عید قرباں :عزت مجبور کو قربان تو نہ کیجیے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید نام ہے خوشی کا عید قربانی ہر سال آتی اور گزر جاتی رہے گی جس کو خدا نے تو فیق دی ہے وہ قربانیاں کرے گا اور اس کے عزیز و اقارب، قریبی دوست احباب بھی خوشیاں منائیں گے گلے ملیں گے حتیٰ کہ گلے شکوؤں کے باوجود مسرتوں کا اظہار کریں گے۔ چونکہ مہنگائی کا اژ دھا پسے ہوئے طبقات کے لوگوں کو براہ راست نہیں نگل رہا بلکہ دھیرے دھیرے غرباء کو خود کشیوں اور خود سوزیوں پر مجبور کیے جا رہا ہے۔

وہ عید کی خوشیاں سب مسلمانوں کے لیے اہم ہوتی ہیں۔ ایک مسلمان کی عید احکام الہٰیہ کے ماتحت اور اس کی خوشیاں رضائے الہٰی کے تابع ہوتی ہیں اس کا ہر فعل اپنے رب کی خوشنودی کے لئے ہوتا ہے اور اس کا جشن طرب روحانیت کی تکمیل اور سعادت دارین کے حصول کے لئے ہوتا ہے ایک مسلمان مومن صادق کی سچی خوشی اور حقیقی نشاط کا راز اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنا تن من دھن سب کچھ اپنے آقا و مولا کے سپرد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”میری نماز، میری عبادات، میرا جینا، میرا مرنا اس رب العلمین کے لئے ہے جس کا کوئی شریک نہیں“ یہ حقیقت ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔ عید قربان اس احساس کا نا م ہے جن کے گھر سال ہا سال گوشت کی گنجائش نہیں، وہ اس دن کے منتظر ہوتے ہیں، لیکن ہمیں سب جگہیں تو یاد ہوتی ہیں، ماسوائے غریب کے۔

اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ عید منانا اور جشن و طرب کے ایام مقرر کرنا فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہے تم عید مناؤ، خوشی و مسرت، فرح و سرور کا اظہار کرو، مگر جشن و نشاط میں اپنی مستحقین کو فراموش مت کرو، اپنے حقوق و فرائض سے غافل نہ ہوجاؤ اور اپنے خالق کو مت بھول جاؤ۔ اور جو احکامات بتائے گے ان کے مطابق عمل کرو۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے پیکر تسلیم و رضا بن کر اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے جو قربانی دی تھی اس سلسلے کو جاری رکھا جائے اور تمام دینوی حرص و لالچ، جاہ و منصب اور دولت و ثروت کے بتوں کو مثل خلیل توڑ دیا جائے۔

قربانی کا یہ عمل رب العزت کو بہت پسند ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ قربانی کرنے والے کو بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”جو شخص قربانی کے دن اپنی قربانی کے پاس جاتا ہے اور اسے اللہ کی راہ میں قربان کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بہشت کے قریب کر دیتا ہے، جب قربانی کے خون کا پہلا قطرہ گرتا ہے تو قربانی کرنے والا بخش دیا جاتا ہے، قیامت میں یہی قربانی اس کی سواری ہوتی ہے، جانور کے بال اور پشم کے برابر اسے نیکیاں ملتی ہیں“ ایک اور موقعے پر آنحضور صلی ا؟ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”قربانی دو اور خوشی خوشی دو، جو شخص جانور کا منہ قبلے کی طرف کر کے قربانی دے اس قربانی کے تمام بال اور خون کے سب قطرے قیامت کے دن تک محفوظ رکھے جائیں گے“

اسلام میں قربانی کو عظیم عمل قرار دیے جانے کے بعد یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صاحب ثروت افراد میں غربا مسکین ناداروں کا حق رکھا ہے ہم میں سے کتنے ہی ایسے افراد بھی ہیں جن کی پاس اتنی ہمت نہیں کہ وہ سال میں ایک دفعہ بھی گوشت کھا سکیں، ان کے بلبلاتے بچے ہماری قربانی کے منتظر ہیں اگر پڑوس میں غریب کے بچے بھوکے ہیں ان کی ترستی آنکھیں آنسو سے تر ہیں، اور ہماری فریج میں جگہ کم ہے تو یقین کیجیے ہمیں قربانی کی روح سمجھ نہیں آئی بہت سے غریب خوددار ہوتے وہ بچوں کے سوال پر ”ہمیں گوشت کیوں نہیں ملا“ پر رو تو جاتے ہیں پھر دست سوال نہیں داراز کرتے ان کا مدعا یہی ہوتا کہ ”نہ دیکھا تو درد دنیا کو میرا“

عید الاضحیٰ تمام مسلمانوں کے لیے خوشی و مسرت اور ذخیرہ آخرت جمع کرنے کا شاندار موقع ہے، اس لیے تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ عید کی نماز ادا کریں اور جو لوگ صاحب استطاعت ہیں وہ قربانی کریں، قربانی کیے ہوئے جانوروں کا گوشت وہ خود بھی کھائیں، اپنے اعزہ و اقارب اور احباب کو بھی کھلائیں، ساتھ ہی اس موقع پر غریبوں کا خیال رکھیں، کیونکہ یہ عید ان کے لیے بھی ہے۔ اگر استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے وہ قربانی کرنے یا قربانی کے گوشت سے محروم رہ جائیں گے تو انھیں اس بات کا احساس ہو سکتا ہے، چنانچہ ایسے لوگوں کا پورا دھیان رکھنا چاہیے جو اپنی غربت کی وجہ سے قربانی نہ کر سکیں۔

جو لوگ قربانی کریں وہ اس بات کو ضرور ملحوظ رکھیں کہ کہیں ان کے پڑوسی یا احباب و رشتے دار قربانی نہ کرنے کی وجہ سے قربانی کے گوشت سے محروم تو نہیں رہ جائیں گے۔ اگر کہیں اس طرح کی صورتحال پائی جائے تو اس کا پورا خیال رکھیں، ایسا کرنے سے محلہ اور بستی کے سبھی لوگ یکساں طور پر عید منا سکیں گے۔ شہروں میں صاحب حیثیت لوگوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے اگر وہ کوئی ایسا انتظام کرنا چاہیں کہ کم از کم عید کے دن ہر جگہ مسلمان قربانی کے گوشت سے محظوظ ہو سکیں تو ایسا کیا جا سکتا ہے۔

عید قربان کے موقعے پر اس بات کا بھی پورا خیال رکھنا چاہیے کہ قربانی کے گوشت کی ناقدری نہ ہو، ان مقامات پر جہاں صاحب ثروت لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، وہاں عام طور سے گوشت کی ناقدری دکھائی دیتی ہے۔

اگر پاکستان میں ایسے علاقوں کو تلاش کیا جائے تو اس کی ایک طویل فہرست تیار ہو سکتی ہے جہاں پورے گاؤں میں ایک دو جانور ہی کی قربانی ہوتی ہے یا وہ بھی نہیں ہوتی، اگر ایک سے زیادہ جانوروں کی قربانی کرنے والے لوگ ان علاقوں میں پہنچا دیں تو انھیں قربانی کا ثواب تو ملے گا ہی ساتھ ہی ان کے قربانی کے جانوروں کا گوشت بھی ضائع نہیں ہو گا اور غریب و نادار لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ بعض لوگ ایسے مقامات یا آبادیوں میں رہتے ہیں جہاں قربانی کے لیے کوئی اطمینان بخش جگہ نہیں ہے، وہ قربانی کرنے میں خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اس خطرے کی وجہ سے قربانی نہیں کرتے، انھیں چاہیے کہ وہ اس خطرے کی وجہ سے قربانی کو موقوف نہ کریں بلکہ وہ ان علاقوں میں قربانی کا انتظام کر سکتے ہیں جہاں کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور جہاں ان کے قربانی کے جانوروں کا گوشت قدر کے ساتھ مسلمان بھائی استعمال کر سکیں۔

عید الاضحی کے موقعے پر صفائی ستھرائی پر بھی خاص دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ گوشت، ہڈیاں یا دیگر آلائشات راستوں، نالوں اور سڑکوں پر نہ پھینکیں۔ عید کے دن چونکہ بعض علاقوں میں گوشت کی بہتات ہوتی ہے اس لیے ذرا سی لاپرواہی سے گندگی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کا ایک نقصان تو یہ ہے کہ اس سے طرح طرح کی بیماریاں و تعفن پھیلنے کا اندیشہ رہتا ہے، اور خصوصاً ان ایام میں کورونا کے پھیلاؤ کے زیادہ خطرات موجود ہیں، احتیاط کیجیے! اگر اللہ نے توفیق دی ہے کسی سفید پوش کی مدد کی تو خدا راہ! ان کی عزت نفس نہ مجروح کیجیے ”یوں مدد کرتے ہوئے اعلان تو نہ کیجیے عزت مجبور کو قربان تو نہ کیجیے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply