مذہبی معاشرہ اور عورت مارچ

کسی بھی معاشرے کے مہذب پن کا اندازہ لگانا ہو یا جاننا ہو کہ یہ معاشرہ کتنا تہذیب یافتہ ہے تو صرف یہ دیکھ لیں کہ اس معاشرے میں کمزوروں اور جانوروں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی فرد کے بارے میں جاننا ہو کہ یہ کتنا مہذب یا تعلیم یافتہ ہے تو صرف یہ مشاہدہ کر لیں کہ اس کا اپنے بیوی بچوں اور خصوصاً بیوی کے ساتھ رویہ کیسا ہے۔ کیا وہ

Read more

جزیرہ نما عرب میں مندر اور غامدی صاحب

غامدی گروپ کو آج کل جزیرہ نما عرب میں مندر کی تعمیر کی افتاد پڑی ہوئی ہے۔ داماد صاحب ویڈیو ریکارڈ کروا رہے ہیں کہ جزیرہ نما عرب میں مشرکوں کی عبادت گاہ نہیں بن سکتی۔ یہاں مشرک نہیں رہ سکتے، علاوہ ازیں تحقیق فرما رہے ہیں کہ جزیرہ نما عرب میں کون کون سے ممالک شامل ہیں۔ اس کی حدود کیا ہیں۔ یہاں مشرک رہ سکتے یا نہیں؟ اس پر اتنا جذباتی ہوتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں

Read more

عبدالرزاق کی یاوہ گوئی، شرکا کی بدنما ہنسی اور تحسین بھری تالیاں

عموماً ‎ کھلاڑی زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔ کیونکہ ایک تو ان کا رجحان بھی زیادہ کھیل کی طرف ہوتا ہے۔ دوسرا ان کو پڑھائی کا وقت بھی کم ہی ملتا ہے۔ تاہم جب وہ ستارے بن جاتے ہیں۔ اسفار کرتے ہیں، دنیا دیکھتے ہیں، دوسرے معاشروں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ مختلف ثقافتوں کے لوگوں سے میل ملاقات کرتے ہیں، تو بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں۔ ان کے علم، مشاہدے اور تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور یہ سب چیزیں مل کر ان کا آئی کیو بڑھاتی ہیں اور ان کے دماغ کو جلا بخشتی ہیں۔

یا یوں کہنا چاہیے کہ ایسا ہونا چاہیے۔

تاہم پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ایسے ہیں جن کا شہرت، دولت اور پیسہ، بھی کچھ نہیں بگاڑ پاتا۔ یہ جیسے خام آئے ہوتے ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ویسے ہی رہتے ہیں۔ رتی برابر بھی ان میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ بس زیادہ سے زیادہ حلیہ بدل جاتا ہے۔

‎ ان کا آئی کیو لیول وہی رہتا ہے جو ٹیم میں آنے سے پہلے ہوتا ہے۔ اتنے سال ٹیم میں گزارنے، نگر نگر گھومنے، مختلف تہذیب و تمدن کا مشاہدہ کرنے کے بعد بھی ان میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ پہلے دن بھی جو نسا جو نسا کرتے ہیں جبکہ آخری دن بھی جو نسا جو نسا ہی کر رہے ہوتے ہیں۔

Read more

کیا تمام والدین حسن سلوک کے حق دار ہیں

اسلام میں بلاشبہ والدین کا رتبہ بہت بلند ہے۔ سورہ بقرہ میں ارشاد ہے والدین کے ساتھ احسان کرو۔ (83) ۔ احسان کا لفظ حسن سے نکلا ہے جس کے معنی عمدہ و خوبصورت ہونا کے ہیں۔ گویا احسان ایسا عمل ہے، جس میں حسن و جمال کی ایسی شان موجود ہو کہ ظاہر و باطن میں حسن ہی حسن ہو اور اس میں کسی قسم کی کراہت اور ناپسندیدگی کا امکان تک نہ ہو۔ پس عمل کی اسی نہایت

Read more

ویل ڈن ٹیم افغانستان

ہر قوم کا اپنا سچ ہوتا ہے۔ سرحد کے اس پار کا سچ سرحد کے اس پار جھوٹ ہے۔ جب کہ اس پار کا سچ اس پار کذب ہے۔ بنگالیوں کا اپنا سچ ہے افغانیوں کا اپنا، اسی طرح پاکستانیوں اور بھارتیوں کا بھی اپنا اپنا سچ ہے۔ سچ شاید ایک موضوعی چیز ہے۔ کل کے میچ کے بعد ایک سوال پھر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ افغانیوں کو ہم نے ہر مشکل وقت میں پناہ دی۔ ہمارے مسلمان

Read more

عمران خان کی زبردست واپسی منصوبے کا حصہ ہے

عمران خان پچیس سالہ پراجیکٹ ہے جو کہ کہتے ہیں جنرل حمید گل نے شروع کیا جس کی مارکیٹنگ ایسے مربوط طریقے سے کی گئی کہ عوام تو کجا بڑے بڑے دانشور دھوکہ کھا گئے۔ تو کیا یہ ساری مارکیٹنگ، اتنی محنت، اتنا لمبا سیاپا صرف پونے چار سالہ حکومت کے لئے تھا؟ بالکل بھی نہیں! حقیقت کیا ہے، آئیے جانتے ہیں۔ اب یہ حقیقت تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مداخلت کرتی ہے۔ بائیس سالہ پراجیکٹ

Read more

وعدوں سے دھمکیوں تک

بہت ہی مربوط طریقے اور ذہانت سے اس قوم کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے عمران خان کی مارکیٹنگ کی گئی تھی کہ وہ بہت ایماندار ہے۔ کبھی موریوں والی قمیص دکھائی گئی، کبھی پسینے میں تر بتر، کبھی ٹوٹی جوتی، کبھی چائے کے ساتھ سوکھی روٹی کھاتے ہوئے اور کبھی ٹوٹی پھوٹی چارپائی پر عمران خان کو استراحت فرماتے دکھایا گیا۔ اتنی شاندار مارکیٹنگ تھی کہ عام لوگ تو کجا، بڑے بڑے دانشور اور اس ملک کی انٹیلیجنشیا بھی

Read more

عورت مارچ کیوں ضروری ہے

پاکستان جیسے ممالک میں عورت مارچ بہت ہی ضروری ہے۔ کیونکہ جہاں مذہبی اور معاشرتی تعبیرات میں عورت کو باور کروایا جاتا ہے کہ تم ”مرد کے لئے پیدا کی گئی ہو“ ۔ مرد تم سے درجے میں اور عقل میں اعلی اور ارفع ہے۔ جہاں اب بھی نام نہاد مذہبی دانشور اس بات پر بحث کرتے ہوں کہ شوہر کی اجازت کے بغیر عورت گھر سے باہر قدم رکھ سکتی ہے یا نہیں، اسے پوری گواہی کا حق دیا جا

Read more

باپ بڑا نہ بھیا سب سے بڑا روپیہ

ذات پات کا نظام ہندوستان اور پاکستان میں صدیوں سے قائم ہے۔ ہندوؤں میں تو یہ اپنی بہت ہی گہری اور مضبوط جڑیں رکھتا ہے۔ اور ان کے مذہب کا حصہ ہے اور آج بھی پوری سختی اور مضبوطی سے قائم ہے۔ اسلام ذات پات کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ اس کی نظر میں سب برابر ہیں۔ سختی سے ذات پات، رنگ و نسل پر کسی بھی رتبے اور فضیلت کی قرآن و حدیث میں ممانعت کی گئی ہے۔ اس

Read more

چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

عبداللہ حسین نے اداس نسلیں لکھا، ان نسلوں کی کہانی جن کو کبھی جبری طور پر بھرتی کر کے محاذ جنگ پر بھیجا گیا اور وہ اجنبی زمینوں پر اجنبی دشمن سے نا معلوم مقصد کے لئے لڑتے ہوئے مارے گئے اور کبھی ہجرت کے دکھ سہتے نئے وطن کی آس میں حسین دنوں کے خواب آنکھوں میں سجائے تہہ تیغ کر دیے گئے۔ نیا وطن تو بن گیا لیکن وطن بنتے ہی اس پر ایک قوت نے قبضہ جما

Read more

ریاست اور مولوی کا گٹھ جوڑ

ٹوکیو یونیورسٹی کی اینتھروپالوجی کی پروفیسر جاپانی ذہن کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جاپانی انسان کی ذہنی ساخت کو مختصر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ اس بات کی مسلسل خواہش کہ وہ اوسط سے اوپر اٹھ سکے۔ The constant desire to rise a little higher than the average. ریاست نے پوری کوشش کی کہ جاپانی ذہن کو اوسط سے اوپر اٹھایا جائے اور یہ اسی کوشش کا نتیجہ ہے کہ جنگ سے

Read more

پاکستان میں تین بہترین شعبے

انسان کی فطرت ہے کہ وہ نمایاں ہونا چاہتا ہے۔ عزت دولت شہرت کا متمنی ہوتا ہے۔ کچھ لوگ یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لئے گھٹیا ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں جب کہ کچھ درست رستے کا انتخاب کرتے ہوئے معاشرے میں شہرت و عزت یا نمایاں مقام حاصل کرتے ہیں۔ دوسرے ممالک میں اپنی محنت اور لگن سے آپ یہ مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ امریکہ کو تو مواقعوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ خیر پاکستان میں یہ سب اوصاف

Read more

بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے

کیونکہ سچ یہ ہے کہ ان کو نہیں پتہ ہوتا کہ پاکستان میں کیا کیا مشکلات ہیں۔ وہ ادراک ہی نہیں کر سکتے۔ عموماً ان کی معلومات انتہائی سطحی ہوتی ہیں وہ بھی انہوں نے اپنی پسند کے چینل یا پسند کے اخبار سے اکٹھی کی ہوتی ہیں۔ ان کا تجزیہ خام ہوتا ہے کیونکہ مخالف دلائل نہ انہوں نے کبھی سننے کی زحمت گوارا کی ہوتی ہے اور نہ مستقبل میں ایسا ان کا کوئی ارادہ ہوتا ہے۔ وہ ایک جزیرے کے باسی ہوتے ہیں، اپنی دنیا میں مست اور مگن۔ ان کے لئے پاکستان کے حالات حاضرہ اور سیاست پر بات چیت، بحث مباحثہ بس ایک ذہنی عیاشی اور وقت گزاری کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔

وہ اس چیز کا کیسے ادراک کر سکتے ہیں کہ جائز کام کروانے کے لئے بھی پہلے کسی محکمے میں سفارش ڈھونڈنی پڑتی ہے۔ ان کو زمینی حقائق کا بالکل بھی اندازہ نہیں ہوتا۔ اور وہ یہ بھول چکے ہوتے ہیں کہ وہ پاکستان سے کیوں بھاگے تھے۔

Read more

خدا اس ”اسلامی“ جمہوریہ پاکستان میں کسی کو بیٹی نہ دے

انہوں نے میرے کپڑے پھاڑ دیے۔ مجھے بالکل ننگا کر دیا۔ مجھے ڈھائی گھنٹے تک فٹ بال سمجھ کر اچھالتے رہے، میرے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں جس پر نشانات نہ ہوں۔ مجھ کو جو لوگ چھڑوا رہے تھے وہ بھی مجھے نوچ کھسوٹ رہے تھے۔ ڈھائی گھنٹے بعد جب میں بالکل مرنے والی ہو گئی اور گر گئی تو پھر بھی لوگ کھینچا تانی میں مشغول تھے۔ ایک بچے نے دیوار سے میری حالت دیکھی تو اس نے دور سے پانی میرے حلق میں ڈالنے کی کوشش کی اور چلایا چھوڑ دو لڑکی مرنے والی ہے۔ مجھے سانس نہیں آ رہی تھی میری سانس بند ہو رہی تھی۔

Read more

حجاب، پردہ یا عرب کلچر

حجاب جو کہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی پردے کے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا ایک گز کا کپڑا ہوتا ہے جو کہ عرب عورتیں اپنے سر پر لپیٹتی ہیں۔ اسی طرح مرد بھی اپنے سر کو کپڑے سے ڈھانپتے ہیں۔ سر کو کپڑے سے ڈھانپنا معاشی ترقی سے پہلے موسم کی شدت کا مقابلہ کرنے کے لئے ضرورت اور اب عرب ثقافت کا حصہ ہے۔ عورتوں نے جینز کی پتلون اور قمیص پہنی ہوتی ہے اور

Read more

پچاس لاکھ نوکریوں کا وعدہ اور دم توڑتے نوجوان

وطن سے محبت انسان کی گھٹی میں شامل ہے جس جگہ کوئی جنم لیتا ہے جہاں اس کا بچپن اور لڑکپن گزرتا ہے وہ جگہ انسان کبھی نہیں بھولتا، انسان کہیں بھی چلا جائے لیکن اپنی جنم بھومی کو نہیں بھول سکتا وہ جگہ وہ مٹی کہیں اس کے اندر بستی ہے۔ شاید قدرت نے اس کو اسی مٹی سے خلق کیا ہوتا ہے۔ اس لئے اس مٹی سے اس کا اٹوٹ رشتہ ہوتا ہے، وہ اپنے وطن کو کبھی

Read more

وزیراعظم، فحاشی اور “امت“ کی سوچ اور زبان

نیک اور پارساؤں کے اخبار نے عورت مارچ کی عورتوں کے لئے جو الفاظ استعمال کیے ہیں ، وہ اچھے سچے اور پکے مسلمانوں کی سوچ کی عین عکاسی کرتے ہیں۔ کسی بھی ٹخنوں سے اوپر شلوار کے حامل مسلمان سے، نورانی چہرے والے اور گز بھر لمبی داڑھی والے حوروں کے متلاشی آدمی سے بات کر کے دیکھ لیں وہ یہی الفاظ استعمال کرتا نظر آئے گا، بلکہ اس لفظ کے آگے پیچھے غلیظ قسم کی گالیوں کا اضافہ بھی کرے گا۔

Read more

جواب آں غزل؛ دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ

آج صوفیہ کاشف صاحبہ کا طویل دو قسطوں پر مشتمل مضمون پڑھا، پہلی قسط پڑھنے کے بعد کچھ اشکالات تھے، سوچا دوسری قسط پڑھ لیں شاید اشکالات دور ہو جائیں لیکن دوسرے قسط پڑھ کر اعتراضات اور شدید ہو گئے۔

ایک محترمہ کے کمنٹ کے جواب میں کہنے لگیں کہ انہیں تو حکم اذاں ہے اس لئے چاہے کسی کو ناگوار گزرے وہ تو اپنا فرض بہرحال ادا کریں گی۔ سوچا ”اذان“ پوری ہو جائے تو شاید کچھ پلے پڑے کہ کہنا کیا چاہتی ہیں۔ لیکن پوری اذان ہی تضادات کا مجموعہ ثابت ہوئی۔

Read more

آٹھ مارچ: بے حیائی کا عالمی دن

جوں جوں آٹھ مارچ کا دن قریب آتا جا رہا ہے، انتہائی اسلامی لوگ اور سچے پکے مسلمانوں نے اپنی چھریاں اور چاقو تیز کرنے شروع کر دیے ہیں، اور اپنی پوری قوت سے ان ”کافر“ اور ”بے حیا“ اور مغربی تہذیب کی پروردہ اور دلدادہ عورتوں کو مزہ چکھانے کے لئے صفیں سیدھی کر لی ہیں۔ مولویوں نے ان ملحد اور جہنمی عورتوں کو دوزخ کی وعیدیں سنانے کے لئے اور دشنام طرازی کے لئے منبر سے ایک سال

Read more

ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور پنجاب کا مستقبل

پاکستان یاترا میں گجرات سے کوٹ مومن (سرگودھا) جانا ہوا۔ کئی سال پہلے اس سڑک پر سفر کیا تھا تو سڑک کے دائیں اور بائیں قطار در قطار آپس میں گلے ملتے ہوئے درخت ہی درخت تھے۔ دونوں اطراف کے درخت اوپر سے آپس میں مل گئے تھے اور یوں لگتا تھا کہ جیسے ایک سبز سرنگ میں سفر کر رہے ہوں۔ دائیں بائیں ہرے بھرے کھیت جن میں ہل جوتتے کسان، اور ان کی مدد کرتی مختلف رنگوں میں

Read more

اگلے ریاستی قتل تک خُداحافِظ

پاکستان میں ہر کچھ عرصے بعد ایسا کوئی نہ کوئی سانحہ ہوتا ہے جس میں ریاست اپنے ہی بچوں کو مار دیتی ہے۔ اس میں سے کچھ سانحات میڈیا کی زینت بنتے ہیں اور بہت سے ایسے واقعات ہیں جو کہ میڈیا پر آتے ہی نہیں اور کچھ بے گناہ تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں، ان کی لاش کسی ویران، سنسان، سڑک پر یا کسی کھائی میں پڑی ملتی ہے۔ جو واقعات میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ان پر چند دن سوشل اور الیکڑانک میڈیا پر شور مچتا ہے، کچھ اہلکار معطل ہوتے ہیں ان کے خلاف مقدمے درج ہوتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد جب معاملہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے میڈیا اور عوام کسی اور نئے سانحے کے پیچھے لگ جاتے ہیں تو یہ مجرم عدم ثبوت، کمزور شہادتوں اور جان بوجھ کر کمزور بنائے گئے کیس کی وجہ سے آرام سے چھوٹ کر کسی اور ماں کا لخت جگر چھیننے کے لئے اپنی ڈیوٹی پر واپس آ جاتے ہیں۔

Read more

زیادہ بچے: توکل یا حماقت؟

شعیب منصور کی ایک مشہور فلم کا معروف ڈائیلاگ ہے، ”جب پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو“ ، اپنے انتہائی پیارے وطن میں دو یا دو سے کم بچے پیدا کرنے کا رواج کیا سوال ہی نہیں، اگر غلطی سے کسی کے دو بچے نکل بھی آئیں تو وہ اظہار افسوس کرتا ہوا ملے گا کہ بس جی دو کے بعد اللہ نے دیے ہی نہیں۔ زیادہ تر لوگوں کے ”کافی“ بچے ہوتے ہیں، ایک نکھٹو شوہر کی

Read more

علامہ خادم کا جنازہ یا ہمارے مستقبل کا جنازہ؟

ہر معاشرے کا ارتقاء ہوتا ہے، ہو رہا ہے، اور ہوگا۔ پاکستانی معاشرے کا بھی ارتقاء ہو رہا ہے لیکن یہ ارتقاء معکوس کے سفر میں ہے اور اس کی رفتار انتہائی سریع ہے۔ یہ جنازے اسی ”ارتقاء“ کا نمونہ ہیں۔ اگر یوں ہی چلتا رہا اور یوں ہی لوگوں کے جنازوں کے حجم بڑھتے رہے اور یوں ہی لوگوں کو اپنے جنازے شاندار بنانے کا شوق چراتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب یہاں گلی گلی میں معرکے

Read more

میاں بیوی یا باس اور ماتحت؟

روایتی معاشرے میں شادی ایک عورت کے لئے روزگار کے حصول کے مترادف سمجھی جاتی ہے اس لئے کوئی بھی شخص اگر نوکری ڈھونڈنے نکلے گا تو اس کا مدعا یہ ہوگا کہ اس کو اچھی ملازمت ملے، کمپنی اچھی ہو، کام کا زیادہ بوجھ نہ ہو اور سب سے بڑی بات ملازم کا خیال رکھنے والی ہو۔

Read more

انصار عباسی تیری تیز نگاہی کے میں واری صدقے

‎ باز میلوں دور فضا میں اڑتے ہوئے اپنے شکار کو زمین پر اتنی با آسانی ڈھونڈ لیتا ہے، کہ اس کی تیز نگاہی بطور اصطلاح ایگل آئی کے طور پر استعمال ہونے لگی۔ لیکن اب انسانوں میں بھی ایک ایسی نگاہ کا ظہور ہوا ہے کہ جس کی غیر معمولی صلاحیتوں کا موازنہ بلاشبہ ایگل آئی سے کیا جا سکتا ہے، یہ آئی بھی میلوں دور سے عورت میں فحاشی ڈھونڈ لیتی ہے۔ اس کو کہتے ہیں ”انصار آئی“ ۔ ”انصار آئی“ فحاشی کا سراغ ایسے لگاتی ہے جیسے موت زندگی کا ۔ یہ ایک ایسی نظر ہے جس میں ایکسرے مشین فٹ ہے کہ اس کے سامنے سے عورت گزر جائے تو اس کو ایک منٹ میں اسکین کر کے بتا دیتی ہے کہ اس میں کہاں کہاں فحاشی ہے۔ کہاں کہاں عورت کے جسم کے پیچ و خم آتش شوق کو بڑھکا رہے ہیں، اور نظریہ پاکستان کی غرض و غایت کے لئے خطرہ ہیں۔

‎میں تو کہوں گا کہ اس نظر کو پاکستان کی قومی آئی قرار دیا جائے کیونکہ جس تیزی سے یہ ”نظر“ مقبول ہو رہی ہے اس کا موازنہ صرف سپہ سالار کے عہدے سے کیا جا سکتا ہے یا تو یہ عہدہ پاکستان میں اتنی تیزی سے مقبول ہوتا ہے یا اب یہ انصار آئی۔

Read more

رات کو اکیلی گھومتی ہو؟ جاؤ بی بی واپس جاؤ ہماری ”قدریں“ نہ بگاڑو

حالیہ کیس، زینب کیس کی طرح ایک ہائی پروفائل کیس بن گیا ہے سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے لوگوں کا حسب معمول مطالبہ ہے کہ مجرم کو سرعام پھانسی دو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردو، نامرد بنا دو، جیسے کہ ایسا کرنے سے جرم رک جائے گا۔ مایوس کن بات یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ مسئلے کا حل سزا کی نوعیت نہیں بلکہ سزا کا یقینی ہونا ہے۔ اگر مجرموں کو یہ پتہ ہو کہ وہ جرم کر کے بچ نہیں پائیں گے۔ پولیس پاتال میں سے بھی ان کا کھوج لگا لے گی، عدالتیں عدم ثبوت کا بہانہ بنا کر چھوڑ نہیں دیں گی تو لازماً جرائم میں کمی آئے گی۔

Read more

اسلام آباد کا چڑیا گھر اور بلوچستان کا مقتل

جب سے تصویر دیکھی ہے ایک ماں اپنے بیٹے کی لاش سامنے رکھے ہاتھ اٹھا کر کرب اور رنج و الم کی تصویر بنی آسمان کی طرف دیکھ رہی ہے، مجھے گمان ہوا کہ شاید آسماں اس شکوے کی تاب نہ لا سکے اور پھٹ پڑے، اذیت، رنج، حسرت، الم اور بے بسی اس ماں کے چہرے پر جم سی گئی ہے۔ اس ماں کے چہرے پر جو وحشت، جو ملال ہے اس کو دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے

Read more

خدا کے لیے غازی پیدا کرنے بند کریں

پاکستان میں ایک مختصر وقفے کے بعد ایک نیا غازی پیدا ہوجاتا ہے۔ اگر یوں ہی غازی پیدا ہوتے رہے تو پاکستان میں بس غازی ہی غازی ہوں گے، اور مقتول ناپید۔ تازہ ترین غازی ایک پندرہ سال بچہ ہے جس کی ابھی مسیں بھی پوری طرح سے نہیں بھیگیں، لیکن اس کے اندر غازی بننے کا جنون اس قدر پیدا کیا جا چکا تھا کہ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بھری عدالت میں جج کے سامنے یہ ”کار

Read more

کیا کبھی عوام کی حکومت قائم ہو گی؟

سوچتا ہوں کہ اس ارض پاک پر کبھی کوئی ایسی سحر طلوع ہو گی جس میں کوئی داغ نہ ہو، جس میں باد نسیم چلتی ہو جو لوریاں سناتی ہو، جو روح کو معطر کرتی ہو، جو فضا میں خوشبو گھولتی ہو۔ اس سحر کی آس آنکھوں میں سجائے ہم نے ستر سال گزار دیے، کئی نسلیں اس سحر کے خواب آنکھوں میں سجائے قبروں میں جا اتریں لیکن یہ سحر نہیں آئی، اس صبح کے انتظار میں کئی بہنوں

Read more

آیا سوفیا اور عبداللہ دیوانہ‎

ابھی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا غلغلہ تھم نہیں پایا تھا کہ پاکستانی مجاہدین کے ہونے والے خلیفہ نے آیا سوفیا میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کا عندیہ دے کر لال قلعہ پر پاکستانی پرچم لہرانے اور بھارت کو ایٹم بم سے راکھ کا ڈھیر بنا دینے کا عزم رکھنے والے صوم وصلاة، پابند شریعت، پکے اور سچے مسلمانوں کو نعرہ تکبیر لگانے اور بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ بننے کا ایک اور موقع فراہم کر دیا،

Read more

دارالاسلام میں مندر، مولوی اور آئین پاکستان

دنیا بھر میں نیوزی لینڈ سے لے کر امریکہ تک مساجد کا ایک جال ہے، دنیا کے ہر ”کافر“ اور ”مشرک“ ملک میں آپ کو مسجد مل جائے گی، بلکہ یوں کہوں کہ جہاں مسلمان زیادہ ہیں وہاں پر تو ہر فرقے کی مسجد مل جائے گی، لیکن اپنے ملک میں ہندوؤں کے مندر کو لے کر اتنا شورو غوغا ہے، دارالحرب اور دارالسلام کے مباحث جاری ہیں، ہم اب بھی اسی دور میں جینا چاہتے ہیں جہاں لونڈیاں اور

Read more

پولیس اور عوام: کیا تبدیلی آئی؟

ریاست ہوگی ماں کے جیسی، یہ ہمیں 2007 میں جناب اعتزاز احسن، علی احمد کرد اور بہت سے قد آور وکلاء نے بتایا تھا، عوام جوق در جوق باہر نکلے تاکہ ریاست کو ماں جیسا بنایا جا سکے، اسلام آباد سے لاہور تک کا سفر افتخار چوہدری نے چوبیس گھنٹوں میں طٰے کیا، جس گاؤں شہر سے موصوف گزرتے عوام کا ایک جم غفیر استقبال کے لیے موجود ہوتا، اور پھر آخر کار محترم بحال ہوگئے، لیکن ریاست ویسی کی

Read more

کھیل ابھی شروع ہوا ہے

2007 کی عدلیہ بحالی کی تحریک کے بعد عدلیہ بھی ایک طاقت کے مرکز کے طور پر سامنے آئی ہے، مشرف کو نہیں پتا تھا کہ وہ افتخار چوہدری کو معزول اور بے عزت کر کے ایک ٹائم بم سیٹ کر رہا ہے جو نہ صرف اس کی حکومت کو اڑا دے گا بلکہ اس کی جلاوطنی کا باعث بھی بن جائے گا، لیکن طاقت کے نشے میں مدہوش جنرل مشرف کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس فیصلے کے

Read more

آئیے اپنے گریبان میں جھانکیں

ہمارے کچھ اسلامی مجاہدین اور اچھے پکے مسلمان جن کے تئیں دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے وہ امریکی سازش یا مغربی ممالک کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ہوتا ہے حتی کہ بہت سوں کے نزدیک کرونا بھی ان مشرکوں کی سازش ہے، خیر تو یہ مجاہدین اس بات پر پھولے نہیں سما رہے کہ دیکھو امریکہ جو کہ اپنے آپ کو عالمی حقوق کا چیمپئن بتاتا ہے اس کے معاشرے میں کتنی نسلی منافرت اور عدم مساوات ہے۔ لیکن یہ طعنہ دینے سے پہلے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس سے کہیں زیادہ نسلی تعصب ان کے اپنے معاشرے اور ان کے اپنے اندر ہے، امریکی معاشرہ تو ابھی زندہ ہے، جونہی ویڈیو وائرل ہوئی وہاں پر غم و غصہ کا طوفان برپا ہوگیا، پورا امریکہ اس واقعے کے بعد سڑکوں پر تھا اور ہے، یہ وہی معاشرہ ہے جب ٹرمپ نے سات اسلامی ملکوں کے خلاف سفری پابندیاں عائد کیں تو امریکہ میں ایک طوفان برپا ہو گیا، احتجاج ہوا، وکلاء نے لوگوں کے مفت کیس لڑے، اور سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے اس قدم کو کالعدم قرار دے دیا۔ آخری جیت قانون اور آئین کی ہی ہوئی۔

لیکن ہمارے وطن اور معاشرے میں یہ نسلی منافرت، اونچ نیچ، ذات پات نہ صرف بین المذاہب موجود ہے بلکہ خود ایک ہی مذہب کے ماننے والوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہاں پر ایک مذہبی اقلیت کے ساتھ وہ کام مخصوص کر دیے گئے ہیں، جنہیں مذہبی اکثریت نیچ کام سمجھتی ہے، کوڑا کرکٹ اٹھانا، گٹر کھولنا، نالیوں کی صفائی غرض کہ ہر کام جو کہ غلیظ اور گندا سمجھا جاتا ہے وہ ان کے سر تھوپ دیا گیا ہے ، اور پھر اسے گالی بھی بنا دیا ہے حتیٰ کہ ہمارے تو اخباروں میں بھی کچھ اس طرح کے اشتہارات حکومت کی طرف سے چھپتے ہیں کہ خاکروب درکار ہیں صرف خاص مذہب کے لوگ اس نوکری کے لیے درخواست دیں، صرف یہی نہیں ہمارے ہاں تو غیر مسلموں کو ناپاک بھی تصور کیا جاتا ہے، اور ایسے فتاویٰ جا بجا پائے جاتے ہیں کہ اگر کوئی مشرک آپ سے تر ہاتھوں سے مصافحہ کر لے تو آپ ناپاک ہو جاتے ہیں، آپ پر ہاتھ دھونا فرض ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ذات پات کی تقسیم مذہب کے اندر بھی پائی جاتی ہے، گاؤں دیہات میں تو یہ غیر انسانی تقسیم بہت ہی واضح، گہری، نمایاں اور خوف ناک ہے، اور اس کو قابل قبول اور بلا حیل و حجت تسلیم کروانے کے لیے مذہب کا جواز بھی تراشا جاتا ہے۔

Read more

مجھے چھوڑ دو، میرا دم گھٹ رہا ہے

‎امریکہ میں کسی سیاہ فام کی پولیس کے ہاتھوں موت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، ایسے درجنوں واقعات ماضی میں ہو چکے ہیں لیکن اس واردات کے بعد ‎فسادات پھوٹ پڑے ہیں، یہ صرف اس سانحے کا رد عمل نہیں ہو سکتا، یہ ماضی میں ہونے والے اس نوعیت کے کئی واقعات کا ردعمل اور دہائیوں کی نا انصافی اور نسلی امتیاز کا غصہ ہے، بس ہوا یہ ہے کہ اس واقعے نے پہلے سے موجودسلگتی ہوئی چنگاریوں کو

Read more

موت کی آہٹ اور نا اہل حکومت

جب پیارے وطن میں کووڈ 19 سے متاثرین کی تعداد سینکڑوں میں تھی تو ملک عزیز میں لاک ڈاؤن بھی تھا اور سچے اور پکے مسلمان چھتوں پر چڑھ کر اذانیں بھی دیتے تھے، اب جبکہ متاثرین کی تعداد تقریباً 72000 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور روزانہ تقریباً سو لوگ مر رہے ہیں، ہسپتال کرونا کے مریضوں سے بھر گئے ہیں اور اب مزید مریضوں کو ٹھہرانے کی گنجائش بھی نہیں رہی تو نہ لاک ڈاؤن ہے اور نہ کوئی چھت پر چڑھ کر اذانیں دے رہا ہے۔

جب کوئی ملک یا قوم بحرانوں کا شکار ہوتی ہے تو اس امتحان میں لیڈر کی بصیرت کا پتا چلتا ہے۔ اور یہ بھی اس کو اپنے اعصاب پر کتنا قابو ہے، جب اس وبا کی ابتدا ہوئی تو اسی وقت پتا چل گیا تھا کہ اس حکومت میں اس آفت سے نبٹنے کے لیے نہ تو بصیرت ہے، نہ استطاعت اور نہ ہی عزم، پہلے حکومت اس گو مگو میں رہی کہ لاک ڈاؤن کرنا چاہیے یا نہیں، پھر ملک کے مقتدر حلقوں نے بھنویں اچکائیں تو حکومت نے بادل ناخواستہ لاک ڈاؤن کر دیا۔

Read more

بچوں کے لئیے ایک خطرناک معاشرہ

پاکستان لڑکیوں سے زیادہ لڑکوں کے لیے خطرناک ملک بن چکا ہے۔ جہاں پر ہر کچھ دنوں کے بعد ایسا واقعہ جس میں کسی لڑکے کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا ہو خبروں کی زینت بنتا ہے۔

حالیہ دنوں میں حافظ سمیع الرحمان کو بدفعلی پر آمادہ نہ ہونے پر خبیث کانسٹیبل نے بے دردی سے قتل کر دیا، اس سے پہلے قصور تو ان واقعات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہو چکا ہے۔ قصور کا نام ذہن میں آتے ہی ایسے علاقے کا تصور ابھرتا ہو جس میں کوئی بچہ اور کوئی بچی محفوظ نہیں ہے۔ قبل ازیں چونیاں میں جو واقعات ہوئے تھے جن میں تین بچوں کو جن کی عمریں بالترتیب آٹھ، نو اور بارہ سال تھیں زیادتی کے بعد انتہائی بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا اور ان کی لاشوں کو کھیتوں میں پھینک دیا گیا تھا، عالمی میڈیا کی زینت بنے۔

Read more

ہمارے بچپن کی عید

شام سے ہی عید کی تیاری شروع ہو جاتی، چاند دیکھنے کا اہتمام ہوتا، چھت پر چڑھ کر چاند دیکھنے کی ناکام کوشش کی جاتی، ہر بندہ چھت پر چڑھا ہوتا، جدھر نظر جاتی بندے نظر آتے سب چھت پر چڑھ کر چاند کو ڈھونڈ رہے ہوتے، چاند صاحب کو اپنی اہمیت کا اندازہ ہوتا اس لیے وہ کہیں دور پہاڑوں کے اس پار چھپے ہوئے ہماری بے تابی اور اضطراب سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے اور اپنے سب عاشقوں کی بے قراری اور بے کلی کو دو چند کر رہے ہوتے، آتش شوق کو اور بھڑکا رہے ہوتے۔

Read more

بیمار اور اخلاقی انحطاط کا شکار معاشرہ

بیمار اور اخلاقی زوال کے شکار معاشرے کی یہ نشانی ہے کہ وہ اپنے سے طاقتور کے سامنے گھگھیاتے ہوئے نظر آئیں گے جب کہ اپنے سے کمزور پر چنگھاڑتے ہوئے ملیں گے۔ کرنل کی بیوی والے معاملے کو اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو اندازہ ہوگا کہ یہ ہمارے معاشرے کا ایک عمومی رویہ ہے کہ اگر آپ کے پاس طاقت اور اختیار ہے تو آپ اپنے آپ کو ہر قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، اور اس بالا

Read more

شخصیت پرستی کی بیماری

پاکستان میں بھی ہر گروہ اور ہر جتھے کا اپنا اپنا ہیرو ہے اور اس کو انہوں نے ایک دیوتا کی شکل دی ہوئی ہے، اس کو مقدس بنایا ہوا ہے، اس کے خلاف تنقید نہیں ہو سکتی، پارٹی کے اندر اس کے کسی بھی فیصلے پر سیر حاصل گفتگو نہیں کی جا سکتی، کسی بھی فیصلے کا تنقیدی جائزہ نہیں لیا جاسکتا، جو کچھ پارٹی سربراہ نے کہہ دیا وہ حرف آخر ہے، بالکل ہی باس اور ماتحت والا رشتہ ہے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ یہ پارٹیاں نہیں بلکہ لمیٹڈ کمپنیاں ہیں جس میں ملازم کا کام بس حکم بجا لانا ہوتا ہے۔

Read more

عمران خان ایک خوب صورت دھوکا

عمران ایک خوب صورت دھوکے کا نام ہے، ایمانداری اور دیانتداری کے لبادے میں چھپے ہوئے ایک حسین دھوکے کا نام۔ مجھے آج بھی 30 اکتوبر 2011 کا وہ خوب صورت دن یاد ہے جب پی ٹی آئی نے مینار پاکستان میں اپنا عظیم الشان جلسہ کیا تھا، مینار پاکستان کے میدان کو بھر کر سب سیاسی پنڈتوں کو حیران و سر گشتہ کر دیا تھا۔ لوگوں کا ایک جم غفیر تھا، جو کہ خان کے ساتھ جھوم رہا تھا

Read more

مذہب پرست اور مذہب بیزار لوگ

پاکستان میں مذہب بیزار اور مذہب پرست لوگوں کے درمیان خلیج اتنی گہری ہوگئی ہے کہ شاید اس کو پاٹنا بہت مشکل ہو کوئی بھی موقع ہو دونوں گروہ تلواریں سونت کر میدان میں آکھڑے ہوتے ہیں، اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اور تاک تاک کر نشانے لگاتے ہیں۔ اس خلیج کا اندازہ حالیہ وبا میں ہوا کہ یہ کتنی گہری ہے، جونہی کرونا کی وبا چین سے شروع ہوئی تو سب سے پہلے مذہب پرستوں

Read more

متحدہ عرب امارات میں کرونا وائرس

جب یہ موذی وبا نہیں آئی تھی تو متحدہ عرب امارات میں رمضان کے قریب آتے ہی ہلا گلا شروع ہو جاتا تھا، جگہ جگہ افطار کے خیمے نصب ہو جاتے جن میں جس کا جی کرتا جا کر افطاری کر سکتا تھا۔ بازاروں میں اور شاپنگ مالز میں رونق بڑھ جاتی لوگ ٹرالیاں بھر بھر کے رمضان کی شاپنگ کرتے، لیکن اس دفعہ نہ خیمے لگے اور نہ شاپنگ مالز میں لوگ خریداری کرتے نظر آئے۔ لاک ڈاؤن کی

Read more

پاکستان میں عورت ہی برائی کی جڑ ہے

پاکستان میں 1977 سے پہلے کوئی بے حیائی نہیں تھی، اس سے پہلے کا معاشرہ بہت ہی حیا دار اور پاکیزہ معاشرہ تھا، نہ ہی بے غیرتی کی وجہ سے سیلاب آتے تھے اور نہ ہی بے شرمی کی وجہ سے زمین ہلتی تھی، اور نہ ہی قدرتی آفات کو عورتوں کی لباس کی وجہ قرار دیا جاتا تھا۔ لیکن پھر کرنا یوں ہوا کہ 1977 میں ملک میں ”اسلامی“ انقلاب آگیا، ایک نہایت ہی پارسا اور نیک انسان نے

Read more

اے کلاس مولوی بننے کی خصوصیات

جیسے کچھ اداکار بڑے سٹار ہوتے ہیں اور کچھ اداکار چھوٹے سٹار ہوتے ہیں، یوں کہوں کہ کچھ اے کلاس اداکار ہوتے ہیں اور کچھ بی کلاس، ایسے ہی کچھ اے کلاس مولوی بھی ہوتے ہیں، اے کلاس مولوی وہ ہوتے ہیں جو بڑے بڑے لوگوں کو اچھا مسلمان بناتے ہیں، جن کے تعلقات بڑے بڑے لوگوں سے ہوتے ہیں، جو فائیو اسٹار نکاح پڑھوا تے ہیں، فائیو اسٹار حج کرتے یا کرواتے ہیں اور بڑے بڑے لوگوں کے جنازوں

Read more

بغیر انصاف تبدیلی کا نعرہ محض سراب ہے

جس معاشرے میں لاقانونیت ہوگی اس معاشرے میں ہمیشہ کمزور کے ساتھ ظلم ہوگا، چاہے وہ انفرادی سطح پر ہو، اجتماعی سطح پر ہو یا ریاستی سطح پر ہو۔ اسی لئے پاکستان میں عورت، بچے، معذور افراد، یتیم، اقلیتیں، یعنی ہر وہ طبقہ، فرد یا افراد ظلم کا شکار ہیں جو کہ کمزور ہیں۔ جہاں پر قانون کی حکمرانی نہیں ہوگی وہاں پر ہر کمزور فرد یا گروہ اپنے آپ کو طاقتور گروہ سے منسلک کرنے کی کوشش کر ے

Read more

کیا بقا کی جنگ پھر سر پر ہے؟

صنعتی انقلاب جب آیا تو انسانی تہذیب و تمدن، ثقافت بالکل تبدیل ہو گئی۔ پہلے لوگ دیہاتوں میں رہتے تھے، لیکن اس انقلاب کی وجہ سے بڑے بڑے شہر بن گئے، لوگوں کا بہاؤ شہر کی طرف ہو گیا، ذرائع نقل و حمل وجود میں آئے آسمان کو چھوتی عمارتیں اگ آئیں، جن میں لوگوں کو مرغیوں کے دڑبے جیسے گھروں میں گھسیڑ دیا گیا، خاندان جو کہ زرعی دور میں بڑے اور باہم مربوط ہوتے تھے اس دور میں

Read more

مولوی راج اور سہمی ہوئی حکومت

اس ملک میں مولوی راج ہے، کل ملک کے صدر نے ان کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور اپنی عزت بچانے کے لئے یا فیس سیونگ کے لئے جن اقدامات کا اعلان کیا کہ قالین اٹھا دیے جائیں، صفوں پر چھڑکاؤ کیا جائے وغیرہ وغیرہ، اس کا حکومت کو بھی اندازہ ہے بلکہ یقین ہے کہ یہ سب اقدامات خانہ پری ہیں اور ایسا کچھ بھی نہیں ہونا اور یہ صرف عزت بچاؤ اعلانات ہیں۔ خبروں کے مطابق 1100 تبلیغیوں

Read more