قوم کو بیدار کرنے کے لیے ایشوز نہیں، آئیڈیالوجی چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انقلاب کی دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی مکتب (آئیڈیالوجی) کی بنیاد پر وقوع پذیرہوتاہے۔ پاکستان میں مکتب یا آئیڈیالوجی غیر متعارف اصطلاح ہے۔ یہ شاید قدیم ہندی تہذیب کے اثرات ہیں کہ ہمارے ہاں رسم و رواج کو ہی مکتبی حیثیت حاصل ہے اور کسی نے یہ اصطلاحات متعارف بھی نہیں کروائیں بلکہ ہم چند رسومات و احساسات کو ہی علم، سیاست حتی دین کی بنیاد سمجھ بیٹھے۔ مسلمان معاشرے میں رسومات، جمود، تحجر اور تعصب جیسی کئی شکلیں بنام علم و دین موجود ہیں لیکن دین کی آئیڈیالوجیکل تفسیر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی، اگر کوئی یہ اہم ترین کام کرنا بھی چاہے تو یہ رسوماتی معاشرہ اس کو اپنی عزیز از جان رسومات (جس کا نام دین رکھا گیا ہے ) کا دشمن سمجھ کر تعصب اور فتنہ کی فضا کو پرورش دینا شروع کر دیتا ہے۔

دین کی ایک اور شکل فرقہ وارانہ تعلیمات کے نتیجے میں جنم لیتی ہے جس میں افراد کا ہم و غم مخالف فرقے کو غلط ثابت کرنا ہوتا ہے، قرآن کی تفسیر دوسرے فرقے کو نیچا دکھانے کی غرض سے کی جاتی ہے۔ لیکن اگر دین کی آئیڈیالوجیکل تفسیر کی جائے تو تمام فرقوں کو بھی روشن سمت ملے گی اور بلا تفریق پوری نسل انسانیت کے لیے یکساں طور پر دینی مکتب قابل عمل ہوگا۔

آئیڈیالوجی یا مکتب سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی نظریہ کا منظم اور عملی نقشہ، علوم اور نظریات کو خام حالت سے نکال کر قابل نفاذ قوانین کی شکل دے دینا، ان کی آئیڈیالوجیکل تفسیر کہلاتا ہے۔ پولیٹیکل سائنس کے طالب علم کو جو سیاسی نظریات پڑھائے جاتے ہیں وہ خام حالت میں ہوتے ہیں لیکن انہی نظریات کوآئیڈیالوجیکل شکل میں تدوین کیا جائے تو ملک کا واضح اور شفاف آئین بن جاتا ہے جو سو فیصد قابل نفاذ ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی ایسا ہی ہے، زیر زمین جو لوہا خام حالت میں صدیوں سے موجود ہے اس کو ہر زمانے کے انجینئر نے اپنی ضرورت کے لحاظ سے مطلوبہ شکل میں ڈھال لیا اور ہم دیکھتے ہیں کہ اسی لوہے کی کیسی کیسی شکلیں آج موجود ہیں۔ لیکن جتنی ترقی ٹیکنالوجی نے کی اتنی ترقی آئیڈیالوجی نہیں کر سکی، آئیڈیالوجی کو وہ انجینئر ہی نہیں ملے جو اپنے زمانے کے علمی و سیاسی تقاضوں کو پورا کر سکتے۔

کوئی بھی تفکر آئیڈیالوجی کے بغیر انقلاب نہیں لا سکتا۔ آئیڈیالوجی دو چیزوں، انسان شناسی اور جہان شناسی کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے۔ ایک نظریہ کے اندر انسان اور کائنات کی جیسی تفسیر پیش ہوگی، ویسی آئیڈیالوجی وجود میں آئے گی۔ اگر کائنات کو ایک طبیعی حادثے کا نتیجہ قرار دیا جائے اور انسان کو حیوان کی ترقی یافتہ شکل سمجھا جائے تو انسان اور کائنات کی اس مادی تفسیر سے ایک مادی مکتب ہی وجود میں آئے گا۔ ایسے ہی ایک مادی مکتب سے نکلنے والے انقلابات میں کمیونزم اور سوشلزم مثال کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔

اگرچہ یہ مکتب انسان اور کائنات کی درست تفسیر نہیں کرتا لیکن پھر بھی اس مکتب سے انقلاب برپا کیا گیا کیونکہ آئیڈیالوجی چاہے غلط ہو، پھر بھی اپنے اندر انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی طرح انسان اور کائنات کی ایک تفسیر علم فلسفہ نے پیش کی ہے جہاں انسان حیوان کی ترقی یافتہ شکل نہیں ہے۔ سائنس (تجرباتی علوم) نے بھی انسان اور کائنات کی تفسیر پیش کی ہے جو کم و بیش مادی تفسیر کائنات جیسی ہی ہے۔ دین نے بھی انسان اور کائنات کی حقیقت بیان کی ہے اور بحیثیت مسلمان ہمارے لیے یہ بات سمجھنا لازمی ہے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے لہذا اسلام سب سے پہلے قابل نفاذمکتب پیش کرتا ہے اور اس مکتب کی روشنی میں احکامات بیان کیے جاتے ہیں۔ لہذا جب تک دین کی مکتبی تفسیر نہیں کی جائے گی تب تک مقصد دین پورا ہی نہیں ہو سکے گا۔

مندرجہ بالا تمام مکاتیب انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور تقریباً تمام مکاتیب کے لائے ہوئے انقلابات کا نمونہ بھی اس وقت دنیا میں موجود ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کسی بھی مکتب سے نکلنے والا انقلاب انسان کو اس کے مقصد خلقت تک پہنچا سکتا ہے یا نہیں؟ لہذا پہلے سے موجود غیر موثر یا غلط انقلابی مکتب کی جگہ دوسرا مکتب بھی لایا جا سکتا ہے۔

اگر پیش کردہ آئیڈیالوجی معاشرے کی ثقافت، نظریات، اور مزاج سے ہم آہنگ ہو تو جلدی اپنے اثرات مرتب کرتی ہے اور انقلاب جلد کامیاب ہوجاتا ہے جس کی ایک مثال انقلاب اسلامی ہے جو بہت ہی مقتدر اور عالمی طاقتوں کی حمایت یافتہ حکومت کے خلاف کامیاب ہوا۔ کیونکہ عوام بھی اسلامی آئیڈیالوجی کے ساتھ گہرا اعتقادی اور نظریاتی تعلق بنا چکے تھے اس لیے انقلاب اسلامی قلیل مدت میں کامیاب ہوگیا۔

پہلی عالمی جنگ میں روسی شکست خوردہ حکومت کو گرانے کے لیے کمیونزم کو زیادہ تگ دو نہیں کرنا پڑی اور روس میں انقلاب برپا کرنا آسان ثابت ہوا لیکن کمیونزم کی آئیڈیالوجی روسی عوام اور ثقافت کے ساتھ سازگار نہیں تھی لہذاعوام بہت جلد اس انقلاب سے دور ہونا شروع ہوگئے اور انقلاب کو برقرار رکھنے کے لیے ملین افراد کا قتل عام کیا گیا۔ اس قدر وسیع پیمانے پر قتل عام کے بعد بھی سویت یونین اپنا وجود لمبے عرصے تک برقرار نہیں رکھ سکی کیونکہ انقلاب لانے کے بعد بھی صرف آئیڈیالوجی ہی کی مدد سے انقلاب کو اپنے خطوط پر قائم رکھنا ممکن ہے۔

آج پاکستان میں جن محرکات سے قوم کو جگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس سے احساسات اور جذبات تو ابھارے جا سکتے ہیں لیکن انقلاب برپا نہیں کیا جاسکتا۔ قوم کو جگانے کے لیے ایشوز یا احساساتی تقریریں نہیں چاہیں بلکہ آئیڈیالوجی چاہیے کیونکہ رسومات کے اندر اتنی طاقت و صلاحیت ہی نہیں ہے کہ انقلاب برپا کر سکے، انقلاب صرف آئیڈیالوجی کے بطن سے نکلتا ہے۔ آج پاکستانی قوم کو معلمین آئیڈیالوجی درکار ہیں جو دینی منابع میں موجود تعلیمات کو عملی شکل میں پیش کریں اور مکتبی مبلغین اس آئیڈیالوجی کی تبلیغ کریں تا کہ قوم کو ایک واضح و رونشن سمت کی طرف حرکت دی جا سکے اورانقلاب کی زمینہ سازی کے لیے ضروری شرائط پوری کی جاسکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply