ہم فوج کے نہیں، سیاست میں مداخلت کے مخالف ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس تمام کائنات میں انقلاب کے کل تین دبستان اور معیار موجود ہیں۔ اک کارل مارکس کا ہے اور دو جناب آصف محمود اور جناب عامر ہاشم خاکوانی صاحب کے۔ ان تین کے علاوہ، انقلاب نہ تو کسی نے چاہا ہے، نہ لکھا ہے اور نہ ہی بعد از کسی نے نوچا ہے۔ خیر مارکس تو بعد از انقلاب نوچنے کی کیفیت سے پہلے ہی اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ باقی دو دبستان چونکہ وطن عزیز میں موجود ہیں، تو نوچا ناچی کا سفر جاری رہتا ہے۔

کل جناب محترم عامر ہاشم خاکوانی صاحب کی اک پوسٹ، خادم کی ٹائم لائن پر اک گمراہ شخص، خرم مشتاق، کے توسط سے گھومتی گھامتی آ گئی تو پڑھنے کا لطف آ گیا۔ اس پر نہایت مختصر تبصرہ کرنے سے پہلے، اپنے ڈیڑھ درجن پڑھنے والوں کو پاکستانی سیٹھ میڈیا کے حوالے سے، عوامی ذہن سازی کرنے والوں کے اپنے معیار کے بارے میں سوچنے کی شدید دعوت دیتا ہوں۔ یہ دعوت اک عرصہ سے دیے جا رہا ہوں۔ لوگو، خدارا کہ کچھ تو سوچو کہ تمھاری ذہن سازیاں کرنے والوں کا اپنا ذہنی معیار کیا ہے اور ان کی تجزیاتی ذہانت اور صحافتی دیانت کا سرچشمہ کدھر سے پھوٹتا ہے اور کس جانب رواں رہتا ہے؟

محترم خاکوانی صاحب تحریر کرتے ہیں : ”بعض لوگوں کی پوسٹیں اور کمنٹس دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ پاکستان کے حوالے سے شدید غم و غصہ کا شکار ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ ملک آج ہی ٹوٹ جائے اور وہ اس فتح کا جشن منائیں۔ چونکہ ایسا نہیں ہوا اور ان شا اللہ نہیں ہوگا تو ان غریبوں کا تمام تر غصہ نفرت انگیز زہریلے کمنٹس اور پوسٹیں داغنے میں صرف ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں پر ناراض ہونے کے بجائے ان کے غصے، جھنجھلاہٹ اور چڑچڑے پن سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ یہ لوگ مکالمے کے حقدار بھی نہیں۔

پاکستانی ریاست کو نشانہ بنانے کا ایک آسان طریقہ فوج کو نشانہ بنانا ہے۔ پاکستان کے وجود کو نہ ماننے والے یہی کام کرتے ہیں۔ تعصب اور نفرت میں اب سیاسی نفرت اور تعصب بھی شامل ہوچکا ہے۔ ہماری بعض اپوزیشن جماعتوں کے کچھ پرجوش کارکن اینٹی اسٹیبلشمنٹ بننے کے چکر میں اینٹی آرمی اور بتدریج اینٹی سٹیٹ ہوتے جار ہے ہیں۔ ان پر ترس کھانے اور افسوس کرنے کی ضرورت ہے، ان سے مکالمہ میں کوئی حرج نہیں، اگرچہ کوئی خاص فائدہ نہیں۔ ”

جناب، ان لوگوں میں مجھ جیسے گناہگار اور رند بھی شامل ہیں جو بقول محترم عرفان صدیقی، کسی قسم کی تنخواہ کی کھونٹی سے نہیں بندھے ہوئے۔ ہم ریاست کے پیداواری شہری ہیں اور اپنے سینے اور ذہن کے زور پر کر کے کماتے، کھاتے اور لگاتے ہیں۔ ریاست ہم سے اگر بطور شہری کچھ توقع کرتی ہے تو ہم بھی بطور شہری، ریاست سے کچھ توقع کرتے ہیں۔ ہم شہری ہیں، شہری اگر نہیں بھی، تو ہم عوام ہیں۔ غلام ہم کسی طور نہیں ہیں۔ اور ہم کسی بھی طرز و طرح کے غلام نہیں ہیں۔

ہم پاکستان کے اک آئینی ادارے کا تخلیق کردہ نظریہ ضرورت، خود اس کے تخلیق کاروں کے ادارے سے کہیں زیادہ، اس سیٹھ میڈیا میں لاگو دیکھتے ہیں جس کا کسی قسم کا کوئی تعلق صحافت سے نہیں، پرافٹ سے ہے۔ پرافٹ بلاشبہ سیٹھ میڈیا کا حق ہے، اور ہمیں تسلیم بھی ہے، مگر پرافٹ کی اس چوہا دوڑ میں، ان لوگوں کو چوہا مت سمجھیے جو آپ کے چوہے بنانے کے عمل سے متفق و راضی نہیں۔

ہمیں فوج سے ریت کے اک ذرے کے کروڑویں حصے کا بھی بغض یا دشمنی نہیں۔ ہم بس فوجی سیاست کی اونچائیوں اور گہرائیوں کے سمت پر اپنا قبلہ نہیں بدلنا چاہتے۔ ہمیں مثبت رپورٹنگ سے کوئی غرض نہیں۔ ہمیں اک مثبت مملکت، معاشرت اور معیشت سے بہرحال غرض ہے۔ ہمیں معیشت، سیاست کی ڈومین میں چاہیے۔ ہم معیشت پر سیمینارز کے بعد، پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد کی ترقی کی رفتار کو ”بری نہیں تو اچھی بھی نہیں“ کے پیراڈائم میں نہیں دیکھتے۔ ہم منفی چار پر ”ترقی“ کرتی معیشت کو ہی ”بری معیشت“ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہم ”ووٹ کی طاقت سے دشمن“ کو بیلٹ باکسز سے عوامی مینڈیٹ کو چوری کر کے شکست دیکھنے کا کوئی خواب نہیں دیکھتے۔ ہم سیاسی مینڈیٹ کے بنیاد پر اک ابھرتی ہوئی معاشی خوشحالی کا خواب دیکھتے، اور آگے بڑھتے ہوئے پاکستان کے ذریعے اس کے تمام اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے مسابقت اور آگے بڑھ جانے کا خواب دیکھتے ہیں۔

ہمیں مطیع اللہ جان کے اٹھائے جانے پر اس لیے تکلیف ہوتی ہے کہ ہمارے وطن میں اختلاف گناہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اک سستے سے آنلائن سافٹ وئیر کی بنیاد پر ٹویٹر کا اک ویگن۔ ویل عوام کے سامنے، مطیع اللہ جان جیسے لوگوں کو وطن دشمن ثابت کرتا پھرے۔

ہم جیسے، اس وطن پر جب بھی کوئی برا وقت خدانخواستہ آیا، اپنے ہاتھ میں چمچے، ڈوئیاں اور جو بھی مہیا ہو سکا، اس وطن کے لیے، در آنے والے تمام دشمنوں سے اپنے وطن کی گلیوں اور سڑکوں پر لڑائی کریں گے۔ ہم اسی وطن کے شہری ہیں۔ یہیں پیدا ہوئے ہیں۔ یہیں مریں گے۔

ہمیں فوج سے نہیں، سیاست میں مداخلت سے بیزاری ہے۔ ہمیں ہر اس شخص سے بیزاری ہے جو دانش کے نام پر دکان کھول کر بیٹھا ہو، اور اپنے خیال سے اختلاف کرنے والوں کو وطن و فوج دشمن قرار دیتا پھرے۔

ہم بونے نہیں۔ ہم انسان ہیں۔ ہم بونے بننے سے انکاری تھے۔ ہم بونے بننے سے انکاری ہیں۔

آپ جیسوں نے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا والے دن ”و تعز من تشاء“ کا اک دن لطف اٹھایا تھا۔ اس اک دن کے بعد چار سال اور تین سو چونسٹھ دن ”و تذل من تشاء“ کا بھی لطف اٹھائیں۔

ہم غصے، چڑچڑے پن اور جھنجھلاہٹ کا شکار نہیں۔ ہم آپ کا اور ان سب کا شغل اور میلہ دیکھتے ہیں جنہیں نظریہ ضرورت، گویا، اپنی ذات سے زیادہ عزیز تھا۔

پاکستان ہمارا وطن ہے۔ اس کے لوگ، ہمارے لوگ ہیں۔ اس کی فوج، ہماری فوج ہے۔ اور اس کے لیے ہمیں کسی سے، کسی قسم کا، کوئی بھی سرٹیفیکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ آپ بھلے ان سرٹیفیکیٹس کے چھاپے خانے چلاتے رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply