زرار پیرزادو کے منفرد سندھی کالمز کی کتاب: ”نوٹ کرنڑ جہڑیوں گالھیوں“ (نوٹ کرنے جیسی باتیں )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ کے سندھی زبان میں خدمات انجام دینے والے نامور اور منفرد صحافی اور قلمکار، بلکہ ”صحافی ابن صحافی“ ، زرار پیرزادو، تعلیمی لحاظ سے تو ”ماہر آثار قدیمہ“ (آرکیالاجسٹ) ہیں، مگر عملی میدان میں وہ 90 ء کی دہائی سے سندھی صحافت سے عملی طور پر وابستہ ہیں۔ وہ سیماب مزاج ہرگز ہیں، جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ اپنے کم و بیش تین دہائیوں پر مشتمل مکمل صحافتی کیریئر میں فقط ایک ہی اخبار (سندھی کے معروف اخبار) ، روزنامہ ”عوامی آواز“ کراچی ہی سے وابستہ ہیں، جہاں پر مختلف حیثیتوں سے اپنی خدمات انجام دینے کے بعد، اب ”اسسٹنٹ ایڈیٹر“ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

اس اخبار کے ساتھ مستقل وابستگی کی ایک مضبوط وجہ یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ان کے والد محترم، سندھ کے معروف صحافی، شاعر، دانشور، ماہر آثار قدیمہ اور کمپئر، انور پیرزادو صاحب بھی اسی اخبار سے وابستہ رہے، لحٰذا اس ادارے سے وابستگی زرار کے لیے محض ذریعۂ روزگار ہی نہیں، صحافتی اور ادبی وراثت کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری بھی ہے۔

زرار پیرزادو ایک نامور صحافی کے ساتھ ساتھ ایک باصلاحیت قلمکار بھی ہیں۔ دو عشروں سے زاید کے عرصے سے وہ اپنے اخبار کے ادارتی صفحے کی ادارت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ لحٰذا وہ سندھی کے انتہائی سینیئر قلمکاروں سے لے کر نوخیر ادیبوں تک، ہر عمر اور معیار کے کالم نویسوں سے نہ صرف لکھوا رہے ہیں، بلکہ ان کی تحریروں کو اپنی تدوین سے سجا کر ”عوامی آواز“ کی زینت بنا رہے ہیں۔ مگر یہ یاد رہے کہ وہ ایک اچھے ایڈیٹر ہونے کے ساتھ ساتھ، خود بھی اپنی طرز کے معتبر نثر نویس ہیں۔

زرار کے تحریر شدہ مضامین، کالمز، تجزیے، تبصرے، اور نوٹس اپنے منفرد انداز تحریر کی وجہ سے ہمیشہ قارئین کی دلچسپی کا باعث رہے ہیں۔ انہوں نے ایک عرصے تک روایتی انداز میں کالم اور مضامین لکھے، مگر پھر اپنے والد کی طرز پر کسی بھی ایک موضوع پر مختصر کالم (بقول ان کے اپنے : ’شارٹ کالم‘ ) لکھنے کا ایک منفرد سلسلہ شروع کیا، جس میں الگ الگ نکات کی صورت میں ( 1 ) اس معاملے یا مسئلے کی جزیات کا بیان، ( 2 ) اس کے معاشرے پر اثرات اور ( 3 ) اس مسئلے کے حل کے حوالے سے اپنی تجاویز، اس انداز میں دیتے ہیں، کہ عام سے عام قاری کو بھی متعلقہ موضوع کے بارے میں بات با آسانی سمجھ میں آ جاتی ہے۔

انہوں نے کالمز کے اس سلسلے کا نام ”نوٹ کرنڑ جہڑیوں گالھیوں“ (نوٹ کرنے جیسی باتیں ) رکھا، جب کہ ان کے والد انور پیرزادو صاحب، اسی اخبار میں، اسی انداز میں ”متاں وساریو“ (بھولیے گا مت! ) کے عنوان سے مختصر کالم لکھا کرتے تھے۔ اس کالم کے مستقل عنوان ( ”نوٹ کرنے جیسی باتیں“ ) کی مناسبت سے اپنے ہر کالم کے اختتام پر زرار ایک سے دو جملوں میں اپنا نکتۂ نظر رقم کرتے ہوئے، ہمیشہ لکھتے ہیں : ”تو نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ۔ ۔ ۔“ اور ان کا یہ انداز اس کالم کو چار چاند لگا دیتا ہے اور اس مذکورہ معاملے کو سمجھنا قاری کے لیے آسان بنا دیتا ہے۔

زرار نے اپنی یہ کتاب اپنے والد، فکری رہبر اور صحافتی استاد جناب انور پیرزادو کے نام اس قدر جامع انداز و الفاظ میں منسوب کی ہے، کہ پڑھ کر پیار آتا ہے۔

وہ انتساب کے صفحے پر رقم طراز ہیں :
”اپنے اسکول آف تھاٹ۔ انور پیرزادو کے نام“

زرار نے اپنے منفرد انداز تحریر میں کل 141 موضوعات پر قلم اٹھایا ہے (یہ تعداد صرف اس مجموعے میں شامل نگارشات کی ہے، جو ان کالمز کا انتخاب ہے، دراصل تو مصنف نے اس عنوان کے تحت 2009 ء تا تادم اشاعت کتاب اور بھی کئی موضوعات پر لکھا ہے ) ۔ ان کالمز میں ”اسکول آف تھاٹ“ ، ”اب میڈیا بھی عوام کا نہیں رہا“ ، ”عوام کی طاقت“ ، ”قومی جذبے کا تقاضا“ ، ”سندھ دوست اور عوام دوست اقتداری جماعت، کیسے ملے گی؟“ ، ”سندھ میں علامتی حکومت بنانے کی ضرورت“ ، ”سالگرہ کے دن ایک درخت لگانے کی فروغ پاتی ہوئی روایت“ ، ”لانگ مارچ کے لیے نکلنے والے دوستوں کو مشورہ: سندھی میں نام لکھنے والی مہم میں بھی ہاتھ جوڑ لیں“ ، ”حقائق جاننے کے لیے کیا اب سوشل میڈیا کی جانب دیکھنا پڑے گا“ ، ”سوشل میڈیا نے رحیم شاہ کے ساتھ زیادتی کو ہضم نہیں ہونے دیا“ ، ”گوٹھ بلھڑیجی میں واٹس ایپ گروپ کے ذریعے علمی، ادبی و ثقافتی سرگرمیاں“ ، ”بے رحم احتساب کی باتیں اور معروضی حقائق“ ، ”سچ بیشک بولیں، مگر سچ سننے کی بھی ہمت پیدا کریں“ ، ”آف دی ریکارڈ“ ، ”دریاؤں کا قانون“ ، ”2010 ء والے سیلاب کی انتظامی وجہ“ ، ”بگھلیار ڈیم پر پاکستان کا موقف، کالا باغ ڈیم کے خلاف سندھ کے موقف کی اخلاقی فتح ہے“ ، ”دریائے پاکستان کی تجویز“ ، ”پاکستان کے سیاسی کیلنڈر میں سارا سال اپریل فول ہوتا ہے“ ، ”آئیے!

ہم اہلیان سندھ بھی آج اپریل فول منائیں“ ، ”جی ایم سید کی 114 ویں سالگرہ میں شرکت کرنے والوں کے راستوں کی بندش کیوں! ؟“ ، ”سپوت بیٹے اور سپوت باپ کو خراج اور شاہ عبداللطیف بھٹائی سے تعزیت“ ، ”عطا محمد بھنبھرو کے ساتھ ان کے مشکل وقت میں معاونت کے اقدام کی ضرورت“ ، ”آزادی کی تحریکوں کو بھی دائرۂ آزادیٔ اظہار میں لایا جا سکتا ہے“ ، ”یہ بھٹ شاہ کا میلا لگا؟ یا نو گو ایریا؟“ ، ”کیا اب حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کا عرس مبارک، فقط سرکاری وزراء اور مشیروں کے لیے ہے؟

“ ، ”شاہ عبداللطیف بھٹائی کا منایا جانے والا یوم پیدائش“ ، ”بھٹ شاہ پر حج“ ، ”بھٹ شاہ پر صوفی یونیورسٹی“ ، ”مادری زبانوں کا عالمی دن اور ملکی اسٹیبلشمنٹ“ ، ”قومی زبان والے بل سے کن طاقتوں کو خوف ہے؟“ ، ”سندھ اسمبلی کے لیے سندھی میں ویب سائٹ کیوں نہیں ہے؟“ ، ”تاریخ نے تو شہید نذیر عباسی کا بدلا لے لیا ہے“ ، ”قائم علی شاہ صاحب! کامریڈ سوبھو گیانچندانی کی سمادھی کب بنے گی؟“ ، ”دریائے سندھ میں آنے والا انقلاب کامریڈ سوبھو گیانچندانی“ ، ”آئیں!

کامریڈ جام ساقی کی حیات کو سیلیبریٹ کریں“ ، ”زندہ شہید کا جنم دن“ ، ”آئیے! زندہ لیجینڈز کو یاد کرنے کی روایت قائم کریں“ ، ”حامد میر کے معجزانہ طور پر بچ جانے کا فائدہ“ ، ”عاصمہ جہانگیر کی رحلت کا زلزلہ“ ، ”اختر مینگل۔ زندہ باد“ ، ”کامریڈ تاج محمد ابڑو کے پارک کی مسماری اور تاریخ کے آگے جوابدہی“ ، ”دوہرے نظام کے خلاف ادیبوں اور دانشوروں کی غیر معمولی جدوجہد“ ، ”ذوالفقارآباد منصوبہ: سندھ کی قومپرست جماعتوں کا درست رخ میں اٹھتا قدم“ ، ”کراچی میں سندھیوں کے قدیم دیہات غیر قانونی کیوں؟

“ ، ”مائنس الطاف کے بعد اب مائینس ایم کیو ایم اتحاد“ ، ”ایم کیو ایم کی اصلیت“ ، ”فاشسٹ تنظیمیں اور میڈیا گردی“ ، ”نئے صوبے بنانے کی باتیں“ ، ”پی پی پی کا کراچی کی سرپرستی کرنے کا سنہرا موقع“ ، ”سندھی شاگرد تحریک کا ہر دن 4 مارچ ہے“ ، ”سندھ یونیورسٹی انتظامیہ شاہد مسعود نہ بنے!“ ، ”پی پی پی اور قوم پرستوں کا اتحاد کیونکر ممکن نہیں؟“ ، ”سندھ سے ہندوؤں کی ہجرت کو رکوانا چاہیے“ ، ”عالمی یوم ثقافت اور قومی تشخص کا سوال“ ، ”ثقافت کا سالانہ دن منانے پر ناخوش ہونے کا کوئی جواز نہیں“ ، ”فنڈز لیپس ہونے والا المیہ“ ، ”پھر یہ کرپشن کیسے ختم ہوگی؟

“ ، ”کاروکاری کی آڑ میں ہونے والی سماجی کرپشن“ ، ”اداروں کو آخر کیوں فروخت کیا جائے؟“ ، ”درست لوگ اداروں میں ہیں تو کام بھی ہو رہا ہے“ ، ”یہ دھرنے حکمرانوں یا عوام کے خلاف ہیں؟“ ، ”سڑک اور راستوں پر لگنے والے دھرنوں پر پابندی کی قرارداد“ ، ”حکومت کا کام سہولتیں دینا ہوتا ہے، چھیننا نہیں“ ، ”سندھ کے وزراء کہاں ہیں؟“ ، ”صاحبان اختیار کے کام دیکھیں!“ ، ”احتجاجوں پر برسنے والی لاٹھیاں“ ، ”لال شہباز قلندر کی درگاہ پر دھماکہ: کچھ سوالات، کچھ جوابات“ ، ”آمریت کے خلاف پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے دو مختلف دن“ ، ”اب تو پورا سال ہی بجٹ پیش ہوتا رہتا ہے“ ، ”بالآخر بلی تھیلے سے باہر آ گئی: افتخار چوہدری بھی سیاسی جماعت بنائیں گے!

“ ، ”بینظیر کے قاتلوں کو پکڑنا پی پی پی حکومت کے بس کی بات ہی نہیں!“ ، ”ڈان لیکس رپورٹ اور نواز شریف کی حکومت“ ، ”کیا نواز شریف قبل از میعاد وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کی ہیٹ ٹرک کریں گے؟“ ، ”اسامہ بن لادن کے ساتھ عوام کی لاتعلقی کیا ثابت کر رہی ہے؟“ ، ”آسیہ بی بی نے توہین رسالت نہیں کی۔ اس بات پر خوش ہونا چاہیے۔“ ، ”وکی لیکس کے چونکا دینے والے انکشافات“ ، ”جوتے لگنے کے واقعات“ ، ”وزیراعظم عمران خان، پھر سے پاکستان کو امریکا کے پاس پھنسا کے آئے ہیں۔

“ ، ”عمران خان کی حکومت ہی پارلیمانی نظام کو نہ مانے، تو پھر کیا رہ گیا!“ ، ”کیا سمندر سے واقعی بھی تیل کا ذخیرہ دریافت نہیں ہوا؟“ ، ”جیسے راشد خان، پاکستانی کرکٹرز کو نکال باہر کر رہا تھا، ویسے ہی حکومت، افغانیوں کو ملک سے نکال باہر کرے۔“ ، ”وزیراعظم عمران خان کی گری ہوئی زبان“ ، ”گو اسٹیبلشمنٹ گو!“ ، ”پھانسی کی سزا کے خلاف منایا جانے والا عالمی دن“ ، ”عالمی یوم انسداد خودکشی“ ، ”ویلینٹائن ڈے سے آخر ڈر کیوں رہے ہیں!

؟“ ، ”پیار کرنے والوں کو ’ویلینٹائن‘ کے ساتھ ساتھ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا بھی احسانمند ہونا چاہیے!“ ، ”نئے سال کا خیر مقدم کیسے کیا جائے!“ ، ”عالمی یوم انسانی حقوق“ ، ”عالمی یوم اطفال اور بڑوں کے جاہلانہ رویے“ ، ”13 فوٹ کا طویل القامت سندھی۔ جھامن بھیو“ ، ”ایمپریس مارکٹ کراچی کا پسمنظر“ ، ”فوج، اہلیان سندھ اور جنرل فلپ کی رائے“ ، ”متاروں کی قبریں“ ، ”امرجیل اور اقبال ترین کا مکالمہ“ ، ”بیدل مسرور پوچھ رہے ہیں، کہ وہ اپنی تخلیق شدہ دھنیں کہاں سنائیں؟

“ ، ”محمد علی پٹھان کے ادبی تجربے“ ، ”امداد حسینی کے لیے جو کچھ کرنا ہے، وہ آج ہی کریں۔“ ، ”سندھی ادبی سنگت کی سالگرہ کا دن، قومی دن کے طور پر منایا جانا چاہیے۔“ ، ”سندھی ادبی سنگت پر دنیا کو ہنسنے کا موقع نہ دیں! اس کی عظمت کے پرچم لہرائیں۔“ ، ”سندھی ادبی سنگت گلشن حدید کراچی کا فیمینیزم پر منعقدہ یادگار پروگرام“ ، ”حسن مجتبیٰ: ایک دیو مالائی قلمکار“ ، ”ذلتوں جیسے ایوارڈس سے بے اعزاز رہنا بہتر!

“ ، ”اچھا اب الوداع ہے!“ ، ”منیر احمد مانڑک کی برسی کون منائے گا؟“ ، ”قمر شہباز کا یوم پیدائش اور ان کے ادبی و فکری وراثت کو سنبھالنے کا سوال“ ، ”اسلم آزاد کی وفات“ ، ”سندھی صحافت کا ایک یادگار دور“ ، ”سندھی اخبارات میں نعشوں کی تصاویر چھاپنے کا رجحان“ ، ”ہم ’پریمی جوڑے‘ کی اصطلاح سے بھی چونکتے ہیں۔“ ، ”گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کا المیہ“ ، ”آثار قدیمہ کی جانب ہمارا غیر ذمہ دارانہ رویہ“ ، ”مہیں جو دڑو والے شہر کا اصل نام؟

“ ، ”مہیں جو دڑو سے بھی قبرستان مل سکتا ہے؟“ ، ”مہیں جو دڑو کے کھنڈر پر ہتھوڑوں اور بیلچوں سے ہونے والی دہشتگردی“ ، ”جاوید مہر کی بنائی ہوئی کتابی دنیا“ ، ”کتب اور مطالعے سے لاتعلقی کا بڑھتا ہوا خوفناک رجحان“ ، ”ہم تو مہدی حسن کے جسد خاکی تک کا احترام نہ کر سکے!“ ، ”گوٹھ صاحب خان جلالانی کی ملالہ کے ساتھ انصاف کون کرے گا! ؟“ ، ”رقص پر تالیاں بجانے کے جرم میں پانچ خواتین کو سزائے موت! ؟

“ ، ”روز ہونے والے جان لیوا حادثات“ ، ”اردشیر کاؤسجی: کراچی کے پارسی کلچر کا آخری کلاسیکل کردار“ ، ”مزدور رہنما گلاب پیرزادو کو خراج تحسین“ ، ”خالد مخدوم: سندھ کا رائے ڈیاچ (فن نواز بادشاہ)“ ، ”کیا ہمیں ترقی اور صحت بھی نہیں چاہیے! ؟“ ، ”احتیاطی تدابیر نہ بتائیے! مچھر مار اسپرے کروائیے!“ ، ”تھر کے موروں کے مرنے کا المیہ“ ، ”زور اسی بات پر کیوں ہے؟ کہ ’نمرتا‘ نے خودکشی کی ہے۔“ ، ”لاہور ہائی کورٹ کے مشرف کے خلاف بنے فل بینچ کو غیر قانونی قرار دینے والا فیصلہ“ ، ”جب لال لہو لہرائے گا، تب ہوش ٹھکانے آئے گا!“ وغیرہ جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔

منجانب شریک ناشر ادارہ، ”انور پیرزادو اکیڈمی“ ، نامور سندھی شاعر اور زرار کے برادر عزیز، امر پیرزادو نے دو صفحات پر مشتمل اپنی رائے میں، اس کتاب کی افادیت اور اس کی طباعت کی ضرورت کو قلمبند کیا ہے، جبکہ کتاب کے مصنف نے اپنی جانب سے، اس منفرد نوشت کے بارے میں، تین صفحات تحریر کیے ہیں، جبکہ سندھی کے معروف افسانہ نویس اور کالموں کے اس سلسلے کے روح آغاز (جن کے کہنے پر مصنف نے کالمز کا یہ سلسلہ لکھنا شروع کیا تھا۔ ) محمد علی پٹھان نے کتاب کی پشت (بیک ٹائٹل) کے لیے کتاب اور مصنف سے متعلق اپنی رائے لکھتے ہوئے کہا ہے :

” ’نوٹ کرنڑ جہڑیوں گالھیوں‘ (نوٹ کرنے جیسی باتیں ) کا یہ مستقل کالم، زرار پیرزادو صاحب سے میں نے لکھوایا۔ ان کے بابا اور مجھے میری جان کی طرح عزیز دوست انور پیرزادو صاحب نے اس دنیائے فانی کو چھوڑا، تو میں نے زرار سے کہا: ’کالم، مضامین اور خاکے تو بھرپور طریقے سے شاندار انداز میں لکھ رہے ہو، مگر اب اپنے بابا کی طرز پر‘ متاں وساریو ’(بھولیے گا مت! ) جیسے غیر معمولی کالم لکھنے پر بھی غور کرو!‘ اس نے کہا: ’یہ بہت مشکل کام ہے۔‘ تب میں نے بے حد پیار سے اسے یہ احساس دلایا کہ اس میں وہ صلاحیت اور ذہانت موجود ہے۔ بس قلم ہاتھ میں پکڑے۔ سفر کی تیاری کی دیر ہے۔“

زرار صاحب نے اپنی جانب سے تحریر شدہ کلمات میں سندھی صحافت میں مختصراً ’شارٹ کالم‘ (مختصر کالم) کی تاریخ بیان کی ہے اور اپنے ادارے روزنامہ ”عوامی آواز“ کو سراہا ہے، جس نے انہیں اظہار کی مکمل آزادی دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

”سندھی پریس میں ’شارٹ کالم‘ کے بانی شمشیرالحیدری صاحب ہیں، جنہوں نے 1986 ء میں روزنامہ ’ہلال پاکستان‘ میں ’متاں سوچیو!‘ (خبردار! جو سوچا! ) کے عنوان سے کالم لکھا۔ اس کے بعد بالترتیب، فقیر محمد لاشاری، انور پیرزادو، بدر ابڑو اور رحمت اللہ مانجوٹھی نے مختلف اخبارات میں شارٹ کالم لکھے، جبکہ سال 2009 ء سے میں نے یہ شارٹ کالم روزنامہ ’عوامی آواز‘ میں لکھنا شروع کیا، جو اب کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔

میں ’عوامی آواز میڈیا گروپ‘ کا شکر گزار ہوں، جس نے مجھے ادارے کے اندر مجھے اپنے گھر جیسا ماحول دیا ہے۔ جہاں، جس طرح میں نے اپنے گھر میں بات کی اور لکھا، ویسے ہی مجھے یہاں پر لکھنے کا بڑا آزادانہ موقع ملا اور مجھے اپنے بزرگوں کی ترقی پسند فکر اور نظریے کے ورثے کو آگے بڑھانے کا موقع ملتا رہا ہے۔ اسی ماحول کی وجہ سے میں نے اپنی تمام زندگی اسی ایک ہی اخبار میں کام کرنے کو اولیت دی، کیونکہ یہ اخباری کام میں کسی تنخواہ کی غرض سے یا ملازمت سمجھ کر نہیں کرتا، بلکہ انور پیرزادو کے صحافتی اور فکری ورثے کو جاری رکھنے کے مقصد کے طور پر کرتا ہوں۔“

”نوٹ کرنڑ جہڑیوں گالھیوں“ (نوٹ کرنے جیسی باتیں ) کتاب کو ’پیکاک پبلشرز‘ کراچی نے انور پیرزادو اکیڈمی کی معاونت سے، اسی برس ( 2020 ء میں ) طبع کیا ہے۔ یہ کتاب سندھ کے کم و بیش ہر اہم بک سٹال پر آسانی سے دستیاب ہے۔ 304 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 500 روپے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply