انتباہ کے چند حرف‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر کے معاشروں میں درجنوں نہیں سینکڑوں افراد روزانہ قتل ہوتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کی اکثریت اخبار کے صفحات اور ٹی وی کے نیوز بلیٹن میں جگہ بھی نہیں بنا پاتی۔ ایسے واقعات کی ایک بڑی تعداد کے حوالےسے شاید انصاف کے تقاضے بھی پورے نہ ہو پاتے ہوں۔ لیکن انسانی معاشرے ان حادثات کے مرتکب افراد کی جانب ایک عمومی رویہ بہرحال رکھتے ہیں اور یہ کم سے کم شدت میں بھی ناپسندیدگی کا رویہ ہوتا ہے۔ گو ایسے افراد کی اصلاح اور معاشروں میں ان کی دوبارہ بحالی پر نہ صرف زور دیا جاتا ہے بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات بھی کیے جاتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود بھی قتل کرنے والوں کی پیشانی سے انسانی خون کے داغ مٹائے نہیں مٹتے۔

شاید یہ اجتماعی انسانی ضمیر کا فیصلہ ہے کہ انسانی معاشرے کے عمومی حالات میں قتل کرنے والا ہو سکتا ہے قانونی حوالوں سے اپنی سزا پوری کر لے مگر معاشرے میں وہ کلی قبولیت حاصل نہیں کرپاتا۔ معاشرہ تو ایک طرف رہا اکثر صورتوں میں یہ افراد خود کو بھی کبھی معاف نہیں کر پاتے۔ ذرا ان امریکی فوجیوں کی خودکشی کے واقعات اور ایسے واقعات کی تعداد پر نظر ڈالیے جو عراق اور اس جیسی دیگر جگہوں پر فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران میں معصوم عراقیوں کو قتل کرنے کے بعد گھر لوٹتے ہیں اور ڈپریشن کا شکار ہو کر خود کشی کرنے کی کامیاب یا ناکام کوششیں کرتے ہیں۔ اصرار کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ یہ کچھ اور نہیں بلکہ فطرت میں چھپی ہوئی انسانی جان کی حرمت اور عزت ہے جسے ہر مقدس تحریر نے بھی اپنی بلاغت کے ساتھ دوہرایا ہے۔

انسانی معاشرے جب بھی جان، مال، عزت اور عقل کی حرمت پائمال ہوتے دیکھتے ہیں تو اقدام کرتے ہیں۔ ایسے رجحانات کی وجوہات ڈھونڈنے ہیں۔ ان رجحانات کی حوصلہ شکنی اور بیخ کنی کرتے ہیں۔ قانون صرف بنائے ہی نہیں جاتے بلکہ ان کو حرکت میں بھی لایا جاتا ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو رہا ہو تو صاحبان حکمت و دانش معاشروں کو تنبیہ کرتے ہیں۔۔۔ ارباب اختیار، عموماً جن کی بصارت و بصیرت واقعات کی انتہائی عمومی تفہیم و تشریح میں الجھی رہتی ہے کی توجہ ان ابھرتے ہوئے رجحانات کی جانب مبذول کراتے ہیں۔۔۔۔ ڈاکٹر اختر احسن اور پروفیسر خالد سعید کے ایک ادنیٰ شاگرد کے طور پر اور ان بنتے بگڑتے سماجی رجحانات پر ہونے والی سینکڑوں نشستوں میں ایک سامع کے طور پر شرکت کے بعد یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں تھا کہ ان رجحانات کی نشاندہی صرف صاحبان علم پر ہی نہیں طالبان علم پر بھی واجب ہے۔

قصور میں معصوم زینب قتل ہوئی ہم نے اس پر روایتی تشریحات سنیں۔ یہ روایتی تشریحات بالعموم ان کالم نویسوں اور تبصرہ نگاروں نے ارشاد فرمائیں جو کسی اختصاص کے بغیر ہر موضوع پر ماہرانہ رائے دیتے ہیں۔ حیرانی تب ہوئی جب ذہنی صحت کے بعض ماہرین نے بھی اسی سطحی رائے کو ماہرانہ لباس پہنانے کی کوشش فرمائی۔ اس وقت بھی یہی گزارش کی تھی کہ یہ ایک واقعہ نہیں ہے ایک رجحان ہے اور یہ یہ رجحان مزید معصوم جانوں کا شکار کرے گا۔۔۔۔۔بدقسمتی سے ویسا ہی ہوا۔۔۔۔۔اسی بوجھل دل کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ پشاور میں ہونے والا قتل ایک واقعہ نہیں ہے ایک رجحان ہے۔۔۔ یہ رجحان پہلے بھی کئی جان لے چکا اور۔۔۔ میرے منہ میں خاک۔۔۔۔ مزید کئی جان لے گا۔

ایسے رجحانات کے بارے میں ہم یہ بات تو جانتے ہی ہیں کہ وقت انکی برسوں اور عشروں پرورش کرتا ہے۔ تب جا کر کہیں ایسے رجحانات سماجی سطح پر اپنے قابل مشاہدہ اثرات مرتب کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک انتہائی معمولی طالب علم کے طور پر گزارش کر سکتا ہوں کہ گذشتہ 70 سالوں میں مذہب کی بنیاد پر ہم نے جو سیاست کی ہے اس کا نتیجہ ہر دنیاوی اور سیاسی معاملے کی مذہبی تشریح کی صورت میں آج ہمارے سامنے ہے۔۔۔ زلزلہ آئے یا سیلاب ملک کی اقتصادی تنزلی ہو یا دگر گوں تعلیمی حالت۔۔۔ہر صورت حال پر مذہبی اصطلاحات سے لدا پھندا تبصرہ آپ کے حافظوں میں محفوظ ہوگا۔

اگر یہ تبصرہ دیگر تشریحات کے ساتھ محض ایک تبصرہ ہوتا تو شاید صورتحال وہ نہ ہوتی جو آج ہے۔ مگر یہ ہوا کہ مذہبی تشریحات کا چلن اس قدر عام ہوا کہ سرکاری ہسپتالوں میں قرآن کی تلاوت سے معالجہ شروع ہو گیا۔ یعنی وہ ادویات جو دنیا بھر کے ہسپتالوں میں علاج کے لیے موزوں قرار پائی تھیں پاکستان میں ان کی تاثیر قرآنی آیات کی ایک مخصوص قاری کی آواز میں تلاوت سے مشروط قرار پائی۔ یہ کام کسی مذہبی مدرسے کے مفتی نے نہیں کوالیفائیڈ ڈاکٹرز نے کیا۔۔۔۔ یہ واقعہ نہیں رجحان ہے۔۔۔ اس رجحان کو پشاور کے واقعے سے الگ کر کے دیکھنا غلطی ہو گا۔ زلزلہ اپنے فطری اسباب رکھتا ہے اس کو بد اعمالیوں کا نتیجہ قرار دینا ایک رجحان ہے۔ مسجد کے ممبر سے “میلی کچیلی” عورتوں کی بجائے جنت میں ملنے والی حوروں کی جانب توجہ مبذول کرانا ایک رجحان ہے۔… اور ان رجحانات کو پشاور کے واقعے سے الگ کر کے دیکھنا غلطی ہے۔

پشاور کے واقعے کو مذہب کے دنیاوی اور سیاسی معاملات میں استعمال کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے سے ہی معاملہ سمجھ میں آئے گا اور شاید اسی طرح ان واقعات کے سدباب کی کوئی صورت نکل سکے۔ مذہب کے سیاست میں استعمال اور (مذہبی نہیں) مذہب کی بنیاد پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے والوں کی کارگزاری اور ان کے بڑھتے ہوئے رسوخ کو تین سطحوں پر بیان کیا جا سکتا ہے۔

  1. مذہبی گروہوں کی سیاسی قوت میں اضافہ
  2. مذہبی گروہوں کی سیاسی حیثیت میں پھیلاؤ۔
  3. اور مذہبی گروہوں کی نظریاتی بنیادوں میں توسیع۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ دنیا کا ہر نظریہ یہی تینوں مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر وہ یہ مقاصد معاشروں کی بہتری، ترقی، اور نشوونما کے ٹھوس اور قابل عمل منصوبوں کی بنیاد پر کرتا ہے۔ حمایت نہیں صرف مثال کے طور پر کمیونزم کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔ معاشروں کی اقتصادی ترقی کے لئے اس نظریے نے ایک ٹھوس پروگرام بہرطور دنیا کے سامنے رکھا۔ اس پروگرام کے قابل عمل ہونے پر اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ پر مگر یہ نظریہ ایک ٹھوس لائحہ عمل بہرطور پیش کرتا رہا۔۔۔۔ اس کے برعکس پاکستان کے مذہبی طبقہ کے پاس اقتصادی اور سماجی ترقی کا کبھی کوئی ٹھوس اور قابل عمل منصوبہ کبھی نہیں رہا۔ کسی مثبت پروگرام کی غیر موجودگی میں اپنے نظریات کو منوانے کے لیے انہوں نے چند لیبل ایجاد کئے جن کو وقتاً فوقتاً انہوں نے اپنی سیاسی طاقت منوانے اور اس میں اضافے کے لیے استعمال کیا۔ان میں سے ایک لیبل “توہین” کا تھا.

نو آبادیاتی نظام کے مطالعے سے یہ بات واضح ہے کہ توہین مذہب کے ابتدائی قوانین برصغیر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے مذہبی تصادم کو روکنے کے لیے 1860 میں بنائے گئے تھے۔ کیا ہمیں اس سوال کے جواب کے لیے کسی تحقیق کی ضرورت ہوگی کہ اس طرح کے قوانین کی ضرورت برصغیر میں برطانوی راج کے دوران ہی کیوں پیش آئی؟ پاکستان کے قیام کے بعد ان قوانین میں اضافہ اور ترامیم جنرل ضیاء کے مارشل لاء دور میں کی گئیں۔ کیا اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے بھی کسی دقیق گفتگو کی ضرورت ہے کہ 1977 کے مارشل لاء میں ہی ان قوانین میں اضافہ اور ترامیم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

آپ یقیناً جانتے ہوں گے کہ یہ قوانین مذہبی جذبات مجروح کرنے، قرآن کی بے حرمتی کرنے، معاذاللہ رسالت مآب کی شان میں گستاخی کرنے، اور مذہبی شخصیات کی بے ادبی کرنے سے متعلق تھے۔ کیا یہ ایک واقعہ تھا کہ ان قوانین کا اجرا ان مذہبی گروہوں کے ایماء پر کیا گیا جو افغان جنگ میں بین الاقوامی اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے شانہ بشانہ لڑ رہے تھے؟ آپ جانتے ہیں کہ ان قوانین کا نشانہ وہ اقلیتی مذہبی گروہ بنے جو پاکستانی اشرافیہ کے منظور نظر مذہبی طبقات سے مختلف عقائد رکھتے تھے۔ کیا یہ بھی محض ایک اتفاق تھا کہ بالخصوص دو اقلیتی مذہبی گروہوں کے خلاف ہونے والے جرائم پر ریاست اور تمام ریاستی اداروں نے چشم پوشی کا رویہ اختیار کیے رکھا؟؟ قابل غور بات یہ ہے کہ ان دو مذہبی اقلیتی گروہوں پر الزام صرف ایک تھا۔ “توہین”

میں عرض کر چکا کہ کسی مثبت اور قابل عمل پروگرام کی عدم موجودگی میں کسی ایسے نعرے پر اصرار کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا کہ جس کے ذریعے اپنے وجود کو منوایا جا سکے۔ دور حاضر میں میں یہ “توہین” کا نعرہ ہے۔

انیس سو ستتر کے انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات لگے۔ دوبارہ انتخابات کا مطالبہ ہوا۔ احتجاج شروع ہوئے مگر یہ احتجاج “تحریک نظام مصطفیٰ” کہلائے۔ اس احتجاج کے بارے میں یہ حقیقت تک اب ٹی وی پر بیان ہوتی ہے کہ یہ احتجاج امریکی سی۔ آئی۔ اے کے ایماء پر کیے گئے۔ یہ احتجاج یا تحریک بہرطور “توہین” کے نعرے کی بنیاد پر نہیں تھی۔ “نظام مصطفیٰ” کی تحریک کبھی بھی اپنے مقاصد کو ٹھوس اور قابل عمل منصوبے کی صورت میں پیش نہ کر سکی۔ 11 سالہ طویل اور ظالمانہ مارشل لاء اسلامی نظام نافذ کرنے کے لئے جاری رکھا گیا مگر عملی طور پر کچھ نہ کرسکا سواے توہین کے قوانین 295 A, 295 B, 295 C, اور 298 A کے۔ ان قوانین کا نشانہ پھر وہی گروہ بنے جو اقتدار کی غلام گردشوں میں موجود مذہبی رہنماؤں کو پسند نہیں تھے۔

کسی بھی ٹھوس منصوبے کی غیر موجودگی میں مذہب کے سیاسی اور سماجی استعمال کے لیے جو نعرہ (تو ہین) انیس سو اسی کی دہائی میں استعمال ہونا شروع ہوا بعد ازاں بڑی مشاقی سے مختلف اوقات میں استعمال ہوا۔ ناپسندیدہ سیاسی گروہوں کے خلاف کرپشن کے بعد اس نعرے کو بعض اوقات انتہائی مہارت سے بروے کار لایا گیا۔ مذہبی گروہوں کے رسوخ کے جو تین درجے اوپر بیان کئے گئے ہیں ذرا ان کو دوبارہ دیکھیے اور اندازہ لگائیے کہ اب یہ نعرہ ایک سیاسی حقیقت بن چکا ہے۔ اس نعرے کی بنیاد پر بننے والی ایک جماعت نے اپنے قیام کے صرف چند مہینوں بعد ہونے والے انتخابات میں ملک میں پانچویں پوزیشن حاصل کر لی تھی۔۔۔ انہی مذہبی گروہوں نے حال ہی میں پنجاب کی حکومت سے بنیاد اسلام بل منظور کرایا ہے۔ اس بل کے پس منظر میں میں اسی “توہین” کی کار فرمائی کو بآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔کسی سیاسی جماعت نے کھل کر اس بل کی مخالفت نہیں کی سوائے ایک آدھ کمزور مستثنیات کے۔ اور تیسرے درجہ پر اب “توہین” ایک سماجی طور پر مقبول نعرہ بن چکی ہے. اس نعرے کی قبولیت عامہ بیان کرنے کے لیے لئے نفسیات کا سہارا لیتا ہوں۔

آپ نے سکیزوفرینیا نامی ذہنی مرض کی دو علامات Hallucinations اور Delusion کے بارے میں ضرور سنا ہوگا۔ پہلی علامت میں مریض ایسی چیزیں دیکھتا اور ایسی آوازیں سنتا ہے جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں۔ جب کہ دوسری علامت سے مراد ایسے تصورات اور نظریات ہوتے ہیں جو خلاف واقعہ ہوتے ہیں مگر مریض ان پر مکمل یقین رکھتا ہے۔ مثلا یہ کہ وہ خدا ہے یا اس کا بھیجا ہوا پیغمبر ہے۔ ایسے مریضوں کے یہ نظریات ہمیشہ ان کے معاشروں میں موجود عقائد سے تشکیل پاتے ہیں۔ مثلا پاکستان میں مریض امام مہدی ہونے کا دعوی کرتے ہیں جبکہ مغرب میں ایسے مریض کرائسٹ ہونے کا۔ میں نے امام مہدی ہونے کے کئی دعویدار پاکستان میں دیکھے مگر ایک بھی ایسا مریض آئرلینڈ میں اپنے اٹھارہ سالہ قیام میں نہیں دیکھا۔ اس کے برعکس یہاں حضرت عیسیٰ ہونے کے دعوے دار اور کسی اور سیارے سے آنے کا دعویٰ کرنے والے افراد دیکھے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی معاشرے کے عقائد اس قدر دور رس اثرات رکھتے ہیں کہ وہ نفسیاتی مریضوں کی علامات تک کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسے ہی نظریات کا خوابوں میں متشکل ہونا بھی ماہرین بیان کر کے ہیں۔

“توہین” کا نعرہ اوپر بیان کردہ تیسری سطح کے مطابق اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ وہ افراد سے غیر قانونی کام بھی کروا دیتا ہے. ایسے کام جن کے پیچھے ذہنی مسائل کو نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

وہ پشاور میں ایک ذہنی مریض کا قاتل ہو یا بہاولپور میں ایک استاد کا۔۔۔۔یہ ایک ہی رجحان کی علامتیں ہیں۔ اس رجحان کی بنیاد میں مذہب کا سیاسی اور سماجی استعمال اپنی پوری تاریخ کے ساتھ موجود ہے۔ میں اصرار کے ساتھ ان تاویلات کی نفی کرتا ہوں جن میں اقتصادی یا تعلیمی عوامل کو ان واقعات کی تشریح کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ سبین محمود اور ڈینیئل پرل کے قاتلوں کو ذہن میں لائیں۔۔۔۔ یہ نہ تو غریب تھے اور نہ کم تعلیم یافتہ۔۔۔۔ لیکن مذہب کے سیاسی اور سماجی کردار پر دونوں یکساں طور پر مصر تھے۔ انتہا پسندی کے ذیل میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں پھر کہتا ہوں کہ اس کی بنیادی وجہ مذہب کے سیاسی اور سماجی کردار پر اصرار ہے۔ بہاولپور کے پروفیسر خالد حمید، کراچی کی سبین محمود، کراچی ہی کے شکیل اوج اور پروفیسر سبط جعفر اور پشاور کے ڈاکٹر فاروق خان کی زندگیوں کے چراغ اسی اصرار نے گل کیے۔ اس بے جا اصرار کا اگر جائزہ نہ لیا گیا تو ہم صرف پشاور کے واقعے میں قتل ہونے والے کی ذہنی صحت کا تجزیہ کرتے رہ جائیں گے۔ انیس سو نوے کی دہائی میں گوجرانوالہ کے ڈاکٹر کی جگہ پشاور کا ذہنی مریض لے لے گا مگر ناحق خون بہتا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply