انوکھے لاڈلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی کو اچھا لگے یا برا مگر سچ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ جو ما ضی میں ایک دوسرے کے چوٹی کے حریف تھے آج ایک دوسرے کے حلیف بنے بیٹھے ہیں۔ کیونکہ دونوں کا منشاء اور مدعا اس وقت ایک ہے۔ مفادات ایک ہیں۔ پاکستان کے وسائل پر تسلط اور لوٹ مار کرنے کا اختیار چاہتے ہیں۔ یہ معجزاتی ابدی خزانے کا ماخذ ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے جس کی وجہ سے سب سخت پریشان ہیں اس لیے جو منہ میں آ تا ہے کہہ ڈالتے ہیں۔ کراہ رہے ہیں۔ آہ و بکا کر رہے ہیں۔ سب کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ نیب پچھلے پانچ سال سے پہلے کی بد عنوانیوں کا احتساب نہ کرے۔ ان کا منشور ہی ان کے جرموں کا کھلا اعتراف ہے۔ یہ سب کے سب اس قابل ہیں کہ ان کو اندر کیا جائے۔

منشور میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئندہ کے لئے بھی اگرحکمران پارٹی کے اراکین میں سے کوئی ایک ارب تک کا بھی ہیر پھیر کرے تو اس کا احتساب نہ کیاجائے۔ یعنی اتنا غبن توجائز کیا جائے یہ تو ان کے لیے ایک گلاب جامن ہے۔ انوکھے لاڈلے۔ پاکستان کو اپنے باپ کی میراث سمجھ رکھا ہے۔

آ نجہانی کلثوم نواز صاحبہ تو ببانگ دہل فرماتی تھیں کہ پاکستان نواز شریف کا ہے اس کو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ جیسے وہ پاکستان کو جہیز میں لائی تھیں۔ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔ سیاستدانوں کی یہ وہ قبیل ہے جو پاکستان کو ایک لاوارث خزانہ سمجھ کر ہڑپ کر جانا چاہتی ہے۔

یقین نہیں آتا کہ ان کے حوصلے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ان کو پتا ہی نہیں چلتا کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ حرام کھانے کی سہولتیں بھی دھونس کے ذریعے مانگ رہے ہیں۔ ان کی نسلیں حرام پرپل رہی ہیں۔ آج اگر اللہ نے پاکستان کو مخلص قیادت دے دی ہے جن کا عزم پاکستان کی معیشت اور وسائل کی بحالی ہے تو ان کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔

خدا نے پاکستان کو مخلص حکمران دے دیا ہے تو اپوزیشن پارٹیوں نے کائیں کائیں شروع کردی ہے۔ سب نے مل کر وہ بے ہنگم شور شرابا اور شور محشر اٹھایا ہوا ہے جیسے ان کی دموں پر پیر آ گیا ہو۔ کس کس کا نام لیا جائے ایک سے ایک چھٹا ہوا اپنی طرز کا انوکھا ہے۔ ان سب نے تہیہ کر لیا ہے کہ ہم ہر حال میں پاکستان کی معیشت کی شہ رگ میں دانت گاڑ کر خون پیتے رہیں گے۔ اسی لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں کہ موجودہ حکومت کامیاب نہ ہو سکے۔ ہرممکن رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ خدا ہی ہے جو اس سازشی جم غفیر سے پاکستان کو بچائے۔ ان کا تو یہ حال ہے کہ قوم بارش کے سیلاب میں ڈوبی ہے۔

لوگ گٹروں میں بہہ بہہ کے مر رہے ہیں اور ان کو ایک سن رسیدہ زرداری صاحب کی سالگرہ منانے کی سوجھی ہوئی تھی وہ خود جو کرپشن کا سمبل ہیں۔ پاکستان یا پاکستانیوں کے نفع نقصان کی ان کو کیا پرواہ۔ عوام کی خیر خواہی کا نام لے لے کر یہ لوگ شور مچا رہے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ عوام کی حیثیت ان لوگوں کے لیے کسی خرکار کی ریڑھی میں پڑے اپاہج بچے کی سی ہے جس کو خرکار خود اپاہج کرتے ہیں اور پھر دکھا دکھا کربھیک مانگتے ہیں۔ پاکستان کی بھوکی ننگی مسائل میں گھری عوام ان کے لئے سونے کی چڑیا ہیں۔

ایک لطیفہ بھی سنیے

بلاول زرداری بھٹو صاحب کا کہنا ہے کہ جس طرح گزشتہ دنوں مطیع اللہ نامی صحافی اغواء ہوا تھا اسی طرح کسی دن ہم بھی اغواء ہو سکتے ہیں۔ اس معصوم بچے سے کوئی پوچھے آج تک کوئی بڑا سیاستدان اغواء ہوا ہے؟ آپ جیسوں کا تو بال کبھی بیکا نہیں ہوتا۔

موجودہ حکومت پاکستان کی لٹی پٹی معیشت کے شیرازے کو سمیٹنے کی کوشش کرہی ہے لیکن یہ لوگ مستقل اس کی راہ میں روڑے اٹکارہے ہیں۔ ان کو اس بات کی رتی بھر پروا نہیں کہ پاکستان کو کیا نقصان پہنچتا ہے۔ ان کو صرف اپنے وسیع تر مفاد کے لیے پاکستان کے وسائل پر تسلط چاہیے۔ اس وقت کرو نا کی وبا میں ان سب کو صرف اور صرف عوام کی بہتری کے لیے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔

شنید ہے کی برطانوی حکومت برطانیہ میں موجود پاکستانی سیاستدانوں کے ایسے اثاثے اور جائیدادیں جن کو وہ لیگل ثابت نہ کر سکیں گے ضبط کر کے سرکاری تحویل میں لے لے گی۔ واللہ اعلم۔ لیکن ایسا ہونا بعید بھی نہیں۔ کیونکہ کرونا نے سب کی معیشت تباہ کردی ہے۔ اگریہ ہوگیا تو آئندہ کے لیے سب بھگوڑوں کو کان ہو جائیں گے کہ لوٹی ہوئی دولت کو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ بے عزتی اور بدنامی الگ ہو گی۔ نواز شریف کا خاندان عبرت کی مثال بنا ہو اہے۔

حرام کی کمائی نے اس خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا ہے۔ اگر برطانیہ میں بھی احتساب ہو گیا تو اس کرپٹ خاندان کے تابوت میں یہ آخری کیل ہوگی۔ عوام سے لوٹا گیا خزانہ ان کے کسی کام نہیں آئے گا۔ آئندہ کے لئے سیاستدانوں کے تمام کرپشن کے راستے مسدود ہو سکتے ہیں۔ انشاءاللہ۔ اگر انگلینڈ ان اثاثوں کو بیچ کر پاکستان کو دے دے تو بہت اچھا ہو۔ مگر وہ ایساکیوں کرے گا؟ بہتی گنگا میں ہر کوئی ہاتھ دھوتا ہے۔ یہ تو وہی کہاوت ہو جائے گی کہ چوروں کو پڑ گئے مور۔

حیرت ہے کہ اس مہذب ترین دور میں اقوام متحدہ نے ابھی تک کوئی ایسا قانون کیوں پاس نہیں کیا جس کے تحت کسی بھی ملک سے کرپٹ عناصر کی لوٹ کر لائی ہو ئی رقم واپس اسی ملک کو پہنچا دی جائے۔ یہ ضرور ہونا چاہیے۔ اس سے پوری دنیا میں کرپشن میں کمی آئے گی۔ وہ افراد جو مستقبل میں ملک کا پیسہ لوٹ کر اپنی نسلوں کو جدی پشتی امارت تحفے میں دینا چاہتے ہیں وہ سو بار سوچیں گے۔ ایک سادہ سی با ت سن لیں کہ اگر انسان بہت زیادہ کھالے تو شدید بدہضمی اسہال اور دیگر بیماریاں ہو جاتی ہیں اور انسان جلد مر بھی سکتا ہے۔ اس لیے انسان کو پچتا ہو اکھانا چاہیے۔ بدن انسانی کو صرف حلال ہی پچتا ہے۔ یہ سمجھنا کہ پیسہ لوٹ کے باہر کے ملکوں میں رکھ کے ہم بنا کسی مواخذے کے بچ جائیں گے خیال خام ہے۔ صرف شیطانی خیال ہے۔ دنیا مکافات عمل ہے۔ اب انوکھے لاڈلے خدا کی پکڑ میں آچکے ہیں۔ دنیا بدل رہی ہے۔ حالات بدل رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *