سیاست کا جغرافیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فی زمانہ سلطنت سیاست اک محیرالعقول ریاست کا روپ دھار چکی ہے۔ آئیے اس کی نوعیت، خدو خال اور لوازمات جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

سلطنت سیاست اپنے وقوع کے اعتبار سے پون صدی قبل قریباً آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبہ پر آٹھویں برج کے چودہویں استھان پہ ظہور پذیر ہوئی۔ تاہم پچاس برس پہلے دوستوں کی بے وفائی، اپنوں کی نا اہلی اور غیروں کی مکاری کے موجب آنے والے بدترین تاریخی بھونچال سے ریاست کا پوربی حصہ پچھم سے مکمل طور پر کٹ کے الگ ہوگیا اور سازشی ہواؤں کی شدت سے پانچویں حصے کی سرحدوں کے ریت پہ بنے نقش مٹ گئے۔ یہی نہیں بلکہ بد نظمیوں اور بے ”نیازیوں“ کے سبب ہزاروں سپاہ سرینڈر نامی دلدل میں بھی جا پھنسے۔

جغرافیائی طور پہ جڑے بقیہ چاروں مقامات اپنے اپنے خولوں میں بند ہیں اورپوری شدت سے تقسیم ہیں۔ قیام ریاست کے وقت ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے اس کا جھکاؤ مقناطیسی صلاحیتوں کے حامل قطب شمالی کی بجائے مغربی قطب کے رخ عین کولمبس کی جائے دریافت کے رخ ہو ا جبکہ ہمسا یہ ریاست نے نارتھ پول (روس ) کی پناہ میں عافیت جانی۔ خراماں خراماں یہ ریاست خط استو ا یعنی صراط مستقیم یا میانہ روی کی لکیر سے خط سرطان کی جانب شرقاً غر باً 62,63 سے ہوتی ہوئی 420 ڈگری میں پھیلتی گئی۔

جبکہ شمالاً جنوباً اس کا وقوع 309,302 سے ہوتا ہوا 751 اور پھر 782 تک وسیع ہو گیا۔ یہاں سے ایک پٹی 395 سے 397 درجے تک اب بھی پھیلی ہے۔ ماضی میں اس کا ایک کونہ 58 ( 2 b) کے زیر اثر رہا جو بعد میں سی 130 کی پرواز میں کوتاہی کے سبب طاقت پرواز کھونے لگا اور مرقومہ بالا ایریا اب کاملاً وا گزار کروایا جا چکا ہے۔ ریاست میں بے شمار اصولی و اطلاقی دائرے کھینچے گئے ہیں جس کی لکیروں کا مرکز سے فاصلہ ایک دم برابر ہے جس سے مرکز گریزی کا امکان نہیں رہتا۔

یہاں کے تمام پہاڑی، میدانی، مرتفعائی، ریگستانی اور ساحلی خطے اک ہی وسیع و عریض اور پرپیچ ”پیج“ پر کثرت سے پھیلے ہوئے ہیں۔ کبھی کبھار تو اتنے لوگ بہ امر مجبوری اس پیج پہ اکٹھے ہو جاتے ہیں کہ پیج پہ جگہ ہی نہیں رہتی۔ ریاست میں 73 کے اصولوں پہ مشتمل 6 (آرٹیکل چھ) کے ہندسے کے سائے نے ریاست کی تاریخ اور جغرافیے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ سب سے تشویش ناک صورت حال پیرا نمبر 66 پہ نمودار ہوتا آتش فشاں ہے۔

ر یاست کے اک خفیہ اور پر اسرار خطے میں 243 ڈگری پہ پتھریلی اور پر خطر گھا ٹی کا ظہور بھی ہوا ہے جہاں پہنچنے کے لئے دو چار سخت مقامات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ تاہم اب راہ آسان اور ہموار کرنے کے منصوبے زیر غور ہیں۔ حال ہی میں شما ل مشرقی ”شہ رگ“ میں 35 اے تا 370 ڈگری کی ایک خطر ناک پٹی کا ظہور بھی ہوا ہے۔ جو کسی بھی ممکنہ آفت کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ نیز مرکزی خطوں سے 149 ڈگری کی بلندی سے وفاقی اکائیوں کی جانب اختیارات کے تودے لڑھکنے کے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔

ریاست کے بے شمار مقامات وقتاً فوقتاً سطح سمندر اور اپنی اپنی اوقاتوں سے خاصے بلند واقع ہو جاتے ہیں۔ ریاست میں 32۔ 34 درجوں کے آثار تقریباً نا پید ہوچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قصبوں میں کشاد گی اور فراخی کا فقدان ہے اور ہر جگہ تنگ دستی اور تنگ نظری کے مناظر کی کثرت ہے۔ بیشتر مقامات پر فکری تجاوزات کے ڈھیر لگے ہیں۔ نصف کرۂ شمالی اور نصف کرۂ جنوبی کی حدود میں تمام معاملات زندگی کے اندر خلط مبحث کے باعث ان بن کی فالٹ لائنز بنی رہتی ہیں نیز منطقہ حارہ کی قربت کے باعث پورے خطے کا طبی، جسمانی اور دماغی مزاج تیسرے درجے پہ خشک اور گرم ہے۔

سلطنت سیاست کے مرکزمیں اقتد ار کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر پوری آب وتاب سے موجزن ہے جس کے ساحل پہ شاہینوں کے بسیروں کے واسطے قصرسلطانی کے بے شمار گنبدبھی ہیں۔ اس سمندر میں ماہ کامل کی کشش کے موجب مدو جزر کے سلسلے جاری رہتے ہیں۔ مغرب میں اقتدار کی راہ میں روڑے اٹکانے والے پہاڑ اور نفرتوں کے منجمد گلیشئر ہیں۔ شمال میں بڑے بڑے ہمالے اور چھوٹے چھوٹے اڈیالے وجود رکھتے ہیں جبکہ لکھپت جیسے فقید المثال گیسٹ ہاؤس بھی قابل ذکر ہیں۔

جنوب میں مایوسیوں، دکھوں، اناؤں، حسد، انتقاموں اور طعن وتشنیع کے جھلستے ریگستان پھیلے ہوئے ہیں جہاں بے شمار سیاسی آبلہ پا سجادہ نشین صحرانوردی کرتے دکھتے ہیں۔ وہیں ماضی کی ایک پھانسی گھاٹ کے نشان بھی باقی ہیں۔ جگہ جگہ وعدوں کے سبز باغات کے ساتھ ساتھ مایوسی کے کالے باغ بھی موجود ہیں۔ ناہموار راہوں پہ ٹوٹے ہوئے وعدوں کی کی بکھری کرچیوں کے موجب عام لوگوں کا گزرنا محال ہے۔ ریاست کی تمام سر حدوں اور کونوں میں دور دور سے قرضوں اور ٹیکسوں کے کوہ گراں دکھائی دیتے ہیں جبکہ سطح مرتفع قرضہ جات بھی وسیع و عریض رقبے پہ پھیلی ہے۔

امداد سے مزین خوب صو رت وادیاں اپنے مصنوعی حسن سے مالا مال ہیں۔ مرکزی خطوں میں ترقی کی چٹیل ڈھلانیں ہیں۔ کہیں کہیں ڈیل اور ڈھیل کے ہرے بھرے صحت افزاء مقامات بھی ہیں۔ اقلیم سیاست کی حدود میں میکیا ولی اور چا نکیہ کے علامتی آستانے بھی پائے جاتے ہیں جہاں ہزاروں سیاست مند اور عازم اقتدار حاضری دیتے رہتے ہیں۔ جگہ جگہ زرد صحافت اور زرد سیاست کے سجے میدان ہیں جہاں اب کوئی Buffer Zonباقی نہیں رہا۔ جگہ جگہ نظریۂ ضرورت اور نظریہ کدورت کے گھنے جنگلات بھی ہیں۔

ریاست کی سلطانی و باد شاہی کے لئے مسلمان ہونا اشد ضروری ہے تاہم ہلکی پھلکی بد عنوانیت، اقربہ پروری، بد زبانی، منی لانڈرنگ اور بد دیانتی میں چنداں مضائقہ نہیں۔ البتہ کوئی غیر مسلم ہزارہا دیانت، امانت، لیاقت اور ذہانت کے باوجود ان عہدوں پر متمکن ہونے کا ہرگز ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا ۔ ریاست کے ہر علاقے میں وسیع پیمانے پہ نا جائز تجاوزات اور تعلقات پائے جاتے ہیں۔ نیز مشرقی پڑوس کی جانب سے جذباتیت اور نفرت کے بے شمار گندے نالے بھی بہتے ہیں جن میں متعدد غلیظ اذہان و زبان کے حامل افراد تیرتے دکھائی دیتے رہتے ہیں۔

 آب و ہوا یکساں رہنے کی خو گر نہیں ہے۔ کبھی کبھار اقتدارکی بہا روں میں باد نسیم اپنے مسحور کن اثرات لئے چلتی ہے تو کبھی شجر اقتدارخزاں کے موجب پت جھڑکا شکار ہوتا ہے۔ مخاصمت، حسد، ہوس اور اناؤں کی تیز گرد آلود آندھیاں پورا سال ہی چلتی ہیں۔ سر منڈاتے ہی اولے پڑنے کا امکان بھی رہتا ہے جبکہ گالی گلوچ اور بڑھکوں کے طوفان بد تمیزی برپا ہونے کا رواج عام ہے۔ الزامات اور دشنام کی آلودگی ہمہ وقت چھائی رہتی ہے جن سے مختلف سیاسی و اخلاقی عوارض پھوٹتے رہتے ہیں۔

اس ریاست میں متعدد موسم ہیں جن میں الیکشن کا موسم، دھرنوں کے موسم، ڈھٹائی کے موسم، وعدوں اور لاروں کے موسم، شادیوں کے موسم، تقریروں کے موسم، کشکول اٹھانے اور بیرونی دوروں کے موسم قابل ذکر ہیں۔ کچھ عرصہ قبل بعض خطوں پہ ”شہاب ثاقب“ گرنے کے واقعات بھی دیکھے گئے تاہم اب ایسے خطرات معدوم ہوتے نظر آتے ہیں۔ یہاں کی ہوائیں چراغوں سے بلا کی واقفیت رکھتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply