کراچی کا مقدمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی دنیا کے چند بڑے شہروں میں سے ایک اور پاکستان کی معاشی سرگرمیوں کا مین مرکز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی چند ریاستوں کی آبادی سے زائد آبادی کا حامل شہر ہے۔ اس شہر کو لے کر آج کل میڈیا میں ایک ہجان برپا ہے۔ اتنے بڑے شہر کے مسائل دراصل اس رائج الوقت نظام کی دن بدن بڑھتی ناکامی کے ساتھ جڑے ہیں۔

کراچی اگر معاشی حب ہے تو پھر یقیناً محنت کشوں کا حب بھی ہوگا اور قیام پاکستان سے لے کر ایوبی آمریت کے دور تک ہر سیاسی عمل میں اس شہر کے محنت کش عوام نے بھرپور کردار ادأ کیا۔ ایوب خان کے عہد میں ایک طرف ملک کی معاشی ترقی کے دعوے ہو رہے تھے لیکن دوسری طرف محنت کش عوام کی زندگیاں اجیرن ہو رہی تھیں اور طبقاتی تفریق بڑھ رہی تھی اور اسی طبقاتی تفاوت نے محنت کشوں میں ایک بغاوت اور ایک سرکشی کو جنم دیا تھا جس کا اظہار چٹاگانگ سے کراچی تک 1968، 69 کی عوامی تحریک کی صورت میں ہوا تھا اس انقلابی اور طبقاتی تحریک کی کوکھ سے پاکستان پٔیپلز پارٹی نے جنم لیا تھا۔

اس کے نتیجے میں یہ شہر پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ بن گیا تھا اس لیے کہ اس شہر کے محنت کش باسیوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کے بنیادی منشور سائنسی سوشل ازم کے ذریعے اپنی اور ملک کی تقدیر بدلنے کی ٹھان لی تھی، یوں یہ شہر معاشی حب کے ساتھ ساتھ ترقی پسند اور انقلابی سیاست کا حب بن گیا تھا۔ پھر 1970 کے الیکشن میں بھرپور کامیابی کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس شہر کی ترقی کے لیے سٹیل مل، سرکلر ریلوے، پورٹ قاسم جیسے دیگر منصوبوں کے ذریعے محنت کشوں کے اعتماد کو مزید بہتر بنایا تھا۔

لیکن ملک کی طرح کراچی کی بدقسمتی کا آغاز بھی 5 جولائی 1977 سے ہوا۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے نتیجے میں اس شہر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کے ضیا آمریت کے خلاف بھرپور مزاحمت کا آغاز کیا اور ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور آئےروز کے احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں کا توڑ کرنے کے لیے پہلے ٹریڈ یونین پہ پابندیاں عائد کی گئیں اور پھر طلبا ٔ یونین پہ پابندی لگا دی گئی۔

یہاں سے کراچی کی روشنیوں اور اس کی خوبصورتی کو چھننے کا بھیانک کھیل کھیلا گیا جس کے لیے پہلے پاکستان کی اشرافیہ نے اسلامی جمعیت طلبا ٔ کے ذریعے تعلیمی اداروں پہ مسلحہ جتھوں کا قبضہ کروایا اور باقی ماندہ کسر ایم کیو ایم جیسی لسانی تنظیم کے قیام سے پوری کر دی اور کراچی کو ترقی پسند سیاسی کارکنوں اور محنت کشوں کے کنٹرول سے نکالنے کے لیے ریاستی سرپرستی میں ان مافیاز کو پروان چڑھایا گیا۔ ایم کیو ایم کے ذریعے ہر گھر اور کارخانے میں اسلحہ کا ڈھیر لگا دیا گیا۔

اشرافیہ نے 1988 میں ضیا ٔ کی موت کے بعد ہونے والے الیکشن میں ریکارڈ ساز دھاندلی کے ذریعے ایم کیو ایم کو پارلیمانی طاقت بھی بنایا وہ دن اور آج کا دن اشرافیہ اور ان کے یہ پالتو کراچی کے خدا بنے بیٹھے ہیں۔

اگرچہ 90 کی دہائی میں نواز شریف اور بی بی شہید نے ان کے خلاف آپریشن کے ذریعے کراچی کو آزاد کرانے کی کوشش کی لیکن خاطر خواہ کامیابی نہ ہو سکی اور اسی دہائی کے آخر میں جنرل مشرف کی آمریت نے اس گٹھ جوڑ کو مزید مستحکم کرتے ہوئے ان مافیاز کو لوٹ مار اور زمینوں نالوں اور شہر کے اہم مقامات پہ قبضے کی کھلی چھوٹ دے رکھی اور 1985 سے شہر کے ہر ادارے میں مافیاز کو بھرتی کرنے اور مکمل کنٹرول کے ہر عمل کو میمز کیا۔

جن میں کے ایم سی، واٹر بورڈ اور دیگر ادارے قابل ذکر ہیں۔ ان مافیاز نے گزشتہ 35 سالوں میں تجاوزات قبضوں کے ذریعے شہر کے ہر ندی نالٔے پہ عالی شان تعمیرات کے ذریعے بے ہنگم آبادی کاری کے ذریعے شہر کے انفراسٹریکچر کو تباہ و برباد کیا اورپھر مافیاز کو ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر ایم کیو ایم کا تیاپانچہ کیا گیا اور ایک خوفناک آپریشن کے ذریعے ان کے ٹھکانوں کو توڑا لیکن شہر کو ایک نئی شکل کے مافیا کو تبدیلی کے نام پہ کراچی میں پروموٹ کیا گیا۔

اب کراچی کے مسائل کا حل سائنسی منصوبہ بندی کے ذریعے ایک کثیر بجٹ کے متقاضی ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی آونر شپ کا تقاضا کر رہے ہیں

مختصراً یہ کہ ملک کے جملہ مسائل کی طرح کراچی کے مسائل کا حل بھی منصوبہ بند معیشت کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہیں دوسرا ہر ٹوٹکا اس شہر کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنائے گا۔

سرمایہ دارانہ نظام بنیادی طور پہ مافیاز کو پروان چڑھانے والا نظام ہے اس کے خاتمے کے بنا کوئی ایک بھی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا اور اس نظام کا دیوالیہ پن حالیہ وبا میں کھل کر سامنے آیا ہے یعنی اب اس نظام کا باقی رہنا انسانیت کے خاتمے کا باعث ہو گا کیونکہ اس نظام کا حتمی مقصد سرمایہ کا لامتناہی ارتکاز ہے ناکہ اس سرمائے کا انسانیت کی فلاح اور ترقی اس وبا ٔ کے کنٹرول ہو جانے کے بعد دنیا ایک نئی انگڑائی لے گی اور کرہ ارض کے محنت کش ایک نئے جذبے کے ساتھ سرمایہ دارانہ وحشت سے ٹکرانے کے لیے نکلیں گے اور پاکستان میں بھی اس کے اثرات پڑھنے ہیں اور اب کی بار اس کو فیصلہ کن مرحلے تک لے جانا ہو گا اس کے لیے اس ملک کے ہر ادارے ہر فورم اور محنت کش طبقے کی ہر ایک پرت میں انقلابی سائنسی اور جمہوری سوشلزم کے نظریات کو تیزی کے ساتھ لے جانے کے لیے اجتماعی دانش کو بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو کراچی سمیت پورے ملک کو اس بوسیدہ نظام اور مافیاز اور اسٹبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ کو توڑ کر حقیقی آزادی کی طرف لے جا سکتا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *