ٹارچر ریاست کا بدترین جرم ہے


\"wajahat1\"انسانی تاریخ معاشی ، سیاسی ، معاشرتی اور مذہبی بنیادوں پر تشدد سے عبارت رہی ہے۔ دنیا کا کوئی معاشرہ ایسا نہیں جہاں تشدد کی مختلف صورتیں رائج نہ رہی ہوں۔ انسان خود پر ،اپنے پیاروں پر اور اپنے دوستوں پر تشدد پسند نہیں کرتے اور خود کو تشدد سے محفوظ رکھنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں لیکن کبھی مذہب تو کبھی ملک کے نام پر ،کبھی ثقافت اور کبھی روایت کے نام پر دوسروں پر تشدد کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ناانصافی، بدامنی اور استحصال کے خلاف ہزاروں برس پر پھیلی ہوئی انسانی تاریخ دراصل تشدد کے خلاف احتجاج کی کہانی ہے ۔ کئی سو برس پہلے انسانوں نے طاقت کی بجائے علم ، اونچ نیچ کی بجائے مساوات اور استحصال کی بجائے انصاف کا خواب دیکھاتو دراصل انسان دوستی اور روشن خیالی کے علمبردار مفکر ایک ایسے معاشرے کے خدوخال مرتب کرنا چاہتے تھے جو تشدد سے پاک ہو۔ علم ، دریافت اور ایجاد جیسے مظاہر کی انسانی زندگی میں آمد کے بعد جو نئی دنیا وجود میں آئی اس میں عام طور پر خیال کیا جاتا تھا کہ انسان جلد ہی تشدد کے خوف سے نجات پا کر پیداوار اور تخلیق جیسی سرگرمیوں کے ذریعے بامعنی زندگی گزار سکیں گے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ صدیوں کی جدوجہد کے باوجود تشدد اور استحصال سے پاک معاشرے کا سفر کچھ زیادہ ہموار نہیں رہا۔
بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نسل، جنس ،عقیدے اور ثقافت کی بنیاد پر تعصب اس راہ میں بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ تاہم حقیقت شاید اس سے کچھ زیادہ پیچیدہ ہے۔ انسانی فکر میں ارتقا کی رفتار انسانی جبلت کی تہذیب کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رہی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ انیسویں صدی میں برطانیہ کو مغربی تہذیب کا اعلیٰ ترین نمونہ سمجھا جاتا تھا لیکن برطانوی باشندے نوآبادیاتی نظام کے سب سے بڑے محافظ بھی تھے جس میں افراد کی بجائے قوموں کو غلام بنا کر ان کا اقتصادی استحصال کیا جاتا تھا۔ 1789 ءکا برس ایک طرف انقلاب فرانس کی نوید لایا جس میں بادشاہت ختم کر کے مساوات ، آزادی اور اخوت کا نعرہ بلند کیا گیا ۔ دوسری طرف امریکی دستور مرتب کیا گیا جس میں انسانوں کے لیے دیگر آزادیوں کے علاوہ خوشیوں کے حصول کا بدیہی حق بھی تسلیم کیا گیا تھا۔اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ انیسویں صدی کے نصف آخر تک امریکا میں انسانی غلامی کے بارے میں ایسی کانٹے دار کشمکش موجود رہی جو امریکی خانہ جنگی پر منتج ہوئی۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں فرانس کی ریاست الجزائر سمیت بہت سی نو آبادیوں میں آزادی کی تحریکوں کوطاقت کے بل پر دبانا چاہتی تھی۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں جرمنی کو یورپ کی تعلیم یافتہ ترین قوموں میں شمار کیا جاتا تھا ۔ اسی جرمنی سے نازی فسطائیت کا عفریت برآمد ہوا۔ روس اور چین کے انقلابات کو ایک نئی دنیا کے ظہور سے تعبیر کیا گیا ۔آج سابق سوویت یونین اور ماﺅزے تنگ کے عہدِ بے اماں کے مو¿رخ پرولتاری آمریت میں روا رکھی جانے والی دہشت اور تشدد کے بارے میں دفتر کے دفتر سیاہ کر رہے ہیں۔ دنیا کے تمام مذاہب میں امن ، انصاف اور اخوت جیسے اصولوں پر زور دیا گیا ہے لیکن انسانی تاریخ میں ہر مذہب کے پیروکاروں نے مذہب ہی کے نام پر انسانوں کا خون بہانے میں کبھی جھجک سے کام نہیں لیا۔ کہنا چاہیے کہ انسانی سوچ ستاروں کے خواب دیکھ لیتی ہے لیکن انسانی عمل کے پاﺅں روایت ، تعصب ، جہالت اور تشدد کے کیچڑ میں لتھڑے ہوئے ہیں ۔
تشدد جنگل کی میراث ہے۔ تشدد کا مطلب ہے طاقت کے بل پر اپنا مقصد حاصل کرنا۔ تشدد میں کسی کو جسمانی نقصان پہنچانا بھی شامل ہے اور ذہنی اذیت دینا بھی۔ کسی کو دھمکی دینا یا خوف میں مبتلا کرنا بھی تشدد قرار پاتا ہے۔ تشدد کا مطلب ہے کہ دلیل اور مکالمے کی بجائے قوت استعمال کرتے ہوئے اپنا مقصد حاصل کیا جائے۔ یہ مقصد وسائل پر اجارہ داری قائم کرنا بھی ہو سکتا ہے اور فیصلہ سازی کے عمل میں دوسروں کو باہر رکھنا بھی ہو سکتا ہے۔ تشدد کی مدد سے دوسرے انسانوں کا مالی ، جنسی ، سیاسی اور ثقافتی استحصال بھی کیا جاتا ہے۔ تشدد کا مقصد انصاف اور توازن کے اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسا اثر و نفوذ حاصل کرنا ہوتا ہے جس کی مدد سے دوسرے انسانوں اورگروہوں پر غیر منصفانہ بالادستی حاصل کی جا سکے۔ انسانی معاشرے میں امن ، خوشحالی اور انصاف کے لیے جو اصول ضابطے طے کیے جاتے ہیں تشدد انہیں درہم برہم کر دیتا ہے چنانچہ تشدد کی موجودگی میں مہذب انسانی معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا۔ تشدد ایک غیر مشروط برائی ہے اور اخلاقیات کے تمام مکاتب فکر میں تشدد کی مذمت کی جاتی ہے۔ دنیا کے کم و بیش سبھی قوانین کا مقصد تشدد کی مختلف صورتوں کو ختم کرنا ہے۔ مہذب انسانی اجتماع میں ایسے اصولوں ، اقدار اوررسومات کے لیے کوئی جگہ نہیں جن کی بنیاد تشدد پر رکھی جائے۔ جو معاشرے سیاست ،مذہب ، نسل ، جنس یا ثقافت کی بنیاد پر تشدد کو روا قرار دیتے ہیں وہ ناگزیر طور پر تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تشدد انفرادی اور اجتماعی سطح پر بدامنی ، بے چینی ، ناانصافی اور عدم تحفظ کو جنم دیتا ہے۔ اس ضمن میں یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ تشدد محض ایک واقعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک مخصوص ثقافت کا اظہار ہوتا ہے جس میں تشدد سے مزید تشدد برآمد ہوتا ہے اور تشدد کا دائرہ پھیلتا چلا جاتا ہے۔
اگر چہ تشدد کی تمام صورتیں ناجائز ہیں اور ان سے منفی نتائج برآمد ہوتے ہیں تاہم تشدد کی ایک خاص صورت کو ایذا رسانی (ٹارچر) کہا جاتا ہے اور یہ تشدد کی بدترین شکل سمجھی جاتی ہے۔ ایذا رسانی اور تشدد میں فرق سمجھنے کے لیے شہری اور ریاست کا رشتہ سمجھنا ضروری ہے۔ انسانی معاشرہ افراد کے مل جل کر رہنے سے وجود میں آتا ہے ۔ معاشرے کی نشوونما نامیاتی ہوتی ہے یعنی اس میں باضابطہ منصوبہ بندی اور شعوری سطح پر مرتب کردہ اصول و قواعد کو دخل نہیں ہوتا۔ تاہم جب انسانی معاشرے کو ایک باضابطہ معاہدے کے ذریعے منضبط کیا جاتا ہے تو ریاست وجود میں آتی ہے۔ ریاست فرد اور اجتماع میں ایک معاہدے کا نام ہے۔ اس معاہدے میں فریقین کچھ حقوق ، اختیارات اور ذمہ داریاں قبول کرتے ہیں۔ ریاست شہریوں کی آزادیوں کے تحفظ کی ذمہ داری اٹھاتی ہے۔ شہریوں کو داخلی اور بیرونی خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ شہریوں کی بنیادی ضروریات مثلاً خوراک ، روزگار ، علاج معالجہ اور تعلیم جیسی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاست کا یہ بھی فرض ہے کہ شہریوں کے معیار زندگی میں مسلسل بہتر ی کو یقینی بنائے۔ ریاست معاشرے کے مختلف گروہو ں ، علاقوں اور طبقات میں پرامن بقائے باہمی کو بھی یقینی بناتی ہے۔ دوسری طرف شہری ریاست کے بنائے ہوئے قوانین کی پاسداری کے پابند ہوتے ہیں ۔ جمہوری ریاستوں میں یہ قوانین عوام کے منتخب نمائندے تشکیل دیتے ہیں۔ ریاست شہریوں سے محصولات جمع کرنے کا حق رکھتی ہے۔ شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے ریاست کو فوج ، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے قائم کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ درحقیقت ریاست میں طاقت کا واحد جائز اختیار فوج اور پولیس اور عدلیہ جیسے اداروں کو حاصل ہوتا ہے۔ یہ ادارے عوام کے تحفظ کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے طاقت استعمال کر سکتے ہیں۔ فوج کسی بیرونی جارحیت یا داخلی بغاوت کی صورت میں قوت استعمال کر سکتی ہے۔ پولیس کو قانون شکن افراد کو گرفتار کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔پولیس ایسے افراد کو عدالت کے سامنے پیش کرتی ہے ۔ ملزم کو اپنے دفاع کا حق ہوتا ہے۔ اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچے کہ پولیس کے گرفتار شدہ فرد یا افراد قانون شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں توانہیں قید یا جرمانے سمیت قانون میں طے شدہ سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ یہ سزائیں لغوی طور پر طاقت کے استعمال ہی پر مبنی ہوتی ہیں لیکن شہریوں نے اپنے تحفظ کے لیے ریاست کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے طاقت کے استعمال کا اختیار سونپ رکھا ہے۔ ریاست طاقت کے اس استعمال کے لیے وسائل جمع کرتی ہے جو شہریوں کے ادا کردہ محصولات کی مدد سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ معاشرے میں ریاست کی عمل داری قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست کے پاس ایسے وسائل موجود ہوں جن کی مدد سے قانون شکن افراد کی سرکوبی کی جا سکے اور بیرونی جارحیت کی صورت میں ملک کا دفاع کیا جا سکے۔ چنانچہ عوام کے مقابلے میں ریاست کے پاس طاقت کے زیادہ وسائل اور اختیارات ہوتے ہیں۔ ان وسائل اور اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ریاست کو یہ امر یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ان اختیارات اور وسائل کا استعمال صرف عوام کے تحفظ کے لیے کیا جائے گا۔ اگر ریاست ان اختیارات کو عوام ہی کے خلاف استعمال کرنا چاہے تو یہ شہری اور ریاست کے مابین عمرانی معاہدے کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ چنانچہ بین الاقوامی قانون میں تشدد (Violence )اورایذا رسانی (Torture ) میں واضح فرق کیا جاتا ہے۔
ٹارچر تشدد کی وہ صورت ہے جس میں ریاستی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جاتا ہے۔ شہریوں نے اپنے تحفظ کے لیے ریاست کو جو وسائل فراہم کیے ہیں اور جواختیارات سونپے ہیں اگر کوئی سرکاری اہلکار یا ادارہ ان وسائل یا اختیارات کو شہریوں ہی کے خلاف استعمال کرنے لگے تو عمرانی معاہدہ ختم ہو جاتا ہے۔ ایذا رسانی یا ٹارچر تشدد کی دوسری صورتوں سے اس لیے مختلف ہے کہ اس میں ریاستی اختیارات کے ناجائز استعمال کا پہلو شامل ہو جاتا ہے۔
ایذا رسانی اور تشدد میں فرق سمجھنے کے لیے ایک سادہ مثال لیتے ہیں ۔ ایک نوجوان اپنے باپ سے ملنے کے لیے اس دفتر میں جاتا ہے۔ باپ ایک پولیس اہلکار ہے اور سرکاری وردی پہنے ہوئے ہے۔ دوران گفتگو باپ کسی بات پر طیش میں آکر بیٹے کو تھپڑ مار دیتا ہے۔ باپ کا یہ فعل ٹارچر میں شمار کیا جائے گا کیونکہ باپ سرکاری تھانے میں اور سرکاری وردی میں تھا۔ باپ کو عوام کو تحفظ دینے کے لیے تھانے میں تعینات کیا گیا ہے۔ اسے اپنے بیٹے سمیت کسی شخص پر خواہ وہ ملزم ہو یا مشتبہ فرد ، تشدد کا اختیار نہیں۔ اسی شام گھر میں باپ بیٹے میں پھر سے تلخ کلامی ہو جاتی ہے ۔باپ پھر سے بیٹے کو تھپڑ رسید کر دیتا ہے۔ باپ کا یہ فعل تشدد میں گنا جائے گا کیونکہ وہ گھر پر عام شہری کی حیثیت میں ہے اور گھر کے اندر اس کا کوئی فعل سرکاری اختیارات سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ گویا تشدد اور ٹارچر میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ٹارچر ایسا تشدد ہے جس میں ریاستی اختیارات کو دخل ہو۔ ایذا رسانی یا ٹارچر بین الاقوامی قانون کی ایک مخصوص اصطلاح ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ تشدد کی زیادہ بھیانک یا خوفناک صورتوں کوٹارچر کہا جاتا ہے۔ یہ تاثر درست نہیں۔اگر کوئی سیاسی جماعت یا مذہبی گروہ اپنے مخالفین کو اغوا کر کے انہیں اذیت پہنچائے یا قتل کر دے تو اس فعل کو ٹارچر نہیں بلکہ تشدد کہا جائے گا ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی جماعتوں یا طالب علم گروہوں یا مذہبی تنظیموں کی طرف سے اپنے مخالفین کو جسمانی اذیت پہنچانا ٹارچر کی تعریف پر پورا نہیں اترتاچنانچہ اس حرکت کو کم مذموم یا قابل مذمت سمجھا جائے۔ ایسا ہر فعل جرم ہے اور تشدد کی ہر صورت قانون کی خلاف ورزی ہے۔تشدد اور ٹارچر میں حد فاصل یہ ہے کہ ٹارچر میں کسی کو اذیت پہنچانے میں ریاستی اختیار اور وسائل استعمال کیے جاتے ہیں جبکہ تشدد ریاستی اہلکاروں کی بجائے عام شہریوں کے ہاتھوں سرزد ہونے والا جرم ہے۔