وہ قدیم گمشدہ شہر جو دوبارہ بسنے لگا ہے

الیزبیتھ پُسٹنگر - محقق، تاریخ دان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کولمبس

Getty Images
فائل فوٹو

ہونڈوراز کی مشرقی خطے کے دور دراز علاقے اور نکارگوا کے شمالی خطے میں ‘لا موسکیٹا’ نامی گرم گھنے جنگلات جہاں کثرت سے بارشیں ہوتی ہیں اور یہ وسطی امریکہ کے بارشوں والے جنگلات کا سب سے بڑا سلسلہ ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک یہ ان چند علاقوں میں سے تھا جس کو دریافت نہیں کیا گیا تھا۔

سنہ 2013 میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایل آئی ڈی اے آر (لائیٹ ڈیٹیکشن اینڈ رینجنگ) ٹیکنالوجی کے ذریعے ان جنگلات کے سلسلے کا نقشہ تیار کرکے دریافت کیا کہ قدیم دور کا ایک ‘گمشدہ شہر’ ان میں دفن ہے۔

تب سے محققین ان گھنے جنگلوں کا مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ نہ صرف قدیم شمالی امریکی تہذیب یعنی میسو امریکن کے بارے میں مزید دریافت کرسکیں بلکہ ان جنگلات کو اس لیے بھی چھان رہے ہیں تاکہ یہاں جمع ہوجانے والی جنگلی زندگی کے بھید بھی سمجھ سکیں۔

ابھی حال ہی میں جو انھوں نے دریافت کیا وہ ان کی توقع سے کہیں زیادہ تھا: ایک اعلیٰ معیار کا ماحولیاتی نظام جس میں جانوروں اور نباتات کی ان گنت انواع۔۔۔ ان میں کچھ ایسی بھی جن کے بارے اب سے کچھ عرصہ پہلے تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ معدوم ہو چکی ہیں۔

سنہ 2017 میں ہونڈورا حکومت کے تعاون سے حیاتیات کے ماہرین پر مشتمل ایک بین الاقوامی تحقیقی تنظیم ‘کنزرویشن انٹرنیشنل ریپِڈ اسیسمنٹ پروگرام’ نے ان جنگلوں میں دو ہفتے صرف کر کے ریسرچ کی اور نایاب اور معدوم ہونے کے خطرے کے قریب انواع کی ایک فہرست تیار کی جو انھیں دریائے پلاٹینو کے پانی میں اترنے کے دوران پتہ چلیں۔

یہ دریا ان بارشوں والے دریا کے بیچوں بیچ گزرتا ہے جو کہ ان انواع کے پنپنے کے لیے بہترین ماحول پیش کرتا ہے۔

لا موسکیٹا جنگلات میں دریافت ہونے والوں نباتات اور جانوروں میں ایسی بائیس انواع ہیں جن کا اس سے پہلے ہونڈورا میں نام بھیں نہیں سنا گیا تھا اور تین ایسی انواع بھی دریافت ہوئیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ اس ملک میں بہت پہلے معدوم ہو گئی تھیں: زرد رنگ کے چہرے والا چمگادڑ، مرجان درخت جیسا دکھنے والا سانپ اور ایک شیر کے رنگ جیسا پتّا جو اس سے پہلے صرف نکاراگو میں دیکھا گیا تھا اور سمجھا جاتا تھا کہ یہ معدوم ہو چکا ہے۔

ان جنگلات میں سینکڑوں کی تعداد میں نباتات، تتلیاں، کیڑے مکوڑے، پرندے، جل تھل، رینگنے والے جانور، مچھلیاں، پستاند والے جانوروں کی ایک فہرست مرتب کی گئی ہے۔

جنگلی چیتے کے خاندان کی کئی اقسام بھی دریافت کی گئیں جو کہ ان گھنے جنگلوں میں آباد ہیں۔

اس تنوع والی زندگی کی اہم وضاحت یہ دی گئی ہے کہ یہ جنگلات وہاں مقامی انسانی آبادیوں کے قدیم آباؤ اجداد جو اس قدیم اور دفن ہوجانے والے شہر سے کسی نامعلوم وجہ سے ہجرت کر گئے، انسانی مداخلت سے صدیوں تک محفوظ رہے۔

اورلانڈو

Getty Images

ساڑھے آٹھ لاک ایکڑ سے بھی زیادہ رقبے پر پھیلے ہوئے ان جنگلات میں پچیس سے تیس میٹر اونچے درخت ہیں جن میں بعض تو پچاس میٹر سے بھی زیادہ اونچے ہیں اور اس وجہ سے ان میں داخل ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

محققین کو یہاں مسلح فوجیوں کی حفاظت میں ہیلی کاپٹروں میں لایا جاتا تھا۔ گھاس پھوس اور پتے اتنے زیادہ بڑے بڑے اور موٹی تہوں والے تھے کہ محقیقین کو وہاں سے گزرنے کے لیے درانتیوں کا استعمال کرنا پڑتا تھا۔

اس خطے میں ریو پلاٹینو حَیاتی کُرّہ بھی موجود ہے جو ہونڈورا میں جنگلی زندگی کے تحفظ کا سب سے بڑا علاقہ ہے اور اقوامِ متحدہ کی ثقافتی تنظیم، یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔

اتنی بڑی جنگلی حیاتیات اور نباتات کے علاوہ لا موسکیٹا خارج ہونے والی زہریلی گیسوں کو جذب کرنے کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔ تاہم یہ خطہ اب جانوروں کی سمگلنگ کرنے والوں اور جنگل کاٹنے والوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے خطرے کا شکار ہے۔۔۔ بارشوں والے ان جنگلات میں 90 فیصد کے قریب نقصانات کی وجہ ان جنگلوں میں غیر قانونی طور پر مویشیوں کا پالنا ہے، جس کا سبب وہاں ہونے والی منشیات کی سمگلنگ ہے۔

اس خطے کے بارش والے جنگلات کے تحفظ کے لیے یہاں اب ہونڈورا کے فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔

سنہ 2018 میں حکومت نے ان جنگلوں کو اور اس کے قدیم شہر کے کھنڈرات کی حفاظت کا ایک پروگرام بنایا، اس شہر میں صدیوں سے لوگوں کو رسائی حاصل نہیں ہے اور اس طرح یہ لوٹ مار سے محفوظ ہے۔ وسطی امریکہ کے دریافت ہونے والے دیگر قدیم جگہیں اس طرح محفوظ نہیں رہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14584 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp