جہالت بمقابلہ جہالت

آج کل پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم سے وابستہ سیاسی جماعتوں کا مقابلہ ہے ہی، لیکن ایک لحاظ سے جہالت اور شخصیت پرستی کا بھی دور دورہ ہے۔ چاہے سیاسی کارکنوں کا تعلق پی ٹی آئی، پی پی پی یا نون لیگ سے ہو ہر ایک بحث و تمحیص کے لامتناہی سلسلے میں جھگڑے نظر آتے ہیں۔ نون لیگ، پی پی اور دوسرے جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ باوجود کئی دفعہ برسر اقتدار رہنے کے وہ عوام

Read more

پرویز ہود بھائی: ایک انڈین ایجنٹ جو پاکستان کی بھلائی سوچتا ہے

کوئی انڈین ایجنٹ، جو پاکستان میں نہ جانے کیسے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں فزکس کے پروفیسر بننے، مسلسل انڈین ایجنڈے کے مطابق، پاکستان کی ترقی کے حوالے سے فکرمند رہتا ہے۔ ان کے سائنسی خدمات اپنی جگہ، مگر پاکستان کے مختلف شعبوں پر اور خصوصاً تعلیم کے حوالے سے بہت سے تحقیقی کتابوں کے علاوہ کئی آرٹیکل لکھتے رہے ہیں۔ ایسے ایجنٹ پاکستان میں کم ہی نظر آتے ہیں اور پاکستان کے ریاستی اداروں کو ایسے ایجنٹوں سے محتاط رہنا چاہیے، جو پاکستان میں قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کی بالا دستی اورمعاشرتی مساوات کے علاوہ اسے تعلیم، سائنس اور دوسرے شعبوں میں ترقی یافتہ ممالک کے برابر دیکھنا چاہتے ہیں۔

یونیورسٹی میں پڑھاتے ہوئے، معقول سوچ کے حامی افراد پر مبنی معاشرہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کی سوچ کتنی غلط ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو بھی مساوی حقوق ملیں۔ یہ تو اچھا ہی ہوا کہ دیر سے سہی، مگر ہمارے ملک کے کرتا دھرتا ایسے لوگوں کو بڑی تیزی سے تعلیمی اداروں سے نکال رہے ہیں۔ ورنہ نجانے کتنے ایسے طالب علم پیدا ہوتے، جو ان کی نا معقول سوچ اور طرز فکر سے متاثر ہوتے۔

Read more

دیوانے کی دیوانگی

کسی شہر میں ایک دیوانہ ایک کاغذی دوربین سے آسمان کی طرف دیکھتا شور مچاتا، بھاگتا جا رہا تھا۔ وہ زور زور سے چلا چلا کر کہہ رہا تھا، مجھے دیوانوں اور جاہلوں سے دور لے جاؤ۔ دیوانے سے کسی شرارتی لڑکے نے پوچھا: جاہل کہاں ہیں اور جہالت کیا ہے؟ یہ سن کر دیوانہ رکا اور زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے کہنے لگا۔ جہل ایک شہر کا نام ہے اور جاہل اس کے مکین ہیں۔ ان کے یہ مکالمہ سن کر آس پاس کے لوگ جمع ہو گئے انھوں نے بھی خوب قہقہہ لگایا۔ رفتہ رفتہ ایک بہت بڑا ہجوم جمع ہوا اور وہ ان کی باتوں کا مذاق اڑانے لگے۔

Read more

رحمت للعالمین ﷺ کے پیروکار

کسی اچھے معلم کے سٹوڈنٹ یا پیروکار کیسے ہوں گے ؟ اچھے! یقیناً توقع تو یہی کی جاتی ہے اور کی جانی چاہیے کہ ان کے ساتھ وابستہ افراد کے سوچ اور عمل میں اس معلم کی کچھ نہ کچھ جھلک ہو۔ اور اگر ان افراد کے طرزعمل معقول نہیں ہوں گے تو اس استاد کے بارے میں شاید لوگ اچھے آراء قائم نہیں کریں گے۔ اگرچہ استاد کو کلی طور پر ان سے وابستہ لوگوں کے طرز عمل کا

Read more

مسخ شدہ تاریخ، مسخ شدہ قوم

تاریخ نویسی ہر دور میں مشکل کام رہا ہے اور رہے گا۔ اس کی وجہ مورخ کی وہ مجبوریاں یا لمٹیشنز ہیں کہ وہ جب بھی تاریخ لکھتا ہے تو اکثر اوقات ایسے واقعات کا تذکرہ کرتا ہے، جسے اس نے خود نہیں دیکھا۔ لہذا دوسروں کے فراہم کردہ معلومات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ایسے معلومات کی چھان بین کافی مشقت طلب کام ہے اور ہر کسی کے پاس معلومات کے حصول کے لیے ذرائع اور وسائل دستیاب نہیں

Read more

حسن صباح اور ڈاکٹر فرحان کامرانی کی روایتی تحقیق

یوں تو قرآن پاک اوراحادیث نیوی ﷺ میں باربار عقل کے استعمال، غور و فکر، علم، سوال اور تحقیق سے متعلق بہت سی ایسی ہدایات ہیں، جن پر اہل علم اور اہل تحقیق تواتر کے ساتھ لکھتے آئے ہیں اورلکھتے رہیں گے۔ اور تحقیق ایک ایسا کام ہے، جس میں بہت ہی زیادہ عرق ریزی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ قرآن پاک اور احادیث کی مذکورہ ہدایات کا نچوڑ تحقیق ہے۔

Read more

رکارڈ شدہ کیسٹ اورمسلم معاشرہ

زیادہ پرانی بات نہیں، تقریباً دو دہائی پہلے تک گانے سننے کے شوقین افراد کو اپنے ساتھ بڑے بڑے ٹیپ پلیئر اینڈ رکاڈر اور کیسٹس (ایک ڈسک نما کم گنجائش والا آلہ) کے ڈبے رکھتے، جس سے لوگ اپنی پسندیدہ گانوں کے ریکارڈیڈ کیسٹ ٹٹولتے اور کیسٹ پلئیر میں لگا کر سنتے، بعض لوگ جو ایک ہی گانے کو بار بار سننا پسند کرتے انھیں بار بار اس کیسٹ کو ریوائنڈ کرنا پڑتا تھا، اس دوران لوگ کافی دیر تک انتظار بھی کرتے تھے کہ کب کیسٹ مکمل طور پر ریوائینڈ ہو۔ اب زمانہ یکسر بدل چکا ہے صرف ایک ہی کلک پر بغیر انتظار کی زحمت کے فوراً جو رکارڈنگ چاہو تو وہ مختلف آلات کمپیوٹر، موبائل وغیرہ پر ہم بمع ویڈیو دیکھ اور سن سکتے ہیں۔

کیسٹ اور کیسٹ پلیئر کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں، صرف ایک صدی پہلے کی بات ہے۔ لیکن ہر معاشرے میں حرف بہ حرف مختلف سماجی اور تاریخی مواد کو رکارڈ شدہ مواد کی طرح لوگوں کو ازبر کروا کر اگلے نسلوں تک منتقل کرنے کی آرزو اور روایات بہت پرانی بات ہے۔ ان رکارڈیڈ مواد کے نسل در نسل منتقلی کے بہت سے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔

Read more

اجتماعی زندگی یا موت کا انتخاب

پچھلے دنوں پنجاب کے وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا وہ[پاکستانی] تو کوئی بات سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے، میں تو کہتی ہوں کہ شاید ہی کوئی قوم اتنی جاہل ہوگی جس طرح کے ہم لوگ ہیں۔

اس پر سوشل میڈیا میں کافی لے دے ہوئی۔ لیکن کیا یاسمین راشد نے کوئی انہونی بات کی ہے؟ پاکستان کی کون سی باتیں ہیں جنھیں آپ قابل فخرسمجھتے ہیں؟ قانون کی عملداری؟ تعلیم یا تحقیق کے میدان میں معرکہ آرائی؟ ٹیکنالوجی؟ جنڈراکویٹی؟ حقوق انسانی؟ معاشیات؟ خارجہ تعلقات؟ غرض کہ کوئی بھی میدان لے لیجیے اور خود ہی فیصلہ کیجیے کہ پاکستان کی تصویر کیسی لگ رہی ہے۔ اگربری نہیں تو قابل فخر بھی نہیں ہیں۔ اور ان تمام باتوں یامسائل کی جڑمعیاری تعلیم کا فقدان ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ عام تعلیم کے مواقع بھی کافی بڑی آبادی کے لیے 2020 میں بھی دستیاب نہیں۔ بڑے بڑے دانشور تسلسل کے ساتھ یہ بات کہتے آئے ہیں اور کہتے رہیں گے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے تعلیم کا کردار کلیدی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ 26 ستمبر1947 کو قائداعظم محمدعلی جناح نے فرمایا تھاکہ: تعلیم پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ دنیا اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ تعلیم میں ترقی کے بغیرنہ صرف ہم دوسروں سے پیچھے رہ جائیں گے بلکہ ہم صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔

Read more

تحقیق اور پاکستانی معاشرہ

انگریز کون؟ ہر کوئی جن کی رنگت گوری ہو۔ چاہے وہ فرانسیسی بولتے ہوں یا جرمن، ہسپانوی بولتے ہوں یا کوئی اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، چونکہ ان کی رنگت گوری ہیں لہذا وہ انگریز ہیں۔ اور انگریز سارے مکارہوتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ناخواندہ یا نیم خواندہ افراد کی جہاں بہتات ہوں وہاں ایسے ہی تصورات جنم لیتے ہیں، حتٰی کہ ”اگر انگریز اسلام سے متعلق ریسرچ کرتے ہیں توبھی وہ

Read more

سائنس، عقل اور اسلام

آج سے تقریباً ایک ہزار سال قبل فاطمی سلطنت اور دعوت سے وابستہ، ایک فارسی شاعر، سیاح اور فلسفی ناصر خسرو نے ایک انتہائی اہم پیش گوئی کی تھی۔ آپ نے کہا تھا کہ لوگ خلا میں جائیں گے اور اس سے بھی آگے جائیں گے۔ مثلاً ایک شعر میں آپ نے لکھا ہے کہ درخت تو گر بار دانش بگیرد بزیر آوری چرخ نیلوفری را یعنی اگرآپ کے علم کا درخت پھلدار ہوگا تو آپ اپنے علم سے آسمان

Read more