ایک سفر جو معکوس نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد موٹر وے سے لاہور کی اُور جاتے ہوئے ،پنڈی بھٹیا ں انٹرچینج سے فیصل آباد موٹر وے کی طرف مڑ کر ،شور کوٹ انٹرچینج سے اُتر کر شور کوٹ ،گڑھ مہاراجہ اور گڑھ موڑ سے ہوکر جب تحصیل چوبارہ میں داخل ہوتے ہیں ،تو ریت کے ٹیلے آگے بڑھ کر اپنی بانہوں میں بھر لیتے ہیں۔ طویل سفر کی بدولت تھکاوٹ کے احساس کے باوجود ،میرا ایکا ایکی جی چاہتا ہے کہ صحرا کی وسعت میں تحلیل ہوجائوں۔مجھے ریت کے ایک ایک ذرے میں زندگی بکھری پڑی محسوس ہوتی ہے۔

سڑک کنارے اکیلی مسجد،مسجد سے جڑا نلکا، نلکے کے ساتھ تنہاپیڑ ،پیڑ کے سائے میں بیٹھے دوچار مسافر۔ایک اور ہی دُنیا معلوم پڑتی ہے۔ مَیں اُس پیڑکے سائے میں پورا دِن گزارنا چاہتا ہوں۔ایک گرم مگر ہمدرد دِن ۔عصر کے بعد مسجد سے کلومیٹر آگے ،ریت کے ٹیلوں میں جکڑے کچے گھر کے پاس جا کر مکینوں کے نام کی آواز دوں(ایسے گھروں کے دروازے نہیں ہوتے) ایک بزرگ سرپر پگڑباندھے نمودار ہو،باہر پڑی چارپائی پر بیٹھوں ،اُس کی زندگی کی کہانی سنوں ،گائے کے دودھ کی بنی چائے پیوں،چائے میں میٹھا زیادہ ہو۔ مگرشاید ایسا کبھی نہ ہوسکے۔

اسلام آباد سے شور کوٹ انٹر چینج سے جیسے اُتریں تو ایک ٹوٹی سڑک گلے پڑ جاتی ہے۔یہاں سے شور کوٹ سٹی آٹھ کلومیٹر بنتا ہے ،یہ آٹھ کلومیٹر ایک عذاب کی صورت گزرتے ہیں۔مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ یہاں کے عوامی نمائندے کہاں غائب ہیں ،وہ اس سڑک کی مرمت کیوں نہیں کرواتے؟شور کوٹ سٹی میں داخل ہو کر گڑھ موڑ کی طرف جاتے ہوئے ،پورا سفر ٹھہر ٹھہر کر کرنا پڑتا ہے ،جیسے ہی گاڑی رفتار پکڑ ے ،کوئی نہ کوئی گڑھا سامنے آن پڑتا ہے۔

دریا پر بنی سڑک بھی جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے۔دریا کے کنارے مچھلی تلنے کی خوشبو تک نہیں آتی،معلوم نہیں کس گھی اور تیل سے پکوان تیار ہورہے ہوتے ہیں؟دریا کے ساتھ اس قدر شاندار ماحول ہے کہ اگر دونوں طرف پارک بنادیے جائیں تو اہلِ علاقہ کو ایک نہایت عمدہ تفریح میسر آسکتی ہے۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد دریا کے آس پاس دکھائی دیتی ہے ،دریا میں ایک آدھ کشتی بھی تیرتی نظر آتی ہے۔چوبارہ ،یعنی ڈسٹرکٹ لیہ کی حدود شروع ہوتی ہے تو ریت کے ٹیلے شروع ہوجاتے ہیں ،شور کوٹ انٹر چینج سے یہاں تک سوا گھنٹہ لگ جاتا ہے ،حالانکہ یہ چند منٹ میں طے ہونے والا سفر ہے۔

چوبارہ سٹی کو جانے والی سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار تو نہیں مگر موٹی بجری ڈالی ہوئی ہے جو خاصی تکلیف سے ہمکنار کرتی ہے۔صحرائی جانور اور پرندے دکھائی نہیں دیتے ۔انگورا فار م کے باہر بکریوں ،بھیڑوں اور اُونٹوں کی تصویریں تو نظر آتی ہیں مگر جیتی جاگتی حالت میں یہ جانور نظر نہیں آتے۔حالانکہ اگر یہاں منظم طریقے سے بڑے پیمانے پر ان جانوروں کی فارمنگ کی جائے تو ماحول بہت موافق ہے ۔نیز سرکار ی سطح پر اِن علاقوں کی سرپرستی کی جائے تو ثقافت بھی زندہ رہ سکتی ہے اور وہاں کے رہنے والوں کی معیشت کو بھی بہت سہارا مل سکتا ہے۔

گڑھ موڑ سے چوبارہ شہر تک کا سفر انتہائی دلفریب محسوس ہوتا ہے ،کہیں ریت کے میدان تو کہیں اُونچے ٹیلے ،کہیں سڑک کنارے چھوٹا سا ڈھابا، کہیں اکیلی مسجد، کہیں پانی کا نَل،دُور نظر آتے کچے گھر، بھیڑ بکریوں کے ریوڑ،ریوڑ کے آجڑی ۔زندگی کا یہ رنگ آنکھوں سے اُتر کر دل میں سماتاچلا جاتا ہے۔ چوبارہ شہر سے چوک اعظم کو جاتے ہوئے ، ایک بار پھر ٹوٹی سڑک سے واسطہ پڑتا ہے۔ اردگرد کی آبادی ،سڑک کنارے شفٹ ہو چکی ہے، رش کا سماں ہوتا ہے۔

چوک اعظم سے لیہ تک بائیس کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔اس سڑک پر بڑی آبادیاں ہیں۔اچھی خاصی دُکانیں اور ورکشاپیں ہیں۔مگر سڑک کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔لیہ سے کروڑ تحصیل کا درمیانی فاصلہ پچیس کلومیٹر ہے ،لیکن اس سڑک کا ایک انچ ایسا نہیں جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو،مجھے بتایا گیا کہ یہ علاقہ دوحلقوں میں تقسیم ہے ،اس کی تعمیر کی طرف توجہ اس لیے نہیں دی جارہی کہ ایک بنوائے گا تو دوسرا اس کا کریڈٹ لے جائے گا،ایسا ہی کچھ لیہ چوک اعظم سڑک کے ساتھ ہوا،دوکلومیٹر سڑک تعمیر کرواکر بیچ میں چھوڑ دی گئی۔

ضلع جھنگ اور ضلع لیہ کی سیاست میں ہمیشہ مخصوص خاندانوں کی اِجارہ داری رہی ہے ،یہ خاندان ستر سے دوہزار اَٹھارہ تک سیاست میں اِن ہیں ،اِس پچاس برس میں ، سیاست دانوں کی عوام سے جڑت کا یہ حال ہے کہ یہاں کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ،سیوریج کا نظام بالکل نہیں ،گندے پانی سے گلیاں بھری پڑی نظر آتی ہیں،پارک نہیں ،حتیٰ کہ واک کرنے کے لیے کوئی ٹریک نہیں ،سڑک کنارے ،ٹریفک کے شور میں ،مَیں نے خواتین اور مردوں کو صبح کی سیر کرتے دیکھا ہے۔

جن قصبوں کے بیچوں بیچ نہر گزرتی ہے ،نہر کا کنارہ واک کیلئے انتہائی خوب صورت ٹریک بن سکتا ہے ،مگر یہ نہریں گندگی سے بھری پڑی دکھائی دیتی ہیں،زمینیں درختوں سے خالی نظر آتی ہیں۔ان علاقوں میں گرمی کی شدت اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ سیکڑوں تنور ایک ساتھ جل رہے ہیں ،مگر لوگ اپنی زمینوں کو پیڑوں سے خالی رکھتے ہیں۔یہاں زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی ضرورت ہے۔ان علاقوںمیں اینٹوں کے بھٹے ،یہاں کھجور کے پیڑوں کے خاتمے کا سبب بن گئے۔کھجور کے پیڑ کٹ کٹ کر ایندھن کا ذریعہ بن گئے۔

یہ دونوں اضلاع دریائوں او ر نہروں سے مالا مال ہیں۔ دریائی زمینیں لہلہاتی فصلوں کی آئینہ دار ہیں،تھل کی زمین باغوں سے بھری پڑی ہے۔مگر کھیت سے منڈی اور ایک شہر سے دوسرے شہر کو ملانے والی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔سفر جاری ہے ،جو معکوس بھی نہیں ،محض حکومت توجہ کرے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply