عموماً کھلاڑی زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔ کیونکہ ایک تو ان کا رجحان بھی زیادہ کھیل کی طرف ہوتا ہے۔ دوسرا ان کو پڑھائی کا وقت بھی کم ہی ملتا ہے۔ تاہم جب وہ ستارے بن جاتے ہیں۔ اسفار کرتے ہیں، دنیا دیکھتے ہیں، دوسرے معاشروں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ مختلف ثقافتوں کے لوگوں سے میل ملاقات کرتے ہیں، تو بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں۔ ان کے علم، مشاہدے اور تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور یہ سب چیزیں مل کر ان کا آئی کیو بڑھاتی ہیں اور ان کے دماغ کو جلا بخشتی ہیں۔
یا یوں کہنا چاہیے کہ ایسا ہونا چاہیے۔
تاہم پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ایسے ہیں جن کا شہرت، دولت اور پیسہ، بھی کچھ نہیں بگاڑ پاتا۔ یہ جیسے خام آئے ہوتے ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ویسے ہی رہتے ہیں۔ رتی برابر بھی ان میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ بس زیادہ سے زیادہ حلیہ بدل جاتا ہے۔
ان کا آئی کیو لیول وہی رہتا ہے جو ٹیم میں آنے سے پہلے ہوتا ہے۔ اتنے سال ٹیم میں گزارنے، نگر نگر گھومنے، مختلف تہذیب و تمدن کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی ان میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ پہلے دن بھی جو نسا جو نسا کرتے ہیں جبکہ آخری دن بھی جو نسا جو نسا ہی کر رہے ہوتے ہیں۔
Read more