محبت ایسے ہوتی ہے!


”تمہاری ماں کو مجھ سے محبت نہیں تھی“

انہوں نے میرے ہاتھ تھامے ہوئے آہستہ سے کہا تھا۔ ان کی آنکھوں کے دونوں کونے بھیگے ہوئے تھے، ان کے چہرے پر جو درد تھا وہ کوئی بیٹی ہی محسوس کر سکتی تھی۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنے آنسوؤں کو اپنے آنکھوں میں روکنے کی کوشش کی تھی مگر آنسو تو چھلک ہی جاتے ہیں، وہ تو بے درد ہوتے ہیں اور بے رحم بھی۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا۔

”آنسوؤں کو چھپانے کی کیا ضرورت ہے۔ “ انہوں نے میرے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

میں نے مسکرانے کی کوشش کی تھی اور آنسوؤں سے بے اختیار ہوگئی تھی۔

آٹھ مہینے پہلے امی کے جسم میں کینسر کی دریافت ہوئی تھی اوریز کا کینسر جو انہیں اندر سے آہستہ آہستہ کھارہا تھا۔ انہوں نے محسوس کیا تھا کہ ان کا وزن کچھ کم ہوا ہے مگر ان کا وزن کبھی بھی بہت زیادہ نہیں رہا تھا۔ ان کے جسم کی ساخت ہی ایسی تھی۔ وہ لمبے قد کے ساتھ سانولے رنگ کی تھیں۔ ہم دونوں بہنوں کو ان کا لمبا قد اور ابو کا گورا چٹا رنگ مل گیا تھا۔ ابو بہت خوبصورت تھے، بہت وجیہہ، بہت اسمارٹ۔ ہماری سہیلیاں ہمیشہ پوچھتی تھیں کہ اتنے خوبصورت آدمی نے تمہاری امی سے شادی کیوں کی تھی۔

ہم دونوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔ ہم نے کبھی ایسا سوچا ہی نہیں تھا۔ ہماری ماں ہماری نظر میں تو بہت خوبصورت تھیں۔ لمبا قد، دلکش چہرے کے خطوط، بڑی بڑی روشن آنکھیں جن پر گہرے بھنوؤں کا سایہ اور ستواں ناک کے ساتھ جب وہ پلکیں جھپکاتی تھیں تو ایسا لگتا تھا جیسے روشنی آ رہی ہے جارہی ہے۔ ہماری وہ ماں تھیں ہمیشہ اچھی لگتی تھیں۔ ان کی ہر بات میں ایک طرح کا رکھ رکھاؤ تھا، ہمیں اپنی سہیلیوں اور بعدمیں اپنے شوہروں کی بات نہ سمجھ میں آتی تھی اور نہ ہی اچھی لگتی تھی۔

ابو بہت خوبصورت تھے، ہمارے اسکول کی ٹیچرز، کالج کی استانیاں اور راہ چلتے لڑکیاں عورتیں ٹھٹک کر انہیں دیکھنے لگتی تھیں۔ کچھ تھا ان کے چہرے میں۔ اتنے خوبصورت مرد تو صرف فلموں میں ہوتے ہیں۔ مجھے وہ جارلسٹن ہسٹن لگتے تھے اور میری چھوٹی بہن نجمہ انہیں پال نیومن سے مشابہہ کہتی تھی۔ وہ ہم دونوں کے ہیرو تھے اور ہمارے خاندان کے بہت پسندیدہ چچا، ماموں، انکل، بھائی اور نہ جانے کیا کیا تھے۔ گھر والے، خاندان والے، رشتہ دار، دوست ان کے مریض سب ان سے محبت کرتے تھے۔ ان کی شخصیت تھی ہی ایسی کہ ان سے محبت نہ کرنا ممکن نہیں تھا۔

پھر ابو نے ایسی بات کیسے کہہ دی، میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ان کے دل میں اس قسم کی کوئی بات ہوگی وہ بھی امی کے مرنے کے دو سال بعد۔

امی کے کینسر کا سنتے ہی ہم دونوں بہنیں لندن سے فوراً ہی کراچی آگئے تھے۔ میں نے پہلی دفعہ ابو کو اتنا پریشان دیکھا تھا۔ رنگت اڑی ہوئی، چہرے کے پیچھے ایک خوف زدہ چہرہ، جسے وہ بار بار چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم دونوں کی شادی ڈاکٹروں سے ہوئی تھی، دونوں ہی انگلینڈ میں کام کر رہے تھے، دونوں نے ہی بڑی امیدیں دلائی تھیں مگر ابو کی پریشانی سب پر عیاں تھی۔ میں نے انہیں کبھی بھی اتنا پریشان، اتنا اداس اتنا مرجھایا ہوا نہیں دیکھا تھا۔ ہم دونوں کو بھی انہوں نے آنسو کے ساتھ روتے ہوئے رخصت کیا تھا لیکن ایسی حالت نہیں ہوئی تھی ان کی۔

وہ میری ماں سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ان کے غصے میں بھی محبت ہوتی تھی۔ ان کی زندگی جیسے میرے ماں کے گرد گھومتی تھی۔ کلینک جہاں وہ روزانہ آٹھ دس گھنٹے گزارتے تھے، اس کے بعد وہ تھے، گھر تھا، ہم دونوں بچے تھے اور امی تھیں۔

امی ہی سارے پروگرام بناتی تھیں، کہاں جانا ہے، کس سے ملنا ہے، کس کی دعوت ہوگی، کس کی دعوت نہیں ہوگی۔ ہمیں اکثر احساس ہوتا تھا کہ امی بعض دفعہ ناجائز غصے ہوجاتی ہیں مگر ابو وہی کرتے تھے جو وہ کہتی تھیں۔ ایک خاص قسم کا رشتہ تھا دونوں میں۔ مجھے کبھی بھی احساس نہیں ہوا کہ میری ماں میرے باپ سے محبت نہیں کرتی تھیں۔ میرے خیال سے تو وہ مجسم محبت تھیں۔

کیا کمی تھی ان میں، وہ خوبصورت آدمی تھے، گورا چٹا رنگ، گھنیرے گہرے کالے سیاہ بال اور پرکشش شخصیت۔ وہ جیسے بھی کپڑے پہنتے اچھے لگتے تھے، جدھر جاتے لوگ ان کی طرف دیکھتے تھے۔ وہ ایک مہربان ڈاکٹر تھے کسی ناول، کسی فلم، کسی کہانی کے ہیرو کی طرح۔ ان سے تو محبت خودبخود ہوجاتی تھی، یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے، ان کی زندگیوں کا اتنا اہم پہلو مجھ سے چھپا رہ گیا؟

پہلے امی کا آپریشن ہوا، دونوں اووریز، بچہ دانی، ٹیوب، اپنڈکس اور اومنٹم سب کچھ نکال دیا گیا۔ کینسر اس قابل تھا کہ اسے آپریشن کرکے نکال دیاجاتا۔ شروع کی خبر بہت اچھی تھی۔

آپریشن کے بعد ٹھنڈے کمرے میں سفید چادر میں لپٹی ہوئی زرد روشنی میں وہ پرسکون لگ رہی تھیں۔ مجھے یہ سوچ کر ہی رونا آ گیا کہ وہ ہم سے جدا ہوجائیں گی ہمیشہ کے لیے۔ ابو کمرے میں امی کے سرہانے کرسی پر ساکت بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک عجیب قسم کا تلاطم تھا، مجھے بے اختیار ان پر پیار آ گیا۔ میں نہ جانے کیوں ان کے گلے لگ گئی تھی۔ وہ میرے بالوں میں آہستہ آہستہ ہاتھ پھیر رہے تھے اورمجھے پتا تھا کہ ان کے آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی بہہ رہی ہے۔

پانچویں دن امی گھر چلی آئی تھیں۔ کمزور تھیں مگر ان کا انداز قائم تھا۔ وہ خوش تھیں، سمجھ رہی تھیں کہ آپریشن کامیاب ہوگیا ہے۔ ہم سب بھی یہی سمجھ رہے تھے، خوش تھے مگر ابو کی آنکھوں میں ایک عجیب قسم کا تردد تھا۔ میں اسے کوئی مطلب نہیں دے سکی مگر مجھے بعد میں سمجھ میں آیا۔ وہ ایک جنرل پریکٹشنر ڈاکٹر تھے، ہر تھوڑے دنوں بعد کوئی عورت اس بیماری کے بعد نظر کے سامنے سے گزرتی ہوگی اور پھر علاج کی صعوبتوں سے گزرتے ہوئے موت کے اندھے کنویں میں ڈوبتا ہوا بھی دیکھتے ہوں گے۔

یہ تردد، یہ تشویش، یہ آگہی ان کے لیے عذاب بن گئی تھی۔ انہوں نے تقریباً اپنا کام چھوڑ دیا تھا۔ امی کے کمرے میں ان کے دا ہنی طرف کرسی پر بیٹھے ہوئے انہیں تکتے رہتے، ان کی کسی بات پر دوڑ لگادیتے، انہیں کھانا کھلاتے، ان کے کمرے کی کھڑکیاں کھولتے بند کرتے، جب تک وہ بستر پر رہیں وہ مسلسل ان کے آگے پیچھے ہوتے رہے۔

دس دن میں امی چلنے پھرنے لگیں اور دس دن کے بعد ہی پتھالوجی کی رپورٹ آ گئی۔ امی کا کینسر لمفیٹک غدود کے ذریعے جسم کے دوسرے حصوں میں پہنچ گیا تھا۔ بظاہر ان کا ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین صحیح تھا لیکن بیماری موجود تھی۔ پہلی دفعہ مجھے احساس ہوا کہ میں اپنی ماں کو کھونے والی ہوں۔ وہ مہربان روح، وہ میری زندگی کی خوبصور ترین ہستی، وہ ہم سب کو چھوڑ کر جانے والی ہے۔ میری سمجھ میں آ گیا تھا کہ ابو کی آنکھوں میں ویرانی کیوں بس گئی ہے۔ وہ تو ایسے مریض دیکھتے ہوں گے، انہیں پتا ہوگا کہ ایسا ہی ہوتا ہے ایسی حالت میں اور پھر مریض اپنی زندگی، اپنی کہانی، اپنی دنیا، اپنا سب کچھ چھوڑ کر نہایت خاموشی سے چلا جاتا ہے، کبھی بھی واپس نہیں آنے کے لیے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3