نیب کے پہاڑ تلے آئے اونٹ کا بلبلانا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق بدعنوانی کے الزام میں مجرم قرار دیے گئے اور انہیں بارہ برس جیل کی سزا ہوئی۔ ان پہ دس ملین ڈالر ملیشیا کے ترقیاتی منصوبوں سے خورد برد کا الزام تھا۔ دنیا بھر میں بدعنوانی بھی رائج ہے لیکن سمجھدار حکومتیں اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی خاطر اس کے سد باب بھی تلاش کرتی ہیں۔ برادر ملک ترکی، ملیشیا سعودی عرب والی مثالیں سامنے ہیں جہاں انسداد رشوت ستانی کی مہم کامیاب ہوئی۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2017 میں متعدد شہزادوں کو جو بدعنوانی میں ملوث تھے، بلا کر ایک ہوٹل میں قید کر لیا تھا۔ انہیں رہائی اسی وقت ملی جب انہوں نے اقبال جرم کیا اور لوٹی ہوئی دولت واپس کی۔ اطلاعات کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے 406 بلین ڈالر لوٹی ہوئی رقم واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرائی۔

دوسری جانب ہمارے سامنے چین کی مثال ہے۔ برادر ملک چین انتہائی غریب اور پسماندہ تھا لیکن دینگ ژیاؤ پنگ کی جدید معاشی پالیسیوں پہ عمل کر کے چین ایک معاشی طاقت بن گیا۔ اچانک دولت آ جانے سے بدعنوانی اور رشوت ستانی میں بھی اضافہ ہو گیا۔ 2013 میں جب موجودہ صدر شی جن پنگ نے اقتدار سنبھالا تو بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی خاطر بہت سخت اقدامات اٹھائے۔ انسداد بدعنوانی کی زد میں آنے والے بڑے چھوٹے سب سے یکساں سلوک کیا گیا۔ گورنروں، جرنیلوں، سیاست کے اہم ستون جو بھی بدعنوانی میں ملوث پایا گیا اسے سخت سزائیں سنائی گئیں، زیادہ سنگین جرم کی پاداش میں سر بھی قلم کیے گئے اور چینی معاشرہ رشوت اور بدعنوانی سے پاک ہو گیا۔

پاکستان میں بد عنوانی بری طرح پھیلی ہوئی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2017 کی رپورٹ کے مطابق 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان بدعنوانی کے اعتبار سے 117 ویں نمبر پہ تھا۔ 1947 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں مضبوط حکومتیں نہیں قائم ہو سکیں۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ آزادی کے بعد شدید علالت میں مبتلا ہو گئے اور 11 ستمبر 1948 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کے دست راست قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خانؒ جنہوں نے اپنی تمام دولت اور جائیداد پاکستان پہ لٹا دی تھی اور سادہ زندگی بسر کرتے تھے، رشوت ستانی اور بدعنوانی کے خلاف تھے لیکن 16 اکتوبر 1951 کو انہیں شہید کر دیا گیا۔ ان کے بعد جتنی حکومتیں آئین وہ سیاسی طور پر کمزور تھیں لیکن معاشی طور پر انہوں نے قومی خزانے کو بری طرح لوٹا۔ متعدد مرتبہ جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹ کر فوج قابض ہوئی جس کے باعث احتساب ادارے بھی قدم نہ جما سکے۔

جنرل ضیا الحق کے انتقال کے بعد بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف دو مرتبہ اقتدار میں رہے لیکن بد عنوانی کے الزامات میں ان کی حکومتیں ختم کر دی گئیں۔ 2008 میں نو برس کے وقفے کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت آئی۔ لیکن اس نے بد عنوانی کے سابقہ رکارڈ توڑ دیے۔ 2013 میں میاں نواز شریف کی حکومت قائم ہوئی لیکن اس دور بھی بدعنوانی کا بول با لا تھا۔

2018 میں پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں پہلی دفعہ برسر اقتدار آئی۔ اس نے لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانے اور بدعنوان سیاست دانوں کو قانون کے دائرے میں لاکر قرار واقعی سزا دینے کا وعدہ کیا تھا۔

فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور میں قومی احتساب بیورو 16 نومبر 1999 کو قائم کیا گیا۔ اس ادارے کے ذمہ بدعنوانی، رشوت ستانی اور اقتصادی جرائم کا خاتمہ اور معاشی دہشت گردی کو ختم کرنا تھا۔ قومی احتساب بیورو جسے نیب کا نام دیا گیا یعنی نیشنل اکاؤنٹبلٹی بیورو تحقیقات کے بعد مجرموں کو خصوصی احتساب عدالت میں مقدمہ چلا کر سزا دلوا سکتی ہے۔ احتساب بیورو آرڈنینس کو تحت سزا یافتہ افراد کو دس برس تک سیاسی عہدہ رکھنے کی ممانعت ہے۔

عمران خان نے برسر اقتدار آتے ہی احتساب بیورو کو بدعنوان سیاست دانوں کو قانون کے دائرے میں لانے کے احکامات جاری کیے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) کے دور حکومت میں حزب مخالف کو ہراساں کرنے کی خاطر احتساب بیورو کو استعمال کیا جاتا رہا۔ عمران خان کے دور حکومت میں ان کے قریبی رفقا بھی احتساب کی تلوار کے وار سے نہ بچ سکے۔

مختلف ادارے بدعنوانی کے مقدمے احتساب بیورو کے دائرہ تحقیق میں آئے جن میں بجلی کے پروجیکٹس، حج کے انتظامات میں بد عنوانی، مختلف ممالک سے گیس درآمد کرنے، اسٹیل مل، پی آئی اے، بیرون ملک اثاثے، الغرض متعدد کیسوں میں سیاست دانوں کے خلاف تحقیقات ہوئیں اور مقدمے دائر ہوئے۔ حکومت وقت کے بھی کچھ اراکین کے خلاف بھی تحقیقات ہوئیں۔

چونکہ حزب مخالف خصوصی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) کے اراکین کے خلاف سنگین مقدمے ہیں وہ اب چاہتے ہیں کہ احتساب بیورو کے آرڈنینس میں تر میم کی جائے اور ایسے قوانین لاگو کیے جائیں جن کی وجہ سے وہ سب بچ جائیں۔ حکومتی ارکان میں سے چند افراد جو بدعنوانی مقدموں میں زیر عتاب آسکتے ہیں وہ بھی حزب مخالف کے ہم نوا بن کر ترامیم کے حامی ہیں۔ احتساب بیورو کے پہاڑ تلے دب کر اونٹ اب بلبلا رہا ہے۔ حکومت وقت یعنی عمران خان کو ڈٹے رہنا چاہے کہ احتساب میں ڈھیل نہ آئے۔ اعلیٰ عدلیہ کو بھی چاہیے کہ احتساب بیورو کو سنگین مقدمے نمٹانے میں مدد کرے تاکہ قومی مجرم وطن عزیز کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں اور انہیں قرار واقعی سزا ہو۔ عمران خان کو ان بدعنوان عناصر کے بلبلا نے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اور اپنے عزم اور مشن پہ ڈٹے رہنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply