عورت جہاد نہیں کرتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس کا کمرا چار دیواروں والا تھا۔ گویا چار دیواری تھی مگر ہر دیوار میں دیواری قد و قامت کے ہی روشن دان اور کھڑکیا ں تھیں۔ جہا ں سے روشنی وہوا پھوٹتی تھی۔ ایک دیوار کے درمیان اس کا بیڈ تھا اور اس کے دونوں جانب لکڑی کی نفیس الماریاں چھت تک بنی ہو ئیں تھیں۔ ان میں کتابیں مسکرا اور اترا رہیں تھیں۔ کہ ان کو یہ گلہ نہیں تھا کہ ان کو قاری نہیں ملا۔

پلنگ کے بائیں جانب دیوار سے ایک راہ داری اس کے ڈرسنگ روم سے ہوتی واش روم کو جاتی تھی۔ یہ دیوار بھی لکڑی کی الماریوں سے ہی سجی بنی ہو ئی تھی۔ اس میں بھی کتابیں روشنی دے رہی تھیں۔ پلنگ کے دائیں جانب عین درمیان میں کمرے کا داخلی دروازہ تھا۔ اوراس کے دونوں جانب بھی چھت کو چھوٹی کتابیں ہو ا کے جھونکے دیتی محسوس ہو تی تھیں۔ پلنگ کے سامنے پو ری کی پوری دیوا ر کتابوں کے دیوں، موم بتیوں، لال ٹین، اور بلب دکھائی دیتی تھیں۔ اور اس الماری کے سامنے دو کرسیاں اور ان کے درمیان ایک میز رکھا تھا۔ جس پہ ایک لیمپ، ایک قلم اور قلم دان، ایک رنگین پیپر پیڈ، بک ریڈر، ٹیب اور لیپ ٹاپ تھا۔

کرسی کے دائیں جانب کونے میں میرون قالین پہ ایک فوم کا گدابچھا ہوا تھا۔ جس پہ ہلکے پیازی رنگ کے پھولو ں والی چادر اور تکیہ سکون کا احساس جگا نے کو کافی تھے۔

کمرا کیا تھا گویا کوئی خواب تھا۔ جس پہ اعتبار نہیں آتا۔

وہ واش روم سے نکلی، گیلے بال ابھی تولیے کی قید میں ہی تھے۔ وہ اپنی قمیض کے بٹن بند کرتے ہو ئے آ کر، کچھ سوچتے ہو ئے کر سی پہ بیٹھ گئی۔ قلم اٹھایا اور پیپر پیڈ پہ کچھ لکھنے لگی۔ کچھ دیر لکھتی رہی اور پھر قلم قلم دان میں رکھ کر ٹیب پہ اپنی ای میل چیک کرنے لگی۔

ایک ای میل کے عنوان نے اس کو چونکا دیا ”عورت جہاد نہیں کر تی،

اس نے ای میل کھولا۔ لیکن اس کو پڑھنے میں دشواری کا احساس ہوا تھکن الگ اس کو نڈھال کیے ہو ئے تھی۔ مگر وہ جانتی تھی تجسس اس کو سونے نہیں دے گا۔ اس کو حیرانی تھی۔ یہ راز اس پہ دنیا کا کوئی فلسفی کیو ں نہیں کھول سکا۔ یہ سب کتابیں، وہ سب کتب خانے۔ ۔ ۔

اس نے خود کو الجھن سے بچانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے میز کے نچلے حصے سے اپنی نزدیک کی عینک اٹھائی اورلیپ ٹاپ آن کیا۔

عورت جہاد نہیں کر تی۔ ۔ ۔
وہ بڑبرا رہی تھی۔ کہ اچانک ای میل کھل بھی گئی
مادام

میں نے وہ بینر پڑھا ہے جس پہ لکھا تھا کہ آپ کل ایک یونیورسٹی میں آن لائن مہمان ہیں۔ کاش آپ وہا ں خود آتیں اور میں آپ سے خود آ کر ملتا۔ مگر آپ تو خود اپنے ملک میں بھی نہیں جاتیں۔ آپ کے لفظوں کے جادو نے ہی نہیں، حسن کی سحر انگیزی نے آپ کو وہاں رہنے نہیں دیا۔ ورنہ اپنا ملک چھوڑ کر کون پردیسی ہو تا ہے۔

آپ سے یو ں بات کر نا بھی اتنا ہی دشوار ہے جتنا آپ کے سامنے بیٹھ کر بات کر نا مشکل ہو گا۔

عمر کے اس حصے میں بھی جب آپ کے بالو ں میں چاندنی رات کا جادو ہے۔ آپ کے چہرے اور جسم پہ ابھی تک وصل کے صبح کی کرنیں مسکراتیں ہی نہیں اٹکھیلیاں بھی کر تی ہیں۔

آپ ایک فلسفی ہیں۔ مگر میں آپ سے اپنا فلسفہ بیان کر نا چاہتا ہو ں۔ میں آپ سے اپنا تجربہ بیان چاہتا ہو ں۔ میرا ماننا ہے عورت جہاد نہیں کر تی۔ اور آپ لکھتیں ہیں۔ عورت کو سمجھنا مرد کے بس کی بات نہیں ہے۔ وہ سمندروں سے گہری اور آسمانوں سے بلندی تک ہو آتی ہے۔

تو ایسی گہرائی اور بلندی تو محض تاریکی ہوئی ناں۔ ۔ ۔
اور تاریکی کس نے دیکھی ہے؟

کبھی آپ سے مل سکا تو آپ سے شاید یہ بات کر سکوں۔ کہ عورت اصل میں ناکام اس لئے ہے کہ وہ جہاد نہیں کرتی۔

اگر آپ کا ہو گیا۔ ۔ ۔ شاید آپ کا ہو جاؤں۔ ۔ ۔ آپ کا نعمان

میں آپ کا ہو کر اپنی اگلی عمر بتانا چاہتا ہو ں۔ مجھے آپ کی عمر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس آپ جیسی عورت کی تلاش کس مرد کو نہیں ہو تی،

اس کے نیچے اس کی تصویر اور فون نمبر تھا۔

اس کے تن من میں اب ایسی باتو ں پہ آگ نہیں لگتی تھی۔ کیونکہ وہ اپنے حصے کا کام کر چکی تھی۔ اور خون کی گرمی برقرار ہو تے ہوئے بھی اس کو حاصل کا قرار مل چکا تھا۔ اب موجود کے وجود کی اہمیت ساون کی بارش والی نہیں رہی تھی۔ اب اس میں بس ہواؤں کے جھونکے تھے۔

جنہو ں نے جنت کی ہواؤں کو ایسا چھو لیا تھا کہ اب ان میں دوزخ کی حدت نہیں رہی تھی۔ حدت فنا ہو چکی تھی۔

اس نے ای میل کو اوپر تک جا کر دیکھا تاریخ، دن اور ملک نوٹ کیا اور اپنے پیپر پیڈ پہ لکھ لیا۔

اور لیپ ٹاپ بند کر کے کر سی سے اٹھی اپنے بالو ں کو تولیے کی قید سے آ زاد کیا۔ تولیہ ڈریسنگ روم میں رکھے تولیہ سٹینڈ پہ پھیلا دیا۔ اور آکر اپنے پلنگ پہ لیٹ گئی۔

تصویر اور سوال اس کے ذہین میں گھومتے رہے۔

”جہاد، اس لفظ کے کوئی غیر لغوی، غیر مذہبی معانی وہ سمجھنا چاہتی تھی۔ اس لفظ نے اس کے اندر ایک الاؤ کو ہوا دے رکھی تھی، مگر صبح اس کا آن لائن لیکچر تھا۔ اور اس کو اٹھنا بھی تھا۔ وہ بہت دیر تک کر وٹیں بدلتی رہی۔ مگر نیند کو نہیں آنا تھا، سوال بنی رہی۔

اس نے موبائل پہ الارم لگایا۔ تکیے کے نیچے سے نیند کی گو لی نکالی۔ پلنگ کے نیچے رکھی پانی کی بوتل اٹھا کر اس کے ساتھ بادل نخواستہ نگل لی۔

اور لیٹ گئی۔
اب آنسو آنکھوں میں حیرت بن چکے تھے۔ دل کے اندر آبشاریں پھوٹ پڑتیں تھیں۔ وہ اسی بوجھ سے لڑتے سو گئی۔

صبح کے الارم نے اسے اٹھا یا۔ اور وہ اپنے آن لائن لیکچر کے لئے تیار ہو نے لگی۔ آج وہ ذہنی طور پہ تیار نہیں ہو پا رہی تھی۔ ادھر یونیورسٹی میں نوجوان اس کی پر کشش شخصیت اور اس کی زندگی سے بھرپور گہری باتو ں کو سننے اور سمجھنے کے لئے تیار تھے۔ اس کے بعد سوال و جواب کا بھی سیشن تھا۔

اس سیشن کے بعد طالب علمو ں کی دلچسپی دیکھتے ہو ئے یونیورسٹی انتظامیہ نے اس سے یونیورسٹی آکر لیکچردینے کی درخواست کی۔ اس نے ٹالنے کی کوشش کی مگر طالب علموں کی اصرار و اشتیاق کو دیکھتے ہوئے اسے اپنا ماضی یاد آ گیا۔ جب وہ فلسفیو ں سے ملنے کا اشتیاق لیے نگر نگر جوتیاں توڑتی تھی۔ اور سوچا کرتی تھی یہ سب کتنے مغرور ہو تے ہیں، اب سمجھ آتا ہے مغرور نہیں مصروف ہوتے ہیں۔ اور ہجوم ان سے یکسوئی چھین کر ہواؤں کی مٹی بنا دیتا ہے۔

اس نے درخواست کو قبول کر لیا۔ کہ فلسفے تو انسانو ں کے اندر سے بھی جنم لیتے ہیں۔ اور کھیتوں میں بیج تو اکٹھے ہی ڈالے جاتے ہیں۔ زمین سے جدائی تو جسم سے جدائی ہے، جسم سے جدائی روح سے جدائی ہے۔

چند ماہ وہ اسی کمرے میں بند اپنا کام کرتی رہی۔ مگر وہ سوال اس کے اندر گردش کرتا رہا۔

چند ماہ بعد وہ جب وقت مقررہ پہ وہ اس معروف یونیورسٹی پہنچی تو جیسے طالب علمو ں کے لئے کوئی تہوار کا سا دن تھا۔ اس کی گاڑی پارکنگ کے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوئی تو اساتذہ کے ساتھ کچھ ہونہار طالب علم پھول لے کر کھڑے تھے۔ ان کے جگمگاتے چہرے دیکھتے ہی اس کو وہ بھولا بسرا محاورہ یادآ رہا تھا، مگر بھول بھی رہا تھا۔ جس کا مفہوم اس کے دماغ میں گردش کر نے لگا کہ پالنے میں ہی پوت کا پتا لگ جاتا ہے۔

خیر مرجھائے پروفیسرز میں یہ نوجوان بچے آسمان پہ چاند اور باغ میں پھول کی مانند لگ رہے تھے۔ اسے تو مہک بھی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ گاڑی سے نکلی تو ایک بچی نے آ گے بڑھ کر اس کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ اس نے مسکرا کر لیتے ہو ئے اسے پیار سے دیکھا۔ جیسے شکریہ کہہ رہی ہو۔ آس پاس کھڑے بچے بچیو ں کو اپنی مسکراہٹ سے شکریہ ادا کرتے آگے بڑ ہ رہی تھی۔ پروفیسرز کے مرجھائے چہرو ں میں اسے مایوسی کی کرنیں پھوٹتی دکھائی دے رہی تھیں۔ جو اس کے لئے سوالیہ و فکریہ مقام تھا۔

اس کوی ونیورسٹی ہال تک پیچھے کے دروازے سے پہنچایا گیا تھا۔ جب وہ ہال میں داخل ہو ئی تو ہال کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ طالب علم ہال کے آخر میں بھی کھڑے دکھائی دے رہے تھے۔ اوپر گیلری میں بھی طالب علم کھڑے تالیا ں بچا رہے تھے۔ کچھ موبائل سے تصاویر بنا رہے تھے تو کچھ ویڈیو بنا رہے تھے۔ یو نیورسٹی فوٹو گرافر اپنی فنکارانہ صلاحیت میں مصروف تھا۔ آج اس کو بھی ایساکوئی فوٹو بنانا تھا جو یونیورسٹی کی تاریخ کا حصہ بن جائے۔ اور اس کے چہرے پہ بکھری مدھم مسکراہٹ اس کی امید کو یقین میں بدل رہی تھی۔

وہ سٹیج پہ کچھ دیر کھڑی مسکراتی رہی۔ اب حیران آنکھیں اند ر کو جو پھوٹتی تھیں۔ اس لئے ان کو باہر کوئی نہیں دیکھ سکا۔

کچھ دیر تالیاں بجتی رہیں۔ پھر مائیک پہ موجود ایک شستہ آواز نے طالب علموں سے درخواست کی کہ وہ اپنی مہمان کو بولنے کا موقع دیں تو ہم تقریب کا آغاز کریں۔ طالب علم یہ سنتے ہی دھیرے دھیرے کرسیوں پہ بیٹھنے لگے۔ چند ہی لمحوں میں ہال میں مکمل سناٹا تھا۔

مہان نے اس محبت کا شکریہ ادا کیا۔ اور اس کے بعد دو گھنٹے تقریب جاری رہی وائس چانسلر نے بھی محترمہ کی آمد پہ یونیورسٹی کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔

اور اس کے بعد اچانک سے اس کے سامنے گیلری کی دیوار پہ ایک سفید روشنی نمو دار ہو ئی۔ اور مائک پہ موجود شستہ آواز نے طالب علموں کو سوالا ت کی اجازت دی۔ طالب علم ہاتھ کھڑا کرتے تو مائک لے کر ایک لڑکا ان تک پہنچ جاتا۔ اوراس طالب علم کی تصویر گیلری کی اس سفید روشنی پہ نمو دار ہو جاتی۔ یوں معصوم سوال مستقبل کی کلیا ں پرورہے تھے

اسی دوران ایک ہونق سا چہرہ، بے بال، بے دماغ سا سر، جھولتا جسم گیلری کی دیوار پہ نمودار ہو چکا تھا۔ اور پوچھ رہا تھا عورت جہاد کیو ں نہیں کرتی؟

اس کو وہ ای میل، وہ تصویر، وہ فون نمبر سب کچھ یاد آ گیا اور ایک گھن زدگی اس کے اندر سرایت کر گئی۔ کہ ایک طالب علم نے چٹکلا چھوڑا

”بھائی بیٹھ جا، عزت اپنے ہاتھ کی چیز ہے،
اس پہ ہال میں دبی اورکھلی مسکراہٹیں بکھر گئیں۔ پورے ہال میں جوان خون تھا۔ ابل ابل پڑ رہا تھا۔

ایک لڑکی نے ہاتھ کھڑ ا کیا ہوا تھا۔ مائیک اس تک پہنچا ہی تھا کہ اس نے کسی جواب کا انتظار کیے بنا بولنا شروع کر دیا ”یہ جو سب عورت اس معاشرے میں کر رہی ہے کیا یہ جہاد نہیں؟ یہا ں ان حالا ت میں آکرپڑھنا، جاب کر کے ساتھ گھر چلانا، اس کے ساتھ بچے پالنا، اور پھر ان الوؤں کے گھر والوں کی خدمات کے ساتھ ساتھ صلوaتیں بھی سماعت فرمانا، اس پہ بھی مسکرانا کہ جنازہ حلال ہو جائے کیا یہ جہاد نہیں۔ ۔ ۔ ،

خیر مائک اس سے لے لیا گیا۔ کہ طویل گفتگو کا وقت نہیں تھا اس نے سٹیج پہ بیٹھے ہی سوال کو سوال میں بدل دیا۔ اچھا یو ں کرتے ہیں۔ انہی سے پوچھ لیتے ہیں کہ عورت کا جہاد کیا ہے؟

ہال میں ہلکی پھلکی تالیو ں اوردبی مسکراہٹوں کی آواز آئی۔ مائک پھر اس ہونق صورت کے پاس چلا گیا۔ اس کا جسم، چہرہ، آنکھیں بتا رہی تھیں کہ اسے اپنی فتح پہ یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ وہ بوکھلائے بوکھلائے لہجے میں کہنے لگا۔

” ہم نے صدیو ں سے ان پڑھ عورت کے ساتھ شادی رچایا ہے۔ عورت کیوں ان پڑھ مرد سے شادی نہیں رچاتا؟ پڑھی لکھی عورت کیو ں ان پڑھ، نکمے مرد کو کم تر سمجھتی ہے؟،

اس کو اپنے قدموں تک پہ اختیار نہیں تھا اس کا جسم مسلسل جھول رہا تھا۔ ایک کونے سے ایک زنانہ آواز آ ئی ’ان پڑہ عورت ان پڑھ کے ساتھ نہیں رہی تو پڑھی لکھی کیسے رہ سکتی ہے۔ جوان خون پوری جولانی میں تھا۔ ہال میں ایک بار پھر دبے قہقہے اٹکھیلیا ں کرنے لگے

وہ سٹیج پہ بیٹھی اپنی اکتاہٹ پہ، گھن پہ قابو پانے کی مسلسل کوشش کر رہی تھی۔ اسی کوشش میں اس نے دبی دبی کڑواہٹ میں شگفتگی ملا کر سوال کو پھر سوال میں بدل دیا۔

”آپ واضح بات کیجئے عورت کا جہاد ہے کیا؟ آپ کا فلسفہ کیا کہتا ہیں ہم سب سننا چاہتے ہیں؟ ،

سٹیج سنبھالے شستہ مائک سے بھی ایک آواز سنائی دی کہ بات کو جلد واضح انداز میں ختم کیا جائے تاکہ مادام کی موجودگی سے سیر حاصل فائدہ اٹھایا جا سکے۔ یو ں بھی کھانے کا وقت ہوچکا ہے۔

اس نے ذاتی اعتماد سے مائک پکڑا اور بولا

”میڈم سیدھا سا بات ہے، اگر سچی پو چھو تو ہم کو اچھا لگے گا کہ ہم اپنے علاقے کی اس لڑکی سے شادی کریں جس نے کبھی سکول بھی نہ دیکھا ہو۔ مگر جہاد یہ ہے کہ ہم آپ سے شادی کو تیار ہے۔ آپ جیسی عورت کو چاہیے ہم جیسے کم پڑھے لکھے، ان پڑھ یا میٹرک پاس مرد سے شادی کرے، یہ جہاد ہے۔ ۔ ۔ ۔ ،

اس سے مائک لے لیا گیا۔ ہال قہقہوں اور شرمندگی سے گونج رہا تھا۔

(نتیجہ: اگر زنانہ لکھاری کچھ عرصہ جہادی تحریر نہ لکھے تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ اس نے آپ الوؤں کے سماج کو قبول کر لیا ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply