کیا جنگ مذاق ہے؟

  کسی نے پوچھا جنگ سے کیا ملے گا؟ کون سا سکون ملے گا؟ کیا امن آئے گا؟ کیا ہم بہتر معیشت بن سکیں گے؟ ہمارے ہاتھ میں کیا آئے گا؟ ایک بوڑھی ماں جو ڈیوڑھی پر روز چادر پھیلائے جوان بچے کا انتظار کرتی ہے۔ وہ اس جنگ کے اثرات کو جانتی ہے۔ وہ بہن جس کے ہاتھوں میں مہندی لگی ہے اور جس کی آنکھوں میں دل سے قریب بھائی کی محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جاگ رہا

Read more

پھکڑپن اور عامیانہ جملوں کی شکار عورت

دیکھئے وومن ورڈ میں سے ایس یعنی سینس نکال دیں تو کیا بچے گا۔ اینکر نے ایک خاتون کو روک کر سوال کیا۔ لیکن وومن ورڈ میں تو ایس آتا ہی نہیں۔ خاتون نے حیرانی سے جواب دیا۔ جی ہم یہی تو کہتے ہیں۔ وومن میں ایس نہیں ہے۔ اور آگے سے ایک لافنگ ری ایکٹ۔ ایک اور جگہ ٹک ٹاک ویڈیو میں ایک لڑکا لڑکی کے پاؤں پر نوکیلی چیز سے ایذا پہنچاتا ہے۔ لڑکی دفاعی انداز میں کہتی

Read more

دوسرا رخ

پچھلے کچھ دنوں سے وہ عالمی مسئلوں پر بے طرح بول رہا تھا۔ جب وہ ان مسائل پر گفتگو کرتا تو اس کی آنکھوں کی چمک تیز ہو جاتی۔ ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے اس کے دل کی دھڑکن ہر آن تیز ہو رہی ہے۔ وہ مجھے ہر روز بائیکاٹ کے لیے کہتا۔ میں اگرچہ غیر ملکی مصنوعات کم ہی استعمال کرتا ہوں لیکن اس کا طرز عمل مجھے قابل رشک لگتا تھا۔ وہ میرے تخیل میں ارفع درجے پر

Read more

گلگت بلتستان کا مسئلہ کیا ہے؟

پچھلے کچھ دنوں سے گلگت بلتستان کے عوام شدید سردی میں سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ منفی دس سے نیچے کے درجہ حرارت میں یہ لوگ اس سرد موسم میں اپنے حقوق کی باتیں کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ مزید یہ احتجاج وسیع یا قلیل پیمانے پر ملک کے دیگر شہروں جیسے لاہور میں پریس کلب، کراچی سمیت ہر شہر میں ہو رہے ہیں۔ عوام اس بات پر بھی نالاں ہے کہ منفی دس سے نیچے درجہ حرارت میں

Read more

نئی عالمی وبا اور ہماری لاعلمی

وقت گزرتا جا رہا ہے۔ فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ لاہور شہر جو کبھی باغات اور پارکوں کا خوب صورت شہر ہوتا تھا اب وہاں اداسی نے ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ یہاں کی سوندھی فضا خراب ہو چکی ہے۔ پھول اپنی خوشبو کھو چکے ہیں اور تاباں اور روشن چاند رات کو روشنی کے ساتھ اداسی کا پیغام بھی پھیلاتا ہے۔ میرا شہر ایسا کبھی نہیں تھا۔ کبھی یہاں جگنو چمکتے تھے۔ گوالمنڈی کی پیڑہ لسی کا وہ سواد کہیں

Read more

عورت مال غنیمت نہیں

شام کے سائے پارک میں لہرا رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اندھیرا ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لینے والا تھا۔ ریس کورس پارک میں چہل پہل اسی طرح تھی۔ میں بھی چند دوستوں کے ہمراہ وہاں گھومنے گیا ہوا تھا۔ جوانوں کی ٹولیاں در ٹولیاں گھوم پھر رہی تھیں۔ جشن بہار کا میلہ لگا ہوا تھا۔ تبھی میں نے دیکھا کہ جوان لڑکوں کی ایک ٹولی، دو لڑکیوں کے پیچھے گھوم رہی ہے۔ وہ لڑکیاں خاصی پریشان تھیں۔ شاید

Read more

لوگ کیا سوچیں گے؟

ہم ساری زندگی ایک جملے سے پریشان رہتے ہیں کہ لوگ کیاکہیں گے اور لوگ آخر میں کہتے ہیں ”ہم بھلا کیا کہہ سکتے ہیں“ ۔ کوئی لڑکی ساون کے موسم میں چھت کی بارش میں اپنے کپڑوں میں نہانا چاہتی ہو مگر ایسا کر نہیں کر پائے گی کیوں کہ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ یہی سوچے گی کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ کوئی شخص بے طرح رونا چاہتا ہو۔ وہ دکھی ہو مگر اسے ساری زندگی اسے

Read more

چند دن پہلے بابوسر سانحے میں جاں بحق ہونے والی ایک چھوٹی بچی کا خط

پیارے انکل! مجھے امید ہے آپ مجھے یاد کرتے ہوں گے۔ میری آنکھیں یہاں بھی آپ لوگوں کو تلاشتی ہیں۔ مجھ سے قدرے فاصلے پر بابا ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ آج بھی اس جاں سے جانے والے لمحے کو بھول نہیں پاتے۔ آپ نہیں جانتے مگر انکل جی!اس حادثے سے دو دن پہلے میں نے بابا کی گود میں بیٹھ کر کتنی سلفیاں لی تھیں۔ کتنی دیر ان سے لپٹی رہی تھی۔ جب انہوں نے پیار سے میری پیشانی پر

Read more

رمضان سے پہلے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی عید

چند دنوں پہلے ایک ذخیرہ اندوز صاحب سے ملاقات ہوئی۔ پوچھا کام کیسا جارہا ہے۔ کہنے لگا کام منزل کی جانب رواں دواں ہے۔
”اورجناب کی منزل کیا ہے؟“
اس پر مسکرائے اور کہنے لگا۔
”ہماری منزل رمضان ہوتی ہے۔ آپ رمضان کے بعد عید کرتے ہیں جب کہ رمضان ہمارے لیے عید کا مہینہ ہوتا ہے۔“

Read more

دادا، پوتا اور دہشت گردی

دادا یہ موت کیا ہوتی ہے؟ بچے کو بیٹھے بٹھائے پتا نہیں کیا سوجھی۔ دادا: پتہ نہیں بیٹا اب تو یہاں یہ پتہ کرنے کی ضرورت ہے کہ زندگی کیا ہوتی ہے۔ پوتا: دادا جی لوگ کیوں ایک دوسرے کو کیوں مارتے ہیں۔ جسے ہم دہشت گردی کہتے ہیں۔ دادا: بیٹا کیونکہ لوگ ایک دوسرے کو زندہ نہیں رکھ سکتے اس لئے مار دیتے ہیں۔ پوتا: پر دادا کیوں؟ کیوں وہ ایک دوسرے کو زندہ نہیں رکھ سکتے۔ دادا: تمہیں

Read more

مختصر کہانی: بربادی کی وجہ

وہ نیا نیا مسلماں ہوا تھا۔ اس نے اپنے تئیں مطالعہ کرکے اسلام کو دل سے اپنایا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ مسجد میں عبادت سرانجام دے۔ اسے بتایا گیا تھا کہ مسلمان اپنی عبادت مسجد میں کرتے ہیں اور مسجد اللہ کا گھر اور مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ وہ گزشتہ کئی دنوں سے سفر کررہا تھا۔ آج بھی عازم سفر تھا تبھی کسی خیال کے تحت وہ بس سے اترا اور راستے میں موجو دقریبی مسجد میں چلا گیا۔لیکن اسے گیٹ پر ہی روک لیا گیا۔مسجد پر ”اسلامی مسجد“ کے عنوان سے نصب شدہ بورڈنظر نہیں آرہا تھا، صرف فرقے کے نام کا ٹیگ تھا۔حالات ٹھیک نہیں ہیں لہذا آپ اندر نہیں جاسکتے۔ پہلے اپنے بارے میں بتائیے۔ چوکیدار نے اسے روکتے ہوئے پوچھا۔جی مذہب اسلام سے تعلق رکھتا ہوں۔ نو مسلم ہوں۔ نماز پڑھنے کے لیے آیا ہوں۔ اس کو یہی جواب سوجھا۔

Read more

!ڈئیر وزیر اعظم آف پاکستان

سر! ہر طر ف آپ کی تقریر کی باتیں ہورہی ہیں۔ ہر کوئی آپ کی تقریر کے اقتباس پیش کر رہا ہے۔ پورے ملک کو آپ سے امید سی ہو چلی ہے۔ غریب آپ کو اپنا مسیحا سمجھ رہے ہیں۔ محنت کشوں کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہیں۔ بیوہ عورتیں اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہی ہیں۔ سر! مجھے بھی آپ سے امید ہے۔ میں نے بھی آپ سے وہی امیدیں وابستہ کی ہیں جو عام پاکستانی نے وابستہ

Read more

سوشل میڈیا اور عوام کی تربیت

کسی زمانے میں سنتے تھے جب دریا سو سال کا ہو جاتا ہے تو اپنا رخ موڑ لیتا ہے، اور مخالف سمت میں بہنا شروع کر دیتا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے جو کچھ سوشل میڈیا میں دیکھنے کو مل رہا ہے، اس سے اس مثال کی تصدیق سی ہو چلی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے آپ کو یاد ہوگا، جسٹن بیبر کے گانے کی دو دیہاتی لڑکیوں نے نقالی کی تھی، بس پھر کیا تھا۔ دونوں بہنیں سوشل میڈیا کی

Read more