پاکستان کی کشمیر پالیسی کامیاب ہے یا ناکام؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم اسلامی ملکوں کی تعاون تنظیم (او آئی سی) کو متنبہ کیا ہے کہ اگر کشمیر کے معاملہ پر تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس فوری طور سے نہ بلایا گیا تو پاکستان اس سوال پر اپنے مؤقف کی حمایت کرنے والے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی استبداد کو مسترد کرنے والے دوست اسلامی ملکوں کا اجلاس طلب کرلے گا۔

ایک علیحدہ بیان میں وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف وزیوں پر بحث کو اپنی حکومت کی شاندار سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے سلامتی کونسل کے صدر کو ایک خط میں اس معاملہ کو ایجنڈے پر لانے کی درخواست کی تھی۔ اس درخواست کے 72 گھنٹے کے اندر یہ معاملہ سلامتی کونسل میں بحث کے لئے چن لیا گیا اور 5 اگست کو سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 ملکوں نے اس پر بات چیت کی ۔ شاہ محمود قریشی نے مطلع کیا ہے کہ بھارت کی سخت کوشش کے باوجود سلامتی کونسل نے اس معاملہ پر غور کیا جو پاکستان کی شاندار کامیابی اور بھارتی مؤقف کی ناکامی ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سلامتی کونسل نے ایک سال کے دوران کشمیر پر تیسری بار غور کیا ہے جو ایک شاندار سفارتی کامیابی ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ کے ان دو متضاد بیانوں کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل ہے کہ وہ گزشتہ برس اگست میں مقبوضہ کشمیر کے بارے میں بھارتی حکومت کے قانونی اقدامات ، کشمیر میں لاک ڈاؤن ، دیگرپابندیوں اور ظلم و جبر کے خلاف پاکستانی حکمت عملی کے کامیاب ہونے کی نوید دے رہے ہیں۔ یا یہ بتا رہے ہیں کہ پاکستان اپنے قریب ترین دوست سعودی عرب کو بھی اس بات پر رضامند نہیں کرسکا کہ اس کی قیادت میں قائم 57 رکنی اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ مل بیٹھیں اور مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے یک طرفہ اور انسان دشمن اقدامات کی مذمت کریں۔ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب اور اسلامی تعاون تنظیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا اور یہ اشارہ دیا ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے کوئی پیش قدمی نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کو اپنے طور پر اقدام کرنا پڑے گا۔ یہ سمجھنا بھی آسان نہیں ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ سعودی عرب کو متنبہ کررہے ہیں یا اس سے درخواست کررہے ہیں کہ کشمیر کی صورت حال دگرگوں ہے ، اس لئے اسلامی ممالک فوری طور سے کوئی مشترکہ اقدام کریں۔

شاہ محمود قریشی نے اے آر وائی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’میں اسلامی تعاون تنظیم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کشمیرکے سوال پر وزرائے خارجہ کے اجلاس پر لیت و لعل سے کام نہ لیں۔ ہم اس اجلاس کی توقع کررہے ہیں ۔ اگر آپ یہ کام نہیں کرسکتے تو مجھے مجبوراً وزیر اعظم عمران خان سے درخواست کرنا پڑے گی کہ وہ ان اسلامی ملکوں کا اجلاس طلب کرلیں جو کشمیر کے سوال پر پاکستان کی کھل کر حمایت کررہے ہیں۔ اور کشمیری عوام پر بھارتی استبداد کو مسترد کرتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی درخواست پر دسمبر میں منعقد ہونے والی کوالالمپور سربراہی کانفرنس میں شرکت نہیں کی تھی۔ اب پاکستانی مسلمان سعودی قیادت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اس معاملہ پر قائدانہ کردار ادا کرے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہماری اپنی حساسیات ہیں۔ دوسرے اسلامی ملکوں کو بھی اس کا خیال کرنا چاہئے۔ خلیجی ممالک ہماری ضرورت اور مجبوری کو سمجھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ یہ بات جذباتی انداز میں سوچے سمجھے بغیر نہیں کہہ رہے بلکہ پوری ذمہ داری سے اس معاملہ پر ایک مؤقف اختیار کررہے ہیں ۔ حالانکہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔

اس زور دار بیان کے الفاظ پر غور کیا جائے اور شاہ محمود قریشی کی اس وضاحت کو پیش نظر رکھا جائے کہ ان کے بیان کو پالیسی اسٹیٹ منٹ سمجھا جائے تویہ ایک طرح سے پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کو الٹی میٹم ہے کہ وہ یا تو اس کی بات مان لے اور او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس طلب کرکے بھارت کی مذمت کرے۔ یا پھر پاکستان اپنا راستہ علیحدہ کرلے گا۔ اس تناظر میں یہ ایک حوصلہ مندانہ بیان ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ پاکستانی قیادت وقتاً فوقتاً یہ یاددہانی کروانے سے گریز نہیں کرتی کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے عملی طور سے شریک ہوگا۔ کئی لاکھ پاکستانی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں میں کام کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کا بھیجا ہؤا زر مبادلہ پاکستان کی ضرورتیں پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو جب بھی مالی امداد کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کے لیڈر پہلی پرواز سے ریاض روانہ ہوتے ہیں اور کبھی مایوس واپس نہیں آتے۔

 ایک ایسے ملک کے ساتھ پاکستان کا وزیر خارجہ ’دھمکی آمیز‘ انداز کیوں کر اختیارکرسکتا ہے؟ کیا یہ حکومت کی خود مختاری اور دلیرانہ خارجہ پالیسی کی علامت ہے یا اس طرح پاکستانی وزیر خارجہ درحقیقت اپنی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا اعتراف کررہے ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں پاکستانی عوام کو سفارت کاری اور کشمیر کے معاملہ پر بھی وہی پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے جو معیشت اور سیاسی معاملات میں درپیش مشکلات اور ناکامیوں پر دیا جاتا ہے۔ کہ عمران خان اور ان کی حکومت تو دیانت دار اور نیک نیت ہے لیکن ملکی نظام ہی ان کا ساتھ نہیں دیتا۔ کبھی عدالتیں راستہ روک لیتی ہیں اور کبھی بدعنوان بیورو کریسی دیوار بن جاتی ہے۔ اب یہ کہا جارہا ہے کہ عمران خان نے تو کشمیر کا مسئلہ کو پوری دنیا کے سامنے پیش کردیا تھا۔ مگر جب مسلمان ملکوں کی قیادت ہی نہیں مانتی تو اکیلا عمران خان کیا کرسکتا ہے؟ یہ رویہ کسی بھی حکومت کی مایوسی کا سب سے کم تر درجہ کہا جا سکتا ہے۔

یوں بھی سفارتی معاملات پر تعاون حاصل کرنے کی کوشش دو طرفہ مواصلت میں ہی کی جائے تو اسے کامیابی کہا جائے گا۔ جب کسی ملک کا وزیر خارجہ ٹی وی انٹرویو میں سعودی عرب جیسے ملک کے ساتھ درشت اور دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کرتا ہے تو اس کے دوررس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ سعودی عرب سفارتی و سیاسی معاملات پر بیان بازی کرنے اور واضح پیغام دینے پر یقین نہیں رکھتا لیکن سعودی شاہی خاندان کی یادداشت بہت پختہ ہے اور وہ اپنے بارے میں بھیجے گئے سفارتی اشاروں کو محفوظ رکھتا ہے اور وقت آنے پر اس کا جواب دیتا ہے۔ پاکستان کو کشمیر کے سوال پر او آئی سی کا اجلاس بلانے کے علاوہ بھی کئی شعبوں میں سعودی عرب کی تائید و حمایت کی ضرورت ہوگی۔ اس معاملہ پر سعودی قیادت کو ایک ٹی وی پروگرام میں للکار نے سے پاکستان کے بارے میں سعودی حکمران خاندان کی ناراضی پاکستان کو مہنگی پڑ سکتی ہے۔ اس لئے یہ توقع کرنی چاہئے کہ شاہ محمود قریشی نے واقعی اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر اتفاق رائے کے بعد سعودی عرب کے بارے میں سخت بیانی کی ضرورت محسوس کی ہوگی۔

وزیراعظم اور وزیر خارجہ اگرچہ یہ اصرار کرتے ہیں کہ کشمیر پر ان کی سفارتی کوششیں دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کررہی ہیں اور کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کے بارے میں پاکستانی حکومت نے عالمی رائے عامہ ہموار کی ہے۔ اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں کشمیریوں کے بارے میں بھارتی حکومت کی پالیسی پر تبادلہ خیال کا حوالہ دیا گیا ہے۔ البتہ یہ فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی متعدد عالمی اور علاقائی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر کئی دہائیوں سے تشویش ظاہر کرتی رہی ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ میں کشمیری گروہ بھی اس سوال پر اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے باوجود سلامتی کونسل نے کشمیر کے معاملہ پر محض بند کمرے کے اجلاس میں تبادلہ خیال پر ہی اکتفا کیا ہے اور کوئی بیان جاری کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ کسی بھی عالمی فورم پر کشمیر میں بھارت کے انتہا پسندانہ اور غیر انسانی اقدامات کو کشمیر یوں کے حق رائے دہی کی حمایت سمجھ لینا سنگین غلطی ہوگی۔

سعودی عرب نے پاکستان کے دباؤ میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس طلب کر بھی لیا تو بھی پاکستان کو اس بات کی ضمانت فراہم نہیں ہوسکتی کہ یہ اجلاس لازمی طور سے اتفاق رائے سے کشمیر پر بھارتی مؤقف کو مسترد کرے گا۔ جو ممالک بھارتی وزیر خارجہ کو او آئی سی کے اجلاس میں خصوصی مہمان کے طور پر مدعو کرسکتے ہیں، وہ کشمیر پر بھارت کی حمایت میں آواز بھی اٹھا سکتے ہیں۔ یوں بھی عالمی سفات کاری میں او آئی سی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس کے کسی اجلاس میں ایک مذمتی قرارداد کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ دنیا کے مسلمان ملک پاکستانی حکومت کی خواہش کے مطابق ’مسلم امہ‘ کے طور پر اس معاملہ میں اپنا وزن بھارت مخالف پلڑے میں ڈالنے پر راضی ہو بھی جائیں تو اس سے کشمیری عوام کے حق خود اختیاری کی تائید نہیں ہوسکے گی۔ ایسی کوئی قرار داد زیادہ سے زیادہ بھارتی حکومت کی عائد پابندیوں کے خلاف بیان کی حد تک محدود رہے گی۔

عمران خان نے گزشتہ روز آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کو دہرایا کہ انہوں نے عالمی لیڈروں سے بات کرکے انہیں کشمیر کا مسئلہ سمجھایا۔ حکومت کو اس سحر سے باہر نکلنا ہوگا کہ دنیا کا کوئی بھی لیڈر کسی مسئلہ کو سمجھنے کے لئے اس معاملہ میں فریق ایک ملک کے لیڈر سے سبق لے گا۔ لیڈروں کی باہمی بات چیت سے قبل ہر عالمی لیڈر کے پاس تمام متعلقہ امور کی بریف موجود ہوتی ہے۔ پاکستانی لیڈر کی باتوں کو ایک فریق کا بیان ہی سمجھا جائے گا۔ اسی طرح کشمیر کی آزادی کو مسلمانوں کی آزادی قرار دے کر دراصل کشمیری عوام کی شناخت و ثقافت سے لاعلمی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ پاکستان کا یہ طرز عمل پہلے بھی نقصان دہ ثابت ہؤا تھا اور مستقبل میں بھی اس سے فائدہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ کشمیر کے معاملہ کو اس خطے میں آباد لوگوں کے حقوق سے منسلک کیا جائے خواہ ان کا کوئی بھی عقیدہ ہو۔

پاکستانی حکومت کشمیر پالیسی پر شدید کنفیوژن کا شکار ہے۔ دوسرے ملکوں سے توقعات وابستہ کرنے سے پہلے یہ طے کرلینا چاہئے کہ پاکستان اس معاملہ میں کیا چاہتا ہے۔ ایک پہلو کشمیری عوام کے خلاف بھارتی حکومت کے مظالم ہیں۔ دنیا میں کسی نہ کسی طرح اس حوالے سے بات ہورہی ہے لیکن اصل معاملہ کشمیری عوام کو حق رائے دہی دلانا ہے۔ وزیر اعظم کی باتوں سے تو یہ لگتا ہے کہ انہوں نے یہ معاملہ اللہ کی رضا پر چھوڑ دیا ہے۔ اور امید لگائے بیٹھے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوج نکل گئی تو کشمیری عوام پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

یہ سنگین غلط فہمی موجودہ حکومت کی کشمیر پالیسی کو غیر مؤثر اور ناکارہ بنا رہی ہے۔ اسے تبدیل کئے بغیر کشمیر کے سوال پر بھارت کو دباؤ میں لانا ممکن نہیں ہوگا۔ ایسے کسی منظر نامہ میں یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستانی فوج کو آزاد کشمیر سے نکلنا پڑے اور وہاں آباد کشمیری ’خود مختار کشمیر‘ کا نعرہ لگاتے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں اپنے بھائیوں کے گلے لگ جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1616 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply