عید گاہ میدان کے دروازے اور الطاف حسین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشرف کی طاقت کا آخری زمانہ چل رہا تھا۔ کراچی میں شہری حکومت بڑی تیزی سے کام کر رہی تھی اور کراچی کی زمینوں پر بھی بڑی تیزی سے قبضہ ہو رہا تھا۔ نارتھ ناظم آباد کے کئی قبضہ ہوچکے تھے۔ تب اچانک ناظم آباد کے مقبول عید گاہ میدان پر بھی کام شروع ہوا۔ لوگ ڈر گئے کہ شاید یہاں بھی ’چائنہ کٹنگ‘ شروع ہو گئی لیکن اس بار خدشہ غلط ثابت ہوا اور پتہ چلا کہ گراؤنڈ کی تزئین و آرائش ہو رہی ہے۔ خیر میدان کے ارد گرد دیواریں بنیں اور دروازے تیار ہوئے۔

ایک دروازے کا نام تھا ’باب مشرف‘ ، دوسرے دروازے پر ’باب عشرت العباد‘ لکھا تھا اور تیسرا دروازہ مصطفی کمال کے نام تھا۔ شاید میدان کا چوتھا دروازہ بھی ہو۔ خیر میری نظر سے یہی تین دروازے گزرے۔ یہ نام الطاف حسین کی ایم کیو ایم کی کراچی اور شہری سندھ میں اور سیاست میں طاقت کے ستون تھے۔ جنرل مشرف جس نے ایم کیو ایم کے سر پر ہاتھ رکھ کر اس کے تن مردہ کو دوبارہ زندہ کیا تھا۔ مشرف نے ایم کیو ایم کو حکومت میں آ کر پیسے بنانے کا راستہ سکھایا تھا۔

جس نے ڈکیتیوں اور موبائل چھیننے سے نکال کر متحدہ کو سرکاری ٹھیکوں اور زمینوں پر قبضے کا راستہ دکھایا تھا۔ اسی شخص نے ایم کیو ایم کو صرف شہری سندھ ہی نہیں دیا بلکہ وفاقی وزارتیں اور صوبے کی اہم ترین وزارتوں کے مزے بھی دیے۔ اس لیے مشرف تب ایم کیو ایم کے لئے کسی دیوتا کی حیثیت رکھتا تھا۔ مشرف کی شہ پر ایم کیو ایم کی ہر قسم کی بدمعاشی اور غنڈہ گردی سے آنکھ بند کر لی گئی۔ یادش بخیر 1992 ء سے 1999 ء تک ایم کیو ایم کے خلاف جن پولیس افسران نے آپریشن میں حصہ لیا ان میں سے کوئی بھی اس دور میں زندہ نہ بچا۔ مشرف کے آشیر باد سے متحدہ نے لانڈھی اور کورنگی ’فتح‘ کیے اور ’حقیقی‘ کے کارکنوں کا قتل عام کیا۔ لیکن تب متحدہ پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا۔ مشرف کا ہاتھ ان کے سر پر تھا۔

عید گاہ گراؤنڈ کے دوسرے دروازے پر لکھا عشرت العباد خان کا نام بھی الطاف حسین کی متحدہ میں بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ یہ شخص 2002 ء میں گورنر سندھ بنا اور 2016 ء تک گورنر رہا۔ مسلم لیگ ق اور متحدہ کی مخلوط حکومت کے دور میں یہ شخص عملاً سندھ کا وزیر اعلیٰ بھی تھا۔ یہ لندن اور اسلام آباد دونوں کا نمائندہ تھا۔ گورنر محض ایک علامتی رتبہ ہے لیکن اس شخص کو جس قدر طاقت حاصل تھی اور اس کی مدد سے لندن میں بیٹھے الطاف حسین کو جس قدر طاقت حاصل تھی یہ بات سندھ کے رہائشی اچھی طرح جانتے ہیں۔

عید گاہ گراؤنڈ کے تیسرے دروازے پر لکھا مصطفی کمال کا نام بھی متحدہ کے لئے اور الطاف حسین کے لئے بہت اہم تھا۔ 2000 ء میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کا متحدہ نے بائیکاٹ کیا تھا جس کے نتیجے میں کراچی کے ناظم جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان صاحب بن گئے تھے۔ انھوں نے اپنے دور اقتدار میں کراچی میں کرپشن سے پاک کام کیا۔ جب متحدہ نے اس سے اگلے انتخابات میں بلدیاتی حکومت قائم کی تو اس کو بھی کچھ کر کے دکھانا تھا ورنہ وہ اپنا ووٹ بینک کھو سکتی تھی۔

ایسے میں مصطفی کمال نے نعمت اللہ خان صاحب سے کئی گنا زیادہ کام کیا اور یہ متحدہ کی امیج سازی میں بڑا فائدہ مند ثابت ہوا۔ یوں متحدہ نے تین ’ہیرو‘ پا لیے۔ ایک وہ جس کی چھتر چھایا میں الطاف حسین کچھ بھی کر سکتا تھا یعنی پرویز مشرف۔ دوسرا وہ جو سندھ میں متحدہ کی حاکمیت اور طاقت اور وفاق سے اچھے تعلقات کا نشان تھا، یعنی عشرت العباد خان اور تیسرا وہ جس نے کراچی میں متحدہ کے ووٹ بینک کو بچایا اور اس کا مثبت تصور ملک کے سامنے پیش کیا، یعنی مصطفی کمال۔

لیکن وقت بڑی ہی ظالم طاقت ہے۔ وقت بدل جاتا ہے۔ ایک حکایت میں ہے کہ ایک شاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ مجھے ایک انگوٹھی پر کچھ ایسا لکھوا کر دو جس کو اگر میں غم میں دیکھوں تو غم دور ہو جائے اور خوشی میں دیکھوں تو خوشی بھی جاتی رہے۔ بادشاہ کے عجیب حکم کی تعمیل میں وزیر نے بڑی سوچ بچار کے بعد ایک انگوٹھی تیار کرائی جس پر یہ لکھا تھا ’یہ وقت بھی گزر جائے گا‘ ۔ کاش ایسی کوئی انگوٹھی جنرل مشرف اور الطاف حسین کے پاس ہوتی۔

2008 کے انتخابات کے بعد مشرف کے تخت کے پائے ہلنے لگے۔ یہ متحدہ کے لئے مشکل وقت تھا۔ اس کے روایتی حریف اب دوبارہ اسلام آباد کے ایوان اقتدار میں پہنچنے والے تھے لیکن اس کو لگتا تھا کہ وزیر اعظم کوئی بھی بنے، صدر مشرف ہی رہے گا۔ لیکن جب صدر کے مواخذے کی بات سامنے آئی تو مشرف کو جانا پڑا۔ اب متحدہ یتیم ہو گئی۔ عید گاہ گراؤنڈ کے ایک دروازے سے اب متحدہ پر نعمتوں کا نزول بند ہو گیا تھا۔

الطاف حسین نے اب پیپلز پارٹی سے فلرٹ شروع کیا۔ لیکن پیپلز پارٹی کو سندھ میں یا وفاق میں حکومت بنانے کے لیے متحدہ کی ضرورت تھی ہی نہیں۔ جس قدر سینہ پھلا کر الطاف حسین حکومت سے مشرف کے دور میں ڈیل کیا کرتے تھا، اب وہ ممکن نہ رہا۔ اب الطاف کا اقتدار اور طاقت سکڑنے لگے۔ اسی دور میں مصطفی کمال کی نظامت بھی ختم ہوئی اور پیپلز پارٹی بلدیاتی انتخابات کراتی نظر بھی نہ آئی۔ پارٹی کو حکومت سے پیسے بنانے کا جو فارمولا مشرف نے دیا تھا وہ ناکام ہونے لگا۔ اس دور میں بدمعاشی اور غنڈہ گردی سے پیسہ بنانے کے لئے کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز امن کمیٹی بھی آ گئے۔ اس دور میں کراچی میں خوفناک ترین بہیمیت دیکھنے میں آئی۔ متحدہ کی طاقت اور حلقہ اثر سکڑ رہا تھا۔

یہاں ایک اور بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ مقتدرہ کے پاس ایک عرصے سے تین جماعتوں کے لئے مائنس ون فارمولا تھا۔ پیپلز پارٹی میں یہ فارمولا بینظیر کی موت سے موثر ہو گیا۔ اس کے بعد الطاف حسین کی باری آئی اور اب نواز شریف بھی اس کی زد میں آ چکے ہیں۔ خیر مقتدرہ ایک دراز عرصے سے متحدہ پر یہ فارمولا لاگو کرنا چاہ رہی تھی۔ اس بات پر متحدہ کے تمام ہی قائدین اندرون خانہ تیار تھے، لیکن کسی جرات اس لیے نہ ہوتی تھی کہ الطاف حسین کے ڈیتھ اسکواڈ کی دہشت بڑی شدید تھی۔

متحدہ اپنے منحرف کارکنوں تو کیا قائدین تک کو بے حد بہیمیت سے مار دیا کرتی تھی۔ دوئم بات یہ تھی کہ عظیم طارق کی موت کے بعد الطاف حسین کے قریب ترین سینئر لیڈر صرف عمران فاروق ہی باقی تھا۔ وہ اس بات پر تیار تھا تو الطاف حسین کے ڈیتھ اسکواڈ نے لندن میں بھی اپنا کام کر دیا۔ لیکن مقتدرہ اپنا کام کرتی رہی اور اس نے مصطفی کمال

کو اور عشرت العباد کو لندن کے لوپ سے توڑ لیا۔ 2016 میں پاک سرزمین پارٹی کا وجود عمل میں آیا اور اس سے پہلے ہی عشرت العباد خان متحدہ سے منحرف ہو چکے تھے لیکن وہ پھر بھی گورنر سندھ تھے۔ متحدہ پر 2016 ء میں سخت ترین کریک ڈاؤن ہوا اور الطاف حسین کی 22 اگست کی تقریر کے بعد بالآخر ”مائنس ون“ ہو ہی گیا۔

اب الطاف حسین کی تقریروں پر سر دھننے والے ہیں نہ ہی وہ ہزاروں لاکھوں لوگ ہیں جو جلسوں میں آتے تھے یا لائے جاتے تھے۔ اب متحدہ کے پانچ ٹکڑے ہو چکے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان، ایم کیو ایم حقیقی، ایم کیو ایم لندن، پاک سرزمین پارٹی، اور وہ یتیم حصہ جو کہ سلیم شہزاد مرحوم کے قابو میں تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ ایک جماعت مستقبل میں کبھی عشرت العباد خان بھی بنا سکتا ہے۔ جبکہ ندیم نصرت اور واسع جلیل میں بھی شدید اختلافات ہیں۔

کیا کوئی 2002 ء سے 2008 ء تک یہ کہہ سکتا تھا یا کیا کوئی یہ تصور 2015 ء تک بھی کر سکتا تھا؟ لیکن آج عید گاہ گراؤنڈ کے دروازوں کے درمیان بہت فاصلہ ہے اور یہ فصیل ہر دن اس طور سے بڑھ رہی ہے کہ اب ان میں اتصال ممکن نہیں نظر آتا۔ کراچی ایک جن کی طرح الطاف حسین کی بوتل میں بند تھا۔ جن اب آزاد ہے۔ متحدہ کے سارے ہی ٹکڑے اپنی اپنی جگہ جانتے ہیں کہ اب کراچی اور شہری سندھ ان میں سے کسی کا بھی نہیں ہو سکتا ۔ پاکستان میں مائنس ون فارمولے نے 90 کی دہائی کے سارے ہی بڑے سیاسی کھلاڑیوں کو مائنس کر دیا۔ ان سب میں سب سے مشکل الطاف حسین تھا لیکن وقت کب کس کا ہوا ہے؟ الطاف حسین کے سپاہی اب رہنما کو چھوڑ کر منزل کی تلاش میں ہیں۔ اور عید گاہ میدان کے دروازوں پر کندہ نام ایک بھیانک ماضی کی یادگار بن چکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *