کچھ ذکر قدرت اللہ شہاب کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے ادیب بیورو کریٹس میں قدرت اللہ شہاب کا نام بہت معروف اور نمایاں ہے، تاہم بعض لوگ ادب سے زیادہ بیو رو کریسی میں ان کے کلیدی کردار کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس تناظر میں بعض تنازعات بھی ان کی ذات اور شخصیت کے ساتھ منسوب رہے، مثال کے طور پر ایوب خان کے دور میں پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈی نینس، پریس ٹرسٹ بنا کر کچھ آزاد اخبارات کو قومی تحویل میں لینا، رائٹرز گلڈ کا قیام، کچھ دوستوں کی سرپرستی اور ان کے کے لئے ملازمتوں کا بندوبست اوران کی ذات سے منسوب کچھ روحانی تجربات و کمالات ان تنازعات میں شامل ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہاخبارات پر حکومتی قبضے کے موقع پر ان اخبارات کے اداریے بھی قدرت اللہ شہاب نے ے تحریر کیے تھے۔ گورنر جنرل غلام محمد، صدر سکندر مرزا اور صدر ایوب کے ساتھ بطور سیکریٹری ان کی خدمات کو بھی شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کہ وہ قرب شاہی کے دلدادہ تھے۔

اس تحریر کا مقصد قدرت اللہ شہاب سے منسوب تنازعات کو زیر بحث لانا، ان کا کوئی جواز پیش کرنا یا ان کی کوئی تاویل و تشریح کرنا نہیں ہے بلکہ ایک ادیب اور نثر نگار کے ان کی حیثیت اور مقام کے حوالے سے ایک تاثر پیش کرنا ہے۔ میری رائے میں انسان اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری، نہ وہ محض خوبیوں کا پیکر ہے اورنہ محض خامیوں کا مجموعہ، بلکہ خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہے۔ اس لئے کسی بھی شخصیت کو پرکھتے وقت اس پہلو کو پیش نظر رکھنا چاہیے اور ہماری نظر خامیوں سے زیادہ خوبیوں پر ہونی چاہیے کہ اس میں کئی خیر کے پہلو ہو سکتے ہیں۔

اس معیار کو سامنے رکھا جائے تو قدرت اللہ شہاب کی ذات اور شخصیت کے بارے میں ایک متوازن رائے قائم کرنے میں آسانی رہے گی اور اس میں پھر شبہ بھی کیا ہے کہ قابلیت، صلاحیت، محنت، اپنے کام کے ساتھ لگن اور کارگزاری کے لحاظ سے وہ ہماری بیورو کریسی میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ رہی بات ادب اور نثر نگاری میں ان کے مقام کی تو اس اعتبار سے بھی ان کی حیثیت بہت سوں سے بہتر اور امتیازی ہے۔

توقع کی جاتی ہے کہ لکھنے پڑھنے والوں کی اکثریت ان کے نام ومقام سے آشنا ہے تاہم ایک انتہائی مختصر تعارف ان کے لئے ضروری محسوس ہوتا ہے جو انہیں نہیں جانتے یا بہت کم جانتے ہیں۔ قدرت اللہ شہاب 26 فروری 1917 کو گلگت میں پیدا ہوئے اور 24 جولائی 1986 کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ابتدائی تعلیم ریاست جموں و کشمیر اور چمکور ( ضلع انبالہ) میں حاصل کی اور ایم اے انگریزی گورنمٹ کالج لاہور سے مکمل کیا۔ 1941 میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔

بہت سے لوگوں کو علم ہو گا کہ وہ ایم اے او کالج امرت سر میں انگریزی کے لیکچرربننے کے لئے انٹرویو کے لئے وہاں گئے۔ اتفاق سے معروف شاعر فیض احمد فیض بھی امیدواروں میں شامل تھے۔ انٹرویو میں فیض صاحب کی باری ان سے پہلے تھی، انہیں منتخب کر لیا گیا اور شہاب صاحب کو بغیر انٹرویو کے ہی لوٹنا پڑا۔ اس زمانے میں اس کالج کے پرنسپل معروف شاعر ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر تھے۔

متحدہ ہندوستان میں سول سروس کے دوران میں انہوں نے بہار اور اڑیسہ میں خدمات سرانجام دیں۔ 1942۔ 1943 میں قحط بنگال کے وقت وہ بہار کے علاقے بھاگل پور کے اسسٹنٹ کمشنر تھے۔ غلے کے گودام غلے سے بھرے تھے مگر ہزاروں لوگ فاقہ کشی کا شکار ہو کر مر رہے تھے۔ انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کے طور پرحکام کی اجازت کے بغیر ہی گودام کھلوا دیے اور لوگوں میں غلہ تقسیم کرا دیا۔ اس ”جرم“ کی پاداش میں ( غالباً) ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔

قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کے سیکرٹری صنعت مقرر ہوئے۔ حکومت آزاد کشمیر کے سیکرٹری رہے۔ جھنگ کے ڈپٹی کمشنربھی رہے اور جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا، وہ گورنر جنرل غلام محمد، سکندر مرزا اور ایوب خان کے سیکرٹری رہے۔ باصلاحیت تھے، انگریزی اور اردو بہت عمدہ لکھتے تھے، انگریزی ڈرافٹنگ میں ان کو بہت مہارت حاصل تھی۔ شاید اسی وجہ سے بطور سیکرٹری ان کو طویل عرصے تک حکومتی ایوانوں تک رسائی حاصل رہی۔ وہ ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر بھی رہے۔

انہوں نے کچھ عرصہ بطور وفاقی سیکرٹری تعلیم بھی کام کیا۔ 1969 میں وہ جنرل یحییٰ کے اقتدار سنبھالتے وقت ملک سے باہر تھے اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ تھے۔ پاکستان واپس آنے کی بجائے انہوں نے اپنی پاکستان کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور لندن چلے گئے۔ اس کے بعد کئی سال تک لندن میں ان کو بہت سی مشکلات کا سامنا رہا، جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔

میرے لئے وہ بطور ادیب اور نثر نگار اہم رہے۔ اپنے طالب علمی کے زمانے میں میں نے ان کے افسانوں کی کتاب ”نفسانے“ پڑھی اور اس کے بعد ”یا خدا“ پڑھنے کا موقع ملا۔ اس کتاب نے بہت زیادہ متاثر کیا۔ تقسیم ہند کے نتیجے میں ا ن گنت لوگوں کو ہجرت کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا۔ قدرت اللہ شہاب کو انہی دنوں میں کراچی کے مہاجر کیمپ میں اپنے ایک عزیز کی تلاش میں جانا پڑا۔ اس دوران میں وہ ایک ایسے مشاہدے اور تجربے سے آشنا ہوئے جواس مختصر کتاب کا محرک بنے۔

بظاہر وہ ایک لڑکی دلشاد کی دردناک کہانی ہے مگر اس میں معلوم نہیں کتنی دلشادوں کی زندگی کے المیے جھلکتے ہیں۔ اس تحریر میں دل سوزی، درد اور کرب، عام انسانوں کی بے بسی کی جھلکیاں اور صاحب حیثیت لوگوں کے روشن چہروں مگر اندروں چنگیز سے تاریک تر کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ اس کتاب میں شہاب کے قلم کی کاٹ روح چھلنی کر دیتی ہے۔ انہوں نے طنز کے نشتر بھی خوب چلائے ہیں جس سے معاشرے کے روشن چہروں سے نقاب الٹتے نظر آتے ہیں اور عام انسانوں کی سسکتی اور ریزہ ریزہ زندگی کی کرچیاں چبھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ شہاب نے لکھا ہے کہ یہ کہانی انہوں نے ایک رات میں مکمل کی۔ اس کہانی کا تاثر اتنا بھرپور اور گہرا ہے کہ اسے ایک نشست میں پڑھے بغیر چارا نہیں۔ ”نفسانے“ اور ”یا خدا“ 1948 میں شائع ہوئیں۔

ان کا ایک اور ادبی شہ پارا ”ماں جی“ 1968 میں شائع ہوا۔ وہ ان کی والدہ مرحومہ کریماں بی بی کی کہانی ہے مگر وہ شہاب نے اس طرح تحریر کی ہے اس میں ہمارے معاشرے کی عام روایتی ماؤں کے سارے اوصاف جھلکتے ہیں۔ سادہ مزاج، سادہ لباس، بچوں اور شوہروں سے وابستہ، سب کی خوشیوں اور غموں میں شریک، حوصلہ مند، غیر تعلیم یافتہ یا کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود معاملہ فہم اور حکمت و دانائی سے آراستہ۔ اسی کتاب میں انہوں نے اپنے والد عبداللہ کا بھی ذکر کیا ہے کہ انہوں نے علی گڑھ سے گریجویشن مکمل کی تو سر سید نے اعلٰی تعلیم کے لئے سکالر شپ کی پیشکش کی بلکہ بہت زیا دہ مجبور کیا مگر ان کی والدہ نے ان کو بیرون ملک جا کر تعلیم سے روک دیا اور سر سید کے اصرار کے باوجود وہ راضی نہ ہوئے تو سر سید نے دروازہ بند کرکے لاتوں، گھونسوں اور تھپڑوں سے ان کی خوب تواضع کی اور کہا کہ علی گڑھ سے نکل جاؤ اور کبھی مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔

وہ وہاں سے بھاگے تو گلگت جا کر دم لیا۔ شہاب کی یہ حکایت دل پذیر بھی اپنے تاثر کے لحاظ سے بھرپور اور دل چسپ ہے۔ ان کی سب سے معروف کتاب ”شہاب نامہ“ ہے جو 1987 میں شائع ہوئی۔ یہ ان کی سوانح عمری ہے جو اتنی مقبول ہوئی کہ اب تک اس کے بہت سے ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس میں ان کی ذاتی زندگی کے علا وہ ان کے عہد کے سیاسی اور سماجی احوال بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ چونکہ وہ طویل عرصے تک ایوان اقتدار کا حصہ رہے، اس لئے انہوں نے ہماری قومی زندگی کے سیاسی نشیب و فراز خوب اجاگر کیے ہیں۔

ان کے جملوں کی ساخت سادہ مگر قلم کی کاٹ بڑی تیز ہے۔ طنز، شگفتگی اور شوخی اور ایجاز و اختصار کے باوجود جامعیت اور افسانے کو حقیقت اور حقیقت کو افسانہ بنا دینے کا ہنر ”شہاب نامہ“ کو ایک ایسی دستاویز بنا دیتا ہے جو بظاہر ایک تاریخ ہے مگر افسانے سے زیادہ دل کش ہے۔ اسی کتاب میں انہوں نے ”چھوٹا منہ بڑی بات“ کے عنوان سے اپنی اس روحانی زندگی سے بھی پردہ ہٹایا ہے جو کچھ لوگوں کی نظر میں ان کو ولی بنانے کے لئے کافی ہے اور کچھ کے نزدیک محض خود فریبی اور ڈھکوسلہ ہے۔ میں اس موضوع پر بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں، اس لئے کہ مجھے نہ تو اس کا تجربہ ہے اور نہ صلاحیت کہ اس کو سمجھ کرکچھ بیان کر سکوں۔

کالج کے زمانے میں انہیں شعر کہنے کا بھی شوق رہا مگر ان کی اصل دل چسپی نثر کے ساتھ ہی رہی۔ اپنی اہلیہ ڈاکٹر عفت شہاب کی وفات ( 1974 ) پر انتہائے افسردگی میں انہوں نے ایک نظم کہی تھی جو غالباً ”سیارہ ڈائجسٹ“ میں شائع ہوئی۔ وہ ایک عمدہ اور طویل نظم تھی۔ میرے پاس کہیں محفوظ تھی مگر اب ملی نہیں، البتہ اس کا ایک شعر حافظے میں محفوظ رہ گیا:

اک نیا گھر بسا لیا تو نے
ہم سے دامن چھڑا لیا تو نے

طالب علمی کے زمانے میں مجھے ادیبوں اور شاعروں کو خطوط لکھنے کا شوق تھا اور اکثر ادیب اور شاعر خطوط کا جواب بھی دیتے تھے۔ میں نے قدرت اللہ شہاب کو بھی ایک خط لکھا جس کا انہوں نے جواب بھی دیا۔ اس خط کی اہمیت میرے لئے دو وجوہات سے ہے ایک تو یہ کہ انہوں نے ایک طالب علم کے خط کا جواب دیا اور دوسری یہ کہ اس میں انہوں نے نئے لکھنے والوں کو کچھ مفید مشورے بھی دیے تھے جو آج بھی اتنے ہی کارآمد ہو سکتے ہیں جتنے اس وقت تھے۔ اسی خیال سے میں وہ خط یہاں نقل کر رہا ہوں۔

وزارت تعلیم، اسلام آباد
15۔ 1۔ 1976
محترمی، السلام علیکم

آپ کا خط مورخہ 18 اگست 1975 مجھے مل گیا تھا۔ جواب میں بہت تاخیر ہو گئی، جس کے لئے میں معذرت خواہ ہوں۔ تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ میں کافی عرصہ ایک کام پر ملک سے باہر گیا ہوا تھا۔

آپ کو لکھنے لکھانے کا شوق ہے تو اسے ضرور پورا کرتے رہنا چاہیے۔ حالات کی نا مساعدت یا دیگر محرومیوں اور ناکامیوں کو اس شوق کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں۔ حالات کے زیرو بم سے کسی کو فرار نہیں، لیکن اپنی دھن اور لگن پہ ثابت قدم رہنا اپنے اختیار میں ہے۔ مجھے ایسی کسی ریاضت کا علم نہیں جو فن تحریر کی نشوونما میں مددگار ثابت ہو، البتہ اچھی کتابوں کا مطالعہ جاری رکھنا شرط اول ہے۔ اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسا خیال ہے اور آپ کے دل میں امنگ ہے کہ وہ موثر طور پر دوسروں تک پہنچ سکے تو الفاظ خود بخود آپ کے پاس حاضر ہوتے جائیں گے۔

آپ نے کسی کتاب کا نام پوچھا ہے جو زندگی میں آپ کے کام آ سکے۔ میرے خیال میں قرآن سے بہتر اور کوئی کتاب نہیں ہے۔ میں یہ فقط رسماً یا رواجاً نہیں کہہ رہا، بلکہ صدق دل سے عرض کر رہا ہوں۔ آپ گہرے غورو فکر سے جتنی بار اس کا مطالعہ کریں گے، ہر بار معانی و مطالب کا ایک نیا دفتر کھلتا محسوص ہو گا۔ ہو سکے تو امام غزالی کی ”کیمیائے سعادت“ بھی ضرور پڑھیں۔

والسلام
نیازمند
قدرت اللہ شہاب

میں ان کے مشوروں پر اپنی ہمت اور توفیق کے مطابق کسی نہ کسی حد تک عمل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ ”کیمیائے سعادت“ تو اس خط کے طویل عرصے کے بعدمطالعے میں آئی البتہ کتابوں کا مطالعہ مسلسل جاری رہا۔ لکھنا لکھانا ایک زمانے تک بوجوہ موقوف اور معطل رہا جس کا مجھے افسوس ہے تاہم اب پھرکچھ لکھنا شروع کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *