اردوان کے لیے مسلم امہ کا لیڈر بننے کے امکانات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان دنوں اردوان کی انتظامیہ اعتراضات، سوالات اور ڈھیر سارے خدشات کی زد میں ہے۔ عالمی اور داخلی دونوں سطح پر محاذ کھل گئے ہیں۔ معترضین کا پہلا اعتراض ڈیڈ کے جعلی ہونے پر ہے۔ دوسرا مذہبی امور کے سربراہ ڈاکٹر علی ایرباش کا ایا صوفیہ کے متنظم اعلیٰ (Pastors ) اور سلطان محمد فاتح کے درمیان ہونے والی ڈیڈ کی دستاویزات ٹی وی پر دکھانے، ایاصوفیہ میں خطبہ دینے اور سلطان محمد فاتح سے منسوب یہ بیان کہ ایا صوفیہ کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنے والا مطعون، ہاتھ میں عصا کی جگہ تلوار کو تھامنا اور اس کی نمائش کرتی حکومت کے اپنے عزائم اور اس کے آئندہ ایجنڈے کا گویا شوآف ہے۔

جھنڈے پر تین ہلال کی نمائش نے تین براعظموں پر ترکوں کی حکومت کا اظہار کرتے ہوئے ڈھکے چھپے لفظوں میں گویا عرب دنیا کو ایک پیغام بھی دیا کہ اغیار کی عیاریوں کے جال میں پھنسی عرب دنیا عرب قومیت کے نعرے لگا لگاکر پون صدی میں اس کے مزے تو لوٹ ہی چکی ہے۔ اب اردوان کی خلافت کی چھتری تلے پناہ لینے میں کیا حرج ہے؟ خلامت عثمانیہ کی عظمتوں کو احیاء کی ضرورت ہے شاید۔

اپنے حسابوں تھوڑا سا تجزیہ پیش ہے۔

ڈیڈ جعلی ہے یا اصلی۔ رقم ذاتی جیب سے دی گئی یا خزانے سے۔ ہمارے سامنے اس ضمن میں دو مضبوط مثالیں مع ثبوت کے موجود ہیں۔ دمشق کی امیہ مسجد۔ تین ہزار سال پرانی جائے عبادت۔ پہلے رومیوں کی، پھر یونانیوں کی اور پھر آرمینیائیوں کی۔ ان کے حداد دیوتا کا نام تو ابھی بھی چل رہا ہے۔ پھر عیسائیوں کا پگان بنا۔ مسلمان فاتح بنے تو وہ بھلا اس نیکی کے کام میں کیوں پیچھے رہتے؟ اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک نے اس پر عظیم الشان مسجد بنانے کا سوچا۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ اس نے عیسائی کمیونٹی سے مذاکرات کیے اور بار بار کیے۔ آغاز میں رضا مندی نہ تھی۔ پھر ڈھیر سارا پیسہ، نئے چرچ کی تعمیر اور شہر میں بکھرے دیگر چرچوں کی مرمت کرنے کے عوض سودا ہوا۔

اب قرطبہ مسجد کی جانب آئیے۔

قرطبہ جب موروں کے قدموں میں سرنگوں ہوا تو عبادت گاہ موجود تھی اور تاریخ بھی کچھ اوپر والی ہی تھی۔ پہلے گوتھوں کا معبد، رومی آئے تو رومیوں کا ٹمپل، عیسائی آئے تو سینٹ ونسٹ چرچ اور جب مسلمان آئے تو مسجد بنی۔

اب فاتح اقوام کی نفسیات پڑھ لیں کہ ہر فاتح قوم کی رال اسی پر ٹپکی۔ یقیناً فاتح قوم کی نفسیات میں کہیں مفتوح قوم کی اہم چیزوں پر اپنے نقوش ثبت کرنے کی خواہش کارفرما ہوتی ہے۔ ہاں بابری مسجد کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔ وہاں کوئی مندر نہیں تھا۔ اس ضمن کا بڑا حوالہ ہندوستان کی شہرہ آفاق تاریخ دان رومیلا تھاپر کا ہے۔ جس کے مطالعے کا میدان ہی ہندوستان کی قدیم تاریخ ہے۔ یہاں وہی بات جس کی لاٹھی اس کی بھینس کاقانون۔ انصاف کہاں ہے؟

ہاں یہاں مسلمان حکمرانوں بارے تاریخ گواہی دیتی ہے کہ عبدالرحمن اول نے بھی ولید بن عبدالمالک کی طرح اخلاقی اقدار کی پاسداری کی اور کہیں زور زبردستی نہیں ہوئی۔ خریدنے کی کوشش ہوئی۔ پہلے انکار ہوا پھر نصف پر آمادگی اور بعد ازاں منہ مانگے داموں پر سودا ہوا۔ قرطبہ کی مکمل فتح ہونے پر خستہ حال گرجوں کی مرمت اور تعمیر نو کی بھی اجازت دی گئی۔

اب غرناطہ، قرطبہ اور اشبیلیہ کے سقوط پر مسلمانوں اور مسلمانوں کی مسجدوں کے ساتھ جو کچھ ہوا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ یہودیوں کو بھی کچھ نہ کچھ تو یاد ہی ہوگا کہ جیسے وہ نکالے گئے اور پناہ کہاں ملی؟ یہ بھی انہیں معلوم ہے۔ بھول جائیں تو اور بات ہے۔

تو بھئی اب ایاصوفیہ اگر مسجد بنی تو کیا تعجب کی بات تھی۔ کہ اس شہر کی فتح کی نوید تو زمانوں پہلے پیغمبر انسانیت نے دی تھی اور سلطان محمد فاتح نے ادائیگی کی تھی تو اسے جھٹلانے کی کوئی وجہ نہیں۔ اسے میوزیم تو بنانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

ہاں ذرا اعتراض کرنے والی آرتھوڈوکس کیتھولک دنیا کے طرز عمل کی ایک چھوٹی سی جھلک بھی دیکھ لیں۔

شاعر مشرق کا قرطبہ سے عشق بڑا بلاخیز تھا۔ انہوں نے جب قرطبہ جانے اور مسجد میں نماز پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو حکومت برطانیہ کو باقاعدہ سپین کی حکومت کو راضی کرنا پڑا۔ قرطبہ کی مسجد میں سجدہ دینا جرم سمجھا جاتا اور اس کی کسی طور اجازت نہیں تھی۔ دوسری مثال 21 نومبر 1991 کی ہے جب یہاں ساڑھے سات سو سال بعد مسلم تقریب کا انعقاد ہوا اور کن جتنوں سے ہوا۔ یوروپ میں بسنے والے عاشقان اقبال نے پوری دنیا سے اقبال کے عاشق اکٹھے کر لیے تھے۔ اس فاونڈیشن کے منتظم اعلیٰ فرانسیسی ڈاکٹر لامان تھے۔ انہوں نے سپین کے بشپ سے درخواست کی۔ انکار ہوگیا۔ ویٹی کن سٹی جاکر پوپ پال سے اجازت لی اور تب یہاں تقریب سجی۔

اردوان کے سامنے اب بڑے چیلنجز ہیں۔ ترکی کی اکثریت سیکولرازم کی حامی ہے۔ ترکی کی فوج کو اقتدار کی لت لگی ہوئی ہے۔ 15 جولائی 2016 کی فوجی بغاوت اس کے سامنے ہے۔ کہہ لیجیے کہ صدی کی تاریخ نے ترکی کو دو عظیم لیڈر دیے۔ اتاترک اور طیب اردوان۔ دونوں دو انتہاؤں پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایک سیکولر اور دوسرا بنیاد پرست۔ یہ بات اردوان جیسے زیرک سیاست دان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس کی پذیرائی ایک زبردست لیڈر کے طور پر صرف ایک اعلیٰ منتظم اور اقتصادی ترقی کی وجہ سے ہوئی۔ وہ اچھا مسلمان ہے۔ اس کی بیوی حجاب پہنتی ہے۔ عام ترکوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply