کچھ شاہراہوں کے نام بدلنے کے بارے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور کی نکولسن روڈ کا نام تبدیل کرکے نوابزادہ نصر اللہ خان روڈ رکھنے پر آخر یہ اشتعال انگیز بحث کیوں؟ جیسا کہ شیکسپئر نے کہا کہ ’’نام میں کیا رکھا ہے؟ گلاب کو کسی بھی نام سے پکارا جائے تو بھی اس کی خوشبو وہی رہے گی۔ ‘‘

لوگ پوچھتے ہیں، ’’کیا یہ صرف نام کی تبدیلی ہے اور مجسمے کی تباہی سے زیادہ کچھ نہیں، کیا یہ ماضی کی ناانصافیوں کی تلافی کرتا ہے یا ہمارے نو آبادیاتی ماضی کو فراموش کرتا ہے۔ ‘‘

لیکن یہ حقیقت ہے کہ شاہراؤں کے نام معنی رکھتے ہیں اور لوگوں کی نفسیات پر اس کے اثرات کو غیر اہم نہیں سمجھا جاسکتا۔ مقامات کے نام نہ صرف زبان، ثقافت اور شہرکی اخلاقیات بلکہ قوم کی روح کا بھی حصہ بن جاتے ہیں۔ Imaginary Cities کے مصنف Darran Anderson, کہتے ہیں کہ ’’ایک بار جب آپ کسی فرد یا واقعہ پر شاہراہ کا نام رکھنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں، آپ داخلی طور پر کچھ سیاسی و موضوعاتی شروعات کر چکے ہوتے ہیں۔ ‘‘

ماضی میں آمروں اور ان جیسے منتخب افراد کی جانب سے نو آبادیات کے بیانیہ کو تقویت دینے یا مقامی تاریخ مسخ کرنے کی غرض سے شاہراؤں کے نام استعمال کئے جاتے رہے ہیں۔ اسپین کے آمر فرانکو نے میڈرڈ کی شاہراؤں کے نام ہی صرف اپنے نام پر نہیں رکھے بلکہ اس کا سلوگن (Plazade Arriba Espana)  بھی فرانکو کے سلوگن پر رکھا گیا تھا جس کا مطب ہے ’اسپین آگے‘)۔ ہسپانوی حکومت آج تک اس میراث کو سنبھالے ہوئے ہے۔ کمیونسٹوں کے وقت میں یورپی ممالک میں شاہراؤں کے نام ان کے ہیروز کے نام پر رکھے جاتے تھے۔ پولینڈ کو 1500 سے زائد شاہراؤں اور چوراہوں کے نام پر نظر ثانی کے عمل سے گذرنا پڑا۔

موجودہ اور آنے والی نسلوں کو کسی بھی شخص کے معزز اور قابل احترام ہونے کے بتانے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس شخص کے نام پر کسی سڑک کا نام رکھ دیا جائے۔ اس کا ایک حامی Kitchener تھا جس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ لندن کی شاہراؤں کے نام اس کے نام پر ہوں، حتیٰ کہ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کی سڑکیں بھی اس انداز میں ڈیزائن کی گئیں جو برطانوی پرچم کی نمائندگی کرتی تھیں جس میں یہاں کی مرکزی سڑک وکٹوریہ ایونیو بھی شامل تھی۔ (خود ہمارے ملک میں فیصل آباد (تب لائل پور) کا مرکزی چوراہا یونین جیک کے نمونے پر تعمیر کیا گیا تھا – مدیر)

سربیا اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ اصل میں سڑکیں عثمانیہ سلطان یا ہبسبرگ بادشاہت کے نام پر تھیں، پھر دونوں کا اثر و رسوخ ختم ہوتا چلا گیا، پھر اس کے بعد شاہی خاندان اور جب لینن نے تاریخ کو دوبارہ لکھنے کا فیصلہ کیا تو ان تمام سڑکوں کے نام تبدیل کرکے کمیونسٹ انقلابیوں کے نام پر رکھ دیئے گئے۔ امریکا اور افریقہ و ایشیا کے ممالک بھی اپنے مقاصد کے مطابق وقتاً فوقتاً شاہراؤں کے نام تبدیل کرتے رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اوقات شاہراؤں کے نام سیاسی مقاصد اور کوئی موقف اپنانے یا دشمنوں کو پیغام دینے کی خاطر بھی تبدیل کئے گئے ہیں۔ سعودی عرب نے شیعہ عالم شیخ نمر النمر کو پھانسی دی، جس کی وجہ سے ایرانی عوام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، ایرانی حکومت نے جوابی کارروائی کے طور پر اس سڑک کا نام تبدیل کرکے شیخ نمر النمر اسٹریٹ رکھ دیا جہاں سعودی قونصل خانہ واقع تھا۔

ایران نے تہران میں چرچل اسٹریٹ کا نام تبدیل کرتے وقت بھی کچھ اسی طرح کا موقف اپنایا تھا، جہاں برطانوی سفارتخانہ واقع تھا اس سڑک کا نام ’’بوبی سینٹ اسٹریٹ ‘‘رکھ دیا گیا، بوبی سینٹ آئرش ری پبلکن آرمی (آئی آر اے) کا ہیرو تھا لیکن انگریز اسے مجرم کے طور پر دیکھتے تھے، اس اقدام کا مقصد سفارتخانے کے ساتھ کسی بھی قسم کی خط و کتابت میں بوبی سینٹ کا نام لے کر انہیں شرمندہ کرنا تھا۔ (برطانوی سفارتخانے نے اس مسئلے کا حل ایسے نکالا کہ سفارتخانے کا نیا مرکزی داخلی دروازہ پچھلی شاہراہ سے نکال لیا جو کہ فارسی کے معروف شاعر فردوسی کے نام پر تھی۔

سیاسی مقاصد کیلئے مقامات کے نام کی تبدیلی کے حوالے سے ایران اکیلا نہیں ہے، امریکا میں ایک ایسی شاہراہ کا نام تبدیل کرکے منحرف سوویت قیدی آندرے سخاروف کے نام پر رکھا دیا گیا جہاں سوویت سفارتخانہ واقع تھا، جبکہ جہاں چینی سفارت خانہ واقع تھا اس کا نام چین میں قید کاٹنے والے نوبل انعام یافتہ کے نام پر ‘Liu Xiaobo Plaza’رکھ دیا گیا۔

معروف ہیروز کی کامیابیوں کی یاد منانے کی غرض سے سڑکوں کے نام رکھے جاتے ہیں اور یادگاریں نصب کی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد انہیں یادوں میں زندہ رکھنا ہوتا ہے، تاہم اگر سڑک یا شاہراہ کا نام کسی ایسے شخص کے نام پررکھا گیا ہے جو دوسروں کو مارنے یا ان سے غیر انسانی سلوک روا کرنے میں ملوث رہا ہو تو یہ اس مقصد کی نفی کرتا ہے اور اسی لئے میں سمجھتا ہوں کہ ایسے شخص کے نام یا مجسمے کو ہٹانا مکمل طور پر قابل قبول ہوگا، چونکہ نکولسن کو تاریخ میں نسل پرست اور بدمعاش اور مقامی لوگوں کی جان بخشی نہ کرنے والا تسلیم کرلیا گیا ہے تو نکولسن اسٹریٹ کا نام تبدیل کرنا ضروری ہوگیا ہے، تاہم، اس تنقید میں کہ مقامات کا نام تبدیل کرکے تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے، بہرحال وزن ہے۔

Darran Anderson کا شاہراؤں کے ناموں کی تبدیلی کے حوالے سے کہنا ہے کہ ’’جب ہم یہ دیکھنے میں ناکام ہوجاتے ہیں کہ پہلے کیا دلچسپ تھا اور کیوں، تب ہم اپنے سیاق و سباق اور جڑوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔‘‘ ماضی کو دفن نہ کرنے یا جھٹلانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ’’کوئی بھی ماہر نفسیات آپ کو بتائے گا کہ یہ ایک نہایت ہی غیر دانشمندانہ عمل ہے اور یہ قوموں کے ساتھ ساتھ افراد پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ تبدیلی ہر طرح سے خوش آئند ہے لیکن اس کیلئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر اس کی ضرورت کیوں ہے اور جو پہلے تھا وہ بھی ضروری ہے۔ ہماری زندگیاں اور ہمارے شہروں کی زندگیاں وقت اور جگہ کے گرد ہیں اور اس کا اعتراف کرنا ضروری ہے۔ ہم کون ہیں، ہم اس لئے ہیں کہ اور اس کے باوجود، ہم کہاں سے آئے ہیں۔ ‘‘

کیا کوئی ایسا توازن ہے کہ ہم مجرموں کی یاد نہ مناتے ہوں لیکن اس حوالے سے تاریخ محفوظ رکھتے ہوں؟

میرے خیال میں اس طرح کے معاملات میں سب سے بہتر سمجھوتہ شاہراؤں کا نام تبدیل کرنا ہے، تاہم یہ تفصیلات بھی دی جائیں کہ اس سے قبل اس شاہراہ کو کس نام سے پکارا جاتا تھا، مثال کے طور پر کوئی بھی ایمسٹرڈیم میں ایسی نئی شاہراہ دیکھ سکتا ہے جس کے نیچے اس شاہراہ کا پرانا نام بھی واضح ہوتا ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ تاریخی حقیقت برقرار رہے، یہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک اشارہ ہوتا ہے کہ اس شاہراہ کا اصل نام جس شخص کے نام پر تھا دراصل وہ ایک مجرم تھا، اور اسی لئے اس کے بجائے کسی عظیم شخص کی یاد منانے کیلئے اس کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ کسی کو ہمیشہ نو آبادیاتی شاہراؤں کے نام تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ایک دفعہ کراچی کی نیپئر روڈ کے نام کی تبدیلی کی تجویز سامنے آئی کیونکہ اس کا نام سندھ کے پہلے برطانوی گورنر جنرل اور نسل پرست استعماری چارلس نیپئر کے نام پر رکھا گیا تھا، تاہم اس تجویز کو رد کردیا گیا، جب یہ کہانی آگے بڑھی تو محسوس کیا گیا کہ کراچی کے ریڈ لائٹ ایریا کے ساتھ اس کی وابستگی کے باعث نیپئر روڈ کا نام ویسے ہی رہنا چاہیئے، جو عظیم پاکستانیوں سے وابستہ نہیں ہونا چاہیئے۔

آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے شہر، قصبے اور حتیٰ کہ دیہات بھرے پڑے ہیں کہ جن کے نام معروف و غیر معروف افراد، ہیروز، پریمیوں اور غلاموں کے ناموں پر ہیں۔ لاہور اور دیگر ثقافتی شہروں پر اوپر سے احکامات صادر نہیں کئے جا سکتے اور نہ ہی انہیں خالص’’پاکستانی‘‘ بنایا جاسکتا ہے کیونکہ ایک قوم کی زندگی میں اس کا کوئی اصل نکتہ نہیں ہوتا۔ جب ہم مقامات کے نام حذف کرنے جاتے ہیں تب ہمیں اس تبدیلی اور تاریخ میں توازن برقرار رکھنا چاہیئے۔

Latest posts by سید علی ظفر (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید علی ظفر کی دیگر تحریریں

سید علی ظفر

مصنف سپریم کورٹ کے ایڈ ووکیٹ، سابق نگران وفاقی وزیر قانون و اطلاعات اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ہیں۔

syed-ali-zafar has 1 posts and counting.See all posts by syed-ali-zafar

Leave a Reply