سرداری لال کی گیس پلانٹ لاریاں۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج شاید چند ہی افراد پاکستان میں ہوں جن کو پتہ ہو کہ کبھی پہلے بھی گیس سے بسیں چلتی تھیں۔ یا انہوں نے ایسی بس میں سفر بھی کیا ہو.

 انیس سو سینتالیس اکتوبر پاکستان پہنچنے کے بعد ہمیں یکی گیٹ لاہور میں مقیم میری بڑی بہن کے مختصر سے گھر میں مقیم ہوئے چند روز گزرے تھے کہ شام کے قریب میرے نانا پنڈی بھٹیاں سے تشریف لے آئے اور خوشخبری سنائی کہ وہ اپنے ساتھ سرداری لال کی لاری لائے ہیں۔ اور صبح ہم نے لاری اڈہ جو بانسوں والے بازار کے اندر سرائے میں تھا۔ سے ان کے ساتھ پنڈی بھٹیاں جانا ہے۔ علی الصبح وہاں پہنچ گئے بس دیکھ کر حیران تھے۔ بس کے پیچھے بڑا سا چھجا لگا تھا اس پر آج کے پانی گرم کرنے والے گیزر کی طرح کا بڑا سا فر نیس موجود تھا۔

اس کے ساتھ بوری میں کوئلے اور لکڑی کا ڈھیر تھا۔ اور اس کے نیچے آگ جل رہی تھی اور کنڈکٹر لکڑیاں جھونکے جا رہا تھا۔ بسیں بس کوئی بائیس پچیس مسافروں کی گنجائش والی ہوتیں۔ ڈرائیور کے ساتھ والی نشست وی آئی پی شمار ہوتی اور اس کے پیچھے والی خواتین کی اس کے پیچھے لوہے کی جالی کی پارٹیشن۔ اور باقی بس میں نشتیں لمبائی رخ۔ ہمیں خواتین والا پورا کمپارٹمنٹ مل گیا۔ ۔ ۔

کافی دیر آگ جلتے رہنے کے بعد ڈرائیور کنڈکٹر کی گاڑی سٹارٹ کرنے کی کارروائی شروع ہوئی۔ بونٹ ایک طرف سے اٹھایا گیا۔ کاربوریٹر میں پٹرول بوتل سے تھوڑا سا ڈالا گیا۔ اور ڈرائیور اپنی سیٹ پہ آیا اور کنڈکٹر نے آگے انجن میں ہینڈل ڈال کر گھمایا۔ تو اس طرح لاری سٹارٹ ہوئی بطور وی آئی پی مسافر ہمیں سب کچھ دیکھنے کی اجازت تھی اور ہم اس چند روز پاکستان تک لانے والی بس سے بہت مختلف آوازیں نکالنے والی بس کے مسافر کے طور روانہ ہوئے۔

ہم نے نوٹ کیا کہ کہ رفتار بھی اتنی زیادہ نہیں ہے۔ بڑے بھائی نے ڈرائیور سے باتیں شروع کیں تو اس نے بتایا۔ کہ جنگ عظیم دوم کے دور میں ذرائع آمدورفت محدود اور پر خطر ہونے سے پوری دنیا میں پٹرول ملنا بہت کم ہو چکا ہے اور کوٹہ پہ ملتا ہے۔ اور یوروپ والوں نے یہ طریقہ نکالا ہے کہ پیچھے لگے پلانٹ سے لکڑی اور کوئلہ سے کوئی گیس بنتی ہے۔ اور ہم انجن کو پٹرول پہ سٹارٹ کرتے ہیں اور پیچھے پلانٹ میں بنتی گیس نالی کے ذریعہ براہ راست انجن میں آتی اور پٹرول کی جگہ جلتی ہے۔ اور یہ کہ جتنے زیادہ دباؤ سے گیس آئے گی اتنی رفتار زیادہ ہوگی۔ دباؤ کم پہ رفتار کم ہوتی۔

پہلے رفتار کچھ معقول رہی۔ شیخو پورہ کھڑے ہوکر کافی دیر پھر لکڑی کوئلہ وغیرہ بھرا گیا۔ آگے نکلے تو بس کی رفتار اتنی تھی کہ سائیکل سوار نے بس کی کھلی کھڑکی پکڑ کر کافی دیر بڑے بھائیوں سے گپ شپ کرتے اپنا سفر مکمل کیا۔ کہیں مسافر ہاتھ دیتے تو جہاں ان کو بٹھایا جاتا وہاں پیچھے پلانٹ میں ایندھن بھی ڈالا جاتا۔ کئی مرتبہ بس چل رہی ہے انجن کا بونٹ ایک طرف سے کھلا لپیٹ کر انجن کے سنٹر میں اوپر پڑا ہے، کنڈکٹر ہاتھ میں پٹرول کی بوتل لئے مڈگارڈ پر بیٹھا کاربوریٹر کو خوراک دیتا جا رہا ہے۔ اب مسافروں میں انسانوں کے علاوہ چھ آٹھ بکریاں بھی شامل تھیں۔ پیچھے جنگلے پکڑے سائیکل سوار دو تین مرتبہ نظر آئے۔ تو تقریباً ایک سو دس کلو میٹر کا یہ انتہائی دلچسپ سفر کوئی دس گھنٹے میں کر کے ہم رات پنڈی بھٹیاں بخیریت اپنے ننہال آ پہنچے۔

اس سفر کی یاد آتے انٹرنیٹ پہ ڈھونڈا تو بہت دلچسپ انکشاف ہوئے جو اگر کوئی انجینئر دوست احباب کی دلچسپی کے لئے لکھیں تو بہت معلوماتی ہوں گے۔ مختصر یہ کہ جنگ میں پٹرول کی قلت کی وجہ سے موجودہ سی این جی اور ایل پی جی کی پیش رو یہ گیس اس کو کمپریس کرکے یا مائع میں تبدیل کرکے کم حجم میں لا کر استعمال کر سکنے کی مہارت نہ ایجاد ہونے کی وجہ سے موقع پر بنائی اور براہ راست انجن میں پہنچائی جاتی۔ بعد میں بسوں کاروں کی چھتوں پر بڑے بڑے غبارہ قسم کے ربڑ کے ٹینک بھی بنے جس میں یہ سٹور ہوتی۔ اور خاصا سفر بغیر اوپر بیان شدہ دلچسپیوں کے ممکن ہوتا۔ پاکستان بننے کے چند ماہ بعد ہی پٹرول کی فراہمی باقاعدہ ہو جاتے ہی یہ عجوبہ ناپید ہوگیا۔ اور ہمارے لئے یادگار چھوڑ گیا۔ ۔ ۔

ہم وی آئی پی کیوں تھے یہ کہانی دس پندرہ برس بعد ہم پہ کھلی۔ ۔ ۔

میرے ماموں شیخ محمد حسین ( کئی تحقیقی و سیاحتی کتب کے مشہور مصنف اسد سلیم شیخ۔ تمغۂ فضیلت۔ پرنسپل گورنمنٹ کالج پنڈی بھٹیاں کے دادا ) اور سرداری لال بچپن سے ہی بہت گہری دوستی کے رشتے میں منسلک ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے دونوں میں مکینکل امور میں دلچسپی مشترک تھی۔ مختلف ادوار سے گزرتے ماموں سلائی مشین مرمت کے کاروبار سے منسلک ہوگئے۔ ( بعد میں سنگر۔ پف۔ وغیرہ بڑی کمپنیوں کے علاوہ خود پرزے ڈھلوا کر پرائیویٹ نام سے متعارف ہونے پہلی سلائی مشینوں میں سے ایک زاہد سلائی مشین اسمبل کرنا شروع کی ) سرداری لال نے فوٹو گرافی کی دکان شروع کی اور اس زمانے کا بڑا سا کیمرہ جس کے اوپر بڑا کالا کپڑا ڈال کے فلم لوڈ کی جاتی۔

پھر لینز کا ڈھکن اتار کے تین چار سیکنڈ کے وقفہ کی گنتی۔ جسے ہم بچے کوئی منتر پڑھنا سمجھتے۔ بڑی مہارت سے ڈھکن بند کیا جاتا اور ڈارک روم میں فلم دھوئی جاتی ان کا من پسند پیشہ بنا۔ کاروبار چمکا تو سرداری لال نے پرانی بسیں خرید کے ٹرانسپورٹ کمپنی بنا لی۔ جس کانام سدھارتھ بس سروس ( میرے بھائی کے مطابق ) یا سندھوترا بس سروس۔ اسد سلیم کے مطابق۔ تھا۔ بٹوارہ کا اعلان ہوا تو پنڈی بھٹیاں ان چند قصبوں میں تھا جہاں بھائی چارے کی روایات برقرار رکھتے کوئی قتل و غارت یا لوٹ مار نہ ہوئی۔

بلکہ سرداری لال نے تحریری طور تمام بسوں کی نگرانی یا ملکیت اپنے دوست شیخ محمد حسین کے سپرد کی اور انہی بسوں میں پنڈی بھٹیاں کی تمام ہندو سکھ آبادی کو رات کے اندھیروں میں چھپتے چھپاتے مسلم رضاکاروں کی حفاظت میں بارڈر پار پہنچایا گیا۔ اور بعد میں پرانا منیجر شیخ ادریس ہی میرے نانا شیخ غلام محی الدین کی نگرانی میں چلاتا رہا۔ ماموں نے پیسہ پیسہ کا حساب رکھا۔ سرداری لال کا کیمرہ اور کچھ قیمتی سامان ماموں کے پاس امانت رہا۔

کچھ عرصہ بعد یہ لاریاں متروکہ قرار دے کر حکو مت پاکستان نے اپنی تحویل میں لے لیں۔ حالات کچھ بہتر اور ڈاک کا نظام چالو ہوتے پتہ چلا کہ سرداری لال کا خاندان کس مپرسی کے عالم میں دلی میں پڑا ہے۔ انہی دنوں دونوں ملکوں کی حکومتوں نے جہاں گم ہو جانے یا اغوا ہو جانے عزیزوں اور خواتین کی بازیابی کی کچھ سہولتیں مہیا کیں۔ وہاں سرحد پر ملاقات کی اجازت بھی ہوئی۔ تب ماموں سرداری لال کا امانت سامان اور اس بس کمپنی کی ان کے پاس موجود امانت کمائی لے کر ( اس وقت تک کرنسی مشترکہ برٹش دور والی ہی تھی ) مقررہ تاریخ سرحد پر پہنچے پرانے دوست گلے ملے۔

اور سرکاری عملہ کی نگرانی میں تمام حساب کتاب اور سامان سرداری لال کے حوالے کر دیا۔ جلد ہی وہی کیمرہ پھر سرداری لال خاندان کو کھڑا کرنے میں کامیا ب ہوگیا۔ اور چند برس بعد وہ مالی طور مستحکم ہو چکے تھے۔ نہ صرف سرداری لال خاندان کا غالباً آج تک شیخ محمد حسین۔ جو بعد میں وفات تک دواخانہ نوید صحت کے نام سے حکمت کرتے رہے۔ کی موجودہ نسلوں سے رابطہ برقرار ہے بلکہ کئی سکھ خاندان بھی اب تک اپنے آبائی قصبے آتے اور پرانی یادیں تازہ کرتے رہتے ہیں۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *