق ہونے یا نئے مفروضہ پیدا کرنے کی گنجائیش موجود رہتی ہے۔ جن کی بدولت پہلے سے قائم بہت سے اساطیر میں ترمیم کی جاتی ہے یا کلی طور پر ان کی وقعیت باقی نہیں رہتی۔ تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تاریخ کی نوعیت اور ہیت ایک سیال شکل میں ظہورپذیر ہورہا ہے، تو اس کی ضرورت اور افایت کیا ہے؟

تاریخ کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھنے کے لیے ایک واقعہ قارئین سے شیئر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ کچھ سالوں پہلے کسی نامی گرامی سکول کے ایک سٹوڈنٹ سے میں نے پوچھا: تاریخ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اس نے فوراً جواب دیا یہ ایک فضول مضمون ہے۔ پھرمیں نے جب وجہ دریافت کیا تو کہنے لگے : ماضی کے قصے کہانیوں سے کیا فائدہ؟ ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں پڑھنا چا ہیے۔ مستقبل کے بارے می پڑھنا چاہیے۔ میں نے اس طالب علم سے پوچھا کہ تو پھر مختلف ممالک میں تاریخ سے متعلق بہت سے ادارے کیوں بنائے گئے ہیں؟

وہ کہنے لگے، بس کچھ اچھی باتیں یاد رکھنے کے لیے۔ میں نے کہا۔ اگرمیں آپ سے یہ کہوں کہ سائنس میں بھی تاریخ کا استعمال ہوتا ہے۔ تو وہ تعجب بھری نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ میں کہا کہ آپ ڈاکٹر کے پاس اپنے یا اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ علاج معالجے کے لیے گئے ہوں گے ؟ اس دوران عموماً ڈاکٹر کوئی نسخہ لکھنے یا علاج شروع کرنے سے پہلے بہت سے سوالات پوچھتے ہیں۔ مثلاً آپ کے خاندان کے کسی اور فرد کو تو یہ بیماری نہیں؟ کب سے آپ کو یہ مسئلہ درپیش ہیں؟ کیا کھانا کھایا تھا وغیرہ۔ اگر ڈاکٹر ایسے سوالات پوچھے بغیر کوئی دوا تجویز کریں یا علاج شروع کریں تو افاقہ ہوگا؟ انھوں نے کہا: نہیں

اور پھر میں اس سٹوڈنٹ سے ایک دوسرا سوال پوچھا؟ کہ آپ کا واسطہ کسی ایسے شخص سے پڑا ہے جس کی یاداشت چلی گئی ہو؟ یا کوئی ایسی فلم دیکھا ہو، جس میں کسی کے یاداشت کھو جانے والی کہانی ہو۔ انھوں نے اثبات میں سرہلایا اور کہا، جی ہاں۔ پھر میں نے اس سٹوڈنٹ سے کہا کہ فرض کرلیتے ہیں کہ آپ کی یاداشت چلی جاتی ہے اور آپ کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ آپ کا نام کیا ہے۔ آپ اپنے دوست احباب اورخاندان والوں کو نہیں پہچانتے ہیں اور نہ ہی آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کہاں ہیں، تو ایسے میں آپ کی قدروقیمت کیا ہوگی؟ انھوں نے فوراً جواب دیا: کچھ بھی نہیں۔ پھر جب میں نے انھیں بتایا کہ آپ کی یادداشت آپ کی انفرادی تاریخ ہے۔ تو اس سٹوڈنٹ کو تاریخ کی اہمیت اور افادیت کا پتہ چلا، پھر انھوں نے کہا ہمیں اس طرح سے سمجھایا نہیں جاتا۔

مذکورہ واقعہ اور بات چیت سے ہم یہ نیجہ نکال سکتے ہیں کہ ہماری قدر وقیمت کا انحصار ہماری انفرادی اور اجتماعی یاداشت پر ہے، جو ہماری انفرادی اور اجتماعی تاریخ ہیں۔ اور یہ یاداشت جس قدر آلودگی سے پاک ہوگا، اس قدرہمارے ماضی، ہماری حال کی راہنمائی اور روشن مستقبل کے لیے سمتیں فراہم کرنے کا ضامن ہوگا۔ بہ الفاظ دیگر ہم اپنی تاریخ کو اگر مسخ شدہ کریں گے، تو ہماری قومی شناخت بھی مسخ شدہ ہوگی۔ پاکستان اور دوسرے مسلم ممالک میں جدید تاریخی نویسی اور تاریخ فہمی کے رجحانات ناپید ہیں۔

بلکہ ان کے سیاق میں مقتدر حلقوں نے ناسمجھی میں تاریخ کو سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر آلودہ کرتے آئے ہیں۔ اور اس کی حالت اتنے بگاڑ دیے ہیں کہ بہت سے لوگوں کی نظروں میں یہ اب ایک غیر ضروری مضموں لگنے لگا ہے۔ جن سے ان ممالک کے معاشروں کو بے تحاشا نقصانات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔ ۔ جس طرح ایک یاداشت سے محروم فرد کی قدر و قیمت باقی نہیں رہتی اس طرح اگرایک قوم یا معاشرہ اپنی اجتماعی یاد داشت سے محروم ہو تو ان کی کیا وقعت باقی ہوگی؟

لہذا جو قوم اپنی صحیح شنخت برقرار رکھنے کے متمنی ہے انھیں ہر زاویہ سے اپنے تاریخ کا جائزہ لینا ہوگا۔ اور ایک مخصوص زاویہ سے واقعات اور حوادیثوں کو دیکھنے کا پرکھنے کا انداز چھوڑنا ہوگا۔ لیکن بدقسمتی سے اب بھی ہمارے نیم خواندہ معاشرہ کومخصوص زاویوں سے دیکھنے کا رجحان جاری و ساری ہے حالیہ پنجاب اسمبلی کی قانون سازی اور کتابوں پر پابندی اس بیمار معاشرہ کی بیمارذہنیت کی عکاس ہیں۔ لہذا اگرہمیں اپنے صحیح شناخت کو سمجھنا ہے تومختلف زاویوں سے جدید تحقیقات اورسرگرمیوں کے ذریعے اپنے غیر تحریف شدہ تاریخ کی کھوج لگانا ضروری ہے، تاکہ اس سے ہمارے معاشرے کے بیماریوں کی وجوہات کا پتہ چل سکے، اور ان کا علاج ممکن ہو۔ وگرنہ تاریخ ہماری شناخت کو ایسے تحریف شدہ اورمسخ شدہ بنا دے گی جس کا علاج اجتماعی موت کی صورت میں وقوع پذیر ہوگا۔

عافیت نظر ایک محقق اور لکھاری ہیں ان کے کالم انگریزی اخبارات ڈیلی ڈان، ڈیلی ٹائمز اور فرنٹیرپوسٹ کے علاوہ دوسرے اخبارات میں چھپتے رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply