غربت نے عوام کا جینا حرام کر دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قدیم انسانی تاریخ کا مطالعہ اور تجزیہ کریں تو یہ واضح ہوگا کہ پرانے زمانوں میں جب کوئی برگزیدہ شخص خدا کے غضب اور عذاب الہی کا پیغام لے کر آتا تھا تو وقت کا حکمران اپنے تخت سے اتر کر خود ٹاٹ پہنتا، اپنے گناہوں کی معافی کا طلبگار ہوتا اور اپنی قوم کو بھی روزہ رکھنے، گناہوں سے معافی مانگنے اورخدا سے عذاب کو ٹالنے کی اپیل کیا کرتے تھے۔ قدیم شہر نینواہ تباہی کے دہانے پر تھا مگر جب لوگوں نے سچے دل سے توبہ کی تو خدا بھی اپنے قہر سے باز آیا اور اس نے انہیں معاف کر دیا۔

اس کے علاوہ بعض اوقات جب قحط کی پیشنگوئی ہوتی آئندہ وقتوں کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔ اس کے برعکس بعض ہٹ دھرم حکمرانوں کی مثالیں بھی ہمیں تاریخ میں نظر آتی ہیں جیسے صدوم اور عمورہ دو قدیم شہروں کی بدی بڑھ جانے کے باعث خدا نے ان شہروں کو صفحہ ہستی سے نابود کر دیا۔ قدیم مصر کے حکمران فرعون کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مصریوں پر 10 آفتیں نازل ہوئی۔ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ عرصے کے دوران بعض موذی وباؤں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں تباہی مچاہی جس سے لاکھوں افراد لقمہ اجل ہوگئے، تاہم رواں سال کرونا وائرس COVID۔ 19 نے جس طور پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اسے عذاب الہی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ پاکستان میں کرونا کے ساتھ ساتھ ٹڈی دل کے حملے سے جس طرح سے کھڑی فصلیں تباہ ہوئی وہ الگ مسئلہ ہے۔ ٹڈی دل نے گزشتہ سال بھی پاکستان کے مختلف علاقوں تباہی مچائی تھی۔ قدرتی آفات کے علاوہ پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ کی 2016ء رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پہلے ہی 29.5 فی صد لوگ یعنی 55 ملین لو گ غربت کی شرح سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار اس سے بھی بھیانک ہوں گے ۔ جبکہ سال 2020۔ 21 ء میں پاکستان میں بے روزگار افراد کی تعداد بڑھ کر 6.65 ملین ہوچکی ہے۔ جس میں پڑھے لکھے بے روزگار افراد کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔ جبکہ گیلپ سروے کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ کام کرنے والے افراد میں سے 28 فیصد یعنی 17.3 ملین مزید افراد بے روز گار ہوگئے ہیں۔ مارچ میں لاک ڈاؤن سے لے کر اب تک سکول، کالج، یونیورسٹیاں بند ہیں، شادی ہالز، ریسٹوران، ہوٹل، تھیٹر، سینماہال اور دیگر کاروبار زندگی بند کر دیا گیا ہے۔

جس کے باعث ملک بھر سے کروڑوں افراد بے روزگار ہوکر گھروں میں بے یارومددگار پڑے ہوئے ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔ جب کہ جولائی میں مہنگائی بلند ترین شرح پر پہنچ گئی ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر وہ لوگ جو مالی طور پر مضبوط ہیں انہوں نے تو کھانے پینے کا اسٹاک گھروں میں جمع کر لیا ہے مگر وہ لوگ جو روز کماتے ہیں تو گھر کا چولہا جلتا ہے اور ایسے تمام لوگ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ مشکل میں ہیں۔ کرائے داروں اور مالک مکانوں کے مابین لڑائی جھگڑے اور عدالتی کارروائیاں تک نوبت پہنچ چکی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ یوٹیلٹی بلز میں بھی کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔

سرکاری ملازمین کے علاوہ شاید ہی کوئی ادارہ ہو جس کے ملازمین کو تنخواہ مل رہی ہوں، یہاں تک بہت سے منظم اداروں بلکہ پاکستان میں قائم بعض غیر ملکی سفارتخانوں نے اپنے ملازمین کو بغیر تنخواہ کے جبری رخصت پر گھر بھیج رکھا ہے۔ بعض پرائیویٹ ادارے اپنے ملازمین سے کام تو پورا لے رہے ہیں مگر تنخواہوں میں پچاس سے 75 فی صد تک کٹوتی کررکھی ہے۔ آفرین ہے ان ملازمین پر جو صبر وشکر کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور حکمران عوام کو درپیش مسائل بے خبر اور لاتعلق غریبوں کو گزشتہ چھ ماہ کے دوران صرف ایک بار 12 ہزار روپے عنایت کرکے لمبی تان کر سو رہے ہیں۔

بھلا ایک خاندان چھ ماہ تک کیسے گزارا کر سکتا ہے۔ گزشتہ 72 سالوں کے دوران ریاست نے اپنی ذمہ داری میں کوتاہی برتی ہے جس کی وجہ سے لوگ مایوس ہوچکے تھے اور ریاست پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوچکا تھا۔ لیکن جس طرح سے موجودہ حکمرانوں نے گزشتہ پانچ سال کے دوران عوامی مسائل کو حل کرنے کی امید جگائی اور وعدے کیے تھے تو محسوس ہونے لگا تھا کہ شاید پاکستان کی قسمت بدل جائے گی۔ لیکن ایسانہ ہوا بلکہ حکمرانوں نے غربت ختم کرنے بجائے غریب کو ختم کرنے کی ٹھان لی۔

موجودہ طرز حکمرانی پر غورکریں تو چور بازاری اور اقرباء پروری کا بازار گرم ہے اور چوری اور سینہ زوری کا یہ عالم ہے کہ حکمران تنقید کرنے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دینے کے قانون سازی کرنے میں مصروف عمل ہے۔ میں چونکہ خود غریب آدمی ہوں اور اپنے طبقے کا نمائندہ صحافی ہوں لہذا میں بیوروکریسی کی سیاہ کاریوں

اور دیگر معاملات پر اپنی رائے کے ساتھ ساتھ عام آدمی کے مسائل پر بات کرنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے اعلان کر رکھا ہے کہ اگر انہیں اگست کے دوسرے ہفتے میں سکول کھولنے سے روکا گیا تو ”دھما دھم مست قلندر“ ہوگا۔ تاجر برادری پہلے ہی حکومتی پالیسی کو ماننے سے انکار کر چکی ہے۔ فلم، فنون لطیفہ اور موسیقی سے وابستہ زبوں حالی کے شکار افراد بھی سڑکوں پر آنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ برداشت کی حدود پوری ہوچکی ہیں۔ ایسے میں حکمرانوں نے اب بھی اگر معاشرے کے مظلوم افراد کے درد کو نہ سمجھا توکیا معلوم عوام بھوک و افلاس سے مرنے کی بجائے امراء اور حکمرانوں کے ہاتھوں سے اپنا حق چھیننے کو ترجیح دیں۔ اب بھی وقت ہے حکمران عوام کی طاقت کو underestimate نہ کریں اور ہوش کے ناخن لیں ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ جب عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ڈر اور خوف کی تمام دیواریں گرا کر آپ کے محلوں تک پہنچ جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply