رنگدار محافظ


گارڈ اصلاً انگریزی کا لفظ ہے اور بطور اسم مستعمل ملتا ہے۔ جس کا اردو مطلب محافظ ہیں اور اگر عربی زبان میں دیکھا جائے تو اس کے لئے حرس لفظ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب بھی محا فظ اور پہرے دار کے ہیں۔ ہمارے ہاں الگ الگ نوع کے محافظ مختلف الشکل اور مختلف رنگوں میں اپنا وجود رکھتے ہیں کچھ اوپری حصے سے کالے اور ناف سے نیچے سے خاکی اور ساتھ بڑھی ہوئی توند یہ دو رنگے ہر جگہ اپنی موجودگی کو ظاہر کرتے رہتے رہے بذریعہ بیمانی اور رشوت پھر وقت نے کروٹ لی تو کسی عالی دماغ مہاتما بزرگ نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ محافظ کا رنگ کا بدل کر ہرا کر دیا جائے کیا پتہ لوگ وردی بدلنے کے ساتھ ان کے کرتوت بھی بھول جائیں اس مہاتما نے بالکل سہی سوچا وردی کے ساتھ عام انسان کی سوچ تو ایک حد تک بدلی کہ مگر وردی کے ساتھ وردی والے کے کرتوت نہ بدلے بات وہیں کی وہیں رکی ہوئی ہے حتیٰ کہ ایک آئی جی پنجاب نے جاتے جاتے محافظ کی یونیفارم میں معمولی تبدیلی کرتے ہوئے جرابوں کا رنگ الیو گرین سے تبدیل کر کے نیوی کر دیا۔

کیو نکہ جرابوں کا رنگ نیوی نہ کیا جاتا تو محافظ کو بھاگنے میں دقت ہوتی خیر اس سے بہتر کوئی وجہ ہمیں تو نہیں نظر آتی۔ ان رنگوں کی دنیا میں ہمارے خاکی محافظ کہاں کسی سے کم ہیں یونیفارم کا رنگ خاکی ہے تو توشبان کا رنگ کالا ہے فیلڈ ڈریس سے لے کر سول ڈریس ،سول سے لے کر پی ٹی ڈریس یہاں مانو کہ رنگوں کی اک الگ ہی دنیا ہے۔ پھر آتے ہیں ہمارے غریب پرائیویٹ محافظ جن کی اہمیت ہمارے معاشرے میں کچھ کمپنیاں لگاتی ہیں شاید کہ شب زادیوں سے بھی زیادہ برا سلوک کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیاں نوجوانوں اور بزرگوں کو ہائر کرتی ہیں نہ کوئی ٹرینینگ دی جاتی ہے ان کو بلکہ الٹا بڑھاپے اور جوانی کے ریٹ لگائے جاتے ہیں کوئی معزوری ہو تو تنخواہ ریٹ کم کر دیا جاتا ہے۔

میرا اکثر سیکیورٹی گارڈ سے پالا پڑتا رہتا تھا اور میں ہر بار ان کی آنکھوں کے پیچھے کی کہانی جاننے میں لگا رہتا تھا سخت گرمی کے دنوں میں بھی جب سورج آگ برسا رہا ہوتا تھا تب ہم کوشش کرتے تھے کہ وقت سے پہلے یونیورسٹی پہنچ جائیں تاکہ سورج کی تپش سے بچ سکیں تو ہم جلدی جانے کے چکر میں ہمیشہ مختصر سفر کرنے کو ترجیح دیتے تھے مین روڈ کے قریب ہاسٹالائز ہونے کی وجہ سے ہم یونیورسٹی کے پیچھے کے دروازے سے انٹری مارتے تھے۔

وہ گیٹ گرلز ہاسٹلز کے پاس تھا تو وہاں سے گزرنے کی اجازت فقط بنت حوا کو تھی اور فکیلٹی کو۔ ہم کلاس کے لئے لییٹ تھے تو میرے ایک دوست نے مجھے اس گیٹ کا بتایا جو کہ بالکل پاس تھا میں اس معاملے میں ڈرپوک تھا تو وہ پورے راستے مجھے حوصلہ دیتا رہا کہ اگر وہاں پر موجود گارڈ پوچھیں تو ہم کہیں گے کہ ہم وزٹنگ فکیلٹی ہیں جو کہ ہماری شکل سے نمایاں تھا کہ فکیلٹی تو ہم ہو ہی نہیں سکتے۔ خیر میں نے اس کے مطابق جھوٹ تیار کر لیا۔ دور سے مجھے ایک کالے گیٹ کے پاس کرسی پر براجمان ایک گارڈ نظر آیا چہرے پر سفید داڑھی گہری رنگت سر پر ٹوپی ٹیڑھی کر کے رکھی ہوئی مانو کہ کوئی تھکا ہارا بزرگ وردی میں بیٹھا ہو اس کی آنکھیں ہماری طرف زمین پر ٹکی ہوئیں تھیں اور آنکھیں گہری سرخ اتنی کے آنکھ کے پٹ بھی اس سرخی کو نہ چھپا سکے۔

میں اس صورتحال میں وہ بنائی ہوئی کہانی بھول گیا اور ہم جیسے ہی گارڈ کے پاس پہنچے تو میرے بولنے سے پہلے ہی میرے دوست نے کہا ہم فکیلٹی ہیں تو گارڈ نے انتہائی نرم اور دھیمے لہجے میں کہا سر کارڈ دکھا دیں۔ اس کے یہ کہتے ہی میں نے اپنا سٹوڈنٹ کارڈ نکال اور طوطے کی طرح سارا سچ اگل دیا کہ ہماری کلاس جلدی ہونی اس لیے ہم جلدی میں تھے تو اس راستے سے آگئے تو اس نے میری بات سنتے ہی مجھے کہا کہ آپ اسی سائیڈ سے چلے جائیں اور میرے دوست کو کہا کہ آپ مین گیٹ سے جائیں۔

پھر وہ گارڈ کرسی پر بیٹھ گئے اور میرا دوست مجھے غصے سے دیکھتا ہوا واپس مین گیٹ کی طرف چل پڑا پھر میرا آنا جانا اس گیٹ سے شروع ہو گیا تو وہ روزانہ مجھے اسی کرسی پر بیٹھے ملتے اور روزانہ آنکھوں میں وہی تھکاوٹ اور سرخی اور روزانہ جب میں گزرتا تو ہلکی سی مسکراہٹ سے طبیعت صحت کا پوچھنا۔ کسی دن میرا وہاں سے گزرنے کا ناغہ ہو جاتا تو وہ پوچھتے کہ کل کیوں نہیں آئے میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ کبھی ان سے بیٹھ کر باتیں کروں گا ان کے چہرے پر جو اداسی کی تہہ چڑھی اس کے متعلق پوچھوں گا پھر سوچتا تھا کہ وہ خوددار ہیں مجھے کبھی اپنی مجبوری ظاہر نہیں کریں گے۔ پھر تعطیلات ہوئیں ہم گھر کو چلے گئے جب واپس آئے تو ان کی جگہ گیٹ پر کوئی اور شخص تھا میں نے یونیورسٹی میں ان کو بہت ڈھونڈا وہ کبھی دوبارہ نظر نہیں آئے میری وہ خواہش ہمیشہ خواہش ہی رہ گئی کہ کاش میں ان کی خاموشی کی وجہ جان سکتا اور پھر کبھی میرا وہاں سے گزر نہیں ہوا۔

بینکوں دکانوں سکولز کالجز ہر بڑے گیٹ کے سامنے نیوی وردی میں ایک خوددار شخص بیٹھا نظر آتا ہے ہر اس خوددار کی کہانی ہے ایک جیسی ہے۔ اس گرم پولسٹر یونیفارم میں موجود محافظوں کی قربانیاں بھی ان گنت ہے چاہے وہ سٹاک ایکسچینج والا سانحہ ہو یا کوئی بینک ڈکیتی یہ محافظ کبھی پیچھے نہیں رہے۔ گھروں سے دور ان مصیبت زدہ محافظوں کو کم سے کم تنخواہ 6 سے 10 ہزار کے عوض رکھا اور سب کی آنکھوں میں وہی سرخی اور چہرے پر بے چینی ہوتی اس بے چینی کی وجہ یہی حالات زندگی ہی ہیں کہ میرے گھر پر کھانے کو کچھ ہو گا میرے بچے بھوکے تو نہیں سوتے کاش کہ ان محافظوں کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے۔ جو ہمارے سرکاری ایلیٹ کلاس محافظوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عثمان سعید منجوٹھہ کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments