سچل سر مست سائیں خیر پور بھٹو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پودا لگائیں تو پھل، سایہ، بیج، لکڑی اور کوئلے سے لے کر ہیر ے تک حاصل ہوتا ہے ؛ پودا علم کا ہو یا کسی بھی قسم کا ہو اس کی نمو اور ہیروں کی پہچان کے تمام مراحل اگر عالم کے ہاتھوں سے گزریں تو پھر یہ سلسلۂ علم اور وسیلۂ ملاقات دراصل نوید چشمۂ حیات بنتا ہے۔ منزل مراد تک پہنچنے کی کوششوں میں اگر علم ہی وسیلۂ محبت بنے تو پہاڑ، دریا، سمندر اور کسی بھی قسم کی روکاوٹیں علم کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے چھپے خزانوں کو منظر عام پر آنے سے روک نہیں سکتیں۔ اس کے با وصف یہ نا ختم ہونے والے راستے مستقل ہو جاتے ہیں۔

2017 کے شروع ہوتے ہی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کابلاوا مجھے خیر پور شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف خشک کی جانب سے موصول ہوا۔ ان کی اہلیہ ڈاکٹرصوفیہ خشک اور ان سے پہلی ملاقات دو برس قبل استنبول ترکی میں اردو کی صد سالہ ایک عالمی کا نفرنس کے پہلے سیشن میں ہوئی تھی۔ پہلی نظر میں ہی سندھ کے شہر خیر پور سے آیا یہ نہایت پیارا جوڑا آنکھوں کو بھا گیا۔ ان دونوں کی شخصیت میں ایک منفرد کشش کے ساتھ ساتھ متانت اور بردباری نظر آئی۔ جوں جوں قریب آتے گئے محبتوں میں اضافے ہونے لگے، یہ دونوں علم کے دیوانے اس عطا کو ایک سب میں تقسیم کرنے اور رابطے کے سفیر بنتے ہوئے نظر آئے۔ ان دونوں کو مل کر یقین ہوگیا کہ سچل کے شہر والے سر مست بھی ہیں اور امین ٹھہرے ہیں علم کے ذخیروں کے۔

صوفی سچل سر مست، جن کا اصلی نام عبدل وہاب بن صلاح الدین 1739 میں ضلعہ خیر پور میرس کے گاؤں دراز میں پیدا ہوئے۔ ایک ایسا راست گو صوفی شاعر جس نے سندھی زبان کے لفظ سچالو کے معنی کو پنی زندگی پر نافذ کر لیا۔

سچل سر مست ایک ایسا ہفت زبان شاعر جس کے ہاں رواداری، بھائی چارے کی منفرد مثال ملتی ہے۔ سندھ کی زمین سے جڑا ہوا شاعر جب سرائیکی، عربی، سندھی، پنجابی، اردو، فارسی اور بلوچی زبانوں میں شاعری کرتا ہے تو وہ دراصل اپنی ذہنی فکر کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ زمین کے تمام خطوں کو آپس میں یوں متصل ”connected“ سمجھتے جیسے سب کا آسمان ایک ہے۔ اسی طرح زمین اور اس پر پائے جانے والے تمام بشر، رنگ و نسل، مذہب و دھرم سے بڑھ کر انسانیت جیسی نفیس قدروں کے پیمانوں پر شناخت کرواتے ہیں۔

روحانی سفر پر چلتے چلتے روح کی منزل تک پہنچنے کے آسان قوانین کو اپنایا۔ وہ کہتے کہ بین المذاہب اور ہم آہنگی کا فروغ تصوف سے ممکن ہے، یعنی معاشروں کی ترتیب اگر ”سچ“ کی بنیادوں پر ہو تو ہمارے اندر رواداری اور انسانی حقوق میں متوازی رویوں کی ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ آج کے عالمگیری حوالوں پر اگر غور کیا جائے تو ”روحانی معالج صوفی“ دراصل سائنسی بنیادوں پر تصوف کی بنیاد رکھتا ہے۔ وہ آج کی اس AI کی اطلاع اپنے کشف اور مابعدالطبیعاتی رنگ میں دیتے ہیں۔

سچل سر مست جہاں پر انسانوں کے درمیان شفقت، محبت اور ایثار کی بات کرتے ہیں وہاں پر خدا کی ذات سے رابطے اور رحمت کا واحد حل ”روح بشر“ سے ”روح مطلق“ کی پرواز کے تعلق کو وحدت الوجود کے نظریے کو مرکز بناتے ہیں۔ ان کی شاعری میں رب باری تعالی کے ساتھ ساتھ محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ وسلم کے عشق کی نمایاں جھلکیاں ہیں مگر فیض بخش حق یہ ہی ہے کی دنیا کے تمام انسانوں کو ان کے مادی رتبوں سے مبرا ہو کر ملیں۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی کی وفات کے وقت سچل کی عمر 14 برس تھی۔ وہ ان سے بے حد متاثر تھے۔ سچل کی سوچ نے سندھی ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔ وہ اس لئے کہ سچل نے استعماری زمانے میں آنکھ کھولی۔ ان کے صوفی دل پر اپنے زمانے کے ماحول کے اثرات تھے جن میں نادر شاہ سے لے کرا حمد شاہ ابدالی اور پھر انگریزوں کی حکومت کے جنگ وجدل کی لمبی داستانیں موجود ہیں۔

بلاشبہ سچل سر مست کی شاعری میں موجودہ دور کی انسانی مشکلات کا حل موجود ہے جس کی بنیادانسان کی بنیادی اکائی انسانیت پر ہے۔ وہ اس لئے کہ قدرت آفاقی (عالمگیری ) حیثیت اتنی مضبوط ہے کہ اس کے سامنے باقی تمام ذریعے ماند پڑتے نظر آتے ہیں۔

سچل سر مست کا شہر خیر پور ایک زمانے میں ریاست خیر پور کا صدر مقام تھا۔ 1783 میں اس کی بنیاد میر سہراب خان تالپور نے رکھی تھی۔ قیام پاکستان کے چند برسوں بعد 1955 میں اسے پاکستان میں شامل کر دیا گیا۔ روحانی سلسلوں کی اس فضا میں ”ادب اور ماحولیاتی مسائل“ کانفرنس کے دوران مجھے اپنے بے شمار پرانے لکھاری دوستوں اور دانشوروں سے ملنے کا اتفاق ہوا، جن میں ڈاکٹر تھامس اسٹیمر، ڈاکٹر آرزو، ستہ پال آنند، ڈاکٹر وفا یزداں، ابرا ہیم محمد ابرا ہیم، ڈاکٹر شبلی اسامہ، ڈاکٹر ہینز ورنر ویسلر، یشب تمنا، ڈاکٹر لڈملا کے علاوہ سیدہ حنا، ڈاکٹر نبیلہ رحمان، ریحانہ قمر، ڈاکٹر عظمی سلیم، رخسانہ بلوچ، شائستہ نزہت صدف مرزا، ڈاکٹر شیر علی، اعظم کمال، قاضی عبدالرحمن، اور بے شمار ادب کے نامور لکھاریوں کے نام شامل ہیں۔

دنیا کے بدلتے ماحول کے ادب پر اثرات کو سمجھنا اس قدر آسان نہیں ؛ یہ بات سب کی سمجھ میں آ رہی تھی مگر اصل مسئلہ یہ بھی تھا کہ کروٹ لیتے ہوئے اس زمانے میں ادب کا روپ کہیں بہروپ بن کر ظاہر نا ہونے لگے۔ میں نے اپنے مقالے کے لئے انیسویں صدی کے انگریزی زبان کے صفحہ اول کے ماحولیاتی شاعر ”جان کلیر“ کا انتخاب کیا۔ ادیب اور بالخصوص شاعر اپنے باطنی اور بیرونی ماحول سے اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا؛ وہ قدرت کی نحیف عطاؤں اور ان کی بدلتی صورتوں کو محسوس کرتا ہوا اپنے قلم سے احتجاج اور اظہار کرتا ہے۔ فطرت سے جڑے ہوئے اس شاعر نے پانی کے نحیف قطروں کے گرنے کی آوازوں کو اپنے اندر محسوس کیا۔ اس کے علاوہ کھیت کھلیانوں اور فصلوں میں حشرات، چرند، پرند اور دیگر کے حملے یا تعلق بھی دراصل ایک نقطے، ایک ذرے اور ایک مظہر کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اب ہمارے میزبان ڈاکٹر یوسف خشک اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر صوفیہ نے اپنے مہمانوں کے لیے سندھ کے ماحول کی سیروسیاحت کا پروگرام بنایا۔ قلعہ رینی کوٹ جامشورو پر ہمارا پہلا پر آؤ تھا، 32 کلو میٹر کے اس رقبے کے اندر اور ملحقہ بھی چند قلعے موجود ہیں۔ یہ قلعہ قدیم انسانوں کے جدید علم کی نشانی ہے۔

ہم اپنی اگلی منزل آستانائے سچل سر مست کی طرف روانہ ہوئے۔ ایک پر رونق بازار سے گزر کر مزار سچل سر مست پہ پہنچے۔ چند سیڑھیاں چڑھ کر ایک کشادہ مزار کا احاطہ جس کے بایئں جانب مزار کا دروازہ اور باہر ایک کونے میں کتابوں کا سٹال اور چند قبریں بھی موجود تھیں ؛ درخت کے سائے میں سائیں کے چاہنے والے ان کا کلام ڈفلی، ہارمونیم اور ڈھولک کی تھاپ کے سروں میں گا رہے تھے۔ سبز گنبد کے مزار پر حاضری اور دعا کے بعد ہماری خوش بختی کچھ زیادہ ہی چمک پڑی۔

دنیا کی تقریباً 5000 سال پرانی تہذیب کے آثار قدیمہ موہنجودرڑو کو دیکھنے کا موقع میسر ہوا۔ 1912 میں آر بھنڈر نامی شخص نے اس کا کھوج لگایا اور 1922 تک برطانوی آثار قدیمہ کی ماہرین نے سندھ کی وادی کے اہم مرکز کو مکمل دریافت کر لیا۔ ڈانسنگ گرل سے لے کر شہر کی بناوٹ اور ترتیب سے اس زمانے کے انسانوں کے رہن سہن، ضروریات اور فکر کا اندازہ یہ ہی لگا کہ یہ لوگ زندگی کے لطیف احساسات کے ساتھ ساتھ علم کی دولت سے مالا مال تھے۔ قدیم دور کا علم کیا آج کے جدید انسان کے علم سے مختلف ہے؟ یہ سوال میرے ذہن میں گھومنے لگا اور ہم اپنی اگلی منزل لاڑکانہ کی طرف روانہ ہوئے جو ادھر سے صرف بیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

لاڑکانہ کا نام ذہن میں بہت عقیدت اور ایک ولولہ انگیز جذبوں کے امتزاج سے ابھرتا ہے۔ یہ شہر جو ایک ضلع بھی ہے اس کی وجہ شہرت یقیناً مایہ ناز سیاستدان ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے خاندان کی نسبت ہے۔ جدھر بی بی بے نظیر بھٹو جیسی بہادر خاتون جنم لیتی ہے۔ یہ دونوں قابل قدر ہستیاں تاریخ کے اوراق میں بہادری، سیاست اور پاکستان کے نام کے ساتھ سنہری حروف میں لکھی جائیں گی۔ 4 اپریل کو بھٹو کو نہیں ان کے عوامی منشور کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا۔ اکتالیس برس بیت جانے کے بعد بھی میرے اس غم کا پیمانہ کم نہیں ہوا۔ بی بی بے نظیر اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاسی بصیرت کو ہر ممکن انداز میں استعمال کر رہی تھیں مگر سامراجی قوتوں کو بی بی کی آواز حق وجمہوریت کو ان کے والد کی طرح جبرا بند کرنا پڑی۔

ادھر محبت اپنے اگلے درجے عشق میں منتقل ہونے لگی؛ وہ اس طرح کہ میری دیرینہ خواہشوں میں ایک خواہش آج پوری ہونے کا وقت قریب سے قریب تر آنے لگا۔ سو ہم ڈھلتے سورج کے ساتھ بادشاہوں کی آخری آرام گاہ گڑھی خدا بخش نوڈیرو حاضر ہو گئے۔ بہت بڑے صحن کے آگے سنگ مر مر کا گنبد عوام کے لیڈر کی بہادری کا تمغہ سجا کر کھڑا تھا۔

اندر نا حفاظتی گارڈ نا ہمارے رستے روکنے والے کارندے کھڑے تھے۔ بس ایک محل نما میں دربار سجا تھا۔ خوشبو اور رنگوں کے اس موسم میں ان کی شناخت ہمارے ذہنوں میں جلترنگ کے ساز بجانے لگی۔ چاروں سمت میں دربار کی نشستیں زمین کے اندر لگی تھیں۔ بادشاہ سلامت اپنی مرکزی مسند پر تشریف رکھتے تھے جبکہ ان کی اہلیہ ان کے دائیں جانب اور ان کی بیٹی بی بی صاحبہ سرہانے کی جانب اور ذرا فاصلے پر، ؛دونوں جان سے پیارے شہزادوں کی آخری آرام گاہ تھی۔ دیگر شاہی خاندان کے لوگ بھی اپنی اپنی خاک کے سپرد آرام وسکون سے سو رہے تھے۔ اس دن میں نے بادشاہوں کے تاج خاکی انسان کی معراج پر سجے دیکھے۔

اگلے روز سب اپنے اپنے سفر کو جاری رکھتے ہوئے اپنی اپنی منزل کی طرف واپس لوٹنے لگے۔ اس لمحے جب ٹرین کے انتظار میں ہم سفر دانشوروں کا ٹولہ روہڑی کے اسٹیشن پر بیٹھا تھا تو میرے اندر علم کے ایک نئے چہرے نے جنم لیا۔ میں نے اپنی اندرونی محدود کائنات کو ایک لمحے کے لئے لا محدود ہوتے دیکھا۔ جس میں علم کی قوس قزح کے مختلف رنگ رحمت کی بارش میں بھیگ رہے تھے۔ مجھے معلوم ہونے لگا کیونکرعلم، حق کی بات کرنے پر مامور ہے مجبور ہے اور عالم اس جرات کو گویائی بخشتا ہے۔ خیر پور کے اس سفر میں یوسف خشک اور صوفیہ یوسف نے علم کی شمع جلائی، جس کی روشنی میں سچل صوفی کی گردش میں بقائے ذرات کی صورت امکان کے تیقن کا چہرہ دیکھا، موہنجوداڑو کے قدیم انسان کے جدید علوم کا مظہر دیکھا، جان کلیئر کا فطرت سے عملی انطباق کا ثبوت دیکھا اور ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت کو سربراہ مملکت کے منصب پر عملی صورت میں دیکھا۔ علم کے مطلب جاننے کی تفہیم سے ہم واقف ہیں؛ مگر کیا اور کیسے جاننا مختلف ہو سکتا ہے۔ مگر بندہ انسان ظاہر سے غائب کو علم سمجھتا ہے اور یقیناً وہ ہوتا بھی علم ہے۔ باشاہ اپنے محل میں بیٹھا بیٹھا، فقیر دامن کے بنا اپنے دل سے بولتا ہے، شاعر اور ادیب فطرت کے ذرے ذرے کے حسن میں کشف جمال و خیال ڈھونڈتا ہے، سائنسدان ذروں کو توڑ کر طاقت کے سرچشمے تلاش کرتا ہے ؛ مندرجہ بالا تمام دعوت خیال کے ادارے ذرے کو بنانے والے کی طاقت کے پیمانے کو جاننا چاہتے ہیں تب ہی تو جان کلیر، سچل، بھٹو، موہنجو دڑو کا قدیم انسان یا خیر بانٹے والا ہر شخص علم کا متلاشی ہے تو سمجھو وہ خدا کا متلاشی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *