چین میں شادی کا ادارہ اور حکومت کا سیاسی مفاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین میں شادی کے رسم و رواج معاشرے میں آ نے والی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ پچاس سال میں شادیوں کے انتظام و انصرام میں بہت زیادہ تبدیلیاں آئی ہیں۔ 1990 ء کی دہائی کے اواخر سے اب تک چین کے دیہی علاقوں میں ”دلہن کی قیمت“ میں ساٹھ گنا سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ ایک مقامی ٹی وی چینل کے ڈپٹی ڈائرکٹر لیو تھونگ نے ’ویبو‘ پر لکھا :میرے والدین کے زمانے میں دلہن کو بائیسیکل پر بٹھا کے لایا جاتا تھا۔ اب دلہن کو بی ایم ڈبلیو کار میں بٹھا کر لایا جاتا ہے۔

1950 ء کے عشرے میں شادی کے لئے ایک پلنگ خریدنا پڑتا تھا۔ 1960 ء کے عشرے میں مٹھائی کا ٹوکرا کافی ہوتا تھا۔ 1970 ء کے عشرے میں آپ کے پاس صرف لال کتاب ہوتی تھی۔ 1980 ء کے عشرے میں ریڈیو سیٹ کافی ہوتا تھا۔ 1990 ء کے عشرے میں شادیاں بڑے بڑے ہوٹلوں میں ہونے لگیں اور 2000 ء کے عشرے میں شادی کا استقبالیہ آپ کی انفرادیت کا اظہار بن گیا۔

1949 ء کے انقلاب کے بعد برسوں کمیونسٹ حکومت سادگی پر زور دیتی رہی۔ اس وقت کی سیاسی اور سماجی صورتحال ذاتی زندگی میں بھی تبدیلی لائی تھی۔ دھوم دھڑکے کی بجائے شادی کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لینا ہی کافی سمجھا جاتا تھا۔ خصوصی ملبوسات تیار کرائے جاتے تھے، نہ ہی تحائف خریدے جاتے تھے۔ دوستوں، پڑوسیوں اور خاندان والوں کی ایک چھوٹی سی دعوت ہو جاتی تھی۔ ابتدائی ایک دو عشروں میں اسی طرح شادیاں ہوتی رہیں لیکن پھر عظیم پرولتاری ثقافتی انقلاب 1966۔1976 کے دوران انقلاب لوگوں کی ذاتی زندگی میں کچھ زیادہ ہی داخل ہو گیا۔ اب نہ نئے جوڑے کے ہاتھ میں پھول ہوتے تھے، نہ دلہن عروسی گاؤن پہنتی تھی بلکہ دونوں کے ہاتھوں میں لال کتاب ہوتی تھی۔ دونوں مقامی کونسل کے دفتر میں جاکر ماؤ زے تنگ کی تصویر کے سامنے سر جھکاتے تھے۔ اور شادی کے سرٹیفکیٹ پر مہر لگوا کر گھر میں فریم کروا کے لٹکا دیتے تھے۔

کہا جاتا ہے ”جب بھی دنیا میں کوئی بڑا انقلاب آتا ہے تو سب سے پہلے بنائے جانے والے قوانین میں شادی کا قانون بھی شامل ہوتا ہے“ ۔ چین کے پرانے عائلی نظام کی نفی کرتے ہوئے نیا عائلی قانون 1950 ء میں بنایا گیا۔ قدیم چین میں عورتوں کو انسان ہی نہیں مانا جاتا تھا۔ مردم شماری میں عورتوں اور بچوں کو نہیں گنا جاتا تھا۔ شادی کے لئے لڑکی کو خریدا جاتا تھا اور اسے اپنے خریدار یعنی شوہر کا ہر حکم ماننا ہوتا تھا۔ شوہر کو اسے مارنے پیٹنے اور جیسا چاہے سلوک کرنے کا اختیار تھا۔ انقلاب کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی اور عورت اور مرد کو مساوی درجہ مل گیا۔ اب مرد اور عورت اپنی مرضی سے شادی کر سکتے تھے اور کثیر ا لازواجی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ شادی کا سرکاری دفتر میں رجسٹر کرانا ضروری ہو گیا تھا۔

اقتصادی اصلاحات کے بعد 1981 ء میں نیا عائلی قانون بنایا گیا۔ 1950 ء کے قانون کا مقصد جاگیرداری رسوم و رواج کا خاتمہ تھا۔ اس میں داشتائیں رکھنے، بچپن کی شادی اور بیواؤں کی شادی میں رکاوٹ ڈالنے کی ممانعت کی گئی تھی۔ اپنی پسند کی شادی اور یک زوجگی پر زور دیا گیا تھا۔ 1981 ء کے عائلی قانون میں اہل خانہ کے لئے ذمہ داریوں کا ایک ماڈل پیش کیا گیا ہے۔ حکومت نے اس قانون کے لئے ویمنز فیڈریشن سے مشاورت کی اور مردوں کے لئے شادی کی کم سے کم عمر بائیس سال اور لڑکیوں کے لئے بیس سال مقرر کی گئی۔ عملی طور پر اس سے بھی دیر سے شادی کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ اس قانون کے تحت طلاق کا حصول بھی آسان بنا دیا گیا ہے۔

اقتصادی اصلاحات کی بدولت آنے والی خوشحالی کی وجہ سے ماؤ کے دور کی سادگی اور کفایت شعاری ختم ہو گئی ہے اور شادیاں دھوم دھڑکے سے ہونے لگی ہیں۔ 1960 ء کے عشرے میں نوجوان جوڑے صرف رسٹ واچ، بائیسیکل اور سیونگ مشین مانگا کرتے تھے۔ 1970 ء کے عشرے میں نو بیاہتا جوڑے ٹی وی سیٹ، فریج، کیسٹ ٹیپ ریکارڈراور واشنگ مشین مانگنے لگے تھے۔ 1980 ء کے عشرے میں ان مطالبات میں مزید اضافہ ہوا۔ تین طلائی زیورات یعنی انگوٹھی، کنگن، نیکلس کے ساتھ رنگین ٹی وی سیٹ، ڈبل ڈور فریج، بڑی واشنگ مشین اور ڈبل ڈیک ٹیپ ریکارڈر کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ چین میں پاکستان کے برعکس لڑکے والوں کو جہیز کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔

شادی کرنا دن بدن ایک مہنگا معاملہ بنتا جا رہا ہے۔ پیپلز ڈیلی کے سروے کے مطابق 2017 ء میں بیجنگ میں چینی دلہا کو اپنے سسرال والوں کو دو لاکھ یوآن کے نقد تحائف پیش کرنا پڑتے تھے اوراپنی ہونے والی بیگم صاحبہ کے لئے ایک فلیٹ خریدنا پڑتا تھا۔ جبکہ دیہی علاقوں میں کنواروں کو دلہن کے حصول کے لئے ایک لاکھ یوآن ادا کرنے ہوتے تھے۔ اب چینی حکومت ان مہنگی شادیوں کی روک تھام کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ وزارت شہری امور کا کہنا ہے کہ مہنگے تحائف، شاہانہ تقریبات اور دلہن کی روز افزوں بڑھتی قیمت جیسی ”واہیات رسومات“ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ مقامی حکام اب اجتماعی شادیوں کے انعقاد کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

چینی معاشرے میں جب شادی اور خاندان کی بات ہوتی ہے تو دلہن کی قیمت اس میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی ایک طویل تاریخ ہے۔ قدیم چین میں اسے شادی کی سب سے اہم رسم کا درجہ حاصل تھا۔ 202 قبل مسیح قائم ہونے والی ہان سلطنت کی رسومات کی کتاب کے چوالیسویں باب کے مطابق ایک قانونی شادی جن چھ رسومات پر مشتمل ہوتی تھی، ان میں سب سے اہم رسم دلہا کے خاندان والوں کا دلہن کے خاندان کو شادی کے تحائف (دلہن کی قیمت) پیش کرنا ہوتا تھا۔ اس میں پیسے، زیورات، نوادرات، کپڑے، فرنیچر، کھانا، مویشی وغیرہ سب شامل ہوتے تھے۔ عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد اس رسم کا خاتمہ ہو گیا تھا مگر ستر کے عشرے میں یہ رسم واپس لوٹ آئی۔

یہ رسم پدر سری روایات کی عکاسی کرتی ہے جس میں عورت کو بھی ایک جنس سمجھا جاتا ہے جو ایک سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہو سکتی ہے۔ دلہن کی قیمت وصول کرنا اس بات کی علامت ہے کی اب اس کے جسم اور اس کی محنت پر اس کے پیدائشی خاندان کی بجائے اس کے شوہر کے خاندان کا حق ہو گا۔ شادی کی صورت میں لڑکی کا خاندان ایک محنت کرنے والے شخص سے محروم ہو جاتا ہے، اس لئے لڑکے کے خاندان کو اس نقصان کی تلافی کرنا ہوتی ہے۔

دسمبر 2018 ء میں چینی حکومت نے ان رسومات اور شاہانہ تقریبات کو روکنے کی کوشش کی۔ اور شادی اور تحائف کی مالیت کی حد مقرر کی۔ اس سے پہلے 2016 ء میں بھی ایسی کوشش کی گئی تھی۔ تب چین میں کنواروں کی تعداد دو سو ملین تھی اور طلاق کی شرح میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ صحافی اور اسکالر لیتا ہونگ فنچر کا کہنا ہے کہ اب نوجوانوں کی اکثریت شادی نہیں کرنا چاہتی۔ خاص طور پر لڑکیاں کیونکہ وہ اس پدرسری ادارے میں زیادہ نقصان میں رہتی ہیں۔

قدامت پسند لوگ بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ شادی کا ادارہ۔ ’عقیدے کے بحران‘ سے گزر رہا ہے۔ چینی حکومت کے لئے یہ بات باعث تشویش ہے۔ چین میں بوڑھے لوگوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر حکومت ’خاندانی اقدار‘ کا احیا چاہتی ہے اس لئے شادی کے ادارے کو قائم رکھنے میں اس کا سیاسی مفاد ہے۔ 2016 ء میں ایک بچے والی پرانی پالیسی ترک کر کے حکومت نے دو بچوں کی پالیسی اپنائی۔ خاندانی منصوبہ بندی کی پابندیوں کو نرم کیا۔

مقامی حکومتوں نے نو بیاہتا جوڑوں کو کیش سبسیڈیز دینا شروع کیں۔ کچھ صوبوں میں تو دوسرے بچے کی پیدائش پر ’بے بی بونس‘ دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ریاست کی جانب سے پیغام بہت واضح ہے کہ قوم کے مستقبل کو اقتصادی تباہی سے بچانے کے لئے نوجوانوں کو شادی کرنی چاہیے اور بچے پیدا کرنے چاہئیں۔ چینی حکومت کے نزدیک شادی اور خاندان معاشرے کا بنیادی خلیہ ہے۔ حکام کے نزدیک ایک مرد اور ایک عورت کی شادی سیاسی طور پر استحکام پیدا کرنے والا ادارہ ہے۔ والدین اور بزرگوں کی رائے میں بھی شادی نارمل ہونے کی نشانی ہے اور شاید چینی نوجوان والدین اور بزرگوں کے دباؤ کی وجہ سے ہی شادی کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply