سعدیہ دہلوی: ایک نور تے جگ اپجیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعدیہ دہلوی رخصت ہو گئیں۔

پہاڑیوں کے درمیان کرنیں مسکرائیں۔ صحرا کو زندگی کا سراغ ملا۔ وادی تصوف کے لطیف جھونکوں نے بدن کو گدگدایا۔ ہواگلاب کی خوشبوؤں کو ساتھ لے آیی۔ ’لعل بدخشاں‘ کے ڈھیر میں اس نے نور کا جلوہ دیکھا۔ غروب آفتاب کے منظر کے بعد یہی ’لعل بدخشاں کے ڈھیر‘ تھے، جہاں اس کے قدم چل پڑے۔ وادی کہسار میں غرق شفق ہے سحاب۔ ۔ ۔ لعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب۔ ۔ ۔ عبدالحلیم شرر نے اپنے ناول ناول ’فردوس بریں‘ میں حسن بن صباح کی جنت کو قریب سے دیکھا اور لکھا۔

لوگ پر تکلف اور طلائی گاؤ تکیوں سے پیٹھ لگائے دل فریب اور ہوش ربا کم سن لڑکیوں کو پہلو میں لیے بیٹھے ہیں اور جنت کی بے فکریوں سے لطف اٹھا رہے ہیں۔ خوب صورت خوب صوت آفت روزگار لڑکے کہیں تو سامنے دست بستہ کھڑے ہیں اور کہیں نہایت ہی نزاکت اور دل فریب حرکتوں سے ساقی گری کرتے ہیں۔ شراب کے دور چل رہے ہیں اور گزک کے لیے سدھائے یا قدرت کے سکھائے ہوئے طیور پھل دار درختوں سے پھل توڑ توڑ کے لاتے ہیں اور ان کے سامنے رکھ کے اڑ جاتے ہیں۔

حسن بن صباح نے ایک انتہائی خو بصورت باغ لگوایا اور اس میں نہایت خوبصورت لڑکیاں رہتی تھیں۔ وہ اپنی فرضی اور مصنوعی جنت پر خوش تھا۔

اس نے بھی اپنے خیالوں میں ایک جنت تعمیر کر رکھی تھی۔ وہ زندگی کو سمجھنا چاہتی تھی۔ وہ زہین تھی۔ مستقبل پر اس کی نظر تھی۔ اس نے شراب پی اور غلطی کا احساس ہوا۔ وہ حج کے لئے گئی اور اس نے معافی مانگی۔ وہ بہت جلد حسن بن صباح کی فرضی جنت سے باہر آ گئی۔ اسے سکوں چاہیے تھا۔ یہ سکون خشونت سنگھ کے پاس بھی نہیں تھا۔ وہ تصوف کی وادیوں میں اتری۔ اردو فارسی عربی کے لئے استاد مقرر کیے۔ روحانی سکون کے لئے بیس برس بڑے رضا سے شادی کی۔

اس سے قبل بھی ممتاز سے اس کی شادی ہو چکی تھی۔ مگر ممتاز ایک بے چین روح کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ طلاق ہو گئی۔ وہ روح کے صحرا میں ننگے پاؤں چلتی ہوئی دور نکل آیی۔ 2009 میں اس نے صوفی ازم پر پہلی کتاب لکھی۔ صوفی ازم اور اسلام کا دل۔ دوسری کتاب صوفی کا آنگن 2012 میں چھپی۔ وہ اسکالر تھی۔ دانشور تھی۔ خشونت سنگھ جب پہلی بار اس سے ملے تو وہ انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ایک کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ خشونت سنگھ نے ہیلو کہا مگر اس نے کرسی سے اٹھنا مناسب نہیں سمجھا۔ پھر دونوں کی یہ ملاقات دوستی میں تبدیل ہو گئی۔

چل خسرو گھر اپنے۔ سانجھ بھئی چو دیس۔ ۔ ۔ حضرت بستی نظام الدین، درگاہ کے اندر مغرب کی نماز ختم ہوچکی ہے۔ حضرت امیر خسرو اور حضرت نظام الدین اولیاءکے آستانوں پر حاضری دینے والوں کی قطار بڑھ گئی ہے۔ وہ موجود ہے اور خاموش۔ ۔ آستانے کے پاس پتھر کے فرش پر کرتا پائجامہ پہنے اور گول گول ٹوپی لگائے مجابروں نے اپنی چندے کی دکانیں کھول لیہیں۔ وہ سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ درگاہ میں چاروں طرف بلب اور قمقمے روشن ہوچکے ہیں۔

حضرت کے آستانے کے ٹھیک سامنے، قنات کے نیچے فرش پر بیٹھے قوالوں کی منڈلی ایک بار پھر جم گئی تھی۔ اب وہ لہک لہک کر گا رہے تھے۔ ۔ ۔

شبان ہجراں دراز چوں زلف و زور و رحلت چوں کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
یکایک از دل در چشم جادو بصد فریج ببرد تسکیں
کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں۔ ۔ ۔ ’
پیارے پی کو ہماری بتیاں۔ ۔ ۔
آواز گونج رہی ہے۔ ۔ ۔

جیسے یہاں سے آنے ’جانے والا ہر شخص اس آواز کے سحر میں ہے۔ قوالوں نے سماں باندھ دیا۔ ایک لمحے کو وقت ٹھہر گیا۔ وہ عقیدت مندوں میں شامل ہے۔ وہ خواجہ کے دربار میں بھی ہے۔ اور نور کے راستوں کو تلاش کر رہی ہے۔

دلی آنے کے بعد میں جن لوگوں سے ملا، سعدیہ ان میں سے ایک تھیں۔ اس زمانے میں میری کہانیاں شمع اور بانو میں تواتر سے شایع ہونے لگی تھیں۔ پہلی ملاقات کا جادو مجھ پر ابھی بھی قائم ہے۔ یہ کہنا سچ ہو گا کہ میں سعدیہ کے حسن اور ذہانت دونوں سے متاثر تھا۔ بس میں بیٹھا۔ بس مجھے لے کر آصف علی روڈ تک گیی۔ شمع کا دفتر سارے جہاں کو معلوم تھا۔ نیچے کتابوں کی ایک دکان تھی۔ پھر میں سیڑھیاں چڑھتا ہوا شمع دفتر کے پہلے فلور پر پھچ گیا۔

میرے لئے یہ منظر اتنا ہی دلچسپ تھا، جس قدر طلسم ہوشربا یا داستان امیر حمزہ کے صفحات ہو سکتے ہیں۔ اس عہد میں شمع کی حثیت داستانی تھی۔ شمع سے وابستہ تمام چہرے مجھے یونانی دیوتاؤں کے چہرے لگتے تھے۔ یونس دہلوی، ادریس دہلوی، سعدیہ، شمع معمہ، فلمی باتیں، نگار خانہ، چھوٹے سے شہر میں رہ کر یہ احساس واجبی تھا کہ ان کے پاس علادین کا جن ہو گا۔ کوہ قاف میں بسیرا ہوگا۔ بادشاہوں والی زندگی بسر کرتے ہوں گے۔ اور ایسا سوچنا غلط بھی نہیں تھا۔

شمع، شبستان، کھلونا، مجرم، آئینہ، پھر شمع شفا خانہ، لئباریتیز، فلمی ہستیوں سے ملاقاتیں۔ کون سا گھر ایسا ہوگا جہاں شمع گروپ کے رسائل نہ آتے ہوں۔ شمع گروپ سارے ہندوستان میں چھایا تھا۔ شمع اور بانو کا باضابطہ انتظار رہتا تھا۔ اس گروپ نے نئی نسل کی تربیت کے تمام راستوں کو آسان بنا دیا تھا۔ تھذیب و ثقافت محض لفظ نہیں ہیں۔ ان پر بہت کچھ ہماری زندگی کا انحصار ہے۔ ثقافت معاشرے کے لئے روح کا درجہ رکھتی ہیں ثقافت کے باطنی پہلو بھی ہوتے ہیں۔

ان پہلوؤں سے ہم اپنی زندگی کو ترتیب دیتے ہیں۔ اس وقت یہ کام کچھ گھرانے کر رہے تھے اور ان میں شمع گروپ کا نام سب سے اہم تھا۔ سعدیہ سے اس دن بہت سی باتیں ہوئیں۔ وہ بانو کو جو شکل دینا چاہتی تھیں، ماحول اس کے خلاف تھا۔ بعد میں انگریزی رسالہ زوم کے ذریعہ انہوں نے اپنی یہ خواہش پوری کی۔ وہ ماڈرن خیالات رکھتی تھیں۔ تنگ نظر نہیں تھیں۔ ان کے دوست بڑے بڑے لوگ تھے۔ خشونت سنگھ بھی ان کے فین تھے۔ خشونت سنگھ نے اپنی کتاب میں بھی تفصیل سے سعدیہ کا ذکر کیا ہے۔

سعدیہ کے انتقال پر ممتاز مورخ ایس۔ عرفان حبیب نے ٹویٹ کیا، ’سعدیہ دہلوی کی موت کی خبر سن کر مجھے دکھ ہوا ہے۔ وہ دہلی کی ایک مشہور ثقافتی شخصیت تھی، میری اچھی دوست اور ایک حیرت انگیز شخصیت۔ سعدیہ 63 سال کی تھیں، مصنف، کالم نگار اور سماجی کارکن تھیں۔ بطور کالم نگار وہ اردو، ہندی اور انگریزی اخبارات اور رسائل خصوصاً ہندوستان ٹائمز اور فرنٹ لائن سے وابستہ تھیں۔ وہ اجمیر کے خواجہ غریب نواز اور دہلی کے حضرت نظام الدین اولیاء کے عقیدت مندوں میں سے تھیں۔ انہوں نے ”اماں اور فیملی“ کے ساتھ فلمی دنیا میں بھی قدم رکھا لیکن زیادہ کامیابی اور شہرت کی اسے ضرورت نہیں تھی۔ اس میں ایک عجب سی بے نیازی تھی۔ وہ خود سے بھی غافل رہتی تھی۔ مگر اسے روحانی سکون چاہیے تھا۔

سعدیہ 1957 میں، دہلی میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان پر دہلوی رنگ غالب تھا۔ مرزا غالب اپنا شہر آگرہ چھوڑ کر دلی آ گئے اور کوچہ قاسم جان سے دل لگا بیٹھے۔ دلی، جس نے کثرت میں وحدت کے فلسفے پر انتہائی عقیدت سے عمل کیا۔ تھذیب و ثقافت کو شیرو شکر کر کے ہندوستان کو ایک وحدت کی لڑی سے جوڑ دیا۔ وہ کینسر میں مبتلا تھی۔ دلی کی تہذیب و ثقافت کی نمائندہ تھی۔

سعدیہ سیماب صفت تھی۔ کبھی بوتیک کھولنے کا خیال آتا کبھی کسی اور بزنس کا۔ در اصل اس کی روح بے چین تھی۔ اس لئے رومی، حافظ کے اشعار میں پناہ لی۔ نظام الدین اور اجمیر سے دل لگایا۔ تصوف کی وادیوں کی سیر کی۔ دل نہیں بھرا تو خاموشی سے دنیا چھوڑ دی۔ لیکن اسے کیا خبر، کہ اس کے بغیر دلی کس قدر اداس ہو گئی ہے۔

Sadia Dehlvi (L) and author and poet Vikram Seth (R) during an evening of drinks and music in remembrance of the late author Khushwant Singh on March 30, 2014
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •