مرد مجاہد کی للکار!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پا کستان کا ایک شاطر و مکار دشمن سے پالا پڑا ہے، ہمیں اسی بنیاد پر دفاع وطن کے تمام تقاضوں کو بہرصورت ملحوظ خاطر رکھنا ہے جس کی عساکر پاکستان نہ صرف مکمل اہل ہیں، بلکہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں ہمہ وقت چوکس بھی نظر آتی ہیں۔ اگرقیام پاکستان کے بعد سے ہی بھارت نے پاکستان کو خلوص دل کے ساتھ ایک آزاد اور خودمختار پڑوسی ملک کی حیثیت سے تسلیم کر لیا ہوتا تو کبھی کشیدگی کی نوبت ہی نہیں آنی تھی، مگر پاکستان کی سلامتی کے خلاف بھارت کی بدنیتی کے باعث دونوں پڑوسی ممالک میں کبھی دوستانہ مراسم استوار نہیں ہو سکے ہیں۔

بھارت نے پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کی منصوبہ بندی کو اپنی حکومتی پالیسی کا حصہ بنارکھا ہے، بھارت نے اسی پا لیسی کی بنیاد پر پاکستان پر 65 ء اور 71 ء کی جنگیں مسلط کیں ’اسے سانحہ سقوط ڈھاکہ سے دوچار کیا اور پھر باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی کے بھی درپے ہوگیا، اس مقصد کے لیے خود کو ایٹمی طاقت بنایا اور سازشوں اور گیدڑ بھبکیوں کا سلسلہ شروع کر دیا جو ہنوز جاری ہے۔

اس کے برعکس پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات عموماً پرامن بقائے باہمی کے اصول پر استوار ہیں، پاکستان ہمیشہ مسلح تنازعات کو پرامن طریقے سے طے کرنے کی حمایت کرتا رہا ہے۔ قبرص ’فلسطین اور کشمیر کے متعلق پاکستان کا موقف اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے اصولوں کے عین مطابق رہا ہے، دنیا میں پائے جانے والے تنازعات پر پاکستان کا کہیں کوئی اثر موجود تھا تو اس نے اس رسوخ کو ثالثی‘ مصالحت اور رابطہ کاری کی خدمات کے ذریعے پیش کیاہے، جبکہ کشمیر پر اہل کشمیر کی مرضی کے خلاف بھارتی قبضے نے سیاسی اختلاف کو ریاستی دشمنی میں تبدیل کر رکھا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کے معاملے پر چار جنگیں ہو چکی ہیں اور آئے روز کنٹرول لائن پر گولہ باری، جھڑپوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں ممالک کے ہزاروں سپاہی اور شہری دشمنی کی بھینٹ چڑھ چکے، لیکن تنازع طے پانے کی بجائے نئے تنازعات از قسم دریائی پانی کی تقسیم ’تجارتی مراعات اور عوامی سطح پر دو طرفہ رابطے تعطل کا شکار ہیں۔

پا کستان اپنے تمام پڑوسی ممالک سے برابری کی بنیاد پر بہتر تعلقات کا خواہاں ہے، مگر بھارت کا رویہ جاریحانہ رہا ہے۔ بھارت امن کی کاوشوں کو پا کستان کی کمزوری سمجھنے لگا ہے۔ بھارت پر جنگی جنوں سوار ہے، اسی لیے اپنے دفاعی بجٹ کو 73.65 ارب ڈالر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، اس رقم سے نئے اور جدید ہتھیار خریدے جا رہے ہیں۔ چند روز قبل ہی فرانس سے رافیل لڑاکا طیاروں کی پہلی کھیپ بھارت پہنچی ہے۔ بھارت نے اس بجٹ میں سے 18.52 ارب ڈالر صرف ہتھیاروں کی خریداری کے لئے مختص کیے ہیں۔

بھارت کی جنگی تیاریوں نے پاکستان کے لئے بجا طور پر خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ اس صورت حال میں پاکستان خاموش نہیں رہ سکتا، پاکستان اپنی دفاعی ضرورتوں کے مطابق ٹیکٹیکل ہتھیاروں سمیت جدید اسلحہ کے حصول و تیاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ مزائل پروگرام سے لے کر جدید ٹینکوں کی تیاری تک پاکستان کی دفاعی استعداد کا ثبوت ہے۔ اگر چہ پا کستان نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے بعد عالمی مارکیٹ سے ہتھیاروں کی خریداری کافی حد تک کم کر دی ہے، زیادہ تر ضروریات مقامی سطح پر پوری کی جا رہی ہیں۔

بھارت بے شک موذی سانپ کی طرح پاکستان کی سلامتی کے خلاف اپنی زہر ناکیوں کا سلسلہ جاری رکھے، مگر ایٹمی قوت سے ہمکنار ہونے کے بعد سے پاکستان پر دوبارہ باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی جرات نہیں کر سکتا، البتہ اس وقت ہندو انتہاء پسندوں کی نمائندہ بھارت کی مودی سرکار نے اپنی جنونیت اور توسیع پسندانہ عزائم کے باعث دونوں ایٹمی ممالک کو ایک دوسرے کے مقابل ضرورلا کھڑا کیا ہے جو د نیا امن کے لیے کسی بڑے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ ہر صورت حال میں تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بار بار عالمی ادارے اور بڑے ممالک سے موثر کردار ادا کرنے کا کہاہے۔ صدر ٹرمپ بھی بار ہا دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیش کش کرچکے ہیں، مگر تمام ثالثی کاوشیں مفادات کے ورق میں لپٹے ہو نے کے سبب کار گرثابت نہیں ہو رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب بھارت نے اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارت صرف پاکستان سے ہی نہیں، دیگر ہمسائیوں سے بھی پنگے بازی کر رہا ہے، چندماہ قبل لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر چینی فوجیوں سے لڑائی شروع کر دی جس میں اسے کافی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑاہے، اس کے باوجود مودی سرکار کے جنونی توسیع پسندانہ عزائم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور اسک سول اور عسکری قیادتیں آج بھی ہذیانی کیفیت میں پاکستان کی سلامتی کوچیلنج کرتی نظر آتی ہیں۔

عساکر پاکستان ملک کے دفاع کے حوالے سے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے غافل نہیں، وہ اندرونی و بیرونی ہر محاذ پر دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر اس کی گھناؤنی سازشیں ناکام بنارہی ہیں، جبکہ آج بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کو بھانپ کر چین اور ایران بھی دفاعی اقدامات اور منصوبوں میں ہمارے ہمقدم ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی گزشتہ روز اسی تناظر میں دوٹوک انداز میں بھارت کو خبر دار کیا ہے کہ ہماری دفاعی اور اپریشنل تیاریاں مکمل ہیں اور ہمیں اشتعال دلایا گیا تو پوری قوت سے جواب دیا جائے گا، ایک مرد مجاہد نے دشمن کو للکارتے ہوئے باور کروایا ہے کہ ملک کا دفاع جری و بہادر اور مشاق و مضبوط عساکر پاکستان کے ہاتھوں میں مکمل محفوظ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply