تازہ بستیاں آباد کرنے والوں سے ہشیار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک گھر سے دو گھر اور پھر دیکھتے دیکھتے یہ گھر بستی سے گاؤں، گاؤں سے شہر میں تبدیل ہو جاتے ہیں یہ بھی ٹھیک تھا مگر صورتحال یہ ہے کہ ایک بستی میں دوسری بستی اور ایک شہر میں کئی شہر آباد ہو جنم لے رہے ہیں۔ اقبال نے کہا تھا، ”کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد“

چاچا سرفراز کہتے ہیں ہیں کہ لوگوں نے اس شعر کو سمجھنے میں غلطی کی ہے اور یہ غلطی صاحب علم و دانش نے کی ہے۔ جبکہ اس شعر کو صحیح معنی میں بلڈرز نے سمجھا ہے۔ اس شعر میں اہل نظر سے مراد صاحبان علم نہیں بلکہ بلڈرز ہیں۔ جو آئے دن نئی بستیاں آباد کرتے رہتے ہیں۔ ایک بہترین منصوبہ بندی کے ذریعے لوگوں میں نئی بستیوں میں پلاٹ حاصل کرنے کی خواہش پیدا کی جاتی ہے۔ ایسے لوگ جو خاندان میں اضافے کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں وہ خوبصورت اشتہار دیکھ کر اپنے ذہین میں نئی بستی کا جنت نظیر تصور بنا لیتے ہیں۔ اور پھر یہیں سے ”اہل نظر“ معاف کیجیے گا بلڈرز کی چاندی ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ یہ ”اہل نظر“ پر فضا مقامات ”“ زندگی کی تمام سہولیات پہلے سے موجود ”جیسے دلربا نعرے اس انداز میں لگاتے ہیں کہ آشیانے سے محروم افراد زندگی کی جدید سہولیات کو حاصل کرنے کے لئے دن رات ایک کر دیتے ہیں۔

اقساط ادا کرنے کے بعد جب آشیانے سے محروم افراد ان تازہ بستیاں آباد کرنے والوں سے زندگی کی تمام سہولیات کے بارے میں معلوم کرتے ہیں تو ”اہل نظر“ فرماتے ہیں چند دنوں میں بجلی آنے والی ہے، گیس کے لئے درخواست دے دی گئی ہے، پانی کی لائنیں تب بچھائی جائیں گی جب آپ تمام ترقیاتی اخراجات ادا کردیں گے۔ آبادی ہو جائے گی تو اسکول۔ پارک اور کمیونٹی سینٹر کو فعال کر دیا جائے گا۔ پر یہ تازہ بستیاں آباد کرنے والے ”اہل نظر“ اپنی بصیرت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے۔ اسکول، پارک، کمیونٹی سینٹرز، اور 80 فٹ چوڑی سڑک پر بھی آشیانے تعمیر کرنے شروع کر دیتے ہیں۔ جدید اصلاح میں اس کو ”چائنہ کٹنگ“ کا نام دیا گیاہے۔

اور پھر یہ اہل نظر خود ہی ان تازہ بستیوں میں خرید و فروخت شروع کر دیتے ہیں۔ ہر روز آشیانے کی قیمت بڑھتی رہتی ہے زائد قیمت پر پلاٹ خرید کر قیمت متعین کر دیتے ہیں۔ اور پھر آسمان سے زر برسنا شروع ہو جاتا ہے اور اس زر سے ایک اور تازہ بستی آباد کرنے کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔ ”اہل نظر“ اسے سٹہ بازی کہتے ہیں۔ اور باقی آشیانے کے طالب ہائے ہائے کرتے ہوئے اقبال کے دوسرے شعر کی تکرار شروع کر دیتے ہیں۔

”رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر ”

یہ ”اہل نظر“ اقبال کے دوسرے مصرعے پر من و عن عمل کرتے ہیں اور کبھی بھی ان کی نگاہ سوئے کوفہ و بغداد نہیں ہوتی بلکہ دبئی، و افریقہ ہوتی ہے کہ وہاں تک متلاشیان آشیانہ کی پہنچ بہت مشکل ہوتی ہے۔

چاچا سرفراز کہتے ہیں یہ سلسلہ اس طرح جاری رہنا ہے آبادی بڑھے گی، آشیانے کی ضرورت پڑے گی، اور نئی بستیاں آباد کرنے والے ”اہل نظر“ کی آنگلیاں گھی میں اور سر کڑھائی میں ہوگا۔ چاچا سرفراز کہتے ہیں کوئی ایک مسئلہ ہو تو اس کے سدباب کی کوشش کی جائے لیکن جب نوبت یہاں تک آ جائے کہ،

کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے

تو کیا کیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں بیٹا قدرت کا بھی ایک نظام ہے۔ جو قومیں معاشرتی آداب کی پاسداری نہیں کرتیں وہ ہمیشہ۔ خوراک، لباس اور پلاٹ کے لئے ماری ماری پھرتی ہیں۔ اور پھر ”اہل نظر“ بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ جو سونے پہ سہاگہ کا کام انجام دیتے ہیں۔ کسی سے شکایت سے پہلے معاشرتی احساس پیدا کرو، معاشرتی۔ اور معاشرتی ذمہ داری ادا کرو، تب ہی ان تازہ بستیاں آباد کرنے والوں سے محفوظ رہو گے۔ تازہ بستیاں آباد کرنے والوں کے خلاف پتھر پھینک کر نفرت کا اظہار تو کیا جا سکتا ہے مگر نجات اسی وقت ممکن ہے جب خود کو جرم ضعیفی سے روکو گے۔ چاچا سرفراز کہتے ہیں کہ اگر اقبال اپنے شعر کی تشریح کو اس انداز میں دیکھتے تو کبھی شعر نہ کہتے۔ چاچا سرفراز کی ہر بات صحیح بھی نہیں ہوتی بعض باتیں ایک کان سے سنی جاتیں ہیں اور دوسرے سے نکال دی جاتی ہے۔ آزادی سماعت کا تقاضا بھی یہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *