حزب اقتدار و اختلاف کو آخری مہلت؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیاست شطرنج کا صبر الزما کھیل ہے، جس میں مہرے تبدیل کرکے شاہ کو مات دینے کی کوشش کی جاتی ہے، سوچ و بچار کے اس کھیل میں پیادے، گھوڑے، ہاتھی، وزیر نشانہ بنتے ہیں اور شاہ کو بچانے کے لئے یکے بعد دیگر مہرے گرتے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ فریق ایک ایسی چال چل دیتا ہے کہ شاہ کے بچاؤ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ شطرنج سے واقف بخوبیٔ جانتے ہیں کہ اس کھیل میں فریق کو الجھانا پڑتا ہے تاکہ اس کی قوت فیصلہ کمزور پڑجائے اور وہ جلد بازی میں ایسی چال چل دے، جس سے سب کچھپلٹ جائے، اعصابی کھیل اور سیاست میں بھی کوئی فرق نہیں۔ اعصابی جنگ میں مخالف کو زچ کرنا اور ایسے فیصلے کرانا مقصود ہوتا ہے کہ بازی کو اپنے حق میں کرایا جاسکے۔

سندھ میں پاک فوج کو سول اداروں کی مدد کے لئے طلب کیے جانا، پہلی بار نہیں ہوا، تاہم سیاسی بساط میں ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی گئی کہ جیسے سول اداروں سے اختیارات، فوج کے حوالے کیے جا رہے ہوں۔ اس غلط بیانئے کے تشہیر کا مقصد ریاستی اداروں و حکومتوں کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت مہارت کے ساتھ اپنے پتے کھیل رہی ہے، اپوزیشن جماعتوں نے گورنرراج اور سندھ حکومت کی برطرفی کی دو برسوں کی کوششوں میں ناکامی کے باوجود کمر کسی ہوئی ہے کہ کسی بھی صورت صوبائی حکومت کو چلتا کردیں۔ لیکن پی پی پی سیاسی بلوغت کی وجہ سے مخالفین کی تمام چالوں کا توڑ کررہی ہے۔

کسی بھی سیاسی جماعت کی قیادت کے فیصلوں کا اثر پارٹی پالیسی و عوام پر براہ راست پڑتا ہے۔ ایک اجمالی تصور کیا جائے تو سندھ حکومت میں وزارت اعلیٰ سے لے کر نچلی سطح تک پی پی پی قیادت کسی بھی وقت کوئی بھی تبدیلی کرنا چاہیے تو انہیں کسی چھوٹی بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں ہوگا۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں بھی پی۔ ٹی۔ آئی انتظامی ردوبدل کرے تو حکومت کو کوئی خطرات لاحق نہیں، بلوچستان کی سیاسی حقائق کچھ اور ہیں، اس لئے مخصوص مقاصد کے تحت اقلیت بھی وزرات اعلیٰ کے منصب لے جاتی ہے، یہاں بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اب پنجاب رہ جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے خبیر پختونخوا اور پنجاب میں غیر معروف ایسے وزرائے اعلیٰ کا انتخاب کیا، جن پر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے علاوہ عوام بھی حیران ہوئے۔ اس وقت اس فیصلے کی منطق یہ سامنے آئی کہ عمران خان ان صوبوں کو اپنی نگرانی میں چلا کر پارٹی پوزیشن کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، کیونکہ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ لینے کے لئے ان دونوں گراؤنڈ پر اپنی مرضی کا کھیل کھیلنا آسان ہوگا۔ خیبر پختونخوا میں تو پی ٹی آئی کے لئے عددی اکثریت کی وجہ سے کوئی مشکلات نہیں، یہی وجہ ہے کہ مختلف اسکینڈل سامنے آنے کے باوجود صوبائی سیٹ اپ میں تبدیلی پر کسی مشکلات کا سامنا نہیں۔ لیکن پنجاب کی صورتحال بہرصورت مختلف ہیں۔

سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ پنجاب میں وسیم پلس کی کارکردگی، سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کے مقابلے میں کافی کمزور ہے۔ حکومتی وزرا خود بھی بارہا کہہ چکے ہیں کہ عثمان بزدار وزیر اعلیٰ اس لئے ہیں کہ انہیں وزیراعظم کا اعتماد حاصل ہے۔ بالفاظ دیگر اس کے معنی بالکل واضح ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برخلاف ہیں۔ پنجاب میں بیورو کریسی سمیت وزرا ء کی تبدیلیاں اب معمول کا حصہ بن چکے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب کی تبدیلی ناممکن ہے۔

اگر مرکز کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کو کسی بھی جواز پر ہٹانے کی کوشش بھی کی جائے تو پی ٹی آئی کے ہاتھوں سے تخت لاہور آناً فاناً نکلنے کے قوی امکانات ہیں، سیاسی جماعتیں اور عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ پنجاب میں حکومت سازی اور نمبر پورے کرنے کے لئے جن شخصیات نے تن من دھن کی بازی لگائی تھی، آج وہ اپنی ہی جماعت میں موجود حریفوں کی سیاسی چالوں کا شکار ہوچکے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان پنجاب کے وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنا بھی چاہیں تو یہ رسک وہ بھی نہیں اٹھا سکتے، اگر ایسے یوں کہا جائے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی سیاسی پوزیشن اس قد ر مضبوط و کرسی جمی ہوئی ہے کہ ان کے قائد بھی انہیں نہیں ہٹا سکتے۔ سیاسی پنڈتوں نے اس منطق کا استدلال یہی دیا ہے کہ پارٹی میں گروہ بندیاں اور وزرات اعلیٰ کے خواہش مند بلاکوں کے علاوہ اتحادی جماعت بھی پنجاب کی وزرات اعلیٰ کی خواہش مند ہیں، انہیں بس ایک موقع کا انتظار ہے، اس کے بعد پنجاب میں دم دما دم مست قلندر ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پی ٹی آئی نے اپنے نمبر گیم میں کامیابی حاصل کرکے آزاد امیدواروں کو پی ٹی آئی میں شامل کرایا۔ جس سے پنجاب میں معمولی اکثریت سے کامیابی کے لئے بھی ق لیگ کے ساتھ اتحاد ناگزیر ہوا۔

چوہدری فواد نے 2018 کے انتخابات کے بعد 148 درکار نشستیں نہ ہونے کے باوجود اعلان کر دیا تھا کہ انہیں آزاد اراکین کے علاوہ ق لیگ کی حمایت حاصل ہوگئی ہے اور پھر ملکی سیاست میں جو ہوتا ہے وہی ہوا اور تحریک انصاف نے پنجاب میں حکومت بنا لی۔ وزرات اعلیٰ کے حصول کے لئے بھاگ دوڑ میں جن شخصیات کو شطرنج کی مہروں کی طرح مات دی گئی، اس وقت تو کوئی خاص مسئلہ پیدا نہیں ہوا کیونکہ عثمان بزدار کے نام کی منظوری کے بعد یہی توقعات تھی کہ نا تجربہ عثمان بزدار کو وزیراعظم خود جلد رخصت کردیں گے، لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنی گرفت اس قدر مضبوط کرچکے ہیں کہ انہیں ہٹانا، پی ٹی آئی کے لئے بڑی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے جس کے نتیجے میں وہ صوبائی حکومت سے بھی ہاتھ دھو سکتے ہیں، جس کے بعد ملکی سیاست کا پورا منظر نامہ تبدیل ہونے میں وقت نہیں لگے گا۔

قیاس آرائیاں ہیں کہ پی ٹی آئی بھی پی پی پی کی طرح ایک صوبے تک محدود رہ سکتی ہے۔ سیاسی شطرنج کا کھیل زوروں پر ہے، سیاسی پنڈتوں نے اگلے چھ ماہ حکمراں جماعت و اتحادیوں کے لئے اہم قرار دیے ہیں کہ اگر یہ چھ ماہ کسی نہ کسی طرح پی ٹی آئی نے گزار لئے تو عمران خان اگلے ڈھائی سال اپوزیشن کے لئے سخت لوہے کا چنا ثابت ہوں گے۔ اسی طرح حزب اختلاف اس کھیل میں شاہ کو چت کرنے کے لئے کیا داؤ لگاتی ہے یہ امر آنے والے چند ہفتوں میں ملکی سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے اہم ہوگا۔ سیاسی پنڈتوں کاکہناہے کہ اگلے چھ مہینے حزب اقتدار و اختلاف کے لئے آخری مہلت ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply