چین میں ریٹائرمنٹ کے مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل پاکستان میں ریٹائرمنٹ کی عمر کے بارے میں بحث چھڑی ہوئی ہے۔ 2019 ء میں چینی خبر رساں ایجنسی شنہوا کے لی شیا نے پاکستان کے بارے میں خبر دی تھی کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزارت مالیات کو ہدایت کی ہے کہ قابل افسروں کی ریٹائرمنٹ عمر کو بڑھا نے اور ناکارہ افسروں کو جلد ریٹائر کرنے کے لئے سول سرونٹس کے سروس اسٹرکچر پر نظر ثانی کی راہیں ڈھونڈیں۔ آج کل پاکستان میں سرکاری افسران کی ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال ہے۔ وزیر اعظم جاننا چاہتے تھے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر کو بڑھانے یا کم کرنے کے قانونی، انتظامی اور مالیاتی مضمرات کیا ہوں گے۔

چین میں بھی ریٹائرمنٹ کی عمر مردوں کے لئے ساٹھ سال اور عورتوں کے لئے پچاس سال ہے اور اب وہاں ریٹائرمنٹ کی عمر کو بڑھانے پر غور ہو رہا ہے۔ ویسے چین میں بڑھاپے کا تصور ذرا مختلف ہے۔ جب ہم چین گئے تھے تو ان دنوں اخبارات میں بہت خبریں شائع ہو رہی تھیں کہ پارٹی میں نیا خون لایا جا رہا ہے۔ پرانے لوگوں نے جوانوں کے لئے جگہ خالی کر دی ہے۔ جب ان جوانوں کی تصاویر شائع ہوئیں تو سب پچاس سال سے اوپر تھے۔ مغربی ممالک میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جس عمر میں ہمارے ہاں لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں، اس عمر میں مغربی ممالک کے بوڑھے میاں بیوی یا صرف تنہا بوڑھی عورتیں دنیا کی سیر کے لئے نکلتی ہیں۔ چین میں ہم کسی بھی تفریحی مقام پر جاتے، ہر جگہ بوڑھی امریکی اور یورپی ٹورسٹ خواتین تفریح کرتی دکھائی دیتیں۔

چین میں اس وقت بھی ریٹائرمنٹ کی عمر مردوں کے لئے ساٹھ سال اور عورتوں کے لئے پچاس سال تھی مگر 1986 ء میں چینی خواتین مطالبہ کر رہی تھیں کہ ان کے لئے بھی ریٹائرمنٹ کی عمر وہی رکھی جائے جو مردوں کی تھی۔ اس ضمن میں آل چائنا ویمنز فیڈریشن نے مرکزی حکومت کے عہدیداروں اور بیجنگ کے اسکولوں، ہسپتالوں، اور دوسرے اداروں کا سروے کر کے 892 لوگوں کی آرا معلوم کی گئیں تو باسٹھ فی صد لوگوں نے عورتوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی حمایت کی جب کہ اڑتیس فی صد نے مخالفت کی۔

ریٹائر منٹ کی عمر میں توسیع کی حامیوں میں جانی مانی ادیبہ وے چن ای بھی تھیں جو پیپلز پبلشنگ ہاؤس میں کام کر چکی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جسمانی محنت کرنے والی خواتین کی ریٹائرمنٹ کی عمر پطپن سال ہی رہنی چاہیے۔ لیکن ذہنی کام کرنے والے پروفیشنلز کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ وے چن اڑسٹھ سال کی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ پچاس سال کی عمر میں پروفیشنل عورتیں اپنے کیرئیر کے عروج پر ہوتی ہیں اور یہی وہ عمر ہے جس میں بہت سی تحقیقی کامیابیاں حاصل کی جاتی ہیں۔ ان کو یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا تھا کہ عورتوں کو اس عمر میں ریٹائر کر دیا جاتا ہے جب وہ پوری توانائی سے کام کرنے کی اہل ہوتی ہیں۔ وے چن ای کو ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت جاری رکھنے کے لئے کہا گیا تھا کیونکہ وہ ایک سینیر ایڈیٹر تھیں۔

مشہورصحافی خاتون چن فنگ سینتیس سال تک پیپلز ڈیلی سے وابستہ رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاتون صحافیوں کو اپنے مرد ساتھیوں سے پانچ سال پہلے ریٹائر کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ خواتین صحافیوں کی بیجنگ ایسوسی ایشن خواتین صحافیوں کی ریٹائرمنٹ عمر پر نظر ثانی کرانے کی کوشش کر رہی تھی۔

اس سروے میں سائنسی اور تکنیکی پروفیشنلز نے ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع کی حمایت کی تھی جب کہ بہت سی نرسوں اور ایلمینٹری اسکول کی استانیوں کا کہنا تھا کہ ریٹائرمنٹ کی عمر پچاس سال ہی رہنے دی جائے بقول ان کے توسیع کی حامی وہی خواتین ہیں جن کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہو چکی تھی۔ جب کہ توسیع کے حامیوں کا کہنا تھا کہ اب عورتوں کی صحت پہلے سے بہتر ہو چکی ہے اور ویسے بھی ذہانت کے لحاظ سے عورتوں اور مردوں میں کوئی فرق نہیں اور عورتوں کی تعلیمی استعداد میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔

کچھ کا کہنا تھا کہ پچاس سال سے زائد عمر کی خواتین کی گھریلو ذمہ داریاں کم ہو جاتی ہیں کیونکہ ان کے بچے بڑے ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس لئے انہیں جلد ریٹائر کرنا ان کی صلاحیتوں کو ضائع کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کے کام کرنے کے حقوق اور ذمہ داریاں وہی ہونی چاہئیں جو مردوں کی ہیں۔ ریٹائر منٹ کی عمر میں توسیع کے مخالفین کا کہنا تھا کہ عورتوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے، اس لئے انہیں جلد ریٹائر ہونے کی اجازت ہونی چاہیے۔

کیونکہ ملازمت کا ساتھ ساتھ انہوں نے بچوں کو جنم دینے کے ساتھ ان کی پرورش اور گھریلو کام بھی کیے ہوتے ہیں۔ کچھ کا کہنا تھا کہ عورتوں کو جلد ریٹائر ہو کر اپنے نوجوان بچوں کا ہاتھ بٹانا چاہیے تا کہ نئی نسل چین کی جدید کاری میں مدد دے سکے۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ بوڑھے افراد کی تعداد میں اضافہ پہلے ہی ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع اقتصادی اصلاحات کے لئے سود مند نہیں ہو گی کیونکہ اصلاحات کا مقصد نوجوانوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو آگے بڑھانا تھا۔

ویسے چین میں ہم نے عام لوگوں کو بوڑھوں کا بے حد احترام کرتے دیکھا۔ سرکاری طور پر بھی بوڑھوں کی دیکھ بھال اور ان کے مسائل حل کرنے پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی لیکن ان کے کچھ مسائل بھی تھے۔ بہت سے لوگ ایسے گھروں میں رہتے تھے جن میں سردیوں میں کمروں کو گرم رکھنے کا انتظام اور غسل خانے نہیں تھے۔ کچھ لا ولد اور معمر جوڑوں کو ہر روز پانی بھر کر لانا پڑتا تھا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ رہائش کا ناکافی انتظام گھریلو جھگڑوں کا باعث بنتا تھا۔

بہت سے بوڑھے افراد زندگی میں جمود کی شکایت بھی کرتے تھے۔ ان بوڑھوں کا زیادہ تر وقت پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کی دیکھ بھال، خریداری اور کھانا پکانے میں گزر جاتا تھا۔ بہت کم بوڑھے تفریحی سرگرمیوں یا کھیل کود میں حصہ لیتے تھے۔ جو لوگ اپنے شادی شدہ بچوں کے ساتھ رہتے تھے، انہیں مختلف گھریلو پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس لئے اکثر بوڑھے لوگ علیحدہ رہنا پسند کرتے تھے۔ دیکھنے میں آیا تھا کہ عمر گزرنے کے ساتھ میاں بیوی کا رشتہ مضبوط ہوتا جاتا ہے۔ خصوصاً تنہا بوڑھے افراد اس بات کو شدت سے محسوس کرتے تھے کہ ان کے بچے ان کے اتنے مددگار ثابت نہیں ہوتے جتنا کہ ان کے جیون ساتھی تھے۔ ان ہی مسائل کے پیش نظر حکومت کی جانب سے بیجنگ میں بوڑھے افراد کے لئے ایک تفریحی مرکز قائم کیا گیا تھا۔

2019۔ 20 ء میں چین میں بوڑھے شہریوں کی تعداد 2.55 ملین یعنی کل آبادی کا 17.8 %ہو چکی ہے۔ اب بوڑھوں کے لئے پرائیویٹ کئیر سنٹر کھل گئے ہیں جب کہ کچھ عرصہ پہلے ان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ 2019 ء میں بیجنگ سمیت درجنوں صوبوں اور میونسپلٹیوں نے اعلان کیا تھا کہ اولڈ کئیر سنٹر کھولنے والی کمپنیوں کو حکومت سے لائسنس لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزارت شہری امور کے مطابق اس وقت چین میں 44 % اولڈ کئیر سنٹر نجی طور پر چلائے جا رہے ہیں۔ ان پرائیویٹ سنٹرز میں بوڑھوں کے لئے طبی سہولیات کی فراہمی کا بھی انتظام ہوتا ہے۔

چینی حکومت ایک سہ جہتی سینیر کئیر سسٹم کو فروغ دے رہی ہے جس کے مطابق نوے فی صد بوڑھوں کو گھر پر، سات فی صد کو کمیونٹی سنٹرز میں اورصرف تین فی صدکوہی سینئیرکئیر سنٹرز میں رکھا جائے گا۔ بزرگ افراد کی دیکھ بھال کرنے والے کمیونٹی مراکز کو حکومت کی جانب سے یوٹیلیٹیز پر سبسڈی دی جاتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ نجی کئیر سنٹرز تو دور کی بات ہے، بہت سے بزرگ شہری کمیونٹی سنٹرز کا خرچ اٹھانے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے۔ اس حوالے سے چینی حکومت کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply