قوم کو ایک اور غازی مبارک ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ملعون، گستاخ تھا طاہر احمد، اس کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔“
”گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ہی سزا، سر تن سے جدا۔“
”قادیانی مرتد ہیں۔ ان کو تو چن چن کر مار دینا چاہیے۔“
”غازی فیصل نے آج سب مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔“
”یہ نوجوان تو سب پر بازی لے گیا۔“
”غازی فیصل کو جو سعادت حاصل ہوئی ہے۔ یہ تو نصیب والوں کو ملتی ہے۔“
”ہمارے عدالتی نظام میں تو پتا نہیں طاہر ملعون کو سزا ملتی یا نہیں۔ فیصل نے اسے جہنم واصل کر کے اپنی دنیا اور آخرت، دونوں سنوار لی ہیں۔“

یہ کچھ جملے ہیں جو آج پشاور کی سیشن کورٹ میں ہونے والے توہین رسالت کے مقدمے میں ملوث طاہر احمد نامی شخص کے قتل کے واقعے کے بعد سننے اور پڑھنے کو ملتے رہے۔ مجھے ان پر ذرا بھی حیرت نہیں ہوئی، کیوں کہ اس طرح کے رویہ کا مظاہرہ آسیہ بی بی کی حمایت کرنے پر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کے لیے بھی دیکھنے میں آیا تھا۔ جسے تب غازی ممتاز قادری بنایا گیا۔ لیکن جب اس کو عدالت کی طرف سے پھانسی لگائی گئی تو پھر وہ شہید ممتاز قادری بن گیا۔ اس کا مزار بنایا گیا، جس پر اب بھی لوگ جا کر منتیں مانتے ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو یہ کہہ کر بری کر دیا کہ ان پر بنایا جانے والا مقدمہ جھوٹا تھا۔ لیکن اس کے باوجود ممتاز قادری آج بھی شہید ہی ہے۔ اسی طرح آج کے واقعے میں مار دیا جانے والا طاہر احمد ہو سکتا ہے، کچھ سال بعد عدالت میں ذہنی مریض ثابت ہو جائے۔ اور اس کو قتل کرنے والے نوجوان فیصل کو پھانسی کی سزا بھی سنا دی جائے۔ لیکن سزا کی تعمیل تک یہ بھی غازی فیصل ہی رہے گا۔ کوئی وکیل ممتاز قادری کی طرح اس کا بھی ماتھا چومے گا۔ اس کے چاہنے والے اس پر بھی پھول کی پتیاں نچھاور کریں گے۔

جیل میں بیٹھ کر یہ بھی عشق رسولﷺ میں سرشار ہو کر ویسے ہی نعتیں پڑھتا ہوا نظر آئے گا، جیسے ممتاز قادری پڑھتا تھا۔ اس کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے بھی ریلیاں اور جلوس نکالے جائیں گے۔ یہ بھی شاید ایک طرف تو غازی بنا ہو گا اور دوسری طرف اس کے چاہنے والے اسے معاف کرنے کی اپیلیں بھی کر رہے ہوں گے۔ اور اگر اس کو پھانسی ہو گئی تو یہ بھی شہید ہی کہلائے گا۔ اس کا بھی مزار بنے گا۔ پھر اسی طرح کوئی اور غازی میدان میں آ جائے گا۔ اور اوپر لکھے ہوئے سب جملے پھر سے کانوں میں ایسے ہی گونجیں گے بس نام بدل دیے جائیں گے۔

اب آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہو رہا ہو گا کہ کیا یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا؟ تو اس سوال کا جواب ہاں ہے۔ کیوں کہ جس ریاست میں مذہب کو استعمال کر کے کئی نسلوں کے ذہنوں کی آبیاری کی گئی ہو۔ وہاں پر یہی کچھ ہوتا ہے کہ اس ریاست کے قیام کے موقع پر بھی لاکھوں لوگ اپنی جان سے جاتے ہیں۔ اور بعد میں بھی مذہب کے نام پر کسی نہ کسی صورت میں اپنی جانیں گنواتے رہتے ہیں۔ اسی لیے یہ سلسلہ تو ایسے ہی چلتا رہے گا۔ آپ فی الحال اس نئے غازی کا سواگت کریں۔ آپ کو اس کا ظہور مبارک ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *