عقیدت کی گھٹن نفسیاتی مرض میں کیسے ڈھلتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل پشاور میں توہین رسالت کے نام پر پھر ظلم ہوا اور بہت سے ایمان والوں کا بھرے چوراہوں میں بھرم کھل گیا۔۔۔ دن بھر عجیب و غریب تبصرے پڑھنے کو ملتے رہے۔ مذمت کرنا تو خیر انسانی فرض تھا ہی۔ مگر وہ فرض بھی یہاں مسلک و ایمان کی چادر میں لپٹا نظر آیا۔ ایسے واقعات کا بغور جائزہ لیں تو لفظی مذمت کے فوری و سطحی حل سے قطعی الگ بھی یہ درحقیقت وہ انسانی المیے ہوتے ہیں جن کے حقائق و وجوہات کو سمجھنے کے لئے عقیدت و جہالت کی عینکیں اتارنی بنیادی شرط قرار پاتی ہے۔

جسے کل کے واقعہ کو ہی لے لیں۔ مقتول طاہر اور ملزم خالد دونوں کے مختلف اوقات میں دیے گئے بیانات کی وڈیوز میں ان کی سوچ اور باڈی لینگویج کو بغور دیکھ کر کسی بھی ماہر نفسیات کا انہیں شیزوفرینک یعنی نفسیاتی مریض تشخیص کرنا قطعی مشکل نہیں تھا۔ دونوں حتمی طور پر نفسیاتی کیس ہیں۔ ہاں یہ الگ تکلیف دہ حقیقت ہے کہ انسانی نفسیات کا موضوع ہمارے معاشرے میں کوئی وجود ہی نہیں رکھتا۔ جس کی وجہ سے بہت سے نفسیاتی امراض بنیادی سطحوں پر پکڑ اور علاج ممکن نہ ہو سکنے کا سبب آج ہمارا معاشرہ ایک پاگل خانے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ۔ ۔

کسی بھی نفسیاتی مریض کا کبھی کوئی مذہب و مسلک نہیں ہوتا۔ ہاں مگر مذاہب و مسالک نفسیاتی امراض پیدا کرنے میں کردار ضرور ادا کرتے ہیں۔ جسے کہ اس کیس میں مقتول کا دعوی بھی ایک مخصوص مسلک کی ہی پیداوار ہے اور ملزم کا رد عمل بھی ایک انتہا پسند عقیدے کی تخلیق۔ مذہبی جواز سے ہٹ کر نفسیاتی حقیقت یہ ہے کہ ایسے دعوے ہمیشہ انتہا پسند مذہبی گھرانوں کے مخصوص گھٹن بھرے ماحول میں دن رات اٹھتے عقیدت کے ابال میں رہتے ذہنوں میں نمو پانے لگتے ہیں۔

یعنی کہ یہ ایک ذہین دماغ پر عقیدت کے مکمل غلبے اور انفرادی سوچ پر بے انتہا مذہبی پریشر کے خطرناک نتائج میں سے ایک ہے۔ ۔ کہ جب انسان کو اپنے وجود میں غیر مرئی قوتیں پنپتی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ روح کے تار سیدھے افق سے جا ملتے ہیں۔ خوابوں میں روحانی ہستیاں جگمگانے لگتی ہیں۔ اور فرشتے دن رات ہمکلام رہتے ہیں۔ مقدس ہستیاں سپنوں میں آ کر احکام دیتی ہیں۔ شیزوفرینیا یہی تو ہے؟

اب یہاں کچھ سنجیدہ سوال اٹھتے ہیں۔ پہلا یہ کہ موجودہ حالات میں اس طرح کے زیادہ تر دعووں کا سلسلہ آخر جماعت احمدیہ سے جا کر ہی کیوں جڑتا ہے؟ جماعت احمدیہ کے لگ بھگ دس کے قریب فرقے ہیں اور سبھی کے اپنے اپنے ایسے ہی دعوے ہیں۔ اور ہاں اب ایک کھلا تضاد بھی یہاں مسلکی رہنماؤں کے کاروباری رویوں میں صاف طور پر موجود ہے۔ ۔ جیسے کہ ہو بہو اسی طرح کا ایک واقعہ اپریل دو ہزار سولہ میں گلاسکو سکاٹ لینڈ میں پیش آیا تھا۔ جب اسد شاہ نامی ایک دکاندار کو ایسے ہی ختم نبوت کے ایک جانثار نے احمدی ہونے کی بنا پر قتل کر دیا تھا۔ مقتول اسد شاہ کا تعلق ربوہ کے ایک کٹر احمدی گھرانے سے تھا۔ اور پھر اس نے بھی ایسے ہی اپنا الگ سے دعوی مسیحائی بھی کر رکھا تھا۔ ہاں مگر تب جماعت احمدیہ کی جانب سے اسد شاہ کے لئے کوئی لا تعلقی کا اعلان ہوا۔ نہ ہی اسے اس کے الگ دعوی رکھنے کے باوجود احمدی قرار نہ دینے پر جماعت احمدیہ کی جانب سے کوئی بیان آیا۔ بلکہ تب تو مرزا مسرور صاحب نے اسد شاہ کو شہید قرار دیتے ہوئے اس کا جنازہ نماز جمعہ کے بعد خود پڑھایا تھا۔ شاید اس لئے کہ وہ دعویدار سکاٹ لینڈ میں تھا۔ جہاں کے سماج سے انسانی ہمدردی کیش کروانی مقصود تھی۔۔۔ برعکس کل کے واقعہ میں مقتول طاہر کے۔ کہ جس بیچارے نفسیاتی مریض کا تعلق بھی اسد شاہ کی ہی مانند ایک کٹر احمدی گھرانے سے ہی تھا۔ جس کو بھری عدالت میں ایک دوسرے نفسیاتی مریض نے گولیوں سے بھون ڈالا۔ اور اس معاشرے کو ایک اور موضوع مل گیا۔ ۔ ۔ گویا ایک ہی نفسیاتی مرض نے پورے مسالک کے اس گٹر نما سماج کو دو دھڑوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک طرف ملزم کے حامی تو دوسری طرف مقتول سے لاتعلقی کے فوری دھواں دھار بیانات داغنے والے۔۔۔

انسانی کھوپڑیوں پر عقیدت کے قفل چڑھاتے یہ صدیوں سے خوابوں کے ذریعہ پھلتے پھولتے عقائد، نسل کشی اور بھلا کیا ہے؟ مسلکی گھرانے پریشر ککر کی مانند ہیں جہاں عقیدت کی گھٹن دماغوں میں ابل رہی ہے۔ ۔ کبھی تو اس کو پھٹنا ہے۔ چاہے دعویٰ بن کر پھٹے یا پھر محض عقیدت کی جھاگ بن کر بہہ نکلے۔

اور ابھی حال ہی میں ایک ایسی شیزوفرنیا کی تشخیص شدہ مریض سے بھی تعلق رہا جس کو ہر دوسرے دن اپنے مسلک کے ایک رہنما سے نکاح کے خواب آتے ہیں۔ اسی نوع کے ایک بزرگ نے تو کھلے الفاظ میں خواتین کے ساتھ بنا کسی مرد کے ملاقات کرنے سے انکار کر رکھا تھا۔ وہ اس لئے کہ ان کی جانب سے انہیں کھلے الفاظ میں نکاح کی آفرز ملنے لگیں تھیں۔ اسے بے حیائی میں مت لپیٹ دیجئے۔ بلکہ انسانی فطرت کو کچلتی ہوئی عقیدت کی یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے۔

جس طرح جانداروں میں مادہ اس نر کی طرف راغب ہوتی ہے جو طاقتور ہو۔ جانداروں میں نر مادہ کو پانے کے لئے باقاعدہ ایک دوسرے سے بھڑ جاتے ہیں۔ جو طاقتور ثابت ہو وہی پھر اس مادہ کو پاتا ہے۔ ہر جاندار مادہ کی طرح عورت کی بھی یہی فطرت ہے۔ اس کے ذہن میں انفرادی و لا شعوری طور پر مرد سے جنسی رغبت کا تصور براہ راست اس کی شخصیت سے جڑا ہوتا ہے۔ ۔ ۔ جس ماحول میں جاندار فی میل یعنی ایک عورت کے اردگرد کے سبھی مرد عقیدت میں دھت ہاتھ باندھے سروں کو جھکائے بھیڑ بکریاں بنے ہوئے ملیں۔ وہاں پھر نفسیاتی طور پر اس کو صرف ایک وہی مرد نظر آئے گا جس کے گرد باقی تمام کولھو کے بیل بنے گھوم رہے ہوں گے۔ اور پھر شخصیت کا تقدس ایسا کہ لاشعوری طور پر اس نفسیاتی و جنسی دباؤ میں مسلسل رہنے سے اس کے ساتھ نکاح کے خواب آنا بھی عقیدت کی زبان میں مہان ٹھہرا۔ ۔ ۔

مجھے کبھی کسی مخصوص مسلک کو ٹارگٹ کرنے کا ہرگز کوئی شوق نہیں رہا ہاں مگر انسانی نفسیات کے مسخ شدہ لاشے اب مجھ سے اور نہیں دیکھے جاتے۔ یہاں بحیثیت انسان اگر کوئی احمدی قتل ہو تو مجھے یقیناً اتنا ہی دکھ ہوگا جتنا کسی مسیحی، ہندو شیعہ یا سکھ کے۔ ہاں مگر آج تک کبھی کہیں کسی سکھ کے مرنے پر، ہندو کمسن لڑکیوں کے نکاح و جبری تبدیلی مذاہب پر، کسی مسیحی یا شیعہ پر جماعت احمدیہ کے رہنماؤں کی جانب سے کوئی ایسا بیان نظر میں نہیں آ سکا۔ جیسا کہ کل مقتول طاہر کے واقعہ کے فوری بعد اس سے قطع تعلقی پر۔ ۔ ۔ کیوں؟ اور تو اور جماعت احمدیہ برسوں سے مغرب میں اپنی جڑیں پھیلائے ہوئے بھی آج تک مجھے خواتین کے حقوق کی مارچ کے اتنے ہی خلاف اتنا ہی سر گرم نظر آئی ہے جتنا کہ پاکستان میں بیٹھے مولانا خادم حسین رضوی و جماعت اسلامی والے۔ ۔ ۔ الغرض۔ کسی مسئلہ، بیماری، یا انسانی المیہ کا حل کبھی مذمت سے ہوا ہے نہ ہی اس سے نظر اندازی و لا تعلقی سے۔ بلکہ حل ہمیشہ مسائل سے نظریں ملا کر، انسانی غلطیوں کو اپنا کر، بیمار کو گلے لگا کر ہی نکلتا ہے۔ ۔ ۔

جس انسانی سماج پر فرشتے بننے کی دھن سوار ہو وہاں پھر انسانی نسلوں کا فطری طور پر محض درندہ بن کر رہ جانا ہی طے ہے۔ اور ہم آج بطور سماج چاہے کسی بھی مسلک سے ہوں اسی ایک ہی دوراہے اور ذہنی طور پر ایک سی ہی سطح ایک ہی فکری زمین پر کھڑے ہیں۔ ہاں اب یہاں فرق ہے تو صرف گھٹن کی شدت کا، عقیدت کے پریشر کا۔ جہاں عقیدت کے ماحول میں گھٹن کی غلاظت جتنی زیادہ بڑھے گی وہاں پھر ایسے نفسیاتی مریض مجرم و ملزم بنے سر اٹھائے ہمیں صاف طور پر نظر آئیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply