لوگ کیا سوچیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ساری زندگی ایک جملے سے پریشان رہتے ہیں کہ لوگ کیاکہیں گے اور لوگ آخر میں کہتے ہیں ”ہم بھلا کیا کہہ سکتے ہیں“ ۔

کوئی لڑکی ساون کے موسم میں چھت کی بارش میں اپنے کپڑوں میں نہانا چاہتی ہو مگر ایسا کر نہیں کر پائے گی کیوں کہ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ یہی سوچے گی کہ لوگ کیا سوچیں گے۔

کوئی شخص بے طرح رونا چاہتا ہو۔ وہ دکھی ہو مگر اسے ساری زندگی اسے یہی سکھایا گیا ہوگا کہ مرد روتے نہیں پھر بھی چاہ کر بھی وہ کسی کے سامنے نہیں رو نہیں پائے گا کیوں کہ وہ یہی سوچتا ہوگا کہ اگر وہ رویا تو لوگ کیا سوچیں گے۔

کسی سخت ماحول میں پلنے والے لڑکے /لڑکی کو گانا گانے کا شوق ہو۔ وہ چھپ چھپ کر گنگناتا ہو۔ سر کی لے پر جھوم اٹھتا ہو اورتال پر جی اٹھتا ہو مگروہ یہ سب چھپ کر کرتا ہوگا کیوں وہ بھی یہی سوچتا ہوگا کہ اگر اس نے کھل کر کچھ ایسا کیا تو لوگ کیا سوچیں گے۔

کوئی شخص موٹا ہو۔ کالا ہو۔ لوگوں کو وہ خوب صورت نہ لگے تو لوگوں سے ملنے سے کترائے گا یہی سوچ اسے جینے نہیں دیتی کہ وہ ان کے سامنے گیا تو پھر لوگ اس کے بارے میں کیا سوچیں گے۔

اگر کوئی لڑکی ہو تو اسے ہمیشہ ایک بات یاد رکھنے کی ضرورت ہوگی کہ اس کے لیے وقت پر رشتے آرہے ہیں یا نہیں۔ جہیز دے پائے گی یا نہیں۔ اسے مختلف سوالات کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا جیسا کہ ”تم اتنی کالی کیوں ہو؟ تمھاری عمر کتنی ہے؟ زیادہ لگتی ہے۔ ابھی تک گھر بیٹھی ہوئی ہو شاید کماتی ہوگی؟ جلدی سے اپنے گھر کی ہو جاؤ اور ان سب طعنوں سے بچنے کے لیے خواہ کسی بڑی عمر کے ذہنی مریض سے ہی شادی نہ کرنی پڑے وہ کرے گی کیوں کہ اسی طرح گھر میں پڑی رہے تو پھر لوگ کیا سوچیں گے۔

اگر کسی لڑکے نے میڑک، ایف اے، بی اے، ایم اے کر لیا ہے تو کوشش یہی کرے گا کہ مقابلے کے امتحانات دے کر اس میں کامیاب ہو جائے نہیں تو گورنمنٹ کی کوئی معمولی تنخواہ والی ملازمت پر بھرتی ہو جائے۔ وہ ہمیشہ خود کو اس مقابلے کی دوڑ کے لیے تیار کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس نے مقابلے کا امتحان پاس کر لیا تو وہ غریب رشتے داروں سے ملنا اپنی توہین سمجھے گا۔ وہ سوسائٹی میں ناک اونچی کرنے کے لیے ہر ممکن جتن کرے گا۔ وہ ایسا کردار ہوگا جو کسی بھی موقع پر تعلیمی مضامین کا انتخاب بھی اپنی مرضی سے نہیں کر پائے گا مستزاد ڈگری لینے کے بعد اگر اسے ڈھنگ کی ملازمت نہ ملی تو وہ محنت مزدوری نہیں کر پائے گا۔ کسی جگہ ریڑھی لگانے کو اپنی شان کے خلاف سمجھے گا کیوں کہ اگر اس نے یہ معمولی کام کیے اور اگر مضامین کے انتخاب اور دیگر معاملات میں اپنی مرضی کی تو یہی جملہ اسے نہیں جینے دے گا کہ لوگ کیا سوچیں گے۔

کوئی شادی شدہ جوڑا ہو مگر ان کے درمیان شدید ذہنی اختلافات ہوں یہاں تک کہ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر سکتے ہوں مگر پھر بھی سہہ رہے ہوں گے۔ تشدد، ذہنی گھٹن ان کے درمیان عام شے ہوگی۔ وہ یہ سب اس لیے برداشت کر رہے ہوں گے کیوں کہ اگر وہ الگ ہوگئے تو لوگ کیا سوچیں گے۔

کوئی شخص ڈپریشن کا مریض ہو اور خود کو ذہنی لحاظ سے کمزور محسوس کر رہا ہو مگر وہ چپ چاپ اپنی تکلیفوں کوبرداشت کر رہا ہوگا کیوں کہ اگر اس نے کسی کے سامنے ان بیماریوں کا اظہار کیا تو لوگ پھر اس کے بارے میں کیا سوچیں گے۔

کوئی بھی ایسا کردارجو لڑکا/لڑکی یا کوئی بھی دیگر کردار ہو اور جس کے ساتھ اس کے لیے قابل احترام کوئی رشتہ زیادتی کرتا ہو۔ اسے بلیک میل کیا جاتا ہو مگر ایک دن وہ رسی سے لٹک کر جان دے گا/گی مگر کردار کو بے نقاب نہیں کرپائے گا کیوں کہ اسے ڈر ہے اگر وہ اس مقدس کردار کے بارے میں کچھ بولا تو لوگ کیا سوچیں گے۔

کوئی شخص مردانہ وصف سے محروم ہو۔ بچہ جننے کی صلاحیت نہ رکھتا ہوتب بچہ نہ ہونے کا الزام بیوی اپنے اوپر لے لے گی اور ساری زندگی ساس سمیت ہر ایک کے طعنے سنے گی کیوں کہ وہ بھی اسی ڈر کا شکار رہے گی کہ اگر وہ کچھ بولی تو لوگ کیا سوچیں گے۔

پھرایک دن یہی سوچتے سوچے دوسروں کے لییے جیتا ہوا انسان مٹی میں مل جائے گا اور دفن کرنے والے یہی کہ کر واپس آئیں گے۔

کاش اس نے اپنے بارے میں بھی کچھ سوچا ہوتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *