خدا کے لیے غازی پیدا کرنے بند کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پاکستان میں ایک مختصر وقفے کے بعد ایک نیا غازی پیدا ہوجاتا ہے۔ اگر یوں ہی غازی پیدا ہوتے رہے تو پاکستان میں بس غازی ہی غازی ہوں گے، اور مقتول ناپید۔

تازہ ترین غازی ایک پندرہ سال بچہ ہے جس کی ابھی مسیں بھی پوری طرح سے نہیں بھیگیں، لیکن اس کے اندر غازی بننے کا جنون اس قدر پیدا کیا جا چکا تھا کہ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بھری عدالت میں جج کے سامنے یہ ”کار خیر“ انجام دے دیا اور تاریخ میں امر ہوگیا، سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ جنون، غصہ اور دیوانہ پن اس بچے میں کس نے پیدا کیا، اس مذہبی جنونی معاشرے نے؟ مولوی نے؟ یا اس عمل کو عظمت کی انتہا قرار دینے والوں نے؟ اب رہتی دنیا تک اس مملکت خداداد میں اس افسوسناک واقعے پر افسانے لکھے جائیں گے اور اس کی مدح سرائی کی جائے گی۔

عمر کے نازک حصے سے گزرنے والے بچے کو پتا تھا کہ جو غازی بنتا ہے اس کو یہ قوم سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے، اس کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں، شاعر اس کی مدح میں شعر کہتے ہیں، ادیب اس کی عظمت پر کہانیاں لکھتے ہیں۔ مولوی اس کو جنت کے ٹکٹ تھماتے ہیں۔ اگر غلطی سے ”شہید“ کر دیا جائے یعنی سولی چڑھ جائے تو پھر اس کا مزار بنتا ہے، جہاں پر خلق خدا منتیں اور مرادیں مانگتی ہے، چادریں چڑھاتی ہے اور صاحب قبر کے ساتھ منسوب گھڑی گئی کرامتوں کا ذکر انتہائی عقیدت سے کر تی ہے۔ اس کا نسب، اس کا نام، اس کا خاندان رہتی دنیا تک امر ہو جاتا ہے۔ اس عمر میں ہیرو بننے کا جنون کس بچے کو نہیں ہوتا!

سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ توہین بر صغیر میں ہی کیوں ہوتی ہے، کبھی نظر سے نہیں گزرا کہ کبھی کسی ”مرتد“ نے سعودی عرب، بحرین، قطر وغیرہ میں توہین کی ہو نہ ہی کبھی ملائیشیا، انڈونیشیا میں کوئی غازی پیدا ہوا، یہ غازی صرف اس خطے میں ہی کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ یہاں پر ہی کیوں تر کھانوں کا منڈا بازی لے جاتا ہے دوسرے ممالک میں جہاں پر بھی کافی مسلمان بستے ہیں وہاں کوئی تر کھا نوں کا منڈا کیوں بازی نہیں لے جاتا (مبینہ طور پر یہ بیان بھی علامہ اقبال سے غلط طور پر منسوب کیا جاتا ہے) وہاں کوئی ممتاز قادری کیوں نہیں پیدا ہوتا، پھر یہی سمجھ آتا ہے کہ وہ شاید ہم جتنے اچھے، سچے اور پکے مسلمان نہیں ہوں گے۔ شاید سارے ”پکے“ مسلمان اسی خطے میں پائے جاتے ہیں۔

غور کرنے کی بات تو یہ بھی ہے کہ یہ بڑے بڑے مفتی، یہ پر نور لمبی لمبی داڑھیوں والے، بڑے بڑے عمامے باندھ کر درست شین قاف کے ساتھ غازیوں کے ترانے گانے والے، قرآن کی آئیتوں کو سیاق و سباق سے کاٹ کر قتل کو درست ثابت کرنے والے، متفق علیہ احادیث کو چھوڑ کر ضعیف روایتیں بیان کر کے تشدد کو ہوا دینے والے، منبر پر بیٹھ کر عقیدت کے مارے لوگوں کو فساد کے لئے بڑھکا نے والے، کافر کافر کہنے والے، خود کیوں غازی نہیں بنتے، یہ خود کیوں اس سعادت سے محروم رہتے ہیں۔ یہ خود کیوں یہ مقام عظمت حاصل نہیں کرتے؟ اگر غلطی سے بھی ان کا نام آ جائے تو بیان حلفی دے کر ایک طرف کیوں ہو جاتے ہیں کہ میرا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں۔

اگر ہم نے اسے معمول بنا لیا کہ خود ہی فرد جرم عائد کی، سزا سنائی اور خود ہی سزا نافذ کر دی یہ کہہ کر کہ ہمارا عدالتی نظام سست ہے یا غیر موثر ہے۔ اگر ہم نے اس خطرناک رجحان کی حوصلہ شکنی نہ کی، اگر ہم اسی طرح ایسے واقعات پر تعریف و توصیف اور داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے رہے تو پھرکہیں ایسا نہ ہو کہ ہر گھر سے غازی نکلیں اور خدا نہ کرے میرے منہ میں خاک اس ملک میں ہر طرف فساد فی الارض برپا کریں۔ جس کا دل چاہے کسی پر بھی توہین کا الزام لگا کر غازی بن جائے۔ مت بھولیں کہ پاکستان میں تقریباً تمام مسالک کے ماننے والے دوسرے مسالک کے پیرو کاروں کو کافر، مشرک یا گستاخ سمجھتے ہیں۔ اقلیتوں کے سر پر تو مستقل اس الزام کی تلوار لٹک ہی رہی ہوتی ہے۔

اب وقت ہے کہ ہمارے منبر سے یہ بتایا جائے کہ سزا دینے کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہے، اگر یہ اختیار کسی فرد، ہجوم، کسی گروہ، یا کسی جتھے کو دے دیا جائے تو پھر وہاں انارکی کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا، پھر وہاں چوک اور چوراہوں میں سزائیں سنائی جاتی ہیں۔ مذہب کے نام پر ذاتی انتقام لئے جاتے ہیں۔

صاحب منبر حضرات سے گزارش ہے کہ اس رجحان کی کھلے الفاظ میں سختی سے مذمت کریں۔ نہیں تو یہ آگ ان کے اور ان کے پیاروں کے گھر تک بھی پہنچے گی، کوئی بھی نہیں بچے گا۔ ویسے بھی ہم ضعیف العقیدہ لوگ جنت کے شارٹ کٹ ڈھونڈنے میں بہت ماہر ہیں، پہلے بھی ان جنت کے شارٹ کٹس کے متلاشیوں نے ہم سے ہزاروں لاشے اٹھوائے ہیں، اب اور لاشیں اٹھانے کی ہمت ہے اور نہ استطاعت۔ کچھ خدا کا خوف کریں اور اعانت قتل سے باز آ جائیں۔ اس پندرہ سالہ بچے کی زندگی برباد کرنے پر قیامت کے دن خدا کو کیا منہ دکھائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •