فرانس کی چانٹل کو پاکستانی مردوں سے نفرت کیوں تھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کے ٹو پرکوہ پیمائی کی تاریخ میں 1986 کا سال بے حد اندوہناک تھا۔ اس سال مختلف واقعات میں تین خواتین کوہ پیماؤں سمیت تیرہ افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ اس واقعے کا اثر اتنا گہرا تھا کہ اگلے چھ سال تک دنیا کے کسی کوہ پیما نے کے ٹو کا رخ نہیں کیا۔ پھر 1992 آیا اور کے ٹو پر آنے والوں میں فرانس کی اٹھائیس سالہ چانٹل نامی خاتون کوہ پیما بھی شامل تھی۔

کے ٹو نے خود پر ہونے والی کوہ پیمائی میں شاید چانٹل سے زیادہ شوخ، چنچل، بے باک اور متنازعہ کردار نہ دیکھا ہو۔ یہ خاتون سورج زیادہ چمکنے کی صورت میں کے ٹو کے بیس کیمپ کو جنوبی فرانس کا ساحل سمجھ کر سن باتھ لے سکتی تھی۔ اگر دوستوں کو تنگ کرنے کا موڈ ہوتا تو سٹرپ ٹیز کر کے ان کو مفت تفریح فراہم کر سکتی تھی۔ بیک وقت کئی مردوں کے ساتھ دوستی رکھ سکتی تھی اور ضرورت پڑنے پر ان کے ٹینٹ میں سو سکتی تھی۔ وہ خوبصورت بھی تھی اور جوان بھی۔

اس کا قرب حاصل کرنے کے خواہش مند مردوں کی طویل فہرست میں کئی معروف کوہ پیماؤں کے نام آتے ہیں لیکن سیماب صفت چانٹل اپنی لا ابالی طبیعت کے ہاتھوں مجبور تھی۔ اس نے کئی دل توڑے اور آگے بڑھ گئی۔ ایسے ہی ایک دل جلے ساتھی کوہ پیما نے چانٹل کے بارے میں کہا تھا کہ یہ عورت ہیلن آف ٹرائے ہے، اس نے اپنے پیچھے جنگ کے لیے ہزاروں کشتیاں چلوا دی تھیں، اس نے ہزاروں کوہ پیما وں کو اپنا دیوانہ بنا لیا ہے۔

کے ٹو پر آنے سے پہلے چانٹل کا کوہ پیمائی کا زیادہ تجربہ نہ تھا۔ گو کہ وہ بچپن سے کھیلوں سے منسلک رہی اور فرانس کے الپس پہاڑوں پر سکینگ وغیرہ میں خوب مہارت حاصل کی لیکن قراقرم جیسے مشکل پہاڑوں پر کوہ پیمائی کا اسے کوئی تجربہ نہیں تھا۔ 1986 میں کے ٹو پر پہلی بار پہنچنے والی تین خواتین میں سے دو نیچے اترے ہوئے جاں بحق ہو گئیں تھیں۔ اس سب کے باوجود ا اپنی پہلی آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹی سر کرنے کے لیے کے ٹو کا انتخاب ایک حیران کن فیصلہ تھا۔ لیکن وہ ایسی ہی تھی۔

بلا آخر چار اگست 1992 کو چانٹل کے ٹو سر کرنے والی دنیا کی چوتھی خاتون کوہ پیما بن گئی۔ یہ کارنامہ اس حوالے سے بھی تاریخی تھا کہ بعد میں 1987 سے 2003 تک، قریب پندرہ سال میں چانٹل کے سوا کوئی اور خاتون پیما کے ٹو کو سر کرنے کے بعد زندہ سلامت نیچے نہ اتر سکی۔

کے ٹوکے بعد بھی چانٹل نے دنیا کے چودہ بلند ترین پہاڑوں میں سے پانچ سر کیے۔ بدقسمتی سے 1998 میں نیپال میں ایک مہم کے دوران خراب موسم میں چٹان کا بھاری ٹکرا لگنے کی وجہ سے اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ اپنے ساتھی سمیت، چونتیس سال کی عمر میں ہلاک ہو گئی۔

کے ٹو سر کرنے کے بعد چانٹل نے مختلف موقعوں پر پاکستانی مردوں سے کھل کر نفرت کا اظہار کیا۔ پوچھنے پر ہر بار اس کے پاس ایک کہانی ہوتی۔ سکردو میں قیام کے دوران رات گئے اس کے کمرے کا دروازہ کھلا تو باہر ایک مرد موجود تھا جسے وہ دن میں ہوٹل میں دیکھ چکی تھی۔ چا نٹل اس وقت اپنے شب خوابی کے لباس میں تھی جوصرف ایک ٹی شرٹ پر مشتمل تھا۔ چانٹل کے لباس کو موصوف نے اپنے لیے سندیسہ سمجھا اور زبردستی اندر آنے کی کوشش کی جسے چانٹل نے ناکام بنا دیا۔ دروازہ بند کرنے کے بعد کافی دیر تک وہ آدمی کمرے کے باہر رہا۔

کے ٹو کے بیس کیمپ پر ایک اور صاحب کسی مناسب موقعے کی تلاش میں تھے۔ ایک روز چانٹل چند دوستوں سے ملنے کے لیے قریب واقع براڈ پیک کے بیس کیمپ کے لیے روانہ ہوئی تو موصوف ساتھ ہو لیے۔ کیمپ سے ذرا دور آنے کے بعد گلشیر پر ہی ایک ویرانے میں جناب نے ہاتھ پکڑ کر زبردستی کرنے کی کوشش کی جسے چانٹل نے اپنی ہمت سے ناکام بنا دیا اور موصوف واپس کیمپ کی طرف بھاگ گئے۔ واپسی پر اس نے شکایت کرنا چاہی تو کسی ساتھی کی درخواست پر رک گئی۔ کے ٹو کی مہم سے واپسی پر چانٹل کو اپنے بے باک رویے، مختلف شکایات اور کوہ پیمایئی کے دوران کچھ قوانین کی خلاف ورزی پر متعلقہ اہل کاروں نے طلب کیا۔ پوچھ گچھ کے دوران ایک افسرصاحب اس کے بیس کیمپ پر معاشقوں کے قصوں کا حوالہ دیتے رہے اورآخر میں چانٹل کو شب بسری کی دعوت بھی دے ڈالی۔

چانٹل کے تواتر سے لگائے گیے ان الزامات میں کتنی سچائی ہے اس کی موت کے بائیس سال بعد اس کا جواب ملنا شاید اب ممکن نہیں لیکن اگر ان تما م الزامات میں معمولی سی بھی صداقت ہے تو چانٹل کی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام مردوں سے نفرت جائز تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply