فارس مغل کا افسانوی مجموعہ: آخری لفظ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سلیمان رینج کے بلند و بالا پہاڑوں سوئی ڈیرہ بگٹی کے ٹیلوں اور کچھی کے بنجر میدانوں تک بکریاں چراتے بلوچ اور اونٹوں کے کاروان ہانکتے جت ساراوان بتاتے ہیں کہ انھیں بلوچستان کی مشہور حقیقی رومانی داستان کے ہیرو مست توکلی کی شاعری کی باز گشت آج بھی ہر اور سنائی دیتی ہے۔ جس میں وہ اپنی محبوبہ کے حسن و جمال کو ایسی ایسی چیزوں سے تشبیہ دیتا ہے جو اس علاقے کے کسی بندے کے لیے دیکھ پایا ناممکن تھا اور ہے۔ ۔

مذہبی رنگ اور عشق حقیقی انسان کو ایسا بام عروج عطا کرتا ہے کہ اس کی سوچ کی پرواز وقت اور علاقوں کی محتاج نہیں رہتی۔ پھر ”یاساریۃ الجبل“ کی گونج سنائی دے یا مست توکلی کے گیتوں کی بازگشت، یہ ناممکنات میں سے نہیں ہو سکتی۔

انسان کو مالک نے ایسا کمال عطا کیا ہے کہ وہ ایک کمرے تک محدود ہونے کے باوجود اپنی تخیلاتی آنکھ سے زندگی کا ہر رنگ نہ صرف دیکھ سکتا ہے بلکہ اس کا لمس تک محسوس کر سکتا ہے۔ ادیب، پیر، بزرگ، ولی اللہ اور ابدال، تخلیل کی اسی پرواز سے ہی ان دیکھے علاقوں موسموں اور حالات بارے ایسا بیان کرتے ہیں کہ سننے والوں پر وجد طاری ہو جاتا ہے۔

حسن بن سبا سے موجودہ علما تک جنت کا ایسا نقشہ بیان کیا جاتا ہے کہ انسان خود کو انھیں وادیوں میں موجود پاتا اور روحوں کی سانسیں اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اپنے رخساروں پر محسوس کرتا ہے۔

میرے محترم دوست فارس مغل بھی ادبی پیر و مرشد ہیں وہ زندگی میں ویسے سرگرم نہیں جیسے دیگر ادبا ہیں مگر ان کے کمرے میں تھر پارکر سے چولستان تک کی کھڑکیاں ہمہ وقت کھلی رہتی ہیں۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے سامنے موجود دیوار پر دنیا کے حالات، رنگ، واقعیات اور عشق کی کہانیوں پر مبنی فلمیں کسی پروجیکٹر پر چلتی ہیں۔ وہ ان سے اپنے کردار اور افسانوں کی لوکیل منتخب کرتا اور انھیں اپنے رنگ میں رنگ کر حوالہ قرطاس کرتا ہے۔

وہ دوسری جنگ عظیم کے بھاگے قیدیوں کے ساتھ بلغاریہ کی سرحد عبور کرنے کو کئی روز برف پوش پہاڑوں میں سردی اور خوف سے لڑتا ہے تو کبھی تھر کے غزال کے ساتھ صحراؤں میں چوکڑکیاں بھرتا ہے۔

مجھ جیسے ڈرپوک انسان کے دل و دماغ پر فارس مغل کی بے باک تحاریر کا ایسا اثر ہوتا ہے کہ زندگی کے ان گمنام گوشوں میں زندگی کی حرارت محسوس کرتا ہوں جہاں خود جانے سے ہمیشہ خوفزدہ رہا ہوں۔

فارس مغل کا اولین افسانوی مجموعہ ”آخری لفظ“ خدا کرے کہ اس کی افسانوی دنیا کا حرف اول ثابت ہو، گزشتہ کئی دنوں سے میرے بیڈ روم کو کسی نئی نویلی دلہن سے جسم سے اٹھتی خوشبو کی طرح مہکائے ہوئے ہے۔

اس میں سے اکثر افسانے فارس مغل نے کتاب پبلش ہونے سے قبل مجھے پڑھنے کو دیے تھے، چند ایک عالمی افسانہ و دیگر فورمز پر پڑھ رکھے ہیں۔ ان میں فارس مغل کی سوچ کسی بلند پرواز عقاب کی مانند دنیا بھر پر اپنی تیز آنکھیں جمائیں ہوئے ہے۔ وہ مرد و زن کے جذباتی لمحات سے غلمان بازی تک کے مکروہ فعل کو ہمارے سامنے لانے سے نہیں ہچکچاتا۔

وہ افغانی بچے کے ساتھ ظالم سماج کی بدکاری کا تذکرہ کرتا ہے وہیں دیر سے شادی کرنے والی ادھیڑ عمر جڑواں بہنوں کے جذبات کو کمال مہارت سے قرطاس پر بکھیرتا ہے۔

فارس مغل زندگی میں بہت معمولی سمجھے جاننے والے واقعات پر اپنی سوچ اور ادبی فکر سے ایسی لازاول تصویر پینٹ کرتا ہے کہ قاری حیرت کے سمندر میں غوطہ زن رہتا ہے کہ اس سے ساری عمر اس تصویر کا یہ رنگ کیوں کر نہ دیکھا۔

محلے میں پانی نہ آنے جیسے معمولی مسائل سے لے کر کسی اکیلے بوڑھے کا ہوٹل میں بیٹھنے اور پھر لفظوں کے کھیل سے ”م و ت“ لکھوانا کسی عام عقل و فہم کے انسان کے بس کا روگ نہیں۔

ایک جست بھر کر اس کی سوچ جیسلمیر تو کبھی الزاویہ جزیرے تک پہنچ جاتی ہے۔ جہاں اس کے کردار اپنی جنسی خواہشات کی رو میں ہر حد پھلانگتے نظر آتے ہیں وہیں دیگر کردار مدنیہ و مکہ کی پر نور فضاؤں میں بقیہ سانسیں گزارنا ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔

معاشرے میں جنسی خواہشات کے تابع غلاموں کے نقاب الٹنے کے ساتھ ساتھ فارس کے کردار جرم کی کمائی سے ملتا پانی تک پینے کو راضی نہیں۔ یہی ان افسانوں کی خوبی ہے کہ یہ ایک رنگ میں نہیں بلکہ قوس و قزاح کی طرح ست رنگی افسانے ہیں۔ یہ مانند برق آسمان پر لپکتے ہیں اور دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں جس انسان کے دل کو چاہتے ہیں بھسم کر دیتے ہیں۔

فارس مغل کے ناولز میں بھی انھوں نے معذور لوگوں کے مسائل خواہشات اور محرومیوں کو درشان کیا ہے۔ ”آخری لفظ“ میں بھی ایک نوجوان اندھے لڑکے یا جنس مخالف کے لمس کو ترسے ایک اپاہچ نوجوان کی خواہشات کو الفاظ کی کلیاں میں پروں کر ایسے کجرے بنائے ہیں جو تا عمر مہکتے رہیں گے۔

فارس مغل کا قلم سفاکی سے معاشرے میں موجود ناسوروں کے سر قلم کرتا ہے کہ بے ساختہ داد دینا پڑتی ہے۔ وہ استاد ہو کر معلم کے روپ میں ان گندے لوگوں کے آزار بند پر سرعام ہاتھ ڈال کر ان کی عزت کا جنازہ نکالتا ہے جو خوبصورت کم عمر طلبا سے لذت کشید کرتے ہیں۔

” آخری لفظ“ پر طلبا مکالمے لکھیں گے اس کے ہر افسانے ہرکردار پر برسوں بات ہو گی۔ مجھ جیسے انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ لکھتے ہوئے ان کا حق ادا کر پاؤں۔ لیکن نہ جانے کیوں دل میں ایک خواہش ہے کہ افسانہ ”للی“ پر کسی ہولی وڈ یا انڈین فلم ڈائریکٹر کی نظر پڑ جائے پھر دنیا کو دوسری جنگ عظیم کے پر منظر میں بنی ایک لازوال فلم دیکھنے کو مل سکے گی۔

صریر پبلشر اسلام آباد نے اس عمدہ کتاب کو شائع کرنے کا اعزاز پایا ہے۔ ٹائیٹل بہت عمدہ اور قیمت نہایت مناسب ہے۔ آپ دوستوں سے میرے آخری الفاظ یہی ہیں کہ اس بہترین کتاب کو ضرور اپنے گھر اور اپنی لائبریری کی زینت بنائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply