آیا صوفیہ اور تیس سو گز کی تماش گاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ثقافتی اور تاریخی لحاظ سے استنبول کا مرکز مسجد سلطان احمد یا نیلی مسجد کے اطراف کا وہ علاقہ ہے، جس سے تین سو گز کے فاصلے پر آیا صوفیہ ہے۔ اس تین سو گز کے فاصلے میں بازنطینی اور عثمانی تاریخ کے کئی اہم پہلو موجود ہیں، جن کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان دونوں تاریخی عمارتوں کے درمیان واقع خوش نما باغ میں مرکزی فوارے کے قریب بیٹھ کر تازہ ابلی ہوئی چھلی کھاتے ہوئے، چھوٹے چھوٹے بچوں کو قہقہے لگاتے اور کھیلے کودتے دیکھا جائے۔

1609ء میں عثمانی فرماں روا سلطان احمد نے، اس وقت استنبول کی سب سے بڑی اور مرکزی مسجد آیا صوفیہ کے سامنے بازنطینی شاہی محل کی جگہ پر ایک مسجد بنانے کا فیصلہ کیا۔ سات سال کے عرصے میں بنائی جانے والی، پانچ گنبدوں اور چھے میناروں والی اس مسجد پر علما نے آغاز میں اعتراضات اٹھائے۔ شاید ایک اعتراض یہ بھی ہو کہ استنبول کی سب سے بڑی مسجد آیا صوفیہ کے عین سامنے ایک اور اتنی بڑی مسجد بنانے کا کیا جواز۔ تاہم زیادہ حساس اعتراض یہ تھا کہ اس مسجد کے چھے مینار، مکہ المکرمہ میں مسجد الحرام کی طرز پر چھے کیوں ہیں۔

اس کا حل یہ نکالا گیاکہ سلطان احمد نے مسجد الحرام میں ساتواں مینار بنانے کا شاہی حکم صادر فرما دیا۔ ایک اور معاملہ مسجد کے لیے وسائل کا تھا۔ سلطان احمد اول کو مالی وسائل کی وہ فراوانی میسر نہ تھی جو ان کے جد سلطان فاتح، یا سلیمان عالی شان کواپنی فتوحات کی بدولت میسر تھیں۔ لہٰذا تعمیر کے لیے سرکاری خزانے کا استعمال کیا گیا جسے زیادہ پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا۔

تاریخ انسانی کی شعبدہ بازی دیکھنی ہو تو استنبول میں آیاصوفیہ اور نیلی مسجد کے درمیان واقع خوش نما باغ میں مرکزی فوارے کے پاس بیٹھ کر اپنے سامنے تین سو گز کے اس احاطے کو کسی سنیما کی ضخیم اسکرین تصور کر لیجیے۔ دائیں جانب آپ کو آیا صوفیہ کی پر شکوہ عمارت ہزار برس تک دنیا کا عظیم ترین گرجا رہنے کے بعد، اپنے اطراف میں بننے والے چار مینار، اور منبر و محراب کی تعمیر کی بدولت اس بات کا اعلان کرتے نظر آئے گی کہ کلیسا کی گھنٹیوں کا کام تمام ہوا، اب یہاں اذان و تکبیر کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ پھر پانچ سو سال تک تکبیر اور اذان کی آوازوں سے آباد رہنے کے باوجود آیا صوفیہ کی عمارت کے مشرف بہ اسلام ہونے کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا اور 1935ء میں اسے عجائب گھر بنا دیا گیا۔

اسی تین سو گز کی اسکرین پر نیلی مسجد کے عین سامنے ہیپو ڈروم کا وہ تاریخی احاطہ ہے جس کے معنی گھوڑوں کے بھاگنے کی جگہ کے ہیں۔ بازنظینی دور میں یہ جگہ دوسرے لاطینی اور بازنطینی شہروں کی طرح گھڑ سواری کے مقابلوں وغیرہ کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

آیا صوفیہ کے قریب ایک اورشاندار زیر زمین اعجوبہ ہے۔ باسیلیکا سیسٹرین، زیر زمین پانی اکٹھا کرنے کا ایک وسیع احاطہ ہے، جس میں تین سو سے زائد سنگ مرمر کے ستون ہیں۔ یہ عین اس جگہ ہے، جہاں کسی زمانے میں رومی طرز کی ایک قدیم مستطیل عمارت تھی، جو عوامی مقام کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔

سو نیلی مسجد اور آیا صوفیہ کا احاطہ بھی کیا خوب تماش گا ہ ہے۔ جو مسجد ہے اس کی بنیادیں ایک تاراج شاہی محل پر کھڑی ہیں، جو گرجا تھا وہ پہلے مسجد بنا اور پھر عجائب گھر اور پھر مسجد بن گیا۔ پانی جمع کرنے والی زیر زمین عمارت پر پہلے عوامی مقام تھا اور اب اس میں کبھی فیشن شو ہوتے ہیں، کبھی ہالی وڈ کی فلموں کی شوٹنگ اور یا پھر مہنگے ترین میوزک کنسرٹ کہ زیر زمین عمارت ہونے کی وجہ سے عمارت کا صوتی تاثر سحر انگیز ہے۔

استنبول کے وسط میں صدیوں سے آباد اس تین سو گز کی تماش گاہ میں کلیسا کی گھنٹیوں، ہپو ڈروم میں بھاگتے گھوڑوں کی ٹاپوں، نیلی مسجد سے بلند ہوتی ہوئی اذان اور زیر زمین جمع شدہ پانی کی مدہم آواز کے درمیان، صرف بھاگتے دوڑتے معصوم ترک بچوں اور بچیوں کے قہقہے غیر مصنوعی، سچے اور کھرے لگ رہے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *