سلطان جمیل نسیم: آج پیڑ پہ چڑیاں نہیں ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


نہ جانے کیوں میں ڈر سا گیا تھا۔

بظاہر ڈرنے کی کوئی خاص وجہ تو نہیں تھی مگر مجھے یا د ہے میں ڈر گیا تھا۔ کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا۔ شاید کچھ بھی وقت نہیں گزرا کیوں کہ وقت گزرنے کا احسا س تو کسی نئی سحر سے ہوتا ہے، کسی نئے خواب سے ہوتا ہے، کسی نئے خیال سے ہوتا ہے اور کچھ نہیں تو کسی نئے خوف سے ہوتا ہے۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا نہ کوئی نئی سحر نہ ہی خواب نہ کوئی نیا خیال اور نہ ہی خوف۔ بس ایک جمود اور کچھ بھی نہیں۔ مگر یہ جمو د تو شاید میرے ڈر سے بھی پہلے کا تھا۔ ہاں بس احساس کچھ نیا تھا اسی لیے شاید میں ڈر گیا تھا۔ ۔ ۔ یہ جمود تو اب بھی ہے بس فرق یہ ہے کہ اس میں سے اب ڈر نکل گیا ہے اور دکھ یہ ہے کہ حیرانی بھی نکل گئی ہے۔ حیرانی رہتی تو شاید امید رہ جاتی۔

میں نے کہا نہ اس بات کو زیادہ وقت نہیں گزرا یہی کوئی بیس با ئیس برس پرانی بات تو ہے۔ میری مسیں دھیمے دھیمے بھیگنے شروع ہوئی تھیں۔ چال میں ابھی جوانی کا غرور پوری طرح شامل بھی نہیں ہوا تھا اور تو اور ابھی تو میرے خوابوں کی رانی رادھا بن کر مجھ کرشن کی بانسری کی دھن پرناچی بھی نہ تھی کہ اچانک ایک بے رونق صبح مذہبی اور نسلی عصبیت کی وحشت ایک دوسرے سے دست وگریبا ں ہوگئی اور میں سہمی ہوئی نظروں سے ڈاؤمیڈیکل کالج کے احاطوں میں اسلامی جمعیت طلبہ، مہاجر اسٹوڈنٹ ار گنایزیشن اور پنجابی و پختون ا رگنایزیشن سے وابستہ اپنے دوستوں کو بے رحمی کے ساتھ ایک دوسرے کے خون سے ہولی کھیلتا دیکھ رہا تھا۔ وہ وحشتناک جنگلی جانوروں کا روپ دھار کر ایک دوسرے کی بو ٹیاں نوچ رہے تھے۔ وہ جن کے ایک ہاتھ میں ا سٹیتو اسکوپ تھا اور دوسرے ہاتھ میں کلاشنکوف۔ وہ جن کی زبانیں ابھی انسانی جانیں بچانے کی قسموں اور وعدوں سے پوری طرح خشک بھی نہیں ہوئی تھی۔ وہ انسانی خون سے تر ہو رہی تھیں۔

میں شاید اسی لیے ڈر گیا تھا اور اپنے ہاتھ اور زبان کو کسی نابینا کی طرح اندر ہی اندر ٹٹول رہا تھا۔

اسی دن پہلی بار میری سلطان جمیل نسیم سے واقفیت ہوئی تھی اور ’ان کا افسانہ‘ تیز ہوا کے بعد ”پڑھ کر میرے اند ر ایک کربناک ویرانگی سی پھیل گئی تھی۔ شاید اس دن مجھ پر پہلی بار یہ انکشاف ہوا تھا کہ سکون و شانتی کی ساری ہی چڑیائیں مجھ میں سے اڑ گئیں ہیں۔

میرا ڈر جس اندیشے کے ساتھ پیدا ہوا تھا وہ چھوٹا سا عفریت کسی بھیانک بلا کی شکل میں آج مجھے اپنے پورے گھر میں نظر آتا ہے۔

کہانیاں۔ میرے ارد گرد تھیں، کہانیاں میرے اندر تھیں، کہانیاں میرے باہر تھیں اور کہانیاں مجھ سے پھوٹ رہی تھیں۔ اس بیس اکیس برس کے طویل عرصے میں کہانیاں چاروں ا طراف سے میرے اردگر د مکڑی کے جالوں کی طرح اپنے شکنجوں میں مجھے جکڑ رہی تھیں۔

کہانیاں۔ جو سیدھے رخ کے ساتھ الٹے رخ سے پڑھی جاتی ہو، کہانیاں جو کنول کے پھولوں کے پیچھے دلدل کی تہیں چھپائے ہوئی ہو، کہانیاں جو لفظوں کی ترتیب کو دماغ کی اگلی پرتوں پر معنوں کے چاروں ڈایمینشن کے ساتھ منکشف کررہی ہو۔ ۔ ۔ سلطان جمیل نسیم کی ایسی ہی کہانیوں میں سے ایک اور کہانی ”انکشاف“ مجھے ان سے دوبارہ ملانے اس اندھیری کو ٹھری میں لے گئی تھی جہاں میری ملاقات ان کے بجائے خود اپنے آپ سے ہوئی تھی۔

میں جو کچھ عرصے قبل اپنے ارد گرد خون کی ہولی دیکھ کر خود سے ڈر گیا تھا اچانک ہی پوری طاقت سے چیخ چیخ کر کہنے لگا تھا۔

”نہیں میں نہیں مرا۔ ۔ ۔ میں ابھی زندہ ہوں“
یہ ”انکشاف“ مجھے اپنے تمام ڈر کے ساتھ ایک نئی سحر، ایک نئے خواب کا بھی پتہ دے گیا تھا۔
”عجیب دن ہے۔ ۔ ۔ پتہ نہیں سورج کہاں کھوگیا ہے۔“

یہ جملہ سلطان جمیل نسیم کی کہانی ”اندھیرے سے آگے“ پڑھنے سے قبل ہی کسی چمگاڈر کی طرح میرے زہین سے چپکا ہوا تھا بس یہ ہوا کہ اس جملے کے پڑھتے ہی مرے تمام زخم رسنے لگے۔ اورپھر آگے چل کر ایک اور حیرانی مجھے سوئیوں کی طرح چبھنے لگی:۔

”عجیب ہوگئی ہو تم، رات کو دن سمجھ رکھا ہے۔ کبھی رات میں بھی سورج نکلا ہے؟“ اور پھر جوں جوں میں ”اندھیرے سے آگے“ بڑھتا گیا ایک جمود میرے رحم میں کسی عفریت کی طرح پیدا ہوا اور یک لخت مرے سارے گھر کو نگل گیا:۔

”مجھے رات کا گمان کیوں ہوا۔ ۔ ۔ ؟ اگر یہ دن ہے تو کیسا ملگجا سا دن ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دن کے آثار بھی نہیں ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر بھی دن ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دن ڈھلتے بھی آسمان روشن رہتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سورج کی تھکن زمین کے چہرے پر دکھائی دیتی رہتی ہے۔ مگر اب جبکہ آسمان پہ بادلوں کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہے۔ ۔ ۔ رات کی صورت بھی نظر آ رہی ہے۔ یہ۔ یہ دن کیسے ہو سکتا ہے۔ تو کیا رات ہے۔ نہیں آسمان بھی ایسی گوا ہی نہیں دے رہا ہے۔ رات بھی نہیں ہے۔

دن بھی نہیں۔ ۔ ۔ شاید دونوں وقت ملنے کا سماں ہے۔ لیکن۔ میری آنکھیں اتنا دھوکا تو نہیں کھا سکتیں۔ جھٹ پٹے کا وقت بار بار دیکھا ہے۔ ایسا تو نہیں ہوتا۔ پہلے یہ معلوم کر لوں کہ بجا کیا ہے۔ پھر کوئی اندازہ ہو سکے گا۔ اس نے کلائی پر بندھی گھڑی ک دیکھا۔ پھر ہاتھ جھٹکا۔ پھر گھڑی کو دیکھا۔ پھر کلائی اٹھا کر گھڑی کو کان سے لگایا۔ یہ کب سے بند ہے۔ ۔ ۔ ہر جگہ دہشت ہے جنگ ہے، وقت کہاں جاکے چھپ گیا۔“

اور جب میں اس جمود کا نوالا بن گیا تو یہ کہانی لمحے بھر میں بیس برس کا عرصہ بھی نگل گئی اوریک لخت ”اس درد کی نشاند بھی کر گئی جو سارے بدن کو مٹھی میں بند کیے ہوا تھا“ ۔ درد جو خوف سے پیدا ہوا تھا۔ خوف جو میرے ایک گھر سے ساری دنیا کے گھروں میں پھیل چکا تھا۔ اور پھر ایک ٹمٹاتی ہوئی امید کی کیفیت کہانی کے اختتامیے میں تھی:۔ ”دو چار دن بعد؟ دو چار دن بعد۔ ۔ ۔ دو چار دن بعد پھر شاید سورج نکل آئے۔“

مجھے اپنی عمر کے اٹھارہویں سال میں ایسی ہی کہانیاں تو چاہیے تھیں جو میرے درد کی وجہ ڈھونڈ دے، جو میرے ڈر کو کسی طرح حیرانی میں بدل دے، جو مجھ میں وجود پاتے جمود کو توڑ دے، جو میری زندگی کو نئی صبح نہ دے سکے تو نہ سہی۔ ۔ ۔ ایک امید تو دے۔

اور پھر۔ کچھ سال اور گزر گئے۔

میرا ڈر، میری حیرانی، میرا جمود، میری امیدبا لاخر میری ذات کا حصہ بن گئے۔ میں زندگی سے نبر دآزما ہونے کے لیے رات دن اخبارات کے کالموں میں تلاش معاش کے اشتہار پڑھنے لگا کہ اچانک سارا شہر گولیوں کی زد میں آ گیا۔ جونہی میری نظر اشتہارات سے اوپر نیچے پھسلتی، اخبار سفید کی جگہ سرخ دکھائی دینے لگتا، ا خبار کی سرخیاں لہو کی سر خیوں میں بدل جاتیں اس پر چھپی ہوئی خبریں کچھ اور نئی قبروں کی اطلاع دے دیتی۔ نسلی اور مذہبی تعصبات لہو بن کر خون کی نالیوں میں دوڑ رہے تھے۔ سیاسی گماشتے اپنی اپنی دوکا نوں سے نفر تیں بانٹ رہے تھے۔ ہر ایک شے کا سودا ہورہا تھا۔ کہیں مذہب بک رہا تھا، کہیں نسل تل رہی تھیں۔ یہ سیاسی گماشتے اپنے اپنے نظریات کے پلوں سے اپنے پیٹ پھلائے کسی ”پلیا“ کے نیچے لیٹے اپنے بچوں کو دودھ پلارہے تھے۔

مگر سلطان جمیل نسیم کے افسا نے ”ساتھی“ کی کتیا ان سیاسی گماشتوں سے بہتر تھی۔ جو جانور ہوکر بھی اس مردا ہاتھ کو پہچان گئی تھی جو زندگی میں اس کے سر پر کتنی ہی مر تبہ پھیرا گیا تھا۔ اس ہاتھ نے اس کے بچوں کو تھپکا تھا۔ اس ہاتھ نے اس کے آگے دودھ ڈالا تھا اس کے بچوں کو پالا تھا۔ ”ساتھی“ سلطان جمیل نسیم کی کہانی تھی۔ اور وہ میری کہانی تھی۔ اور وہ فطری رشتوں کی کہانی تھی۔ اور وہ کسی ایک جگہ یا شہر کی نہیں ساری دنیا میں پھیلی وحشت و درندگی کی کہانی تھی۔

”ساتھی“ کا کینوس انسانوں اور جانوروں کے فطری رشتوں اور احسانمندی کے رنگوں سے تشکیل پاتا ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے کراچی شہر سے پوری دنیا میں پھیلی ہوئی درندگی اور وحشت کو سمیٹ لیتا ہے۔ اور پھر ایک سوال دھیمے سے اپنی جگہ چھوڑ جاتا ہے کہ کیا ہم انسانوں کا فطری رشتہ صرف نفرت کا ہے؟ ہم۔ ایک دوسرے کے کیسے ”ساتھی“ ہیں؟

وہی وحشت وہی خوف جو افسانہ ”ساتھی“ میں ہے ایک نئے انداز سے ان کی کہانی ”عینی گواہ“ میں بھی نمایا ں ہوتا ہے۔ ہمارے اپنے معاشرے کی کہانی۔ جہاں ہم روز مرتے ہیں بس نام مختلف ہوتے ہیں، جہاں روز ہمارے وجود چھلنی ہوتے ہیں بس سینے مختلف ہو تے ہیں، جہاں روز ہم اپنی ہی موت کے گواہ بنتے ہیں اور روز اس گواہی کو بھلانے کے لیے ٹر ینکیلائیزر کے ا نجکشن لگواتے ہیں۔

سلطان جمیل نسیم کی کہانیوں کے واقعات زندگی کا سچا عکس سمیٹے ہوئے ہیں۔ ان کا قاری بن کر جب میں افسانوں کی دنیا کی سیر کرتا ہوں تو بناء کسی پس و پیش کہ میں افسانوی اورحقیقی دنیا کی سرحدوں کے آر پار آتا جاتا رہتا ہوں۔ ایسے موقع پر مجھے افسانے کے جدید و قدیم رجحانات و اسالیب سے زیادہ موضوع کی فکر رہتی ہے۔ ان کی زبان، لہجہ، بیان، رفتار اور استعاری اظہار کے ساتھ انفرادی اور اجتماعی کینوس پر کہانی کی ہیت، شکل اور اختتامیے بہت حقیقت آمیز ہوتے ہیں۔

اس حقیقت کا انکشاف مجھے اس بار پھر ہوا جب دس سال قبل میں بھی بہتر مستقبل کے خاطر اپنے دوستوں کے پیچھے پیچھے پاکستان چھوڑ کر کینیڈا آبسا تھا۔ مگر ہم دوستوں اور ان کی کی کہانی ”قافلے گھر نہیں بناتے ہیں“ میں ایک بھیانک فرق تھا کہ ہم دوستوں میں کوئی بھی ایک دوسرے کے گم ہوجانے پر اسے ڈھونڈ کر گھر واپس لانے کے بجائے خود بھی گھر سے باہر کہیں گم ہوجانا چا ہتا تھا۔ وہ نقل مکانی تھی یا ہجرت۔ اس سچائی کا جواب اسی کہانی کے ان کربناک جملوں میں تھا:۔

”میں خاک نہیں سمجھا تھا اس لیے مضطرب ہوکر بولا۔“ مگر رشید۔ وہ۔ وہ اپنا گھر ”وہ با لکل میکانیکی لہجے میں بولا۔

”کس فکر میں پڑ گیا یار۔ میں نے جتنا سمجھا تھا وہ سمجھا دیا۔ اور سن۔ مسافروں کے گھر نہیں ہوتے اور قافلے پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ اب بھی گھر کا خیال ہے تو یوں سوچ کہ جب بھرے پیٹ اور بھری جیب کے ساتھ واپسی ہوگی۔ قافلے سے الگ ہوں گے ۔ سفر ختم ہوگا تو پھر گھر کے لیے بھی سوچیں گے۔“

اور میں سوچتا ہوں کیا واقعی۔ کبھی جیبیں اور پیٹ بھی بھرا کرتے ہیں؟
کبھی خوفزدہ چڑیائیں بھی شجر پر لو ٹتی ہیں؟ کبھی قافلے بھی گھر بناتے ہیں؟
جو ہمارے سفر کا قصہ ہے
وہ تری رہ گزر کا قصہ ہے
چلتے رہنا تو کوئی بات نہ تھی
صرف سمت سفر کا قصہ ہے
(حضرت صبا اکبر آبادی)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply