کوئی انڈین ایجنٹ، جو پاکستان میں نہ جانے کیسے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں فزکس کے پروفیسر بننے، مسلسل انڈین ایجنڈے کے مطابق، پاکستان کی ترقی کے حوالے سے فکرمند رہتا ہے۔ ان کے سائنسی خدمات اپنی جگہ، مگر پاکستان کے مختلف شعبوں پر اور خصوصاً تعلیم کے حوالے سے بہت سے تحقیقی کتابوں کے علاوہ کئی آرٹیکل لکھتے رہے ہیں۔ ایسے ایجنٹ پاکستان میں کم ہی نظر آتے ہیں اور پاکستان کے ریاستی اداروں کو ایسے ایجنٹوں سے محتاط رہنا چاہیے، جو پاکستان میں قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کی بالا دستی اورمعاشرتی مساوات کے علاوہ اسے تعلیم، سائنس اور دوسرے شعبوں میں ترقی یافتہ ممالک کے برابر دیکھنا چاہتے ہیں۔
یونیورسٹی میں پڑھاتے ہوئے، معقول سوچ کے حامی افراد پر مبنی معاشرہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کی سوچ کتنی غلط ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو بھی مساوی حقوق ملیں۔ یہ تو اچھا ہی ہوا کہ دیر سے سہی، مگر ہمارے ملک کے کرتا دھرتا ایسے لوگوں کو بڑی تیزی سے تعلیمی اداروں سے نکال رہے ہیں۔ ورنہ نجانے کتنے ایسے طالب علم پیدا ہوتے، جو ان کی نا معقول سوچ اور طرز فکر سے متاثر ہوتے۔
Read more