یہاں مذہب کی تلوار خوں کی پیاسی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا یہ بلاگ گزشتہ بلاگ ”مسجد سے مندر تک“ کے تسلسل کی ایک کڑی ہے جس میں کسی بھی ریاست کے قیام میں مذہب کے بیرونی و اندرونی محرکات اور اسلام آبد میں مندر کی تعمیرپر اٹھنے والی انگلیوں کا رخ انفرادی کردار کی طرف موڑا تھا۔ آج کا موضوع بحث بھی اسی کم تر سوچ کی نفی کا تسلسل ہے۔

حالیہ خبروں کے مطابق بظاہر انسانوں کی ریاست نظر آنے والی مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صوبے پنجاب کی اسمبلی نے حال ہی میں ایک تحفظ بنیاد اسلام بل منظور کیا گیا ہے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ اسلامی ریاست میں اسلام کو نا جانے کس سے عدم تحفظ کا شکوہ ہے۔

دوسری جانب پی سی ٹی بی نے صوبے بھر میں نجی اسکولوں کے ذریعہ پڑھائی جا رہی دس ہزارکتب کا باریک بینی سے جائزہ شروع کیا تھا اور پہلے مرحلے میں گستاخانہ، غیر اخلاقی اور ریاست مخالف جرم میں آکسفورڈ اور کیمبرج سمیت 31 پبلشروں کی 100 کتابوں پر پابندی عائد کردی تھی۔ میں یہ بات شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ نہ تو یہ ادارہ کسی کتاب کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے قابل ہے اور نہ ہی اس ادارے میں اتنے بڑے دانشور ہیں کہ آکسفورڈ اور کیمبرج کی کتابوں کے خلاف طبل جنگ بجا سکیں۔

تیسری چیز جس کا یہاں ذکر کرنا انتہائی اہم ہے وہ ہے پشاور میں ایک سابق احمدی کا قتل۔ اگر آپ مذہب کے نام اپنے ہاتھ پاکستان میں رہنے والے لوگوں کے خون سے رنگیں گے تو جناب یہاں کے سکول بند کر دیں ویسے بھی تہتر سالہ تاریخ میں ہم نے صرف مذہبی شدت پسندی اور فرقہ واریت کو ہی پرواں چڑھایا ہے یا پھر ایسا کریں کہ سب کے ہاتھ میں ایک ایک تلوار پکڑا دیں اور جس نے پہلے دوسرے کا سر تن سے جدا کیا وہ حق باقی باطل۔ یہاں سب کو ممتاز قادری جیسا شدت پسند بنادیں تاکہ پاکستان کے نالوں میں بس خوں بہے۔

مجھے بچپن سے بتایا گیا کہ پاکستان کا مطلب کیا ”لا الہ اللہ“ یہ نعرہ پاکستان بننے کے بعد لگایا گیا اس سے قبل دنیا کی کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا اور اگر ہم نے پاکستان کے مطلب کو صرف لا الہ اللہ تک محدود کرنا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بس مسلمانوں کا ملک ہے جبکہ پاکستان کی بقا ایک سیکولر ریاست کے قیام میں ہے۔ پھر ایک جھوٹ عام ہے کہ پاکستان کے قیام میں مسلمانوں نے بڑی قربانیاں دی تو جناب وہ قربانیاں نہں فسادات تھے تاریخ نے واضح کیا۔

ہندو پنجاب میں کم تعداد میں تھے اس لیے وہ مسلمانوں ک نسبت کم مرے یہ بات خوشونت سنگھ کے ناول میں لکھی گئی کہ جب سکھ ننکانہ صاحب کو چھوڑ کرجانے پر آمادہ نہں تھے تو مسلمانوں نے انہں کیسے ان کی چار دیواری میں قتل کیا۔ سب سے عام بات جو سکھائی جاتی ہے کہ ہندو سے نفرت کرو کیونکہ انہوں نے مسلمانوں پر ظلم ڈھائے تو جناب پانچ سو سال سے زائد تو برصغیر پر مسلمانوں کی حکومت تھی تو ہندؤں نے کہاں سے ظلم وستم کر دیا؟ اس میں کوئی نہیں کہ آج بھی ہم مذہب کے اختلاف پر قتل و غارت کر رہے ہیں اور پہلے بھی کرتے آئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply