کالی بلی راستہ کاٹ گئی۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”یار کہاں رہ گئیں تم؟ کتنی دیر سے انتظار کر رہی ہوں تمھارا۔ ۔ ۔“ نائلہ نے کال ملتے ہی جھنجھلا کر پوچھا۔

”آ رہی ہوں، بس تم دروازہ کھولو میں پہنچنے والی ہوں“ ماہا نے پھولی ہوئی سانس میں جواب دیا اور کال کاٹ دی۔ نائلہ نے تیز نظروں سے موبائل کو گھورا جیسے اس میں سے ہی ماہا کو کچا چبا جائے گی اور موبائل پٹخ کر ادھر سے ادھر ٹہلنے لگی۔

” بیٹھ جاؤ آرام سے بس پہنچنے ہی والی ہوگی“ امی نے اس کی بے چینی پہ ٹوکتے ہوئے کہا۔

”ٹائم دیکھ رہی ہیں آپ؟ ایک گھنٹے سے اوپر کا ٹائم ہو گیا میڈم کا انتظار کرتے ہوئے، تین بجے کا ٹائم دیا تھا کہ آجاؤں گی اور اب چار بج رہے ہیں۔ آپ کو پتا ہے کہ مارکیٹ میں بھی کتنا رش ہوتا ہے اور محترمہ کو آسانی سے بھی کوئی چیز پسند نہیں آتی۔ اور جب میں نے دو تین دفعہ پوچھا تھا کہ وقت پر آجاؤ گی نا تو کیسے منہ بنا کر کہا تھا تم تو میرے پیچھے ہی پڑ جاتی ہو پکا تین بجے تمھارے گھر پر ہوں گی“ نائلہ نے ماہا کی نقل اتارتے ہوئے جلے بھنے لہجے میں جواب دیا۔ اسی وقت بیرونی دروازے کی گھنٹی بجی تونائلہ نے جلدی سے جاکردروازے کھولا اور گھوریوں سے ماہا کا استقبال کرتے ہوئے سائڈ میں ہوئی۔

ماہا نے صلح جو مسکراہٹ چہرے پہ سجا کر امی کو اور اسے سلام کیا۔
”امی اس سے کہہ دیں مجھے اب کہیں نہیں جانا اس کے ساتھ۔“
نا ئلہ نے ماہا کی طرف سے منہ پھیر کر بلند آواز میں امی سے کہا۔

”ارے ایک تو تم فوراً روٹھے سیاں بن جاتی ہو۔ میری با ت تو سن لو کتنی مشکلوں سے آ ئی ہوں یہاں اتنا لمبا سفر کر کے ٍ۔ ایک گلاس پانی کا بھی نہیں پو چھا تم نے“ ۔

ما ہا نے اپنی سانسیں درست کر کے چہر ے پہ مسکینیت طاری کرتے ہو ئے کہا۔

”لمبا سفر کو ن سا لمبا سفر مشکل سے 10 منٹ کا راستہ ہوگا۔ ڈی بلاک سے ای بلاک میں آنے کے لئے کتنے گھنٹوں کا سفر طے کرنا پڑتا ہے بھئی“ ؟

نا ئلہ نے طنز یہ لہجے میں ما ہا سے استفسار کیا جو اب جلدی جلدی پانی کا گلاس چڑھا رہی تھی۔
”اصل میں نا با ت کچھ یوں ہے کہ وہ“ ۔ ۔ ۔

ماہا نے بات ادھوری چھوڑ کر کچھ کھسیانی ہو کر نا ئلہ کی طرف دیکھا پھر اس کے مزید گھورنے پر جلدی سے بولی۔

”ایک تو مجھے گھر سے نکلتے ہوئے بھی دیر ہو گئی تھی اور اوپر سے کالی بلی نے رستہ کاٹ لیا تھا میرا۔ مجھے پورا گھوم کر دوسری طرف سے آنا پڑا“ ۔

”لا حول ولا قوۃ۔ ۔ ۔“ امی بھی جو مارے تجسس کے اس کی بات سننے کے لئے ادھر ہی متوجہ ہو گئیں تھیں، بات مکمل ہوتے ہی لا حول پڑھ کر ما ہا کو نا صحانہ انداز میں سمجھاتے ہوئے بولیں۔ ”بیٹا یہ سب توہمات ہمارے اپنے بنائے ہوئے ہیں۔ اس سب سے کچھ نہیں ہوتا خوامخواہ کی افواہیں ہیں“ ۔

اور ماہا ان کی باتیں سن کر یوں سر ہلانے لگی جیسے واقعی اس کو سب سمجھ آ گیا ہو۔ اور وہ اب دوبارہ کبھی ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گی۔ لیکن حقیقتاً تو وہ ان سب توہمات پر پختہ یقین رکھنے والوں میں سے تھی۔

نائلہ نے جو ماہا کا انداز دیکھا تو جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور اپنا عبایا اوراسکارف صحیح کرتے ہوئے امی کو دروازے میں سے ہی اونچی آواز میں خداحافظ کرکے اور جلد ہی واپسی کا کہہ کر باہر کی جانب بڑھ گئی۔ مبادا امی کی اور ماہا کی بحث نہ چھڑ جائے۔

****   ****

نائلہ اور ماہا دونوں بچپن کی سہیلیاں کم بہنیں زیادہ تھیں۔ گھروں کی دیواریں ملی ہونے کی وجہ سے دونوں ہر وقت ہی ایک دوسرے کے ساتھ پائی جاتیں تھیں۔ ایک ہی ساتھ اسکول جانا ساتھ واپس آکر پھر کھیل کود بھی ساتھ کرنا۔ غرض دونوں نے پرائمری سے سیکنڈری تک کا سفر، پھر اب کالج کا سفر بھی ساتھ ہی طے کر رہیں تھیں۔ دونوں میں بہت سی باتیں مشترک تھیں جیسے نائلہ اکلوتی تھی تو ماہا بھی ایک ہی بہن تھی لیکن ماہا کے ساتھ اس کے چھوٹے تین بھائیوں کی فوج بھی تھی جن کی ایک کے بجائے اب دو آپائیں تھیں۔ مزاج اور پسند ناپسند بھی بہت حد تک ایک دوسرے سے ملتی تھیں۔ لیکن اس سب کے باوجود جو ان دونوں میں بہت بڑا اختلاف تھا وہ یہ کہ ماہا یقین کی آخری حد تک توہم پرست تھی۔

وجہ شاید اس کے گھر کا ماحول اور والدین کا تمام توہمات پر پختہ یقین تھا۔ جبکہ نائلہ کے گھر کا ماحول اس کے برعکس تھا۔ وہ لوگ ان باتوں کو نہ خود زیادہ اہمیت دیتے تھے بلکہ اگر کوئی ان کے سامنے اس قسم کی گفتگو کرتا تھا تو ٹوک بھی دیتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود نہ صرف دونوں کی دوستی مثالی تھے بلکہ دونوں گھرانوں کے تعلقات بھی بہت اچھے تھے۔ شروع شروع میں دونوں گھروں کے بڑے ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے تھے مگر نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات دیکھ کر دونوں نے ہی اپنی اپنی کوششوں کو ترک کر دیا تھا۔ اور اب اس موضوع پر بہت کم ہی بات ہوتی تھی۔

ویسے بھی ماہا کے گھر والے تین سال پہلے دوسرے بلاک میں شفٹ ہو گئے تھے تو یوں بھی ملاقات کم کم ہی ہوتی تھی۔ مگر ماہا اور نائلہ ناصرف کالج ساتھ جاتی تھیں بلکہ شام میں بھی اکثر کبھی مارکیٹ جانے کے لئے اور کبھی بغیر کسی وجہ کے ایک دوسرے کے گھر پر پائی جاتی تھیں۔ یوں نائلہ کی امی کو وقتاً فوقتاً ماہا کو ٹوکنے یا سمجھانے کا موقع مل جاتا تھا۔

****   ****

”پتہ ہے مجھے اتنی اہم بات بتانی تھی تمہیں“ ۔ ماہا نے چلتے چلتے نائلہ کے قریب ہوکر بے چینی سے کہا۔
”ہاں کہو، اور ایسی بھی کیا بات ہے جو تم اتنی بے چین نظر آ رہی ہو“ ۔ نائلہ نے رک کر پوچھا۔

” یار چلتے چلتے ہی کرتے رہیں گے باتیں۔ تم ایسے بیچ سڑک پر کیوں رک گئیں“ ۔ ماہا نے ادھر ادھر کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔

”اچھا بابا بتاؤ اور تمہیں کوئی رازداری کی بات بتانی ہے جب ہی تم نے رکشہ میں بھی نہیں بیٹھنے دیا“ ۔

”ہی ہی ہی۔ ۔ ۔“ ماہا نے دانت نکالتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور پھر فوراً ہی سنجیدگی کا لبادہ اوڑھتے ہوئے بتانے لگی ”یار سیریس بات ہے، وہ میری ماموں زاد بہن ہیں نا سمیرا باجی جن کی ابھی چند ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی۔ ان کی طلاق ہو گئی“ ۔

”اللہ خیر کرے، کیوں، کیسے؟“ نائلہ کو ایک دم سمیرا باجی کی طلاق کا سن کر جیسے سکتہ ہوا تھا۔ کتنا مزہ آیا تھا دونوں کو ان کی شادی میں۔ مشکل سے چار یا پانچ مہینے ہوئے ہوں گے ان کی شادی کو۔ اور اب اچانک ماہا نے خبر سنائی تو جیسے اسے یقین ہی نہیں آیا ہو۔

”ہاں یار بس۔ ۔ ۔ میں تم سے پہلے ہی کہہ رہی تھی نا کہ مشکل ہے کہ ان کی شادی کامیاب ہو۔ نکاح کے وقت سمیرا باجی کے سر میں جوئیں تھیں نا۔ میری خالہ نانو نے تو کتنا کہا تھا کہ اپنا سر صاف کروالو، پہلے پوری تسلی کرلو۔ انہوں نے صاف بھی کروایا تھا لیکن پوری طرح سے نہیں ہوا تھا نا۔ اب دیکھ لو نکاح میں پڑ گئیں جوئیں“ ۔

اور نائلہ جو کسی افسوس ناک بات کو سوچ کر پریشان ہو رہی تھی ہونقوں کی طرح اس کی شکل تکنے لگی۔ ”کیا مذاق ہے یار؟ ایک تو ان کی طلاق ہو گئی اور تمہیں مذاق سوجھ رہا ہے“ ۔ نائلہ نے ایک دم غصے بھرے لہجے میں کہا۔

”تمہیں یہ مذاق لگ رہا ہے۔ صحیح بات بتا رہی ہوں میں تمہیں۔ ہماری نانی کہتی تھیں کہ نکاح کے وقت جس کے سر میں جوئیں ہوں تو پھر وہ نکاح زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہتا اور دیکھ لو سمیرا باجی کی مثال تمہارے سامنے ہے“ ۔ ماہا نے بھی تیز نظروں سے گھورتے ہوئے جواب دیا۔

”میں فی الحال تم سے کوئی بحث نہیں کرسکتی، بعد میں بات کریں گے اس بارے میں، ابھی جلدی چلو مارکیٹ۔ ویسے ہی ہم گھر سے لیٹ نکلے تھے“ ۔ نائلہ نے فی الوقت بات کو سمیٹتے ہوئے ماہا کو احساس دلایا تو وہ دونوں جلدی جلدی قدم اٹھانے لگیں۔

٭٭٭٭           ٭٭٭٭

”امی کبھی کبھی ماہا کی باتیں میری سمجھ سے باہر ہوتی ہیں۔ پتہ نہیں کون کون سی منطق نکال کے لے کر آتی ہے۔ ہر بات بندے کا دماغ ہی گھوم جائے“ ۔ اگلے روز نائلہ نے شام میں امی سے کہا تو ای نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

”کیوں اب کیا ہوگیا؟“ ہلکی سی مسکراہٹ ان کے چہرے پر پھیل گئی تھی کیونکہ وہ بھی جانتی تھیں کہ ان دونوں کے بیچ بحث کی وجہ ایک ہی ہو سکتی ہے : توہم پرستی۔

”اس کی کزن سمیرا باجی یاد ہیں آپ کو جن کی ابھی پانچ مہینے پہلے شادی ہوئی تھی، ان کی طلاق ہوگئی“

”اوہ۔ ۔ ۔ بہت افسوس ہوا، اللہ تعالیٰ سب بچیوں کے نصیب اچھے کرے۔ تو بیٹا اب اس میں کوئی وہم والی بات کہاں سے آ گئی؟“

”یہی تو، جو وجہ اس نے مجھے بتائی ہے میری تو سوچ کی رسائی بھی نہیں ہو سکتی وہاں تک“ ۔ نائلہ نے پر زور انداز میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ”وہ پتہ نہیں کچھ جوؤں کا کہہ رہی تھی کہ نکاح میں پر گئیں“ ۔

امی نے بے ساختہ امڈنے والی ہنسی کو بہت مشکل سے مسکراہٹ میں تبدیل کیا پھر رسان سے بولیں ”بیٹا، یہ سب وہم و گمان اور تصورات ہمارے بزرگوں سے چلے آرہے ہیں۔ بہت ساری بے سر و پا باتیں ہم بھی سنتے رہتے تھے۔ اور اس کے اثرات سے ڈرتے رہتے تھے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے شعور دیا، صحیح اور غلط کو سمجھنے کا موقع دیا تو الحمدللہ اب ہم سب باتوں پر یقین نہیں رکھتے۔ تم دونوں تو بہت اچھی دوست ہو۔ صحبت کا اثر ہوتا ہے انسان کی شخصیت پر، تم اسے سمجھانے کی کوشش کرو انشاءاللہ سمجھ جائے گی“ ۔

”پتہ نہیں سمجھے گی یا نہیں میں کوشش کرکے دیکھتی ہوں“ ۔

٭٭٭٭           ٭٭٭٭

”کل تم نے کیمسٹری کا پیریڈ لیا تھا؟“ وہ دونوں اس وقت فری پیریڈ ہونے کے باعث اپنی پسندیدہ جگہ یعنی آڈیٹوریئم کے ساتھ بنی سیڑھیوں پر بیٹھی برگر اور کوک کے ساتھ انصاف کر رہی تھیں۔ ماہا نے برگر کا لقمہ لیتے ہوئے نائلہ سے پوچھا۔

”ہاں لیا تھا اور کل مس رضوانہ نے پریکٹیکل بھی کروا دیا تھا مگر تم کیوں نہیں آئیں تھیں؟ اور میسج کا بھی جواب نہیں دیا تم نے“ ۔

”ارے یار! میرا پریکٹیکل مس ہوگیا، وہ دوبارہ کروائیں گی بھی نہیں۔ میں صبح تیار بھی ہوگئی تھی کالج آنے کے لئے لیکن بس کوے نے آکر منڈیر پر بولنا شروع کر دیا تو امی کہنے لگیں کہ آج نہ جاؤ ہو سکتا ہے کوئی مہمان آ جائے۔ میرے ساتھ ہاتھ بٹا دینا کچن میں۔ میری طبیعت بھی کچھ صحیح نہیں ہے“ ۔

”حد ہوگئی، یعنی کہ صرف کوے کے بولنے سے تمہیں پتہ چل گیا۔ کوا تھا یا کوئی میسنجر؟“ نائلہ نے استہنرائیہ لہجے میں پوچھا۔

”جی ہاں بیٹا۔ ۔ ۔ کل پھوپھی جان آئیں تھیں ہمارے ہاں اور اچھا ہوا میں رک گئی تھی کیونکہ وہ دوپہر میں ہی آ گئیں تھیں۔ پھر سارا دن ان ہی کے ساتھ گزرا اس لئے میں موبائل بھی استعمال نہیں کرسکی“ ۔ تو ماہا نے بھی تنک کر ہاتھ نچا کر بالکل عورتوں والے انداز میں جواب دیا۔

”اچھا بابا تم صحیح میں غلط“ نائلہ نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا۔

”جی ہاں۔ ۔ ۔ تم اگر ان باتوں کو نہیں مانتیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ سچ نہیں ہو سکتیں۔ میرے پاس بہت ساری ایسی مثالیں ہیں جو میں تمہیں بتا سکتی ہوں اور سب کی سب آپ بیتی ہیں مجھ پر“ ۔

”اچھا مثلاً کیا کیا؟“

”جیسے کل ہی کی بات لے لو تم، پھوپھی جان کے دائیں ہاتھ میں کھجلی ہو رہی تھی تو ان کے پیسے واپس مل گئے جو ایک آنٹی نے دو سال پہلے بطور قرض لئے تھے لیکن جب سے قرضہ لوٹایا نہیں تھا۔ اور اب کل ہی کیوں ملے ان کو واپس؟ پھر ابھی دو ہفتے پہلے ہی ابو کی بائیں آنکھ پھڑک رہی تھی اور تو اور چپل پر چپل بھی چڑھ گئی تھی اس دن، تو تمہیں یاد نہیں کہ کتنا برا حادثہ ہوا تھا ابو کا۔ ۔ ۔ بائک کتنے زور سے کھمبے سے ٹکرائی تھی۔ وہ تو شکر ہے کہ ابو کے زیادہ چوٹ نہیں لگی لیکن بائک تو پوری تباہ ہی ہوگئی سمجھو۔ ۔ ۔“

”ہمم م م۔ ۔ ۔ اچھا اور۔ ۔ ۔“ نائلہ نے ہنکارا بھر کے اسے دیکھا۔

”تمہیں لگ رہا ہے کہ میں بکواس کر رہی ہوں؟“ ماہا نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا تو نائلہ نے ٹھنڈا کرنے کی غرض سے اس کا ہاتھ دبایا۔

”ارے بھئی سن رہی ہوں نہ، بتاؤ اور۔ ۔ ۔“

”یار تم سمجھتی نہیں ہو یہ سب توہمات نہیں ہیں بلکہ ان سب چیزوں کا گہرا تعلق ہوتا ہے ہمارے ساتھ اچھا یا برا ہونے میں“ ۔ ماہا نے ایک دم سنجیدگی سے کہا۔ ”پڑوس والے تنویر بھائی کی ناگہانی موت بھول گئیں تم؟ بھابھی کو سب ہی منع کرتے تھے سفید دوپٹہ اوڑھنے سے مگر وہ سنتی ہی کہاں تھیں کسی کی۔ ۔ ۔ پھر ہوا کیا، ایک اندھی گولی کہیں سے آکر لگی تنویر بھائی کے اور بس ناگہانی آفت ٹوٹ پڑی۔ بچے بھی چھوٹے چھوٹے ہیں ان کے۔ تنویر بھائی کی امی نے تو فوراً سے پیشتر بھابھی کا ہاتھ پکڑ کر باہر کھڑا کر دیا تھا انھیں کہ ان ہی کا سفید دوپٹہ اوڑھنے کی وجہ سے یہ سب ہوا تھا“ ۔

نائلہ نے پوری تفصیل سن کر گہرا سانس بھرا اور پھر پیار سے سمجھاتے ہوئے بولی ”ارے میری پیاری سی دوست، اچھی بری تقدیر کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔ ہمارے ساتھ جو بھی اچھا یا برا ہوتا ہے تو ان بے جان چیزوں کا کیا قصور اس میں؟ یہ تو ہمارے اپنے اعمال ہیں ناجو یہ سب ہوتا ہے یا کبھی کبھی آزمائش ہوتی ہے۔ ان کی موت اٹل تھی یار، اس میں بھابھی کا کیا قصور اور کسی بھی حادثات کا کیا تعلق ان بے جان اشیاء سے؟“

”تمہاری اور میری بحث اس موضوع پر یوں ہی چھڑی رہے گی میں تمہاری اس بات سے اتفاق نہیں کرتی کہ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ تمہاری باتیں اپنی جگہ درست ہے کہ موت کے بہانے بن جاتے ہیں مگر بہانہ یہی بات تھی جو میں نے تمہیں بتائی۔ اور اشیاء بھلے بے جان ہوں مگر اثر تو رکھتی ہیں وہ بھی“ ۔ ماہا نے نائلہ کی بات کی پرزار نفی کرتے ہوئے کہا۔ تب ہی چھٹی کی اطلاعی گھنٹی بجنے پر نائلہ نے بات آگے بڑھانے کا ارادہ موقوف کرتے ہوئے سامان سمیٹنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی ہلکے پھلکے لہجے میں کہا۔

”چلو پھر کبھی تمہارے فارغ دماغ میں اچھی باتیں بٹھانے کی کوشش کروں گی“ اور ماہا نے بھی جواباً گھور کے ایک دھپ رسید کی۔

٭٭٭٭           ٭٭٭٭

”اسلام علیکم آنٹی۔ ۔ ۔ کیسی ہیں آپ؟“
”وعلیکم اسلام بیٹا، میں بالکل ٹھیک اور آپ بتاؤ۔ ۔ ۔ آپ کیسی ہو اور امی کیسی ہیں؟“
”وہ بھی ٹھیک ہیں آنٹی اور ماہا سے بات ہو سکتی ہے کیا؟“
”جی بالکل، وہ نماز پڑھ رہی ہے۔ ۔ ۔ یا پھر مجھے بتا دو اگر کوئی ضروری کام ہے تو“ ۔

”بس آنٹی میں نے اس سے یہ پوچھنے کے لئے فون کیا تھا کہ برابر گلی میں جو خدیجہ باجی ہیں، جو بیان کرتی ہیں، ان کے ہاں درس ہے تو وہ چلے گی ہمارے ساتھ؟ بلکہ اچھا ہوا کے آپ سے ہی بات ہو گئی آپ بتائیں آپ لوگ آئیں گے تو سب مل کر چلے جائیں گے“ ۔ نائلہ نے تفصیلاً جواب دیتے ہوئے کہا۔

”اچھا اچھا! بیٹا یہ تو بہت اچھی بات ہے، کب ہے درس؟“
”کل ہے سہہ پہر چار بجے۔ ۔ ۔“

”اوہ کل ہی ہے، کل تو میرا جانا مشکل ہے پھر۔ ۔ ۔ کل اصل میں مجھے ماہا کی خالہ کے ساتھ عیادت کے لئے جانا ہے اس کے نند کے ہاں، اگر مجھے پہلے پتا ہوتا تو میں منع کر دیتی۔ مگر سوری بیٹا اب کچھ مناسب نہیں لگ رہا لیکن ماہا ضرور آ جائے گی“ ۔ ماہا کی امی نے معذرت خوانہ لہجے میں نائلہ کو جواب دیا۔

”ارے آنٹی کوئی بات نہیں۔ ۔ ۔ ٹھیک ہے آپ ماہا سے کہہ دیے گاکے ساڑھے تین بجے آ جائے ہمارے گھر، پھر ہم ساتھ ہی چلیں گے“ ۔

”ٹھیک ہے بیٹا خدا حافظ“
”اؤ کے خدا حافظ“
”کس کا فون تھا امی؟“ ماہا نے نماز سے فارغ ہو کر امی سے پوچھا۔

”بیٹا وہ نائلہ کا تھا کل درس ہے خدیجہ کے ہاں، اسی کا بتا نے کے لئے کیا تھا اس نے فون۔ میرا تو جانا مشکل ہے کیونکہ تمہاری خالہ کو ٹائم دیا ہوا ہے کل کا۔ تم نائلہ کے ساتھ ہی چلی جانا درس میں“ ۔

”ٹھیک ہے امی“ ۔ ماہا نے اثبات میں سر ہلا یا پھر بولی ”اچھا امی میں جھاڑو لگا دوں کافی خراب ہو رہا ہے کمرا“ ۔

”نہیں ابھی رہنے دو۔ ابھی پانچ منٹ پہلے ہی تو تنویر کی اماں گئیں ہیں۔ کتنی دفعہ تو سمجھایا ہے کہ مہمان کے جاتے ہی جھاڑو نہیں دیتے پھر بھی پوچھ رہی ہو“ ۔

”لیکن امی نائلہ اور آنٹی تو کہتی ہیں یہ سب اوہام ہوتے ہیں۔ اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ان سب باتوں کا، محض توہم پرستی ہے یہ“ ۔ ماہا نے حجت بھرے انداز میں کہا۔

بیٹا اگر وہ لوگ نہیں یقین رکھتے ان باتوں پر تو چھوڑدو ان کے حال پر لیکن ہم کیوں جانتے بوجھتے اپنا نقصان کریں؟ ”امی نے جواباً کہا اور پھر کچن کی طرف چل پڑیں۔

٭٭٭٭           ٭٭٭٭

”تقدیر کسے کہتے ہیں؟ اچھی بری تقدیر کیا ہوتی ہے؟ انسان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوتا ہے یعنی اس کی پیدائش، اس کی موت، معمولات زندگی، رزق، تعلیم، یہاں تک کہ مذہب، اس کا جنت اور دوزخ میں جانا بھی پہلے سے طے ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہر اچھی بری تقدیر کا مالک اللہ تعالیٰ ہے“ ۔ خدیجہ باجی نے ایک نظر حاضرین محفل کو دیکھا۔

ان کی پر اثر اور دھیمی آواز پوری محفل میں گونج رہی تھی۔ اور پھر سلسلہ کلام جوڑتے ہوئے بولیں۔ ”مگر ہم سب کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کرتا ہے کہ جب سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہے تو پھر ہم کیوں نیک اور بد اعمال کا سوچیں۔ تو میری بہنوں ہماری قسمت میں بہت سی باتیں اٹل ہیں جیسے ہمارا اس دنیا میں آنا، اس دنیا سے جانا، شادی اور رزق وغیرہ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے اعمال اور افکار میں اختیار دیا ہے کہ چاہے تو وہ نیکی کا راستہ چنے اور چاہے تو بدی کا چنے“ ۔

”ایک خاص مدار میں ہمیں اختیار حاصل ہے کہ ہم اپنے لئے اچھائی یا برائی منتخب کر سکتے ہیں۔ اور جتنی حد اللہ تعالیٰ نے مقرر کردی ہے انسان کو اسی میں رہنے کا حکم ہے لیکن انسان اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے۔ اور بجز اس کے کہ وہ اپنے نامہ اعمال کو بہتر کرے وہ قسمت سے یا تقدیر سے لڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ زندگی موت اور حادثات، یہ سب اٹل ہیں اور انسانی حدود و قیود سے باہر کہ وہ ان کو ٹال سکے یا بدل سکے۔ مگر پھر بھی بجائے اس بات پر یقین رکھنے کے کہ یہ میری قسمت میں تھا ہوگیا اور صبر کرنے کے ہم واویلا شروع کردیتے ہیں“ ۔

”بے جان چیزوں اور لا یعنی دلیلوں سے خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنا عقیدہ درست رکھنے کے بجائے فضول توہمات پر یقین کرکے اللہ تعالیٰ سے دور ہوتے ہیں۔ جب ہم ایمان مفصل پڑھتے ہیں تو ایک طرح سے ہم اس عہد کو دہراتے ہیں جو ہم نے عالم ارواح میں اپنے رب تعالیٰ سے کیا تھا کہ ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے اور ہر اچھی بری تقدیر کا مالک بھی اللہ ہی ہے اور ہمیں لوٹ کر اپنے مالک کے پاس واپس جانا ہے۔ لیکن پھر بھی انسان بھول جاتا ہے اور مختلف توجیہات سے خود کو مطمئن کرتا ہے“ ۔

”سفید کپڑا پہنا تو گھر میں فوتگی ہوگئی، آنکھیں پڑھکنے لگیں تو برا ہوگا، کسی کا نقصان ہوا تو اس کا ذمہ دار کبھی بلی کو ٹھہرا دیا تو کبھی جوؤں کو یا کبھی کسی اور شے کو۔ اور شاید کبھی ایسا ہو بھی جاتا ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں کے گمان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر گمان غلط ہوگا تو یقیناً ہمارے ساتھ بھی غلط ہی ہوگا۔ لیکن ذرا سوچیں کہ میں نے اور آپ نے جب زبان سے اقرار کر لیا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا تو ہم دل سے کیوں یقین نہیں کرتے؟

کیوں وہم اور شکوک و شبہات کو دل میں جگہ دیتے ہیں؟ دلائل دے کر شاید دماغ کو تو وقتی طور سے پرسکون کردیں لیکن اللہ تعالیٰ پر جو کامل یقین اور توکل رکھنا چاہیے وہ دھندلا پڑنے لگتا ہے۔ اور پھر انسان صبر و شکر سے بھی دور ہوجاتا ہے۔ تو سوچیں ذرا ایک وہم سے بندہ کتنی نعمتوں اور رحمتوں سے محروم ہو جاتا ہے“ ۔

محفل میں سب ہی دم سادھے اس پر وقار الفاظ و بیان کے سحر میں کھوئے ہوئے تھے۔ اور نائلہ اور ماہا کی آنکھوں سے اشک رواں تھے۔ ماہا نے ندامت سے سر کو جھکالیا تھا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا کہ آہستہ آہستہ اس کے ذہن پہ چھایا غبار دھلتا جا رہا تھا۔ اور وہ خود کو بہت ہلکا محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ پشیمان بھی ہو رہی تھی۔ خدیجہ باجی نے تھوڑے سے توقف کے بعد اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے دوبارہ سے کہنا شروع کیا۔

”لیکن اللہ تعالیٰ جب کسی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اسے نیک ہدایت عطا کرتے ہیں۔ اگر آج سے پہلے تک ہمارا اعتقاد بھی متزلزل ہوتا ہے۔ ہم بھی صبر اور اللہ پر توکل کا دامن چھوڑ کر توہمات اور وسوسوں کا شکار رہتے ہیں۔ تو آج سے یہ پختہ ارادہ کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ رب تعالیٰ ہمارا اعتقاد اور توکل اپنے اوپر اتنا مضبوط کردیں کہ ہمیں ان سب توہمات اور غیر اللہ کی جانب لے جانے والے خیالات سے اپنا دامن بچانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ ۔ ۔ آمین“ ۔

اور ماہا کو ایسا لگا جیسے اس کا بے قرار دل ایک دم ہی پرسکون ہوگیا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر کتنا خاص کرم ہے کہ توبہ کے دروازے زندگی بھر کھلے رہتے ہیں۔ اور یہی خیال ماہا کے دل کو بھی تقویت بخش رہا تھا۔

”کیا بات ہے بہت خاموش ہو؟“ نائلہ نے پیچھے سے آکر کندھے پر دھپ رسید کرتے ہوئے کہا۔

تو ماہا نے تنبیہ نظروں سے گھور کر اسے اطراف کا احساس دلایا ”جگہ اور موقع بھی دیکھ لیا کرو۔ ابھی ہم نے بیان سنا ہے، سب لوگ ہیں اردگرد لیکن تم باز نہیں آنا اپنی حرکتوں سے“ ۔

”محترمہ سب دوسرے کمرے میں چلے گئے ہیں بس آپ ہی کسی مراقبے میں گم تھیں۔ ویسے کیا سوچ رہی تھیں؟“ نائلہ نے جواب دینے کے ساتھ ہی استفسار کیا۔

”بس یہی سوچ رہی تھی کہ ہم بلا سوچے سمجھے تقلید کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ہمارے بزرگ اگر کہیں کچھ غلط کرتے ہیں تو ہم بجائے اس کی تحقیق کرنے کے کہ یہ درست بھی ہے یا نہیں، بس اس کی پیروی کرتے رہتے ہیں۔ سالوں سے یہی سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج میں یہاں آ گئی اور مجھے بہت سی ایسی باتوں کا ادراک ہوگیا جس کی ہم اندھی پیروی کرتے ہیں۔ خود سے بغیر سوچے سمجھے کہ صحیح ہے یا غلط بس اسی لئے یقین اور عمل کرتے ہیں کہ ہمارے بڑوں نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ اب میری کوشش ہوگی کہ توہمات پر یقین نہ کروں اور نہ ہی وہم کا شکار ہو کر الٹی سیدھی حرکتیں کروں۔ بلکہ امی کو بھی یہ بیان سناؤں گی تاکہ وہ بھی ان سارے اوہام اور وسوسوں سے دور ہوسکیں تھوڑا مشکل ضرور ہے لیکن مجھے امید ہے کہ ایک دن وہ بھی ان سب خیالات کو بدلنے میں کامیاب ہوجائیں گی“ ۔

”یا اللہ تیرا شکر ہے کہ میری دوست کو عقل آ گئی“ ۔ نائلہ نے ہاتھ اٹھا کر شرارتی انداز میں کہا۔

ماہا نے مصنوعی غصے سے اس کی طرف دیکھا اور ایک دم ہی اس کو ہچکیاں آنا شروع ہوگئیں۔ ”یا اللہ اس وقت مجھے کس نے یاد کرنا شروع کر دیا“ ماہا نے کن انکھیوں سے نائلہ کی طرف دیکھتے ہوئے سنجیدہ سی صورت بناتے ہوئے کہا۔ جواباً نائلہ نے اسے غصے سے گھورتے ہوئے کہا ”قبر ہی یاد کر رہی ہوگی تمہیں، کہو تو انتظامات شروع کروا دوں؟“

”اور نائلہ کے تپے ہوئے چہرے اور جملے پر پہلے سے اپنی ہنسی ضبط کرنے کی کوشش کرتی ہوئی ماہا کا قہقہہ بلند ہوگیا۔ اور پھر دونوں کی ہنسی فضا میں بکھرتی چلی گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply