پرانا پاکستان اور نیا پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چلو دور جانے کی بجائے ماضی قریب کے پرانے پاکستان ھی سے اس نئے پاکستان کا تقابل کرتے ہیں۔

وہ یہی پرانا پاکستان تھا اور یہی چین کے صدر ژی جن پنگ دنیا کے سب سے بڑے اقتصادی منصوبے سی پیک پر مذاکرات کے لئے اسلام آباد آرھے تھے تو عین پارلیمنٹ کے سامنے نتائج سے بے خبر اور شعور سے عاری بے ہنگم غول نے ایک دھما چوکڑی مچا کر معزز مہمان (چینی صدر ) کا راستہ روکا بھی اور کاٹا بھی لیکن اس غول کو کیا معلوم کہ ایک حماقت سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ کیا ھے۔ حیرت اس پر ہے کہ اب ہمیں سمجھایا جا رہا ہے کہ اب کے بار چینی صدر کی آمد کو آلہ دین کا چراغ اور خوش کن معجزوں کی نوید ھی سمجھتے رہیں۔

وہ یہی پرانا پاکستان تھا جب اقتصادی شرح ترقی کے حوالے سے سرپٹ دوڑتے ہوئے ایشیئن ٹریک پر سب سے آگے نکل رہا تھا کیونکہ جی ڈی پی پانچ اعشاریہ آٹھ کو چھونے لگا تھا۔ سٹاک ایکسچینج تریپن ھزار کا ھندسہ عبور کر چکا تھا۔ مہنگائی کی شرح میں ریکارڈ کمی ہوئی تھی۔ ڈالر سو روپے، سونا پچاس ہزار اور پٹرول پینسٹھ روپے کے پنجروں میں بند کر کے عالمی اقتصادی ماہرین سے خراج تحسین لیا جا رہا تھا لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ جی ڈی پی کی اٹھان تو درکنار بلکہ الٹا بربادی کے کسی تاریک گھاٹی کے منفی اشاریے میں اوندھے منہ پڑا ہے۔

سٹاک ایکسچینج کی سکرین پر ہندسے خزاں رسیدہ پتوں کی طرح کب کے جھڑ چکے ہیں اور اور اس کی چمک دمک گلشن ویراں کا روپ دھار چکی ہے۔ مہنگائی کا کیا ذکر کہ بس خود داری سے بھکاری بنتے ایک بد نصیب قوم کا اجتماعی نوحہ ہے۔ ڈالر مسلسل بلندیوں کی سمت میں محو پرواز ہے۔ سونے کی دکانوں پر سنار گاھک کو ترس رہے ہیں لیکن تعداد بھکاریوں کی بڑھتی جا رہی ہے۔ پٹرول پمپس پر گاڑیوں کی قطاریں قصہ پارینہ بنتا جا رہا ہے اور کھبی ہماری بلائیں لیتے عالمی معاشی مارکیٹ میں ہمیں بہانہ باز اجنبی فقیر کی مانند کراہت آمیز رویے کا سامنا ہے یہاں تک کہ سعودی عرب نے توہین آمیز طریقے سے اپنی ایک ارب “خیرات ” بھی واپس مانگی اور ھم مدد کےلئے اپنے ہمسائے کے دروازے پر دستکیں دینے لگے۔

یہی وہ پرانا پاکستان تھا جس کا وزیر خزانہ اسحاق ڈار اپنا لیپ ٹاپ اٹھاتے عالمی اقتصادی اداروں اور ماہرین کے سامنے بیٹھ کر نہ صرف ان پر حاوی ہوتا بلکہ وہ لوگ اسے ایک معاشی جادوگر سمجھنے لگتے۔ اپنے کام پر یہی گرفت تھی جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت قلانچیں بھرتے دوڑنے لگی۔ وزیر پٹرولیئم شاہد خاقان عباسی فائلوں کے پلندے اٹھائے قطر کا رخ کرتا تو دنیا کے سستا ترین ایل این جی کی تنصیب پر برق رفتار کام شروع ہوتا۔ خواجہ سعد رفیق بربادی سے دو چار اکھڑتی ریل پٹڑیوں اور زنگ آلود بوگیوں کو جدید ریلوے سسٹم بنا کر خسارے کی بجائے اربوں روپے کی منافع بخش ادارے میں تبدیل کرتا۔ خواجہ آصف کی وزارت بارہ ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کر کے تباہ کن لوڈ شیڈنگ کو جڑ سے اکھاڑ دیتی۔

لیکن نئے پاکستان میں اسد عمر سے حفیظ شیخ تک معاشی ماہرین کی بجائے بربادی ماہرین دکھائی دیئے۔ پینتالیس روپے پٹرول والے اسد عمر نے پہلی بار قوم کو قحط پٹرول سے روشناس کرایا۔ ریلوے شیخ رشید کے ہتھے چڑھا جس کی پہچان اب صرف حادثات ھی ٹھہرے۔ بجلی کے وزیر کا تو معلوم ھی نہیں البتہ خوفناک لوڈ شیڈنگ نے ہر پاکستانی کے دل میں پرانے پاکستان کی تمنا ضرور جگا دی ھے۔

وہ پرانا پاکستان تھا کہ جب آرمی پبلک سکول کا رلا دینے والا واقعہ ہوا تو وزیراعظم اسی دن پشاور پہنچا اور تمام سیاسی اور فوجی قیادت کو ساتھ بٹھایا اور مظبوط فیصلے کر کے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا۔ اب فوج دہشت گردوں کے تعاقب میں تھی اور وزیراعظم خود محاذ پر آپنے سپاہیوں کے پیٹھ تھپتھپاتے دکھائی دیتے۔ نتائج یوں سامنے آئے کہ خودکش اور دہشت گرد کے الفاظ تک لوگ بھول بیٹھے لیکن نئے پاکستان میں وزیراعظم کی کارکردگی ملاحظہ ہو کہ نہتے اور مظلوم کشمیریوں کی مدد کا نسخہ کیمیا کاغذی نقشوں کی تبدیلی یا ایک منٹ کی خاموشی میں ڈھونڈ رہا ہے۔

وہ پرانا پاکستان تھا جب نریندرا مودی خود چل کر پاکستان آیا اور وزیراعظم کے گھر کا رخ کیا اور یہ نیا پاکستان ہے کہ وہی نریندرا مودی کسی فون کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ ان “سازگار حالات ” میں مظلوم کشمیریوں کو روندنا اولین ترجیح ہونی چاہئے۔

وہ پرانا پاکستان تھا جب پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر کسی کو خاطر میں لائے بغیر خود مختاری کے جذبے کے ساتھ یمن کی جنگ سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا گیا اور یہ نیا پاکستان ہے کہ برادر اسلامی ممالک ملائیشیا اور ترکی کے بلائے گئے کانفرنس میں شمولیت سعودی عرب کی رضامندی سے مشروط ٹھہری اور پھر ایک اشارہ ابرو نے جہاز کے ساتھ ساتھ ھماری عزت اور خود مختاری کے سفر کا رخ بھی موڑا۔

یہ ہے اس عہد ستم کا وہ اشکبار نوحہ جب بے شعور لونڈوں اور فیشن ایبل خواتین کی دھما چوکڑی سے نئے پاکستان کی بنیاد پڑی اور خلق خدا کی چیخیں نکل گئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •